اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اگست 2025

سائیکالوجسٹ: کیسے ہو؟
میں: ٹھیک ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: ذہنی طور پہ کیسے ہو؟
میں: ٹھیک نہیں ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: معلوم ہوتا تو کیا یہاں بیٹھ کے آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا؟

سائیکالوجسٹ: کیا محبت کا مسئلہ ہے؟
میں: نہیں، محبتوں کا ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: کتنی بار محبت کی ہے؟
میں: معلوم نہیں ، ابھی بیٹھے بیٹھے آپ کی گفتگو سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: پہلی محبت کب ہوئی تھی؟
میں: جب پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔۔

سائیکالوجسٹ: آخری محبت کب ہوئی؟
میں: جب کالج میں تھا۔۔
 

سائیکالوجسٹ: تو پھر دوبارہ محبت کیوں نہیں کی؟
میں: کیونکہ آخری محبت بھلائی نہیں جا رہی ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: وہ آخری کیوں تھی؟
میں: کیونکہ اس کے بعد محبت کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔۔

سائیکالوجسٹ: ابھی تو کہہ رہے تھے آپ کی گفتگو سے محبت کر رہا ہوں۔ پھر؟
میں: وقتی ہے دل بہلانے کے لیے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی محبت یہیں چھوڑ جاؤں گا۔

سائیکالوجسٹ: اس کی محبت کو اتنا سوار کیوں کر رکھا ہے؟ ایسا کیا ہے، اس کی محبت میں جو تم کسی اور میں تلاش نہیں کر پا رہے؟
میں: اس کی غزالی آنکھوں کی نمی اور اس کی مہک کے حصار نے کبھی گھیرے سے باہر نکلنے نہیں دیا

سائیکالوجسٹ: آخری بار کب ملے تھے؟
میں: یہاں آنے سے پہلے ہی ملا تھا۔

سائیکالوجسٹ: کہاں؟
میں: آئینے کے سامنے جب بال سنوار رہا تھا۔

سائیکالوجسٹ: وہ ساتھ تھی؟
میں: وہ الگ کب ہوئی؟

سائیکالوجسٹ: الگ کرو گے تو کسی اور سے محبت ہوگی۔۔
میں: آخری محبت ہے کیسے بھولوں؟

سائیکالوجسٹ: تم نے آخری بنا رکھا ہے۔ 
میں: وہ سوار ہے بھلائی نہیں جاتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: کیا چیز بھولنے نہیں دیتی؟
میں: یہ چائے کا کپ جو سامنے پڑا ہے۔ 

سائیکالوجسٹ: ہم اس کی جگہ کافی بھی رکھ سکتے ہیں۔
میں: میڈم یہ آپشن محبت میں نہیں ملا کرتے۔

سائیکالوجسٹ: خوش کب ہوتے ہو؟
میں: جب اکیلا ہوں۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: کیونکہ تنہائی میں ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: دن میں کتنی بار ملاقات ہوتی ہے؟
میں: دن میں اتفاق سے ہوجاتی ہے ورنہ رات میں لازم۔

سائیکالوجسٹ: اور رات میں کب تک؟
میں: جب تک نیند نا آئے۔

سائیکولوجسٹ: نیند کب تک آ جاتی ہے؟
میں: جب تک ملاقات میں ناراضگی نا آ جائے۔۔

سائیکولوجسٹ: ناراضگی سے نیند کا کیا تعلق؟
میں: جب وہ ناراض ہوتی ہے پھر میں اداس ہو کر روتا ہوں اور روتا روتا کب سو جاؤں معلوم نہیں پڑتا۔۔

سائیکالوجسٹ: تو پھر اگلے دن ملاقات کیسے ہوتی جب ناراضگی ہو؟
میں: صبح اٹھتے ہی ہم اک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔

سائیکالوجسٹ: کیا وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے؟
میں: یقیناً ورنہ آج بھی ساتھ نا ہوتی۔۔

سائیکالوجسٹ: تم پاگل ہو۔۔
میں: اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔
میں: پاگل ٹھیک ہوتے ہیں؟

سائیکالوجسٹ: بالکل ہوتے ہیں۔۔
میں: کیا آپ لوگ پاگل نہیں ہوئے کبھی؟

سائیکالوجسٹ: مطلب؟؟
میں: کیا آپ لوگ محبت نہیں کرتے؟

سائیکالوجسٹ: کرتے ہیں۔۔
میں: پھر جب جدائی ملے تب پاگل نہیں ہوتے؟

سائیکالوجسٹ: ہوتے ہیں۔۔
میں: پھر آپ لوگ جب خود پاگل ہو تو ہمارا علاج کیسے کر رہے؟

سائیکالوجسٹ: زوردار قہقہ مار کر ہنسنے لگی 
میں: اب میں جاؤں؟

سائیکالوجسٹ: ہاں جاؤ 

میں اٹھا اور وہ ہنستے ہنستے میز پہ رکھے ٹشو سے آنسو پوچھنے لگی۔

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة 
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
 امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
 " امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

  (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
 جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

 ( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
 ( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

 ( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں 

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
 جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

 كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے 

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

 "وأزواجنا"

 زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو

ایک فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے دست سوال دراز کیا اور ساتھ ہی دعا دی اللہ تعالیٰ تمہیں بادشاہ بنائے‘ بزرگ نے اس سے پوچھا ’’ کیا تم بادشاہ بننا چاہتے ہو‘‘ فقیر نے حیران ہو کر جواب دیا ’’ جناب میں نسلوں کا فقیر‘ میں کیسے بادشاہ بن سکتا ہوں‘‘ بزرگ نے کہا ’’ چلو ہم ایک تجربہ کرتے ہیں‘ میں تمہیں بادشاہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو تم مجھے حج کرواؤ گئے اور میں اگر ناکام ہو گیا تو میں پوری زندگی تمہاری کفالت کروں گا‘‘ فقیر مان گیا‘ بزرگ نے اس سے کہا ’’ تمہاری جیب میں کتنے پیسے ہیں‘‘ فقیر نے پیسے گنے‘ وہ تیس روپے تھے‘ بزرگ نے اسے مٹھائی کی دکان پر بھیجا‘ تیس روپے کی جلیبیاں منگوائیں‘ سامنے بے روزگار مزدور بیٹھے تھے‘ بزرگ نے اسے حکم دیا ’’ تم یہ جلیبیاں ان مزدوروں میں تقسیم کر دو‘‘ فقیر گیا اور جلیبیاں مزدوروں میں بانٹ آیا‘ بزرگ نے اسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور حکم دیا ’’ تم گھر چلے جاؤ‘ تیس دن انتظار کرو اور دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘فقیر چلا گیا‘ وہ تیسرے دن دوڑتا ہوا بزرگ کے پاس آیا‘ وہ خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا‘ بزرگ نے وجہ پوچھی‘فقیر نے بتایا ’’ مجھے پچھلے مہینے ایک کلرک نے بھیک میں پرائز بانڈ دیا تھا‘ میں نے وہ بانڈ سنبھال لیا‘ آج وہ بانڈ نکل آیا‘ میں بیٹھے بٹھائے تین لاکھ روپے کا مالک بن گیا‘‘ بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا ’’یہ بانڈ تمہارا نہیں‘ اس کا مالک وہ ہے جس نے تمہیں یہ بانڈ دیا تھا‘ تم بانڈ کے مالک کو تلاش کرو‘ یہ رقم اسے واپس کر دو اورانتظار کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘ فقیر کو یہ آئیڈیا بہت برا لگا لیکن اس کے باوجود اس نے کلرک کو تلاش کیا اور بانڈ لے کر اس کے پاس پہنچ گیا‘ کلرک فقیر کی ایمانداری پر حیران رہ گیا‘ وہ فقیر کے ساتھ دفتر سے نکلا‘ ڈی سی آفس گیا‘ وہاں کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کرائی‘ فقیر کو پچاس فیصد کا حصہ دار بنایا اور سرکاری ٹھیکے لینا شروع کر دیئے‘ وہ دونوں مل کر کام کرتے تھے‘ کلرک ٹھیکہ لیتا تھا اور فقیر کام کرواتا تھا‘ یہ کمپنی مزدوروں کو تین وقت کا کھانا دیتی تھی‘ کمپنی چل پڑی‘ کلرک اور فقیر دونوں امیر ہو گئے‘ یہ دونوں بزرگ کو ہر سال حج پر بھجواتے تھے اور شام کے وقت فقیروں کو روک کر انہیں بادشاہ بننے کا نسخہ بتاتے تھے‘ یہ کمپنی آج بھی قائم ہے‘ اس میں اب کلرک اور فقیر کے بچے کام کرتے ہیں‘یہ کمپنی تیس روپے کے صدقے سے شروع ہوئی‘ یہ اب تک درجنوں لوگوں کو بادشاہوں جیسی زندگی دے چکی ہے‘ میں ذاتی طورپر ایسے بیسیوں لوگوں سے واقف ہوں جو جاہل بھی ہیں‘ نالائق بھی اور غیر محتاط بھی لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کا کرم برستا رہتا ہے‘ میں نے جب بھی تحقیق کی‘ مجھے اس کرم کے پیچھے ہمیشہ صدقہ اور خیرات ملی‘ یہ دل کے سخی اور ہاتھ کے کھلے ہیں‘ میں نے ایک اور چیز بھی مشاہدہ کی‘ انسان اگر صدقہ کرے اور ساتھ ہی عاجزی اختیار کر لے تو دولت بھی ملتی ہے اور عزت بھی کیونکہ جس طرح خوش حالی کا تعلق صدقے سے ہے بالکل اسی طرح عزت عاجزی سے وابستہ ہے‘ آپ جتنا جھکتے جاتے ہیں آپ کی عزت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ آپ اس معاملے میں اولیاء کرام کی مثال لے لیجئے‘ اولیاء کرام میں عاجزی ہوتی ہے چنانچہ ان کے مزارات ہزار ہزار سال تک آباد رہتے ہیں‘ یہ کھلے دل اور فراخ ہاتھ بھی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے درباروں پر ان کے انتقال کے بعد بھی لنگر چلتے ہیں اور بادشاہ مال و متاع لے کر ان کی درگاہ پر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔

قرآن کی سب سے خوفناک کہانیوں میں سے ایک !!! 

یہ اصحابِ سبت کی کہانی ہے۔ اگر آپ اس کہانی کو آج کے دور کی ذہنیت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں، تو آپ کو شاید لگے کہ انہوں نے کوئی بڑا جرم نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں، جو دن اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے مخصوص کیا تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ ہفتے کے دوران مچھلیاں غائب ہو جاتی تھیں اور صرف ہفتے کے دن ہی پانی کی سطح پر نظر آتی تھیں۔ 

جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے ہفتے کے دن شکار نہیں کیا، جو ان پر حرام تھا، بلکہ وہ صرف جمعہ کی رات کو اپنے جال پانی میں ڈالتے تھے اور اتوار کی صبح ان کو نکال لیتے تھے۔

یقیناً ان کے پاس کچھ علماء ہوں گے جنہوں نے انہیں کہا ہوگا کہ جب تک تم ہفتے کے دن جال نہیں ڈال رہے اور نہ ہی اس دن نکال رہے ہو، تو یہ جائز ہے۔

اگر آپ آج کے دور کی عقل سے سوچیں، تو آپ کو شاید لگے کہ انہوں نے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوا، ان پر لعنت بھیجی، انہیں اپنی رحمت سے خارج کر دیا، اور انہیں بندر بنا دیا۔

"(وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ)"

یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دھوکہ دیا اور اس کے حکم سے بچنے کی کوشش کی۔

آج ہم میں سے کتنے لوگ اللہ کے واضح اور صریح احکامات کے ساتھ چالاکی اور حیلہ بازی کی ذہنیت رکھتے ہیں؟

● سود کو نفع کہہ دیا گیا ہے
● رشوت کو اکرامیہ بنا دیا گیا ہے
● زنا کو باہمی رضامندی کا تعلق قرار دیا گیا ہے
● شراب کو روحانی مشروب کہہ دیا گیا ہے
● بے پردہ خواتین کہتی ہیں کہ ایمان دل میں ہے
● اور جو نماز نہیں پڑھتا وہ کہتا ہے کہ دین تو معاملہ داری کا نام ہے

بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہو یا ہم اس کی رحمت سے باہر ہوں اور ہمیں اس کا شعور نہ ہو، بلکہ ہم تو خود کو اللہ کے نیک بندے سمجھتے ہوں۔

 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنے رب کے ساتھ ایسے معاملہ کریں جیسے وہ عظیم رب ہے، جو حکم دیتا ہے تو اس کی اطاعت کی جاتی ہے؟  
اللہ فرماتا ہے: "تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا احترام نہیں کرتے؟"  
اور فرماتا ہے: "اور انہوں نے اللہ کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی۔"

اللہ فرماتا ہے: "اور اگر وہ کرتے جو انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔"

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں خوبصورت انداز میں اپنی طرف لوٹا دے اور ہمیں حسنِ انجام عطا فرمائے۔

ایک ہی عورت بیک وقت مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی محبوبہ تھی.... عطیہ فیضی.... وہ ان میں سے کسی کے بھی ہاتھ نہ آئی. دونوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتی رہی اور جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو  ایک یہودی نژاد (بعد میں مسلمان ہوجانے کا بھی ذکر ملتا ہے) کے ساتھ شادی کر کے بیرون ملک جا بسی..شبلی اس کے غم میں نڈھال ہو گئے اور اقبال اس کی بے وفائی پر شکوہ کناں رہے..شبلی محقق تھے اور اقبال مفکر تھے... اس کے باوجود وہ دونوں ہی ایک عورت کو اپنا نہ بنا سکے. عطیہ فیضی کو محبت کرنے والا لائف پارٹنر مطلوب ہی نہیں تھا بلکہ اس کو جدید اور پر آسائش لائف سٹائل کی چاہت تھی. اس سے معلوم ہوا کہ خالی جیب والے مفکرین اور محققین عموما محبت کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہی ہار ان کے علمی اور فکری عروج کی مہمیز بن جاتی ہے.محبت کی اس ناکامی کے سبب نہ تو علمی حلقوں میں شبلی کا قد چھوٹا ہوا اور نہ ہی اقبال کے نام پر کوئی داغ لگا. تاریخ ایسی عورتوں کے نام یاد رکھتی ہے، کردار یاد رکھتی ہے.اور آنے والی نسل کو سکھاتی ہے کہلیلیٰ حاصل کرنی ہے تو مجنوں بننے کی بجائے CSS کا امتحان پاس کرلو لیلیٰ قدموں میں ہوگی.

سائنس کہتی ہے کہ ایک بالغ صحت مند آدمی کے ایک بار جنسی تعلقات کے بعد جتنی منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز ہوتے ہیں۔ منطقی طور پر، اگر ایک عورت کے رحم میں سپرم کی اتنی مقدار مل جائے تو 400 ملین بچے پیدا ہوں گے! یہ 400 ملین سپرمز ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح دوڑتے رہتے ہیں، صرف 300-500 سپرمز زندہ رہ پاتے ہیں۔ اور باقی؟ وہ راستے میں تھک جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ ان 300-500 سپرموں میں سے جو انڈے تک پہنچنے کا انتظام کرتے ہیں، صرف ایک انتہائی طاقتور سپرم انڈے کو کھاد دیتا ہے یا انڈے میں بیٹھ جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت سپرم آپ یا میں یا ہم سب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
❒ جب آپ بھاگے - آپ کی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں تھا، دماغ نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی تعلیم نہیں تھی، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی ایک منزل تھی اور آپ نے اپنا مقصد اس منزل کی طرف متعین رکھا اور آخر تک ایک دماغ کے ساتھ بھاگا اور آپ جیت گئے۔

❒ بہت سے بچے اپنی ماؤں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں لیکن آپ کی موت نہیں ہوئی، آپ پورے 10 مہینے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے دوران مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے پہلے 5 سال میں مر جاتے ہیں لیکن آپ ابھی تک زندہ ہیں۔

❒ بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں لیکن آپ کو کچھ نہیں ہوا۔

❒ بہت سے لوگ بڑے ہونے کے راستے میں اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں لیکن آپ ابھی تک یہیں ہیں۔

اور آج جب بھی کچھ ہوتا ہے، آپ گھبرا جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بھائی بہن، سرٹیفکیٹ، سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس بازو اور ٹانگیں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کے لیے دماغ ہے، مدد کے لیے لوگ ہیں، پھر بھی آپ نے امید کھو دی ہے۔ جب آپ نے اپنی زندگی کے پہلے دن ہمت نہیں ہاری۔ آپ 400 ملین سپرمز کے ساتھ موت سے لڑے اور کسی کی مدد کے بغیر اکیلے ہی مقابلہ جیت گئے۔ پھر مایوسی کیوں؟

❒ جب کوئی آپ کی زندگی سے چلا جائے تو آپ قبول کیوں نہیں کرتے؟

❒ جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟

❒ تم کیوں کہتے ہو کہ میں اب جینا نہیں چاہتا؟

❒ تم کیوں کہتے ہو کہ میں ہار گیا ہوں؟

ایسی ہزاروں باتوں کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے لیکن مایوس کیوں ہوتے ہو؟ کیوں ہارتے ہو؟ تم کیوں ہار مانتے ہو؟ آپ شروع میں جیت گئے، آپ آخر میں جیت گئے، آپ بیچ میں بھی جیتیں گے۔ اپنے آپ کو وقت دیں، اپنے دماغ سے پوچھیں - آپ کے پاس کیا ٹیلنٹ ہے؟ ہمیشہ اپنے دل کی خواہشات کی قدر کریں، اللہ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ جیت جائیں گے، بس اپنے دماغ کی طاقت سے لڑتے رہیں، آپ خود ہی جیت جائیں گے♥️💯✅

لڑکیوں کی ذمہ داری ۔۔۔۔ یہ تحریر ضرور پڑھیں ۔۔۔۔
لڑکیاں سوچتی ھیں ہیں کہ شادی ہوگی، اپنا گھر ہوگا، شوہر پیار کرے گا، بچے مسکرائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خوبصورت خواب تبھی حقیقت بنتے ہیں جب ہم اور ہمارے والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ زندگی کسی جادو کی چھڑی کا نام نہیں، یہ محنت، برداشت اور سلیقے سے چلتی ہے۔

میں ایک بیٹی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میرا آج میرے کل کی بنیاد ہے۔ اسی لیئے یہ تحریر صرف لڑکیوں کے لیئے نہیں والدین کے لیئے بھی ہے، کیونکہ ایک بیٹی کی زندگی دونوں کے رویے اور تربیت پر کھڑی ہوتی ہے۔

 میں چاہتی ہوں کہ ہم سب بہتر بنیں تاکہ کل کو کوئی بیٹی اپنی زندگی سے شکوہ نہ کرے۔
---
میری ذمہ داریاں (10 نکات)

1. گھر کو اپنا سمجھنا
یہ سوچنا بند کرنا ہوگا کہ یہ امی کا گھر ہے میں مہمان ہوں۔ گھر میرا ہے، میری پہچان ہے۔ اگر کچن گندا ہے تو مجھے برا لگے اگر کمرہ بکھرا ہے تو میں اسے سنبھالوں۔ جو لڑکی اپنے گھر کی عزت نہیں کرے گی وہ سسرال میں کیا کرے گی؟

2. صبح جلدی اٹھنے کی عادت
یہ عادت مجھے آج سے ڈالنی ہوگی۔ کیونکہ کل اگر شوہر نے کام پر جانا ہے، بچوں کو اسکول جانا ہے تو میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ "مجھے نیند آ رہی تھی"۔ سچ یہ ہے کہ کامیاب عورت وہی ہے جو وقت کی پابند ہو۔

3. کچن اور کھانا پکانا سیکھنا
یہ میرا فرض ہے کیونکہ پیار اور عزت کا آدھا کھیل کچن میں جیتا جاتا ہے۔ شوہر تھکا ہوا آئے اور میں گرم کھانے کے ساتھ مسکرا کر سامنے آؤں، یہ لمحہ میری عزت بڑھا دیتا ہے۔

4. ضد نہیں، خودداری
میں یہ سیکھوں کہ ہر بات پر اپنی ضد منوانا ضروری نہیں۔ زندگی سمجھوتوں سے چلتی ہے لیکن یہ سمجھوتا خودداری بیچ کر نہیں، محبت بانٹ کر ہونا چاہئیے۔

5. بات کرنے کا سلیقہ
میں یہ جان لوں کہ سخت لہجہ سب سے بڑا زہر ہے۔ میٹھی زبان سب سے بڑی جادوگر ہے۔ کل کو جب سسرال میں مسائل آئیں گے تو زبان ہی رشتے بچائے گی یا توڑے گی۔

6. پردہ اور حیا
یہ صرف دوپٹے کا نام نہیں، یہ نظریں نیچی رکھنے، زبان پر قابو رکھنے اور عزت بچانے کا نام ہے۔ دنیا لڑکی کی عزت پر انگلی اٹھانے کے لیے تیار کھڑی ہے، اس لیئے اپنی حفاظت میرا فرض ہے۔

7. پیسوں کی اہمیت سمجھنا
شوہر لاکھ کمائے اگر میں بچت نہیں جانتی تو گھر کبھی خوشحال نہیں ہوگا۔ آج سے سیکھوں کہ ضرورت اور خواہش میں فرق کیسے کرنا ہے۔

8. رشتوں کی اہمیت
ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ سیکھوں۔ اگر میں اپنے والدین کو جواب دیتی ہوں تو یاد رکھیں کل میری اولاد مجھے یہی واپس کرے گی۔

9. صبر اور برداشت
زندگی میں آسانی کم، مشکلات زیادہ آتی ہیں۔ چیخ چیخ کر دنیا کو بتانا کمزوری ہے۔ صبر سے، خاموشی سے، اللہ سے مدد مانگنا اصل طاقت ہے۔

10. دین سے تعلق
نماز، قرآن، دعا۔ یہ صرف رسم نہیں یہ میری زندگی کا سہارا ہے۔ جب سب چھوڑ جائیں گے تو یہ میرا ہاتھ پکڑے گا۔
---

ایک لڑکی کی تربیت صرف شادی کے لیئے نہیں پوری زندگی کے لیئے ہوتی ہے۔ والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں، اور ہم بیٹیاں اپنی۔ کیونکہ کامیاب شادی قسمت سے نہیں، محنت اور تربیت سے بنتی ہے

قحط  الرجال کیا ہوتا ہے؟
صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی  ایک بھی سائینسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی  طریقہ دریافت کیا ہو ؟
کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی  نیا طریقہ بتایا ہو ؟ 
کوئی  ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟ 1/2
کوئی ایک بھی انجینیئر  ہے جس نے تعمیراتی طبی یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی  ایجاد کی ہو ؟ 
کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی  طریقہ بتایا ہو؟
 جب صرف گلوکار ، بھانڈ ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابل فخر قرار پائیں !
 یہی تو قحط الرجال ہے🇵🇰👍

وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے 
انشاءاللہ تعالیٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
*آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

❷- *بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں. تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.*

❸ - *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے نہ بیٹھنے دیں*.
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

❹ *بچوں کو فارغ نہ رکھیں فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے* اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے. اس لئے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
*ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
❺ - *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لئے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.

❻ - *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر گہری نظر رکھیں*
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*

❼ - *بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.*

❽ -*اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں.
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
❾- *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو حالتوں میں لیٹنے سے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*

🔟 *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.* اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

❶❶ - *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں.* یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے
❷❶- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*

❹❶- *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.*

❺❶- *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں.*
آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
*اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔

*یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہاہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہئے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.*

❻❶- *بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں۔
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* . 
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی باحیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
❽❶-*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے۔
*_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو * 
انشاءاللہ تعالیٰ* آخرت میں * اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے___!!! آمین___!!!!

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget