رشتہ
عورتیں تو سادہ ھوتی ھی تھیں پرانے زمانے کے مرد بھی اللہ لوک ھوا کرتے تھے۔
والد تھے نہیں۔ اپنا رشتہ خود مانگنے چلے گئے اور ساتھ درجن کیلے لے گئے۔
لڑکی کے والد نے صاف جواب دے دیا اور خوب ڈانٹا۔
یہ ڈانٹ بھی کھاتے گئے اور ساتھ کیلے کھول کر سسر کو پکڑاتے اور ایک خود بھی کھاتے جا رھے تھے کہ اب وزن اٹھا کر کون واپس لے جائے۔ دوسرا پہاڑی علاقے سے پیدل چل کر آئے تھے بھوک بھی لگی ھوئی تھی اور جن کے پاس آئے انہوں نے لفٹ ھی نہیں کرائی تھی۔
خیر وہ کیلا کھولتے جاتے اور ساتھ کہتے جاتے " رشتے کو گولی ماریں، نہ سہی تے نہ سہی، لیں کیلا کھائیں" سسر صاحب بھی لے کر کھاتے گئے۔ جب کیلے ختم ھوئے تو یہ جانے کے لئے اٹھے اور سسر صاحب کو گلے لگ کر ملے اور کہا کہ "گستاخی معاف کر کے دل صاف کر لیجئے گا........................
اللہ پاک آپ کی بچی کے مقدر اچھے کرے"
سسر کو ان کی اس سادگی نے گھائل کر کے رکھ دیا۔ چھوڑتے چھوڑتے پھر دبا کر گلے سے لگایا اور کہا کہ اگلی جمعرات کو امی کو ساتھ لا کر کپڑوں کا جوڑا پہنا دینا۔
اب میں نے بھی ایک درجن کیلے لے لیے ہیں اور سوچ رہا ہوں لے کے چلا جاؤں مگر سوال یہ ھے کہ "جاؤں تو جاؤں کہاں؟"
ایک تبصرہ شائع کریں