سوشل میڈیا۔ گفتگو کے آداب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سوشل میڈیا کے بہت سے مثبت فوائد اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن اس کا ایک بدترین پہلو "سائبر بُلی" ہیں۔
چونکہ اس میں آپ بات کرنے والے سے دور ہیں، اس لئے دوسرے کو انسان کے طور پر سمجھنا اور ٹریٹ کرنا کچھ مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں کی شخصیت کا بدترین حصہ سامنے آ سکتا ہے۔ الفاظ بے ضرر نہیں ہوتے۔ کسی کی کہی ہوئی بات کے گہرے زخم لگتے ہیں اور خاص طور پر نوجوان اور کچے ذہن کے لوگوں پر۔ بے رحم تبصروں کی وجہ سے خود کشیوں تک کی نوبت آ چکی ہے۔ کوئی بھی بدتہذیبی کے کلچر کا حصہ نہں بننا چاہتا لیکن اچھے خاصے مناسب لوگ بھی اس کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔
اس کے استعمال میں چند ایک چیزوں کا خیال رکھیں۔
۱۔ اگر کوئی چیز پڑھ کر غصہ آیا ہے تو جواب مت دیں یا کم از کم غصے کی حالت میں جواب بالکل بھی نہ دیں۔ کمپیوٹر یا موبائل فون کو اس حالت میں ہاتھ نہ لگائیں۔
۲۔ اگر کسی کی کہی بات کا جواب تنبیہی انداز میں دینا چاہ رہے ہیں تو جواب سے پہلے اس کی بات کو دوبارہ اچھی طرح سے پڑھ لیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ سے بات سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔
۳۔ ایسی محفلوں سے دور رہیں جہاں غیبت کو برائی نہ سمجھا جاتا ہو۔ خواہ وہ غیبت کسی شخص کی ہو یا کسی گروپ کی۔ ایسی جگہ پر آپ کو اپنے کردار کی تباہی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
۴۔ نظرانداز کرنا سیکھیں۔
۵۔ اگر آپ کا کوئی دوست کسی اور سے بدتہذیبی کا مظاہرہ کرے تو یاد رکھیں کہ برائی کو روکنا آپ کا کام ہے۔ اس کا دفاع کرنا یا اس کو برداشت کر لینا اس لئے ضروری نہں کہ وہ آپ کا دوست ہے۔
۶۔ ذہن میں رکھیں کہ جو اخلاقی درس بچپن سے سنتے رہے ہیں اور جو آپ کے کردار کا حصہ ہیں، وہ سوشل میڈیا کے رویے پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ آپ کے الفاظ آپ کی شناخت ہیں۔
۷۔ اگر کوئی بحث ناخوشگوار موڑ لے لے، تو یاد رکھیں کہ جیت اس کی نہیں ہوتی جو آخری کمنٹ کرتا ہے۔
۸۔ اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ کوئی جگہ، کوئی موضوع، کوئی فرد آپ کی شخصیت کے منفی رویے کو اجاگر کر رہا ہے تو پھر آپ ٹھیک جگہ پر نہیں۔ قطع تعلقی بہتر ہے۔
۹۔ اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کی زبان کی کاٹ کے شر سے دوسرے محفوظ نہیں اور اسے اس پر ندامت بھی نہیں تو پھر مسئلہ اس کی اخلاقی تربیت کا ہے۔ ایسے افراد سوشل میڈیا کی محفوظ دنیا میں زیادہ نمایاں اور مقبول ہو جاتے ہیں، کیونکہ دوسروں کی تذلیل کرنا ہم خیال گروپ میں پسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور ان کو ملنے والے ری ایکشن (مثبت اور منفی) ان کی خوراک ہیں۔ عام زندگی میں ایسے اینٹی سوشل لوگ توجہ حاصل نہیں کر سکتے۔ ان سے دور رہیں۔
۱۰۔ کسی کو بلاک کرنے میں بخل سے کام نہ لیں۔ کسی سے تعلق رکھنا نہ ہی آپ پر فرض ہے اور نہ ہی یہ کسی دوسرے کا حق ہے۔
۱۱۔ اگر سوشل میڈیا کا استعمال آپ کو غصے یا مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے تو خبردار رہیں، یہ خطرناک ہے۔ نفسیاتی عوارض میں بہت جلد مبتلا کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بہترین علاج اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی ہے۔
اگر اس کے منفی پہلووٗں سے محفوظ رہ سکتے ہیں تو دوسروں سے تعلقات بنانے، ان کو مضبوط رکھنے، مختلف خیالات سمجھنے، سیکھنے کے لئے بے حد مفید ہو سکتا ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
ایک تبصرہ شائع کریں