اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ستمبر 2024

پیسے کمانے کی اصل حقیقت 

مدرسہ سے فراغت ہوئی تو قاسم علی شاہ کو بہت سنتا تھا۔۔۔ان کے ہر نئے سیشن کی ویڈیو مکمل دیکھتا تھا۔۔
اس کے علاوہ آزاد چائے والا جب بڑی عینک لگا کر ویڈیوز کا سلسہ شروع کر رہا تھا۔۔
اس وقت ریحان اللہ والا "ہر بچہ ماہانہ ایک ہزار ڈالر کمائے " جیسا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔۔
شاہد حسین جوئیہ تھا۔۔جو مختلف کاروبار دکھاتا تھا۔۔
اور اس کے علاوہ جہاں سے مواد ملتا میں سیکھتا چلا گیا۔۔سب کی پہلی پہلی ویڈیو دیکھ جس میں وہ کہتے ہیں۔۔
ہم آپ کو سکھائیں گے ماہانہ لاکھوں کمانے کا طریقہ
اس کے علاوہ ہزاروں چیزیں۔۔۔
مگر کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کمانا کیسے ہے۔۔؟؟
میں نے اپ ورک پر ائی ڈی بنائی فائیور پر اکاؤنٹ بنایا لیکن پتہ نہیں چلتا تھا کرنا کیا ہے۔۔؟؟
تعلیم درس نظامی تھی۔۔تو عربی زبان اور قرآن ٹیچر کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا تھا۔۔مگر کہیں سے کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔
میں حیران ہوتا میں اتنا زہین ہوں۔۔مگر یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی یہ سب ایسا کیا کرتے ہیں۔۔کہ پیسہ کمانے لگ گئے۔۔۔۔۔۔

پھر آہستہ آہستہ راز کھلنا شروع ہوئے کہ آزاد چائے والا تو پرانا کھلاڑی ہے۔۔سولہ سال کی عمر میں ہی اس نے گیم ڈویلپمنٹ سیکھ لی تھی۔۔
ریحان اللہ والے کا باپ نواب تھا۔۔جب پورے پاکستان میں دو تین بندوں کے پاس کمپیوٹر تھا۔۔اس میں ایک ریحان اللہ والا کے والد نے بھی بچے کو دلوایا تھا۔۔
اس کے علاوہ جتنے بھی گرو نظر آتے سب اپنا وہ راز چھپاتے تھے جس نے ان کو بلندیوں تک پہنچایا۔۔۔

وہ غریب جس کے پاس رات کھانے کے لئے کچھ نہ ہو اسے لاکھوں کا خواب دکھانا عجیب تر تھا۔۔۔
۔۔
میں یہ سب دیکھتا رہا۔۔
پھر جو بھی بڑا گرو آن لائن سے پیسے کمانے والا بندہ تھوڑا مشہور ہوتا تو فورا اپنی کوئی پراڈکٹ بناتا اور اس کو بیچنا شروع کر دیتا۔۔
میں حیران ہوتا کہ اس نے بعد میں جوتے بٹوے کپڑا آم کھجوریں سلاجیت ٹوپیاں وغیرہ وغیرہ ہی بیچنی تھی تو فری لانسنگ کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔؟؟؟
جس کے یہ کورس بیچ رہا تھا۔۔ہزاروں سٹوڈنٹ بنا لیے تھے۔۔ سمجھ نہیں آتی۔۔۔!!!
میں اس دوران اپنا کام ہی کرتا رہا۔۔
آخر کار معلوم ہوا۔۔۔اصل کمائی بزنس ہی ہے چیز بیچنا خریدنا۔۔۔
آزاد چائے والے نے پوری نمائش لگا لی۔۔۔۔۔
ریحان اللہ والے نے سکول کھول لیے۔۔۔
سنی علی ایمازون پر اپنی تیار کردہ چیزیں بیچتا رہا۔۔۔۔۔
قاسم علی شاہ 
 زیشان الحسن عثمانی تک نے بھی اپنی کتابیں بیچی ۔۔
غرض جتنے بھی بڑے بڑے مینٹور تھے۔۔کسی نے جوتے بنا لیے۔۔کسی نے بٹوے بنا لیے۔۔ کوئی آم کے باغات میں جا بیٹھا۔۔۔۔۔۔
غرض آخر میں کمائی کا زریعہ بزنس ہی سب گرو حضرات کو سمجھ آیا۔۔دھندا ہو گا۔۔تو بندہ ہو گا۔۔

اس دوران میں نے نہ کوئی کورس کیا نہ کسی سے سکل سیکھی بس صبح بازار جاتا شام کو آن لائن دوکان دیکھتا۔۔۔

اور ہر وہ چیز سمجھ آنے لگی جس سے نئے بچوں کو لوٹا جاتا ہے۔۔
ایک بچہ جس نے کبھی پاکستان کے جھنڈے میں رنگ نہیں بھرے اس کو گرافک ڈیزائننگ کیا سمجھ آئے گی۔۔؟؟
جس بچے کو چھلی بیچنا نہیں آتی وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں کیا کام کرے گا۔۔؟؟
جس بچے کو یہ نہیں پتہ کہ منشی گیری کیا ہوتی ہے اسے کیا علم ہو گا ورچوئل ایسسٹنٹ کس بلا کا نام ہے۔؟؟
جس بچے نے قرض کے پیسوں سے آپ کا کورس خریدا وہ شاپیفائی کی ماہانہ واری کہاں سے دے گا۔۔؟؟
جس بندے کے پاس اپنے دوگز ٹھیہ کا کرایہ نہیں وہ اپنی ویب سائٹ کیسے جاری رکھے گا۔۔۔؟؟

تو بھائی میں آپ سب کو مخلصانہ مشورہ دوں گا۔۔
کبھی کسی مینٹور کی باتوں میں نہ آنا کبھی کسی موٹیویشنل سپیکر کو نہ سننا۔۔۔
کوئی نیا کام تب سیکھنا جب کسی جگہ روزانہ تین ہزار کی دیہاڑ لگا لیتے ہو۔۔
پہلی تو تعلیم پر فوکس کرو۔۔۔
پھر اعلٰی تعلیم حاصل کر سکتے ہو تو ٹھیک۔۔۔
 نچلے گریڈ لے کر تعلیم کی ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی رہے گا۔۔
جب آپ تعلیم کے قابل نہیں رہے تو نا امید مت ہونا۔۔
سب سے پہلے اپنے اردگرد دوکانوں کا چکر لگاؤ جس ہنر مند بندے کی دوکان میں زیادہ رش نظر آئے۔۔۔جان لینا وہاں پیسہ کا سرکل زیادہ ہے اور جہاں پیسے کا سرکل زیادہ ہوتا ہے وہاں کمائی بھی زیادہ ہوتی۔۔۔
بس سیدھا اس بندے کے ہاتھ پر بیعت کر لینا اور سیکھنا شروع کر لینا۔۔۔۔
پیسہ اس وقت تک انویسٹ نہیں کرنا جب تک دھندے کی سمجھ نہ آ جائے ریڑھی لگا لینا مگر پیسہ نہ لگانا۔۔۔
کسی کورس بیچنے والے کو تو پیسہ دکھانا بھی نہیں۔۔
 کیونکہ اس کو آپ کی قابلیت نہیں پتہ۔۔۔۔مگر اس نے آپ کو بس اپنا کورس ہی بیچنا ہے۔۔ کیا کوئی ان پڑھ بندے کو کانٹینٹ رائٹنگ سکھا سکتا ہے۔۔مگر کورس سیلر اس سے بھی فیس لے لے گا اور واپس بھی نہیں کرے گا۔۔
تو میرے بھائیوں کامیابی آپ کی محنت میں ہے جب تک کچھ سیکھو گے نہیں۔۔ کما نہیں سکو گے اور سیکھنے میں پیسہ نہیں لگتا ،محنت لگتی ہے۔۔۔

الحمدللہ میں ابھی صبح بچوں کو مدرسہ میں مختلف کلاسوں کے بچوں کو میتھ پڑھاتا ہوں۔۔پھر اس کے بعد ہفتہ وار بازار میں سٹیشنری بیچتا ہوں۔اور ساتھ ساتھ آن لائن بھی چیزیں بیچتا ہوں۔۔۔۔
تو کمائی کے دو ہی طریقہ ہیں۔۔یا تو کوئی کام سیکھ لو یا کاروبار سیکھ لو۔۔۔
پھر اپنا کام آن لائن بیچو یا اپنی چیز آن لائن بیچو۔۔
دونوں ہی نفع دیں گے۔۔ 
یہ ساریں باتیں ان بچوں کو ہی سمجھ آئیں گی۔۔۔۔جو اپنے گھر کے سہارے ہیں۔۔اور مال اسباب اتنا زیادہ نہیں کہ ہر گلی میں لٹاتے پھرے۔۔
متین احمد مغل
ایم اے اسلامیات

حیرت انگیز معلومات 
ایک انسانی "جسم" کے اندر 39 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں، یعنی 3900000000000000 خلیے،،، جب کہ ایک 10 سالہ بچے میں 17 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر ایک خلیے میں 46 کروموسومز ہوتے ہیں،، اور ہر کروموسوم
میں دو DNA ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔DNA کے اندر ایک دھاگہ ہوتا ہے  اس دھاگے کی لمبائی چھ 6 فٹ ہوتی ہے اب اگر ہم ایک بالغ انسان کے تمام خلیوں کے  ڈی این اے  کو زمین پر بالکل ایک سیدھی لائن میں رکھ دیں،،،،، تو میرے کیلکولیٹر کے مطابق اس کی ''لمبائی'' 60 ٹریلین فٹ یا 10 ارب کلومیٹر بنتی ہے، دس ارب کلومیٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ فاصلہ ہماری زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے 70 گنا سے بھی زائد ہے۔۔۔۔۔ سورج زمین سے تقریباً 149 ملین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جبکہ ان تمام خلیوں کے DNA ایز کے کل، دھاگوں کی لمبائی 10 ارب ہے۔

885 کلومیٹر فی گھنٹہ (550 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرنے والے اسپس کرافٹس سورج تک پہنچنے میں تقریباً 19 سال کا وقت لیتے ہیں،،، جبکہ 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے اسپیس کرافٹس 177 سال کا وقت لیتے ہیں۔۔ یہ فاصلہ ایک جدید ترین الٹرا سونک طیارہ جس کی رفتار آواز سے آٹھ گنا تیز ہوتا ہے،،،،،، اس فاصلے کو 150 سال میں طے کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی لمبائی رکھنے کے باوجود یہ انتہائی کم جگہ گھیرتا ہے۔۔۔۔۔ الیکٹرانک ڈیزائنرز ایک سرکٹ میں کافی چیزوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرتے ہیں،،،،، اور پھر کمپیوٹر کے ذریعے اسکو ایک دوسروں سے کنیکٹ کرتے  ہیں۔ کبھی کبھی کنیکشن میں جب پانی کا کوئی چھوٹا سا قطرہ بھی آجاتا ہے تو سارا سرکٹ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جبکہ یہ 39 ٹریلین خلیے 24 گھنٹے پانی میں ادھر ادھر "تیرتے" رہتے ہیں،،،،،،،،، اور ہر لمحہ ایک دوسرے سے رابطے میں بھی ہوتے ہیں۔۔۔ مقصد یہ کہ ہمارا رب ایک بہترین سافٹ ویئر انجینئر بھی ہے،،،،، کیوں کہ اس نے ہر انسان کے ہر خلیۓ اندر ہر ایک مکمل سافٹ ویئر انسٹال کر رکھی ہے،۔۔۔،ہمارے جسم میں ہر ایک خلیے کا DNA  تقریباً 3 گیگا بائٹ جگہ گھیرتا ہے۔۔ ایک گیگا بائٹ ایک ارب (1000000000) بائٹ کے برابر ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر بندے کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس "کائنات" کو بنانے والا بہت عظیم ہے جس نے ایک پانچ فٹ انسان کے اندر ایک ایسا حیرانکن نیٹ ورک بنا کر رکھا ہوا ہے،،،،،،، جسے ہم مائیکرو سکوپ کے بغیر دیکھ بھی نہیں سکتے۔

میں سمجھتا ہوں بل کہ مجھے پورا "یقین"ہے کہ ایک انسان کے تمام خلیوں کی معلومات "Information" لکھنے کے لیے روئے زمین کے تمام وسائل ناکافی ہیں۔ اس لیے تو کائنات کے مالک سورہ لقمان آیت نمبر 27 میں فرماتے ہیں،،،،، کہ "زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر دوات بن جائیں جسے سات (7) مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں ( لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
تحسین اللہ خان

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget