خطیبِ مسجد رو پڑا
خطیبِ مسجد رو پڑا
زندگی کو محسوس کرنے کی کہانی
درگاہ کے پانچویں روز نماز ظہر کے بعد کا وقت تھا، جب ڈاکٹر آمنہ مجھے مسجد میں بلانے آئیں۔ خطیب صاحب نے انہیں اندر آنے سے روک دیا اور کہا کہ عورتیں مسجد میں نہیں جا سکتیں۔ آج ہماری درگاہ پر گیارہواں دن تھا اور پوری درگاہ میں سو سے زائد ملازمین تھے۔ شروع میں تو ہم دونوں کو، یعنی میں اور آمنہ، سب نے شک کی نظروں سے دیکھا۔ خطیب صاحب سے لے کر عام ملازمین تک، ہر کوئی حیران تھا کہ یہ لڑکا اس لڑکی کو لے کر ہر جگہ کیوں موجود ہے – مسجد میں، کار میں، ڈائننگ ایریا میں، اور لیکچر ہال کے اندر بھی۔
جب ہم میں سے دو چار کو پتا چلا کہ ہم دونوں میاں بیوی ہیں، تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ دونوں صبح اتنی جلدی اٹھ جاتے ہیں؟ اس کی بیوی فجر کی نماز کے فوراً بعد جوگرز پہن کر اسے مسجد میں لینے آ جاتی ہے، پھر یہ دونوں مل کر ایک گھنٹہ واک کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں۔ نہانے اور اپنے کپڑے خود دھونے کے بعد یہ اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں، اکٹھے اپنے برتن دھوتے ہیں، اکٹھے دانت برش کرتے ہیں، اکٹھے اپنے جوتے صاف کرتے ہیں، اکٹھے بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں، اکٹھے دوپہر اور شام کا کھانا کھاتے ہیں۔ شام کو پھر ایک گھنٹہ واک کرتے ہوئے باتیں کرتے ہیں اور اکٹھے سوتے ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا: یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اتنی عزت اور اتنا وقت دے سکتا ہے؟ اور یہ دونوں میاں بیوی تقریباً 24 گھنٹے ایک دوسرے سے جُڑے رہتے ہیں۔
خطیب صاحب کا اعتراف
خیر، آج صبح جب میں گاڑی سے اپنے کپڑے نکال رہا تھا، خطیبِ مسجد نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور آہستہ سے پوچھا، "آپ کہاں سے ہیں؟" پھر وہ مجھے الگ لے جا کر خود ہی بتانے لگے کہ میں کشمیر سے ہوں، اور ایک ماہ کے بعد جب میں اپنے گھر جاتا ہوں تو میری بیوی بہت گلے شکوے کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ایک ماہ بعد آتے ہو اور مجھے وقت نہیں دیتے، اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کی طرف بھاگتے رہتے ہو۔ میری بیوی کو شوگر بھی ہے۔
انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، "لیکن میں نے دیکھا ہے، آپ کو اللہ نے اچھی اور نیک بیوی دی ہے۔ میں نے آپ کا آپس میں بہت پیار دیکھا ہے، پچھلے گیارہ دنوں سے۔ مجھے 65 سال ہو گئے ہیں پاکستان کی مختلف مسجدوں میں دین پڑھاتے ہوئے، لیکن میں نے ایسے میاں بیوی آج تک نہیں دیکھے۔ آپ دونوں نے آپس میں اتنا اکٹھا رہنا، پیار کرنا، اور باتیں کرنا کہاں سے سیکھا؟"
میں نے مسکرا کر عرض کیا، "استاد جی، ہم نے 'دین' سے سیکھا ہے۔" وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے۔ میں نے مزید عرض کیا کہ حدیث ہے: ”آپ میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو۔“
فوراً بولے، "اللہ اکبر!" وہ بڑے حیران ہوئے اور پھر ایک گھنٹے تک اپنی بیوی کے ساتھ تعلق کو بہتر بنانے کے لیے مجھ سے پوچھتے رہے۔
آپ کی زندگی کی طرف
خیر، یہ تو میری باتیں تھیں، اب آتے ہیں آپ کی زندگی کی طرف۔ کیا آپ میاں بیوی بھی اکٹھے اتنا وقت گزار سکتے ہیں؟ کیا آپ بھی آپس میں 10 دن مسلسل 24 گھنٹے (کرونا کے علاوہ) جڑے رہ سکتے ہیں؟ ارے نہیں نہیں، میرا مطلب ہے آپ اپنے آپ سے کیسے جڑے رہ سکتے ہیں؟ بڑی بڑی کامیابیوں سے یا چھوٹی چھوٹی چیزوں سے؟
چلو، آج آپ کو ہوم ورک دیتے ہیں۔ آپ نے کل صبح جلدی اٹھنا ہے۔ نماز فجر کے بعد، اندھیرے سے روشنی کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ اپنی بیوی یا خاوند کے ساتھ، یا پھر اکیلے، ایک کرسی پر بیٹھ جانا ہے۔ باہر کھلی جگہ پر، یا کھڑکی کھول کر باہر دیکھتے رہنا ہے۔ آپ کے پاس موبائل نہیں ہونا چاہیے، ٹی وی بھی بند ہونا چاہیے۔ آپ نے کل صرف ایک دن سورج نکلنے کا منظر دیکھنا ہے۔
حواسِ خمسہ سے زندگی کو محسوس کریں
ہاں یاد رکھیں! جب یہ منظر دیکھ رہے ہوں تو آپ نے وہ سب سننا ہے جو آپ کے کانوں میں پڑے، آپ نے وہ سب دیکھنا ہے گردن گھما گھما کر جہاں تک آپ کی آنکھیں دیکھ سکیں، وہ سب کچھ سونگھنا ہے جو ناک سونگھ سکے۔
اور جب ناشتہ کرنے لگیں تو اپنے ناشتے کو اچھی طرح سجانا ہے۔ چاہے آپ صرف چائے پیتے ہیں، اس کے ساتھ کوئی ڈبل روٹی، بریڈ، بسکٹ یا پھل کھاتے ہیں تو آپ نے کوشش کرنی ہے کہ چائے کو کسی مختلف کپ کے اندر ڈالنا ہے۔ اپنے، بیوی یا اماں جی کے جہیز کے برتنوں کو ہوا لگوانی ہے، یعنی اچھی سی پلیٹ نکالنی ہے، اور ناشتے کی جو بھی چیزیں ہیں، وہ سجانی ہیں، اور کسی کی بھی مداخلت کے بغیر تنہائی میں بیٹھ کر (دونوں میاں بیوی یا اکیلے) کانوں میں پڑنے والی آوازوں کو سنتے ہوئے، آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اور ناک سے سونگھتے ہوئے آپ نے آہستہ آہستہ کھانا ہے، چبا چبا کر، اور آہستہ آہستہ چائے یا کافی پینی ہے۔
اور کھانے کے بعد آپ نے اپنے برتن خود دھونے ہیں، چاہے آپ کے گھر میں ملازم ہوں۔ (جیسے آج کل ہم دونوں میاں بیوی اپنے برتن اور کپڑے خود دھو رہے ہیں) آپ نے بھی آہستہ آہستہ دھونے ہیں، پانی ضائع کیے بغیر اور نظریں بہتے پانی پر رکھنی ہیں، اور اپنے برتنوں کا ایک ایک کونا رگڑ رگڑ کر صاف کرنا ہے۔ یقین کریں، ”برتن دھونا اور کپڑے دھونا ایک تھیراپی ہے۔“
زندگی کی حقیقت
یاد رکھیں! ہمارے سامنے ہر روز ایک نیا سورج نکلتا ہے، ہر روز نئے رنگوں سے بھرا ہوا دن طلوع ہوتا ہے۔ آج کا سورج کل نہیں نکلے گا۔ کل کا سورج مختلف ہوگا، موسم مختلف ہوگا، تاریخ مختلف ہوگی، اور ہم بھی وہ نہیں ہوں گے جو ہم آج ہیں۔ ہم ہر پل بدل رہے ہیں۔
ہم بھی چند دن یا چند سال مزید اس نکلتے سورج کو دیکھ پائیں گے، اور پھر اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ ہم اس دنیا میں تھوڑے دنوں کے لیے ہیں۔ کیوں نہ خود کو اس دنیا میں گُم کرنے کی بجائے اس کی چھوٹی اور بڑی چیزوں کو غور سے دیکھنا شروع کر دیں؟ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دینا شروع کر دیں؟ اپنے پیاروں، ماں باپ اور بچوں کو وقت دینا شروع کر دیں؟ کیوں نہ اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے سے پہلے، ہم اس کو محسوس کرنا شروع کر دیں؟
مجھے یہاں پر مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کی بات یاد آ رہی ہے، وہ کہا کرتے تھے:
”میں نے یہ سیکھا ہے اس دنیا سے کہ یہاں ہر کوئی چکھے گا موت کا مزہ، لیکن بہت کم ہوں گے جو چکھ پائیں گے زندگی کو!“
کیا آپ اس ہوم ورک کو کرنے کے لیے تیار ہیں اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کو محسوس کرنے کا آغاز کریں گے؟