پیسے کمانے کی اصل حقیقت
پیسے کمانے کی اصل حقیقت
مدرسہ سے فراغت ہوئی تو قاسم علی شاہ کو بہت سنتا تھا۔۔۔ان کے ہر نئے سیشن کی ویڈیو مکمل دیکھتا تھا۔۔
اس کے علاوہ آزاد چائے والا جب بڑی عینک لگا کر ویڈیوز کا سلسہ شروع کر رہا تھا۔۔
اس وقت ریحان اللہ والا "ہر بچہ ماہانہ ایک ہزار ڈالر کمائے " جیسا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔۔
شاہد حسین جوئیہ تھا۔۔جو مختلف کاروبار دکھاتا تھا۔۔
اور اس کے علاوہ جہاں سے مواد ملتا میں سیکھتا چلا گیا۔۔سب کی پہلی پہلی ویڈیو دیکھ جس میں وہ کہتے ہیں۔۔
ہم آپ کو سکھائیں گے ماہانہ لاکھوں کمانے کا طریقہ
اس کے علاوہ ہزاروں چیزیں۔۔۔
مگر کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کمانا کیسے ہے۔۔؟؟
میں نے اپ ورک پر ائی ڈی بنائی فائیور پر اکاؤنٹ بنایا لیکن پتہ نہیں چلتا تھا کرنا کیا ہے۔۔؟؟
تعلیم درس نظامی تھی۔۔تو عربی زبان اور قرآن ٹیچر کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا تھا۔۔مگر کہیں سے کوئی ریسپانس نہیں ملا۔۔۔
میں حیران ہوتا میں اتنا زہین ہوں۔۔مگر یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی یہ سب ایسا کیا کرتے ہیں۔۔کہ پیسہ کمانے لگ گئے۔۔۔۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ راز کھلنا شروع ہوئے کہ آزاد چائے والا تو پرانا کھلاڑی ہے۔۔سولہ سال کی عمر میں ہی اس نے گیم ڈویلپمنٹ سیکھ لی تھی۔۔
ریحان اللہ والے کا باپ نواب تھا۔۔جب پورے پاکستان میں دو تین بندوں کے پاس کمپیوٹر تھا۔۔اس میں ایک ریحان اللہ والا کے والد نے بھی بچے کو دلوایا تھا۔۔
اس کے علاوہ جتنے بھی گرو نظر آتے سب اپنا وہ راز چھپاتے تھے جس نے ان کو بلندیوں تک پہنچایا۔۔۔
وہ غریب جس کے پاس رات کھانے کے لئے کچھ نہ ہو اسے لاکھوں کا خواب دکھانا عجیب تر تھا۔۔۔
۔۔
میں یہ سب دیکھتا رہا۔۔
پھر جو بھی بڑا گرو آن لائن سے پیسے کمانے والا بندہ تھوڑا مشہور ہوتا تو فورا اپنی کوئی پراڈکٹ بناتا اور اس کو بیچنا شروع کر دیتا۔۔
میں حیران ہوتا کہ اس نے بعد میں جوتے بٹوے کپڑا آم کھجوریں سلاجیت ٹوپیاں وغیرہ وغیرہ ہی بیچنی تھی تو فری لانسنگ کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔؟؟؟
جس کے یہ کورس بیچ رہا تھا۔۔ہزاروں سٹوڈنٹ بنا لیے تھے۔۔ سمجھ نہیں آتی۔۔۔!!!
میں اس دوران اپنا کام ہی کرتا رہا۔۔
آخر کار معلوم ہوا۔۔۔اصل کمائی بزنس ہی ہے چیز بیچنا خریدنا۔۔۔
آزاد چائے والے نے پوری نمائش لگا لی۔۔۔۔۔
ریحان اللہ والے نے سکول کھول لیے۔۔۔
سنی علی ایمازون پر اپنی تیار کردہ چیزیں بیچتا رہا۔۔۔۔۔
قاسم علی شاہ
زیشان الحسن عثمانی تک نے بھی اپنی کتابیں بیچی ۔۔
غرض جتنے بھی بڑے بڑے مینٹور تھے۔۔کسی نے جوتے بنا لیے۔۔کسی نے بٹوے بنا لیے۔۔ کوئی آم کے باغات میں جا بیٹھا۔۔۔۔۔۔
غرض آخر میں کمائی کا زریعہ بزنس ہی سب گرو حضرات کو سمجھ آیا۔۔دھندا ہو گا۔۔تو بندہ ہو گا۔۔
اس دوران میں نے نہ کوئی کورس کیا نہ کسی سے سکل سیکھی بس صبح بازار جاتا شام کو آن لائن دوکان دیکھتا۔۔۔
اور ہر وہ چیز سمجھ آنے لگی جس سے نئے بچوں کو لوٹا جاتا ہے۔۔
ایک بچہ جس نے کبھی پاکستان کے جھنڈے میں رنگ نہیں بھرے اس کو گرافک ڈیزائننگ کیا سمجھ آئے گی۔۔؟؟
جس بچے کو چھلی بیچنا نہیں آتی وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں کیا کام کرے گا۔۔؟؟
جس بچے کو یہ نہیں پتہ کہ منشی گیری کیا ہوتی ہے اسے کیا علم ہو گا ورچوئل ایسسٹنٹ کس بلا کا نام ہے۔؟؟
جس بچے نے قرض کے پیسوں سے آپ کا کورس خریدا وہ شاپیفائی کی ماہانہ واری کہاں سے دے گا۔۔؟؟
جس بندے کے پاس اپنے دوگز ٹھیہ کا کرایہ نہیں وہ اپنی ویب سائٹ کیسے جاری رکھے گا۔۔۔؟؟
تو بھائی میں آپ سب کو مخلصانہ مشورہ دوں گا۔۔
کبھی کسی مینٹور کی باتوں میں نہ آنا کبھی کسی موٹیویشنل سپیکر کو نہ سننا۔۔۔
کوئی نیا کام تب سیکھنا جب کسی جگہ روزانہ تین ہزار کی دیہاڑ لگا لیتے ہو۔۔
پہلی تو تعلیم پر فوکس کرو۔۔۔
پھر اعلٰی تعلیم حاصل کر سکتے ہو تو ٹھیک۔۔۔
نچلے گریڈ لے کر تعلیم کی ڈگری محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی رہے گا۔۔
جب آپ تعلیم کے قابل نہیں رہے تو نا امید مت ہونا۔۔
سب سے پہلے اپنے اردگرد دوکانوں کا چکر لگاؤ جس ہنر مند بندے کی دوکان میں زیادہ رش نظر آئے۔۔۔جان لینا وہاں پیسہ کا سرکل زیادہ ہے اور جہاں پیسے کا سرکل زیادہ ہوتا ہے وہاں کمائی بھی زیادہ ہوتی۔۔۔
بس سیدھا اس بندے کے ہاتھ پر بیعت کر لینا اور سیکھنا شروع کر لینا۔۔۔۔
پیسہ اس وقت تک انویسٹ نہیں کرنا جب تک دھندے کی سمجھ نہ آ جائے ریڑھی لگا لینا مگر پیسہ نہ لگانا۔۔۔
کسی کورس بیچنے والے کو تو پیسہ دکھانا بھی نہیں۔۔
کیونکہ اس کو آپ کی قابلیت نہیں پتہ۔۔۔۔مگر اس نے آپ کو بس اپنا کورس ہی بیچنا ہے۔۔ کیا کوئی ان پڑھ بندے کو کانٹینٹ رائٹنگ سکھا سکتا ہے۔۔مگر کورس سیلر اس سے بھی فیس لے لے گا اور واپس بھی نہیں کرے گا۔۔
تو میرے بھائیوں کامیابی آپ کی محنت میں ہے جب تک کچھ سیکھو گے نہیں۔۔ کما نہیں سکو گے اور سیکھنے میں پیسہ نہیں لگتا ،محنت لگتی ہے۔۔۔
الحمدللہ میں ابھی صبح بچوں کو مدرسہ میں مختلف کلاسوں کے بچوں کو میتھ پڑھاتا ہوں۔۔پھر اس کے بعد ہفتہ وار بازار میں سٹیشنری بیچتا ہوں۔اور ساتھ ساتھ آن لائن بھی چیزیں بیچتا ہوں۔۔۔۔
تو کمائی کے دو ہی طریقہ ہیں۔۔یا تو کوئی کام سیکھ لو یا کاروبار سیکھ لو۔۔۔
پھر اپنا کام آن لائن بیچو یا اپنی چیز آن لائن بیچو۔۔
دونوں ہی نفع دیں گے۔۔
یہ ساریں باتیں ان بچوں کو ہی سمجھ آئیں گی۔۔۔۔جو اپنے گھر کے سہارے ہیں۔۔اور مال اسباب اتنا زیادہ نہیں کہ ہر گلی میں لٹاتے پھرے۔۔
متین احمد مغل
ایم اے اسلامیات