اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

محکمہ پولیس میں چھٹی

محکمہ پولیس میں چھٹی

پولیس رول کے مطابق کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک پولیس افیسرز کو جو چھٹی ملتی ہے وہ اُنکا حق نہیں بلکہ یہ دی جانے والی چُھٹی افسران بالا کی طرف سے رعایت ہے،یعنی اگر گزٹڈ افیسر کی مرضی ہوگی تو وہ چھٹی دے دے گا ورنہ آپ چھٹی کسی بھی قانون کے مطابق اِن سے نہیں مانگ سکتے 
ویسے یہ رعایت سال میں 30 دن تک کی چھٹی کی صورت میں افسران بالا آپکو دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور ہاں ! یہ 30 دن کی رعایت سال میں پوری نفری کا 10% کو ایک وقت میں دی جاتی ہے۔ اگر حالات خراب ہوں تو اس 10% نفری کی چھٹی بھی بند کردی جاتی ہے نتیجتاً جب چھٹی کُھلتی ہے تو چھٹی کا بحران پیدا ہوا ہوا ہوتا ہے
چھٹی کا طریقہ کار ہمیں انگریزوں سے وراثت میں ملا ہے جن کے قوانین کا مقصد صرف یہ تھا کہ برصغیر کے لوگوں کو اپنی غلامی میں رکھنا باقی آپ سمجھدار ہوں گے
ایک بات آپکو میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پولیس افیسر بھی انسان ہوتا ہے اور انسانوں کی مختلف ضروریات،مصروفیات،رشتےدار،بیوی،بچے،موت فوت،زچہ بچہ،بیماری اور وغیرہ وغیرہ بہت کچھ ہے سنانے کو۔۔۔۔۔اسلام میں بیوی سے کم سے کم دور رہنے کا وقت بھی  آپ کومعلوم ہوگا، اس لیے کچھ افیسرز کو اپنے فرض و سنت کی ادائیگی کیلیے بھی چھٹی چاہیے ہوتی ہے____اور ہاں ایک بات یہ بھی میں نے افیسرز سے سنی ہیکہ اگر گھر کے کام کرنے تھے تو گھر ہی بیٹھتے پولیس فورس جوائن نہ کرتے،یعنی پُلسیہ بننے کے بعد پولیس والا نہ باپ رہتا ہے،نہ بیٹا،نہ بھائی،نہ شوہر،نہ کسی کارشتہ دار اور نہ ہی اس کی کوئی خوشی غمی ہوتی ہے

جی!!!! تو اب اس نقطے پر آتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں ایک پولیس افیسر کس طرح اپنی چُھٹی Manage کرتا ہے 
چُھٹی حاصل کرنے کےلیے مختلف پولیس افیسرز اپنا اپنا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں جن کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں
*جب مُنشی کے پاس چھٹی کی گنجائش نہیں ہوتی اور ایک حق دار کو چھٹی چاہیے ہوتی ہے تو ذیل طریقے پہ عمل پیرا ہوتا ہے*

1_بیمار نہ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر کو پیسے دے کر جھوٹا بیماری کا میڈیکل بنواتا ہے
2_کسی قریبی رشتہ دار((ماں،باپ،بہن،بھائی،بیٹا،بیٹی، یا کوئی اور قریبہ رشتہ دار)) جو یا تو زندہ ہوتا ہے یا پھر مرے ہوئے عرصہ بیت چکاہوتا ہے،کی فوتگی کا بہانہ بنا کر 3 دن ایمرجنسی چھٹی لے کر گھر چلا جاتا ہے 
3_غیر حاضر ہوجاتا ہے،جس کو واپسی پہ محکمانہ سزا بھگتنا پڑتی ہے
4_کچھ لوگ مُنشی کے ساتھ گپ شپ رکھتے ہیں اور خوش بھی رکھتے ہیں،لہذا کچھ منشی بھی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوش کرنے والوں کو ناخوش نہیں دیکھ سکتے، مطلب چھٹی مل جاتی ہے ایسوں کو بھی
5_کچھ پولیس افیسرز کو خاموش طبیت ہوتے ہیں اس لیے ہر دکھ سکھ کو اپنے دل۔میں رکھتے ہیں اور میرٹ پہ چھٹی ملنے کا انتظار کرتےہیں،یہ انتظار دو مہینے سے لے کر 5 مہینہ، مزید 6 مہینہ سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے

*اس ساری صورتحال میں کچھ  پُلسیے چِڑچڑےاور ٹینشن کے مریض اور کچھ محکمہ میں عادی مجرم بن جاتے ہیں،کچھ کے رشتےدار ناراض ہوجاتے ہیں،کچھ کی بیگمات اور بچے ناراض ہوئے ہوتے ہیں،اور ہاں دیکھنے میں آیا ہیکہ پولیس والے کے بچے بگڑے ہوئے اور نافرمان ہوتے ہیں۔۔۔جس کی وجہ باپ کا سر پہ سایہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ پولیس والے کو گھر قانونی طور پر جانے کا اتنا ہی موقع ملتا ہے جس طرح ایک کسان کو کھیتوں میں فصل کےبیج بونے کا اور کاٹتے وقت درانتی ہاتھ میں لے کر کاٹ آنے کا*  

بات یہ ہیکہ پولیس کو رعایت نہیں بلکہ حق دینا چاہیے اور انگریزوں کے غلامانہ قوانین کی بجائے اُمت محمدی کے قوانین کو برسرپیکار لانا چاہیے
اس کاوش کے بعد ہوسکتا ہے پولیس پہ لگے ہوئے رشوت خوری کے ٹیگز میں کچھ کمی آئے اور پولیس کے رویے میں شاید  باپ،بھائی،اور بیٹے کی جھلک نظر آئے۔۔۔۔
جزاک اللہ
لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget