اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ستمبر 2025

روم و فارس کے بادشاہوں کے نام
خالد بن ولید
کا دو ٹوک الفاظ کا خط۔۔۔
''ہتھیار ڈال دو سڑنڈر کر دو ورنہ میں ایسی فوج لیکر آؤں گا کہ جتنا تمہیں اور تمہاری فوج کو اپنی زندگی سے پیار ہے، اتنا مجھے اور میری فوج کو اپنی موت سے پیار ہے''
پھر سرنڈر کے بجائے لڑنے کا نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔! 
دنیا کی دو سپر پاورز کو عرب کے ایک کمانڈر نے نیست و نابوت کر دیا۔
دنیا کی تاریح میں ایسا کوئی جنگی کمانڈر نہیں گزرا جس نے سینکڑوں لڑائیاں لڑی ہوں مگر کبھی ہارا نہ ہو حتی کہ سکندر اعظم، چنگیز خان، جولیس سیزر، نپولین بونا پارٹ بھی کئی مقامات پر لڑائیاں ہارے ہوئے ہیں مگر واحد انسانی تاریح میں خالد ہی ایسا جنرل کمانڈر معلوم پڑتا ھے جو کبھی کوئی لڑائی ہارا نہ ہو۔ 
خالد بن ولید کے بارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا و اجمعین فرماتے تھے۔۔۔ 
مائیں ایسے بچے روز روز جنا (پیدا) نہیں کرتی۔ 
خالد ابن الولید کا قول تھا۔۔۔!

''اگر موت میدانِ جنگ میں لکھی ہوتی تو خالد کبھی بستر پر نہ مرتا''
 کیونکہ انکی اپنی ساری زندگی میدان جنگ میں موت کا سامنا کرتے گزر گئی مگر موت آخر کار انہیں بستر پر آئی میدان جنگ میں نہیں۔ 
خالد ابن الولید کا ایک اور قول تھا۔۔۔! 
''بزدلوں کو کبھی نیند نہ آۓ''

مطلب بزدل ہونا اور حالات کا سامنا کرنے سے گھبرا جانا تو انسان ہونے کا بھی ایک نیچ ترین درجہ ہے۔
سلام ہو سیف اللہ سیدنا خالد ابن الولید رضی اللہ عنہا واجمعین پر۔

ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅
مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے* 
*This is Kamran, how can I help you ?* 

*ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے  باوجود یہ انگریزی ؟
فرمانے لگے "جی بولیے ؟"
ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"
جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،"
 ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “
 اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“
*ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت  اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"
 اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت  بتائیں"
 ہم نے کہا," سر نہیں، جناب,  اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے"
شکایت سننے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"
ہم نے کہا، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے، 
ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے  اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."
ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے" 
کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!*“ 
ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!!
کہنے لگے," میرے باپ کی بھی توبہ....!!
😅😅😅 
_______________________________

*‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*

 "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..

آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. 

بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .

اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. 

شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.

 مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.

شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..

 عورت نے جواب دیا..

 "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

شیوانا نے مسکرا کر کہا.. 

"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟

 اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. 

تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..

 یہ بُت احمق نہیں ھے..

وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی 

مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. 

کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے.. 

جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!

مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget