اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

مارچ 2018



کھانسی کا گھریلو علاج


سرد موسم میں ہم اکثر نزلہ اور کھانسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بظاہر عام سی نظرآنے والی یہ بیماریاں اگر شدید ہوجائیں تع پھر بہت پریشان کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے معمولات متاثر ہوتے ہیں اور بہت سے کام ادھورے رہ جاتےہیں۔ ظاہر ہے جب انسان تندرست نہیں ہوگا تو نہ دفتر جاپائے گا اور نہ ہی کاروبار پر پوری توجہ دے سکے گا۔ نزلہ کھانسی ایسے امراض ہیں جو انسان کو سماجی میل جول سے بھی دور کر دیتے ہیں۔ عام طور پر ہم کھانسی اور نزلہ لاحق ہونے پر ڈاکٹر سے رُجوع کرتے ہیں، مگر ان کا قدرتی علاج بھی موجود ہے۔ ذیل میں ہم کچھ آزمودہ نسخوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ جو بالخصوص کھانسی کے علاج میں بہت مؤثر ہیں۔ عام طور پر ہر قسم کی کھانسی تین ہفتے کے دوران ازخود ٹھیک ہوجاتی ہے کیوں کہ جسم کا دفاعی نظام اس کے خلاف مسلسل مصروف کار ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل نسخے اس نظام کو تقویت دے کر کھانسی سے جلد چھٹکارا دلانے مین معاون ہوتے ہیں۔

شہد اور لیموں


کھانسی سے نجات پانے کے لیے شہد اور لیموں کا ٹوٹکا صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان دونوں کا ملاپ کھانسی شہد کے علاج کے لیے اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ ادویہ۔ آدھے یا ایک گلاس گرم پانی میں ایک یا دو چائے کے چمچے شہد اور لیموں کے ڈالیں اور اچھی طرح ہلائیں۔ اس آمیزے کو نیم گرم ہی پی لیں۔ دن میں دو تین بار یہ عمل کریں۔ چوبیس گھنٹوں ہی میں آپ کھانسی میں واضح کمی محسوس کریں گے۔

انناس


کھانسی رفع کرنے کے لیے انناس ایک بہترین دوا ہے۔ اس میں بروملین نامی خامرہ پایا جاتا ہے جو کھانسی کی انگریزی ادویہ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بروملین کھانسی کو رفع کرتا اور حلق کی جھلی کا ورم دور کرتا ہے۔ اگر انناس کے جوس میں شہد، نمک اور کالی مرچ ڈال کر استعمال کیا جائے تو کھانسی پر اس کا جادواثر ہوتا ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ انگریزی ادویہ کے مقابلے میں یہ آمیزہ پانچ گنا زیادہ تیزی سے کھانسی رفع کرتا ہے۔ یہی فائدہ انناس کی قاشیں کھاکریا صرف پی کر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جنگلی پودینہ


اس کے پتوں میں فلیونائڈز نامی مرکب پایا جاتا ہے جو دافع سوزش ہے۔ اس کے استعمال سے کھانسی میں آرام آتا ہے۔ اس پودینے کی پتیوں کی چائے پینے سے حلق کے عضلات ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور کھانسی کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ پودینے کی چائے بنانے کے لیے بس اتنا کریں کہ آدھا گلاس پانی میں دو چائے والے چمچے پتیوں کا چُورا ڈال دیں اور اُبال لیں پھر چھان کر استعمال کریں۔

پودینہ


سبزی کی دکانوں پر عام مل جانے وال پودینہ بھی کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ اس میں ایک جزو مینتھول پایا جاتا ہے جو حلق کو سکون پہنچاتا، بلغم ختم کرکے سانس کی نالی کی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔ پودینہ کو دو طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اوپر مذکورہ طریقے کے مطابق اس کی چائے بنالیں یا پھر کھولتے ہوئے پانی میں پودینے کی پتیاں ڈال کر بھاپ لیں۔

ملٹھی


ملٹھی کی جڑ کھانسی کا شافی علاج مانی جاتی ہے۔ اس میں اینٹی وائرل اور جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ملٹھی کی جڑ کا سفوف بناکر اسے کھانسی کے شربت میں ڈال کر پیا جاسکتا ہے، نیز اس کی چائے بھی بنائی جاسکتی ہے۔

🌹 *﷽* 🌹
🌹 *استغفارکو لازمی کرلیں*🌹
کیا آپ پریشان ہیں *؟*
کیا آپ سخت ذہنی اذیتوں میں گرفتار ہیں *؟*
کیا آپ کسی تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ہیں *؟*
کیا آپ کے دل و دماغ پر پہاڑوں جیسے بوجھ پڑے ہوئے ہیں *؟*
کیا آپ کسی دینی یا دنیاوی پریشانی میں گِھر چکے ہیں اور کوئی حل نظر نہیں آرہا *؟*
کیا آپ کسی سخت بیماری میں مبتلا ہیں اور شفاء یابی نہیں ہو رہی *؟*
کیا آپ کی بیوی اور اولاد نافرمان ہے اور ان کی وجہ سے آپ سخت ڈپریشن کا شکار ہیں *؟*
کیا آپ اولاد سے محروم ہیں اور ہر قسمی علاج کے باوجود کچھ نہیں بن پا رہا *؟*
کیا آپ اپنی اولاد کے رشتوں کے بارے میں پریشان ہیں *؟*
کیا آپ کا شتکار ہیں اور بے وقت کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے پریشان ہیں *؟*
کیا آپ معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں *؟*
کیا آپ رزق کی تنگی، بے برکتی اوربھوک و افلاس کا شکار تو نہیں *؟*
*اگر نہیں…تو دل سے کہیے !*
*’’ الحمدللہ ‘‘* اللہ کا شکر ادا کیجئے…اور بار بار اداء کیجئے…
لیکن اگر خدا نخواستہ ان حالات کا شکار ہیں… تو گھبرانے کی بالکل ضرروت نہیں… ان سب مسائل کا کافی شافی اور مجرب ( authentic : اتھینٹک ) حل موجود ہے… 
اور وہ ہے
. *’’ استغفار اور توبہ‘‘*
حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
*’’ من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ضیق مخرجا، ومن کل ھم فرجا، ورزقہ من حیث لایحتسب‘‘۔*
’’جو شخص استغفار کو لازم پکڑے (یعنی استغفار کو اپنا ہمیشہ کامعمول بنالے ) اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی سے راستہ نکال لیںگے اور اس کی ہر فکر اور پریشانی کو دلی اطمینان سے بدل دیں گے اور ان طریقوں سے رزق دیں گے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔
( ابوداؤد، ابن ماجہ، طبرانی، حاکم )
*لیجئے ! نسخہ مل گیا…*
مضبوطی سے تھام لیجئے اور آج ہی سے عمل شروع فرما دیجئے… یقین شرط ہے… کامل یقین کے بغیر کچھ ہاتھ نہیں آتا…
*استغفار* بہت ہی بابرکت اور فضیلت والا عمل ہے…
*استغفار* قرآن پاک کے موضوعات میں سے ایک اہم ترین موضوع ہے…
*استغفار* آقائے نامدار ﷺ کی محبوب سنت ہے۔
*استغفار* تمام انیباء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا پسندیدہ عمل ہے…
*استغفار* بندوں کے لیے اللہ پاک کی امانوں میں سے ایک امان ہے…
*استغفار* گناہوں کو نیست و نابود کردینے والا بلڈوزر ہے۔
*استغفار* خیر و برکت کی کنجی ہے…
*استغفار* پریشانیوں کا حل ہے…
*استغفار* سے بے گمان رزق نصیب ہوتا ہے…
*استغفار* سے پاکیزہ مال ملتا ہے…
*استغفار* سے نرینہ اولاد نصیب ہوتی ہے…
*استغفار* سے رحمت والی بارشیں اترتی ہیں…
*استغفار* سے معاش کا نظام درست ہوتا ہے…
*استغفار* سے خاندانی نظام صالح بنیادوں پر استوار ہوتا ہے…
*استغفار* سے ماحولیاتی نظام کی اصلاح ہوجاتی ہے…
*استغفار* سے گناہ ختم ہوتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے… ارے!
*استغفار و توبہ* وہ دولت ہے جو انسان کو اللہ کا محبوب بنادیتی ہے۔
*’’ان اللہ یحب التوابین‘‘*
یہ جو کچھ استغفار کے بارے میں عرض کیا گیا…یہ لفاظی نہیں…حقیقت ہے حقیقت، بالکل سو فیصد حقیقت… اور ایسی حقیقت کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔
اللہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور نیکی کی توفیق دے۔
آپ بھی اس کو Sadqa e Jaarya / صدقہ جاریہ کی نیت سے شئیر کریں کہ شاید لوگوں کو آپکی وجہ سے نیکی کی توفیق ملے.
استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ
*جَـــــــــــــــــــزَاک الـــلّٰـــهُ خَـــــــــيْراً کَـــــــــثِیْراً و احسن الجزاء فِــــــــي الْـــــــــدُّنْــــــــــيَا وَالاَخِــــــــــرَةْ*

اپریل فول کی درد ناک حقیقت

جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوجکے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجدادآئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیامسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان بچھی تو لاکھوں پاے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں

1.۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا
2.۔ نفاق میں ڈوب جاتا
3.۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا
4.۔ اللہ کی ناراضگی پانا
5.۔ مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا
6.۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا
7.۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔ 

أقول ما تسمعون وأستغفر الله لي ولكم ولسائر المسلمين فاستغفروه إنه هو الغفور الرحيم اللہ آپکو پڑھنے کی اور مجھے لکھنے کا جزا دیں آمین، —

#ایک_میڈیکل_سٹوڈنٹ
نہیں ابا ۔۔۔ آپ پریشان ذرا بھی نہ ہوں ۔۔۔  بیگ نہیں ہے تو کیا ہوا ۔۔۔ میں نے سارے کپڑے اماں کے ڈوپٹے میں باندھ دیے ہیں ۔۔۔وہاں مجھے کوئی طعنہ نہیں دے گا ۔۔ابا میڈیکل کالج  میں سارے سلجھے اور لائق طلباء آتے ہیں ۔۔۔
     فاطمہ کا جب میڈیکل کالج میں ایڈمشن ہوا تو ابا کے پاس جتنی جمع پونجی تھی ۔۔۔وہ ہاسٹل کی فیس اور باقی اخراجات کیلئے ہی پوری ہوسکی تھی ۔۔۔۔
  اس کے ابا  گاؤں میں اپنی تین ایکڑ زمیں پہ کاشت کاری کرکے  فاطمہ کو تعلیم دلوارہے تھے ۔۔۔۔
  اِلو تو ابھی بہت چھوٹا تھا ۔۔۔۔ تیسری کلاس میں گاؤں کے پرائمری سکول میں ہی پڑھتا تھا ۔۔۔۔
   اپنے سارے کپڑے اماں کے ڈوپٹے میں  باندھے ۔۔۔جب وہ میڈیکل کالج میں داخل ہوئی تو  لوگوں کی طنزیہ مسکراہٹ دیکھ کہ یہ احساس ہوگیا تھا کہ میڈیکل کالج کے بارے اس کا نظریہ غلط تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ابا گیٹ سے اسے چھوڑ کے واپس چلے گئے تھے ۔۔۔ہاسٹل میں اس کی تین   روم میٹ عائشہ ، اقصی اور عارفہ تھیں۔۔۔ابا نے جاتے ہوئے ۵۰۰ روپے دیے تھے ۔۔۔۔دو ہفتوں کا خرچہ ۔۔۔۔ وہ شاید کافی امیر گھرانوں سے لگی تھیں ۔۔۔۔
 پہلے تین چار دن میں ہی فاطمہ کو احساس ہوگیا تھا کہ وہ غریب ھے اور غریبی ایک طعنہ ھے یہاں۔۔۔
پہلے ویک اینڈ ۔۔۔ عائشہ نے کہا تھا ۔۔یار ہمارا پہلا ویک اینڈ ھے ۔۔ پارٹی ہونی چاہئے ۔۔ شہر چلتے ہیں  ۔۔ کسی اچھے ہوٹل ۔۔ سب ایک ایک ہزار دو ۔۔۔ لیکن کے پاس تو ٹوٹل چار سو رہ گئے تھے ۔۔۔۔ نوٹس لئے تھے اس نے ۔۔ 
وہ تو پارٹی کرنے گئی تھیں ۔۔۔ اور فاطمہ روم میں اکیلی پڑھتی رہی تھی ۔۔۔ اور شاید یہ پڑھائی والا بہانہ بھی کتنا اچھا ہوتا ھے ۔۔۔ 
  وہ اپنی ساری نمازیں باقاعدگی سے پڑھتی تھی ۔۔۔ اور رومیٹ اسے حاجن بھی کہنے لگی تھی ۔۔۔اسے پہلے ہی ہفتہ یہ احساس دلا دیا گیا کہ تم ایک الگ طبقہ سے   تعلق رکھتی ہو ۔۔ جسے غریب کہتے ہیں ۔۔ اور تمھارے طبقہ کے   رسم ورواج 
الگ ہیں ۔۔۔اور عائشہ نے تو ایک دن واضح کہہ دیا تھا ۔۔۔ فاطمہ یار تمھارا اور ہم تینوں کا مزاج بہت مختلف ہے ۔۔۔  تم تھوڑی غریب اور مذہبی مزاج کی ہو ۔۔۔اور ہم تھوڑی دنیادار اور ماڈرن ۔۔۔ پلیز مائنڈ نہ کرنا ۔۔۔ اگر ہم کبھی ہلاگلا کریں تو۔۔۔  لیکن فاطمہ اگر تم روم تبدیل کرنا چاہو تو میں تمھاری کافی ہلپ کروں گی ۔۔۔ 
کلاس میں جب اس کے پاس get to gather  پارٹی کیلئے پیسے نہ تھے تو اسے غریبی کا طعنہ ملا تھا ۔۔۔  اس ویک اینڈ اس نے گھر جانا تھا ۔۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔۔آج رات اس نے بچائے پیسوں سے اِلو کیلئے چابی والا جہاز خریدا تھا ۔۔۔۔ اب اس کے پاس صرف ۱۰۰ روپے کرائے کیلئے بچے تھے ۔۔۔ 
جب وہ بس سے اپنے گاؤں کو جانے والی سڑک پہ اتری تھی  تو اِلو نہر کے کنارے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ آتے ہی لپٹ گیا ۔۔ فاطی آپی ۔۔ کپڑوں کا شاپر اٹھا لیا تھا اس نے ۔۔ چابی والا جہاز دیکھ وہ بہت خوش تھا ۔۔۔  لیکن فاطمہ نے گھر نہیں بتایا تھا ۔۔۔ لیکن الو کو بتایا کہ ۔۔ غریبی کے طعنے ملتے ہیں ۔۔ کوئی اسے نہیں بلاتا کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے ۔۔۔ وہ الو کو اس لیے بتا دیتی تھی کیونکہ اسے کوئی سمجھ نہ تھی ان باتوں کی ۔۔۔
صبح جب الو  اسے چھوڑنے آیا تھا ۔۔۔ جب وہ بس پہ چڑھنے لگی تھی ۔۔ فاطی آپی میرے لئے اس بار ٹریکٹر ٹرالی لے آئیں گی آپ ؟؟؟ 
میں ضرور اپنے الو کیلئے لے آوں گی ۔۔۔۔
شام کو وہ سب روم میں پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔  فاطمہ یار اگر مائینڈ نہ کرو تو تین کوک تو لے آو کینٹین سے ۔۔۔۔ان کا روم  تیسری منزل پہ تھا ۔۔۔اگر فاطمہ خود بھی پینی ہو تو لے لینا اپنے لئے ۔۔۔ 
نہیں عائشہ ۔۔۔مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔ اس کے بعد ان کا معمول بن گیا ۔۔۔ وہ اپنے سارے چھوٹے موٹے کام  کرانے لگی ۔۔۔ فاطمہ اس لئے ہرگز نہ کرتی تھی کہ وہ غریب تھی بلکہ اس کے ابا جی نے اسکی تربیت ایسے کی تھی۔۔۔
شام کو اپنی یونیفارم استری کرنے لگتی تو ساتھ اسے تین اور بھی مل جاتی تھی ۔۔۔ اب اس کی رومیٹ اس کے ساتھ خوش تھیں۔۔۔۔

آج کلاس کے بعد  ۔۔ اسے کسی نے بتایا کہ تمھاری ملاقات کیلئے کوئی آیا ھے ۔۔۔ لیکن وہ کالج کے گیٹ پہ ۔۔۔ وہ بھاگ کے گئی تھی ۔۔ وہ ابا تھے ۔۔ لیکن وہ اندر نہیں آئے تھے ۔۔ ابا آپ اندر اس لئے نہیں آئے نا کہ کالج والے مجھے طعنہ نہ دیں ۔۔۔ وہ رو پڑی تھی ۔۔ ابا آپ میرے سپر ہیرو ہیں ۔۔ مجھے آپ پہ فخر ھے ۔۔ وہ اپنے ابا  کا ہاتھ تھامے اسے سارا کالج دیکھا رہی تھی ۔۔۔ سال گزرتے پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔ اب عارفہ اس کا کچھ کچھ خیال رکھنے لگی تھی ۔۔۔ آج عائشہ نے اسے اپنا پراناسوٹ آفر  کیا تھا ۔۔۔ نہیں عائشہ میرے پاس پہلے ۳ ہیں ۔۔۔عائشہ کافی ہنسی تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ تو ۳ ایک دن میں تبدیل کرتی تھی ۔۔۔
  آج اقصی پریشان تھی کسی نے اس کے پیسے چوری کر لئے تھے ۔۔۔ اقصی میرے پاس پانچ سو روپے ہیں ۔۔۔ میں نے جمع کئے تھے آپ رکھ لیں ۔۔۔۔
   فاطمہ نے اپنی ساری بچت اسے دے  دی تھی ۔۔۔
سکینڈائر اس کا مقام کچھ بڑھا تھا ۔۔ پروف میں اس کی تھرڈ پوزیشن آئی تھی ۔۔۔ 
  عائشہ تو اب بالکل اس سے نفرت کرنے لگی تھی ۔۔۔ وہ اس کی غریبی کو چھوت سمجھتی تھی ۔۔۔ اس کے سر پہ پیسے کا غرور ہی اتنا تھا ۔۔ یہ جن کے پاس نئ نئ دولت ہوتی ھے نا ۔۔۔ انھیں اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔
اس بارAnnual dinner  پہ یہ پابندی تھی کہ کوئی بےشک نہ آئے لیکن اسے ۵۰۰ روپے لازمی جمع کرانےہوں گے۔۔۔ 
   اس کے ۱۵۰ کم تھے ۔۔ ادھار مانگنے کیلئے ۔۔ اس نے بہت سوچا ۔۔ پھر عارفہ کو یہ کہتے ہوئے ۔۔ کہ میں فورا واپس کردوں گی۔۔۔   کیونکہ ایک غریب جب ادھار مانگتا ہے ۔۔ تو دینے والا سوچتا ضرور ھے کہ شاید ۔۔۔ 
آج پتہ نہیں کیوں گاڑی میں رو رہی تھی ۔۔ آج اس کے اتنے پیسے بھی نہ بچے تھے کہ وہ الو کیلئے کچھ لا سکتی ۔۔۔ نہر کے کنارے منتظر الو کتنا مایوس ہو گا ۔۔۔ 
فاطی آپی کوئی بات نہیں ۔۔۔ آپ آگئی ہیں نا ۔۔۔ اس بار ہم دونوں مل کے مٹی کے کھلونے بنائیں گے ۔۔۔ اس بار میرا آپ کیلئے بہت دل کیا ھے ۔۔
رات کو فاطمہ نے اماں کو بتایا کہ اس کی رومیٹ عارفہ گاؤں دیکھنے اس کے پاس آنا چاہتی ھے ۔۔۔ 
    جب عارفہ آئی تھی ۔۔۔ اماں نےاپنی  دہیز والی  چارپائی اتاری تھی ۔۔۔ عارفہ جاتے ہوئے ایک بات کہہ گئی تھی ۔۔۔ فاطمہ تم لوگ بہت امیر ہو۔۔۔  اتنے امیر کہ ۔۔ ساری دینا خرید سکتے ہو۔۔ اور ساری دنیا کی خوشیا ں ۔۔۔۔


آپ اگر پاکستانی ہیں اور آپ اور آپ کا خاندان اگر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے تو آپ کو یہ چند سبق اپنے دماغ کی گرہ سے باندھ لینے چاہئیں۔ 

پہلا سبق 

 ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ غلام اسحاق خان‘ فاروق احمد لغاری‘ بے نظیر بھٹو‘ جنرل پرویز مشرف اور شریف فیملی کا تجزیہ کر لیجئے‘ یہ لوگ ملک کے طاقتور ترین لوگ تھے لیکن
ان کا کیا حشر ہوا‘ ان کا کیا حشر ہو رہا ہے؟ آپ ملک کے پانچ سابق آرمی چیفس کا پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو ان کی حالت پر بھی ترس آئے گا‘ آپ چیف جسٹس حضرات کے ساتھ ہونے والی ”ان ہونیوں“ کی فہرست بھی بنا لیں‘ آپ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو دیکھ لیجئے‘ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں چیف جسٹس انصاف کیلئے عوام کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا تھا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے پولیس کے طاقتور افسروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھیں‘ ججوں کو اپنی فائلیں اٹھا کر مارے مارے پھرتے دیکھا اور نیب کے افسروں کو تحریری معافی مانگتے دیکھا‘ میں نے ملک کے طاقتور ترین سیاسی خاندان کو پورے خاندان سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتے اور عوام کے سامنے دہائیاں دیتے بھی دیکھا‘ میں نے جنرل پرویز مشرف کو ملک سے بھاگتے بھی دیکھا‘ میں نے ملک کے نامور بیورو کریٹس کو جیلوں میں دھکے کھاتے بھی دیکھا اور میں نے مرتضیٰ بھٹو جیسے لوگوں کو بے نظیر بھٹو کی حکومت میں کراچی کی سڑک پر تڑپتے بھی دیکھا‘ صدر ایوب خان کے دور میں ملک میں 22 امیر ترین خاندان تھے‘ وہ تمام خاندان بھٹو کے دور میں ختم ہو گئے‘ بینکوں اور بحری جہازوں کے مالک دس برسوں میں کوڑیوں کے محتاج ہو گئے‘ دنیا کی سب سے بڑی کارگو کمپنی کراچی میں تھی‘ اس کے پاس ساڑھے تین سو بحری جہاز تھے‘ آج
اس کا مالک لاہور میں گم نام زندگی گزار رہا ہے‘ چو این لائی بیکو کمپنی کی فیکٹری دیکھنے لاہور آئے تھے‘ بیکو کے مالک سی ایم لطیف بعد ازاں جرمنی کے ایک گاؤں میں گم نام زندگی گزار کر فوت ہوئے‘ شریف فیملی تین بار زیرو ہوئی‘ ملک ریاض ملک کے امیر اور بااثر ترین شخص ہیں‘ میں انہیں 20 سال سے حکومتوں کےہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھ رہا ہوں‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ برسوں میں اپنی لیڈر بے نظیر کو انصاف نہ دے سکی آصف علی زرداری کے خلاف آج بھی کرپشن کے مقدمے چل رہے ہیں‘ میاں نواز شریف اقامے کی بنیاد پر نااہل ہو چکے ہیں‘ شہباز شریف کے خلاف 14 لوگوں کے قتل کی سماعت شروع ہو رہی ہے اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حج سکینڈل اور ایفی ڈرین کا تاج سر پر سجا کر پھر رہے ہیں جبکہ جنرل پرویز مشرف کے ریڈ وارنٹ جاری ہو رہے ہیں چنانچہ آپ جنرل ہیں‘سیاستدان ہیں‘ جج ہیں‘ بزنس مین ہیں‘ بیورو کریٹ ہیں یا پھر عام انسان ہیں ہمارے ملک میں کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو اس ملک میں بہرحال اس خوف کے ساتھ زندگی گزارنی ہو گی‘

دوسرا سبق 

 آپ اگر اس ملک میں خوش حال ہیں اور غیر معروف ہیں تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں‘ آپ لاکھوں لوگوں سے بہتر زندگی گزار سکتے ہیں‘ آپ پھر تمام محکموں‘ تمام اداروں کو ”مینج“ کر لیں گے‘ آپ صبح اٹھیں‘ ناشتہ کریں‘ دفتر جائیں‘ پیسے کمائیں‘ شام کو واک کریں‘ فیملی کے ساتھ اچھا وقت گزاریں اور نو بجے سو جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن جس دن آپ کے پاس پیسے کم ہو گئے یا آپ ”لائم لائیٹ“ میں آ گئے یا لوگ آپ کے نام اور شکل سے واقف ہو گئے اس دن آپ کی زندگی عذاب ہو جائے گی اس دن آپ دھوتی سنبھالنے پرمجبور ہو جائیں گے۔ 

 تیسرا سبق 

 ہمارے ملک میں انسان کے پاس پیسہ ضرور ہونا چاہیے لیکن یہ ضرورت سے بہت زیادہ نہیں ہونا چاہیے‘ آپ کے پاس اگر پیسہ نہیں تو عذاب ہے اور یہ اگر بہت زیادہ ہے تو یہ بہت بڑا عذاب ہے‘ میں نے پوری زندگی کسی شخص کو بھوک سے مرتے نہیں دیکھا لیکن میں لوگوں کو زیادہ کھانے کی وجہ سے روز مرتے دیکھتا ہوں‘ میں لوگوں کو غربت کی وجہ سے پریشان دیکھتا ہوں لیکن میں نے آج تک کسی رئیس شخص کو بھی خوش نہیں دیکھا‘
ہمارے ملک میں لوگوں کو غربت نہیں مارتی ہمیشہ امارت مارتی ہے‘ آپ کے پاس اگر ضرورت سے چار گناہ زیادہ دولت موجود ہے تو پھر آپ کسی دن اپنے سالے‘ بہنوئی‘ بھائی‘ داماد یا پھر نالائق بیٹے کی ہوس کا لقمہ بن جائیں گے‘ میں نے آج تک رئیس لوگوں کو صرف کورٹس‘ کچہریوں‘ ہسپتالوں اور قبرستانوں میں دیکھا ہے‘ میں نے انہیں والد کے جنازے میں بھی لڑتے دیکھا چنانچہ آپ اگر اچھی اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اپنی دولت کو کسی بھی حالت میں خوش حالی سے اوپر نہ جانے دیں‘
آپ کا بیٹا جس دن کھڑے کھڑے ڈیڑھ دو کروڑ روپے کی گاڑی خرید لے یا پھر اپنی گھڑی‘ اپنی گاڑی اور اپنا گھر جوئے پر لگا دے یا ایک دو کروڑ روپے کی جائیداد ٹیلی فون پر بیچ دے آپ اس دن ڈر جائیں‘ آپ اس دن اپنی آدھی رقم خیرات کر دیں ورنہ دوسری صورت میں آپ کا اختتام ہسپتال یا پھر سڑک پر ہو گا‘ میں ایک صاحب کو جانتا ہوں‘ وہ خوشحال تھے‘ وہ جو کماتے تھے وہ اپنے اوپر‘ اپنے خاندان کے اوپر اور اپنی آل اولاد کی تعلیم پر خرچ کر دیتے تھے اور جو بچ جاتا تھا وہ اسے خیرات کر دیتے تھے‘وہ جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے ترکے میں کچھ نہیں تھا‘ ان کے بچے آج بھی اکٹھے رہ رہے ہیں‘ یہ سب یک جان‘ یک قالب ہیں جبکہ ان کے دوسرے بھائی نے زندگی بھر دولت کمائی‘ وہ اپنے بچوں کیلئے کروڑوں روپے چھوڑ کر گئے‘ بچے والد کے انتقال کے بعد جائیداد کیلئے لڑے اور یہ آج تک لڑ رہے ہیں‘ سگے بھائی بہن ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کی دولت خوش حالی سے اوپر نہ جائے‘ یہ اگر چلی جائے تو آپ اسے ویلفیئر میں لگا دیں‘ آپ بھی بچ جائیں گے‘
آپ کا خاندان بھی اور معاشرہ بھی۔ 

چوتھا سبق 
  
آپ جہاں تک ممکن ہو ڈاکٹر اور ادویات سے پرہیز کریں‘ میں نے پاکستان میں ادویات‘ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر اعتبار کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ روتے دیکھا‘ ملک میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز ڈاکٹروں کی بجائے قصائی پیدا کر رہے ہیں‘ یہ ناتجربہ کار بھی ہیں اور اناڑی بھی‘ پرائیویٹ ہسپتال باقاعدہ مذبح خانے ہیں‘ آپ پیٹ درد لے کر جائیں گے اور یہ آپ کا پورا پیٹ کھول کر رکھ دیں گے‘ آپ انجیکشن لگواتے اور آپریشن کرواتے ہوئے دس دس مرتبہ ”کاؤنٹر چیک“ کر لیا کریں‘
میں نے بے شمار مریضوں کو ”اوور ڈوز“ اور غلط انجیکشن کی وجہ سے مرتے دیکھا‘ میرے ایک دوست ایک وقت میں صرف ایک انجیکشن خریدتے ہیں‘ یہ دو دن سے زائد دواء بھی نہیں خریدتے‘ یہ کہتے ہیں میں نے ایک بار دو انجیکشن لے لئے تھے‘ نرس نے مجھے دونوں انجیکشن اکٹھے لگا دیئے تھے اور میں مرتا مرتا بچہ تھا‘ ایف بی آر کے ایک ممبر نے بیٹے کیلئے انجیکشن کی بڑی شیشی خرید لی‘ شیشی میں دس دن کی ڈوز تھی‘ بچے کو روز ایک سی سی انجیکشن لگنا تھا لیکن نرس نے پوری شیشی ڈرپ میں ڈال دی‘
بچہ تڑپ کر مر گیا‘ ہم آئے روز دایاں کی بجائے بایاں گردہ نکلنے اور رائیٹ کی بجائے لیفٹ آنکھ کے آپریشن کی خبریں سنتے رہتے ہیں اور میرے ایک دوست بال لگوانے اور دوسرے پیٹ کی چربی کم کرانے (لائیو سیکشن) کی وجہ سے انتقال کر چکے ہیں چنانچہ آپ کوشش کریں آپ کسی قسم کی کاسمیٹک سرجری نہ کرائیں‘ آپ آپریشن ہمیشہ تجربہ کار اور سمجھ دار سرجن سے کرائیں خواہ آپ کو اس کی کتنی ہی فیس کیوں نہ ادا کرنی پڑ جائے اور آپ کو جب کوئی ڈاکٹر دوائی لکھ کر دے تو آپ اس نسخے کو کسی دوسرے ڈاکٹر کو بھی چیک کرا لیا کریں‘

آپ کوشش کریں آپ کم کھانا کھائیں‘ روزانہ ورزش کریں اور گھی اور چربی استعمال نہ کریں‘ یہ تین عادتیں آپ کو ڈاکٹر‘ ہسپتال اور ادویات سے دور رکھیں گے اور یوں آپ اپنی موت اپنے ہاتھوں سے لکھنے سے بچ جائیں گے۔ 

پانچواں سبق 

 انسان کیلئے ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل کافی ہوتا ہے‘ میں نے ہمیشہ زیادہ خداؤں‘ زیادہ بیویوں اور زیادہ موبائل والے لوگوں کو پریشان دیکھا‘ یہ اکثر اوقات جلدی فوت ہو جاتے ہیں‘ پاکستان جیسے معاشرے میں ایک کے بعد دوسری شادی حماقت ہے‘
آپ اس حماقت سے جتنا بچ سکتے ہیں آپ بچ جائیں‘ دوسرا موبائل بھی انسان کی ٹینشن میں ہزار گنا اضافہ کر دیتا ہے اور آپ اگر ایک خدا سے مطمئن نہیں ہیں تو پھر آپ نعوذ باللہ ہزاروں خداؤں سے بھی خوش نہیں ہو سکتے چنانچہ ایک اللہ‘ ایک بیوی اور ایک موبائل فون زندگی اچھی گزرے گی ورنہ پوری پوری بربادی ہے۔ 
 
چھٹا سبق 
  
آپ یہ بات پلے باندھ لیں آپ کو اس معاشرے میں روزانہ عزت نفس اور انا کی قربانی دینا پڑے گی‘ آپ جب بھی گھر سے باہر نکلیں گے‘
آپ جس کے ساتھ بھی لین دین کریں گے اور آپ جس سرکاری یا غیرسرکاری دفتر میں جائیں گے آپ کے ساتھ دھوکہ بھی ہو گا‘ آپ کے ساتھ وعدہ خلافی بھی ہو گی اور آپ کی عزت نفس بھی ضرور روندی جائے گی چنانچہ آپ جب بھی کسی سے ملیں اور آپ جب بھی کسی کے ساتھ ڈیل کریں آپ ذہنی طور پر انا کی قربانی کیلئے تیار رہیں آپ کو کم تکلیف ہو گی ورنہ آپ بہت جلد بلڈپریشر کے مریض بن جائیں گے‘ آپ میانی صاحب پہنچ جائیں گے۔

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔

یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

-------------------------------

پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔

------------------------------

لندن کی ایک بیکری کے کباب عموماً ملکہ کے لیے قصر بکنگھم میں جاتے تھے۔ دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر ایک بڑے سائز کا بورڈ نصب کرایا جس پر تحریر تھا کہ ہمارے یہاں کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ قریب کے دوسرے بیکری والے کو اس کی یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اس نے فوراً دکان پر ایک بورڈ لگوایا جس پر تحریر تھا اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما۔

اپوزیشن کی سیاست کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں کے نام۔

------------------------

کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کرنسی نوٹ جب پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری کیے گئے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی، اس ضمن میں ایک وفد اس دور کے ایک بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ کرنسی نوٹ پر تصویر کا ہونا صحیح ہے یا غلط؟ محترم عالم دین نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ میرے بھائیو! میرے فتویٰ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا فتویٰ نہیں چلے گا کرنسی نوٹ چل جائے گا۔

دور حاضر کے تقاضوں سے لاعلم اور بے خبر علما کرام کے نام۔

-------------------------

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔

یہ لطیفہ ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔

--------------------------

ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔

نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے نام۔

--------------------------------

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔

خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔

پاکستان میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

باب لد ، دجال کا مقامِ قتل  


بابِ لُد کا ذکر حدیث میں دجال کے مقام قتل کے طور پر ہوا ہے۔

"حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے دیکھا تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیوں رو رہی ہو۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر اس طرح فرمایا کہ اس فتنہ کے خوف میں مجھ کو بے ساختہ رونا آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر وہ نکلا اور میں اس وقت موجود ہوا تو تمھاری طرف سے میں اس سے نمٹ لوں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو پھر یہ بات یاد رکھنا کہ تمھارا پرورد گار کانا نہیں ہے (اور وہ کانا ہو گا)، جب وہ نکلے گا تو اس کے ساتھی اصفہان کے یہود ہوںگے۔ یہاں تک کہ جب مدینہ آئے گا تو وہاں ایک طرف آ کر اترے گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ پر دو دو فرشتے نگران ہوں گے ( جو اس کے اندر آنے سے مانع ہوںگے ) مدینہ میں جو بداعمال آباد ہیں وہ نکل کر خود اس کے پاس چلے جائیں گے اس کے بعد وہ فلسطین میں بابِ لُد پر آئے گا ۔عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما چکے ہوں گے اوریہاں وہ اسکو قتل کریں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک ایک منصف امام کی حیثیت سے زمین پر زندہ رہیں گے۔"( مسند احمد )

آج سے 1400 سال قبل اس حدیث کے بیان کے وقت "لُد" کے مقام پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں دجال کے اس مقام پر قتل کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی۔ تاہم مسلمان کئی صدیوں تک بابِ لُد کی اہمیت جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے لُد ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پر 5250 سال قبل مسیح پرانے ظروف بھی پائے گئے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں بھی یہاں آبادی موجود تھی۔ تاہم تاریخ میں اس کا سب سے پہلا ذکر 1500 قبل مسیح کی مصری تاریخ میں کیا گیا۔ تاریخ کے سفر کے دوران اس شہر پر کئی اقوام کا قبضہ رہا اور فاتحین نے اس کو کئی نام دئے۔ مختلف ادوار میں یہ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ 636 ء میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو یہ شہر بھی فتح ہوا اور اس کا نام ال۔لُد رکھا گیا۔ لیکن صلیبی جنگوں کے دوران یہ شہر مسلمانوں سے چھن گیا۔ یہ شہر برطانوی راج کا بھی حصہ رہا اور اس دوران اس کا نام تبدیل کرکے لِڈا رکھ دیا گیا۔ تاہم جب 1948 ء میں اسرائیلیوں نے عربوں کا شکست دے کر اس شہر کو فتح کر لیا تو اس شہر کا نام ایک دفعہ پھر سے تبدیل کر دیا گیا اور اس کو اس کا پرانا یہودی نام لُد دے دیا گیا۔

موجودہ دور میں لُد، اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے 15 کلومیٹر دور واقع شہر ہے۔ ء2007 کے اختتام پر یہاں کی آبادی کا اندازہ تقریباً 67،000 نفوس کا تھا، جس میں سے 80% یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ باقی ماندہ آبادی عربوں کی تھی جس میں سے اکثریت مسلمانوں کی، جبکہ کچھ عیسائی بھی شامل تھے۔

لُد شہر کی موجودہ اہمیت یہاں موجود بین الاقوامی ہوائی اڈے کی وجہ سے ہے۔ یہ ہوائی اڈہ برطانوی راج کے دوران فوجی پروازوں کے لئےتعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم 1948 ء میں اسرائیلی حکومت کے زیر استعمال آنے کے بعد سے یہ کمرشل، پرائیویٹ اور فوجی تینوں طرح کی پروازوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ٹرین، بس یا کار کسی بھی زریعےسے اس ہوائی اڈے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس ایر پورٹ کے چار ٹرمینل ہیں جن میں سے تین استعمال میں ہیں جبکہ چوتھا ٹرمینل 1999 ء میں تکمیل کے باوجود ابھی تک کھولا نہیں گیا ہے۔ اسرائیل۔ فلسطین تنازعے کے پیش نظر یہاں سیکیورٹی کا بہت زیادہ انتظام کیا گیا ہے اور یہ دنیا کے محفوظ ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔

لُد شہر کی موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالنے کے بعد 1400 سال پہلے بیان کی گئی حدیث میں متذکر بابِ لُد کی اہمیت کی وجہ واضح ہوتی ہے یعنی یہاں موجود بین الاقوامی ہوائی اڈہ۔ حدیث کی وضاحت کے تناظر میں ایک زاویہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لڑائی کے دوران دجال پسپا ہو کرکسی ہمدرد مغربی ملک کی طرف بھاگنے کی کوشش کرے اور اس کے لئے اسے ہوائی اڈے کا رخ کرے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جو کہ زمین پر فتنہ دجال کا خاتمہ کرنے کے لئے اتارے گئے ہونگے اس کو بھاگنے سے پہلے ہی پکڑ لیں گے اور قتل کر دیں گے۔یوں دنیا سے دجال کا خاتمہ ہو جائے گا اور اسلام کا بول بالا ہوگا۔



ترقی کے لیے ذہنی و مالیاتی توانائی کی ضرورت


گلوبل کلچر کے دروازے سائنس کی تخلیقات نے کھولے ہیں اس کلچر کو اختیار کرنے کے بجائے سائنسی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نیشنلزم پیدا نہیں ہوا اس کی بنیادی وجہ یہ کہ پاکستان میں صنعتی و تجارتی کارہائے نمایاں ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے بیس ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا کر دیتے تو عوام اس پر فخر کرتے اور برسرروزگار ہوتے۔ جب تک بکھری ہوئی قوم کو عالمی مسابقت میں پیش پیش ہونے کے لیے معاشی اور سائنسی شعبوں میں فتوحات نظر نہیں آئیں گے نیشنلز پیدا ہونا محال ہے۔ مثلاً کرکٹ کی چند فتوحات تمام صوبوں کو یکجا کر دیتی ہے لیکن گلوبل کلچر میں فزیکل کلچر ایک شعبہ نہیں بلکہ اولمپک میں پہلے دس بارہ ملکوںمیں جگہ بنانے کی ضرورت ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ملک معاشی طور پر مستحکم ہو۔ اس کے لیے خاص طور پر برآمدات میں جست لینی ہوگی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو برآمد کرنا ہوگا لیکن ملکی برآمدات تو بنگلہ دیش سے بھی پچاس فیصد کم ہیں تو پھر نیشنلزم کیے ابھرے گا۔ ادنیٰ عصبیتوں میں جکڑنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ صنعتی و تجارتی ترقی میں ہم کہیں کھڑے نظر نہیں آتے۔ نیشنلزم نفسیاتی توانائی ہے اس نفسیاتی توانائی کو سائنسی فتوحات پر مرکوز کر کے حاوی حاصلات کے قومی سرمائے سے سائنسی نیشنلزم تعمیر ہوتا ہے۔ پاکستان میں جاگیردارانہ (ویلیوز) اقتدار کی گرفت مضبوط ہے۔ اسی لیے ملک سے محنت، ٹیلنٹ وسائل فرار ہورہے ہیں اور اس فرار کو روکنے کی بجائے سرکاری سطح پر اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اسی لیے ترسیلات زر معیشت کا بھرم رکھے ہوئے ہے۔ فنانشلائزیشن نے دنیا کو جوئے کا اڈہ (معیشت کا کیسینو) بنا دیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کے سب سے بڑی کھلاڑی جارج سوروس نے راتوں رات دو ارب ڈالر کا کھیل جیتا اور پھر ایک دن ہانگ کانگ کے اسٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈالر ہار گیا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کی معیشت کو منصفانہ طور پر ریگولیٹ نہیں کیا تو  موجودہ نظام تباہ ہو کر انارکی پھیلا دے گا۔مغربی دانشوروں کے ایک حلقے نے ہوس گیری اور لوٹ مار سے تباہ ہوتے یورپی امریکی کارپوریٹ شعبے کی حالت دیکھی تو انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری شعبے کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی سرمائے اور اس پر قابض ساہوکاروں کی آزاد معیشت کو بغیر منصفانہ ضابطوں کے امیر ممالک کا غریب ملکوں پر معاشی قبضہ جائز قرار دیا جائے اور یہ سوچ لیا جائے کہ آزاد تجارت اورنجکاری ہی ہر قسم کی کرپشن اور سرکاری بد اعمالیوں کا نعم البدل ہے۔ سرکاری اداروں کی مخدوش حالت سے قطع نظر جب ہم ایزون، ورلڈ کام، سنگر اور اکائی جیسی کئی کمپنیوں میں کرپشن کے نتیجے میں دیوالیہ پن کی صورت دیکھتے ہیں تو مذکورہ دلیل "نجکاری نعم البدل نہیں ہے" درست اور معقول دکھائی دیتی ہے۔ کئی ملکوں کے معاشی دانشوروں نے جی سیون ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے اقتصادی حب الوطنی اور انڈجنائزیشن پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ امیرممالک میں بھی زائد پیداوار کے رُجحان اور فنانشلائزیشن کی کیسینو معیشت نے چھوٹے سرمایہ کاروں اور عوام کی رقوم ہضم کرنے کے عمل کا آغاز "ایزون" سے کیا تو امیر ملکوں میں کسادبازاری نے جنم لیا جو گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد زیادہ شدید ہوگئی، ان ملکوں میں بھی بیروزگاروں، کم اُجرت پانے والوں اور ماحولیات کے ہمدردوں نے بڑے بڑے مظاہرے کیے۔ دُوسری طرف غریب ممالک کے افلاس زدہ شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ معیشت کی منڈی عالمی مالیاتی اداروں اور ملٹی نیشنلز نے ایسا معاشی تسلط قائم کر لیا ہے۔ جس سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، اس وقت پوری دُنیا پر پانچ سو بڑی ملٹی نیشنلز کمپنیاں حکومت کر رہی ہیں جو دُنیا کے نوے فیصد سرمائے کی مالک ہیں، اگر یہ کمپنیاں چاہیں تو دُنیا صرف تیس سیکنڈ میں معاشی طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔ ایک مغربی سروے کے مطابق بڑی ملٹی نیشنلز کمپنیوں میں سے دو سو بارہ کمپنیوں کا تعلق امریکا سے ہے جبکہ نصف کمپنیوں  کے زیادہ حصص یہودیوں کے پاس ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اریکسن موبائل دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دُنیا بھر میں اس کے اثاثے دو لاکھ دس ہزار تین سو بانوے ملین ڈالر ہیں۔ یہ کمپنی چاہے تو تنہا براعظم آسٹریلیا کو خرید سکتی ہے جبکہ ٹاپ ٹین کی فہرست میں شامل تین کمپنیاں مل کر آدھی دنیا خرید سکتی ہیں۔ وال مارٹ، دوسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اسکے اثاثے ایک لاکھ ترانوے ہزار دو سو پچانوے ملین ڈالر ہیں۔ یہ کمپنی پوری دنیا کو دوسال کا راشن خرید کر دے سکتی ہے۔ اسی وجہ سے لاطینی امریکا میں یہ نعرہ عام ہوگیا ہے کہ
“Price of Free Trade is Famine
(آزاد تجارت کی قیمت قحط ہے) عالمی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل موٹرز جو دُنیا کی تیسری گلوبل کمپنی ہے اس کے اثاثے ایک لاکھ چونتیس ہزار سات سو بتیس ملین ڈالرز ہیں۔ یہ کمپنی دنیا کے ہر شخص کو ایک گاڑی مفت فراہم کرسکتی ہے اور تین سمندروں کا پانی صاف کر کے دنیا بھر کے صحراؤں کا نخلستان میں تبدیل کرسکتی ہے، اس لیے سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا کہ "ہم اس وقت دنیا کو امریکا یا سوویت یونین کہ رہے ہیں بہت جلد یہ ملٹی نیشنلز کی دنیا ہوجائے گی" ان ملٹی نیشنلز کا تعلق جی سیون ممالک سے ہے اور عالمی تجارتی ادارے ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔


 یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کسی سے اتنی محبت کرے
 اور اسے سوائے ٹھوکریں اور درد کے کچھ نہ ملے۔
میں کیسے مان لوں کہ وہ مجھ سے نہیں کسی اور سے محبت کرتی ہے۔
اور میں کیوں اپنے آپ کو دھوکا دیتا رہا۔
کیوں میں جان کر بھی انجان بنا رہا۔
کیوں میں جیت کر بھی ہار گیا۔
اور وہ ہار کر بھی جیت گیا۔


٭۔۔۔۔ذہانت اس صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اپنے آپ کو تبدیل کر سکتا ہے۔
٭۔۔۔۔اگر آپ ہر وقت غصے میں رہیں یا شکایات کرتے پھریں تو لوگ آپ کو کبھی وقت نہیں دیں گے۔
٭۔۔۔۔ہماری زندگی میں مزاح نہ ہوتا تو وہ نہایت المناک ہوتی۔
٭۔۔۔۔سائنس صرف عقل کی پیروکار نہیں، وہ رومانس ہے اور جوش و جذبہ بھی۔
٭۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ کائنات میں خلائی مخلوق عام ہے مگر ذہین مخلوق کی کمی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ زمین پر بھی یہ نمودار نہیں ہوئی۔
٭۔۔۔۔ہم انسان ایک عام سے ستارے کے چھوٹے سے سیارے پہ بستے بندروں کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔ لیکن ہم اس کائنات کو سمجھتے ہیں۔ یہی خاصیت ہمیں اسپیشل بناتی ہے۔
٭۔۔۔۔حقیقت اپنی ہی ایک بڑی انوکھی تصویر رکھتی ہے۔




Azeez’tar woh mujhe rakhta tha ragg-e-jaan say,Yeh baat sach hai mera Baap kam na tha meri Maa say,
Woh Maa kay kehne pe kuch roub mujh pay rakhta tha,Yehi wajah thi mujhe choomtay jhijhkta tha,
Woh aashna mere har karb se raha har dum,Jo khul ke roo nahin paya magar sisakta tha,
Jurri thi uski har ek haan faqat meri haan say,Yeh baat sach hai mera Baap kam na tha meri Maa say,
Har ek dard woh chup chaap khud pe sehtaa tha,Tamam umar woh apnon se katt kay rehta tha,
Woh laut’ta tha raat deir tak din bhar,Wajood uska paseenay mein thall kay behta tha,
Gilay they mujhe phir bhi aesay chaak-daama say,Yeh baat sach hai mera Baap kam na tha meri Maa say,
Purana suit pehenta tha kam woh khaata tha,Magar khiloney mere sab woh khareedta tha,
Woh mujh ko soye huye dekhta tha jee bhar kay,Na jane soch ke kya kya woh muskuraata tha,
Mere beghair they sab khawab us kay wiraan say,Yeh baat sach hai mera Baap kam na tha meri Maa say...!






 پچھلے دنوں اسلام آباد میں کچھ  "آزاد خیال" خواتین انتہائی بھدی لکھائی میں کتبے اٹھائے باہر سڑکوں پر نکلیں تھیں۔ کتبوں پر لکھا تھا کہ اپنا سالن خود گرم کر لو۔ میں نے برتن نہیں دھونے، میں بھی ایک سخت لونڈا ہوں، اوربھی کچھ "اول فول" لکھا تھا۔
 اوکے خواتین ! ہم مان لیتے ہیں آپ آج کے بعد "لونڈیا" نہیں، لونڈا ہیں،  سو آج کے بعد کام بدل لیتے ہیں، کس شعبے سے شروع کریں گی ؟ چلیے ! کم ترین شعبے سے آغاز کرتے ہیں، یہ لکشمی چوک میں گٹر بند ہیں اور عوام فون کر کر کے ناک میں دم کیے جا رہے ہیں، سو "شیلا جی" اپنی جوانی دکھائیے، کہ آج سے آپ بھی ایک سخت لونڈا ہیں، ذرا ناک سے رومال ہٹائیے کیونکہ آپ کے میاں صاحب کل اسی گٹر میں اتر کے جان کھپا رہے تھے انکو بھی بو آتی تھی مگر وہ سب بھول کے لگے رہے۔
 یہ واپڈا کا کھمبا ہے، ذرا پائے نازک سے پائل اتاریے، چل میری چندا، ذرا اوپر چڑھ نا اور ہاں! "اوئی ، ہائے اللہ جی، مر گئی" جیسی آوازیں نکالنا منع ہیں، چلیے جلدی کیجئے، ارے ہاں دھیان سے کرنٹ نہ لگ جائے۔ کیا کہا، دستانے بھاری ہیں؟؟ ہیں، بھلا دستانے بھی بھاری ہوتے ہیں؟؟ اچھا میڈم جی، آپ بھی آئی ہیں ؟ آپ بھی بہت سخت لونڈا ہیں ؟ چلیں پھر ذرا یہ پیاز کی بوری اٹھائیں اور اسکو اس ٹرک پر پھینک کے آئیں، کیا کہا بھاری ہے ؟؟ ارے نہیں تو، ڈھائی من کی ہی تو ہے، اور آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ سخت لونڈا ہو؟
 بس آج کے بعد من من کے برتن نہیں دھونا پڑیں گے، نہ ہی ہزاروں کلو کے کپڑے استری کرنا ہوں گے۔ بس یہ "پھول" سی ہلکی پھلکی بوریاں ہیں، ریشم کی گانٹھ جیسی، چلو اٹھاؤ انکو، انکو اٹھاؤ گی تو پیسا ملے گا، مزدوری ملے گی تو گھر چلے گا نا، چل شاباش، گھر میں تیرا میاں برتن دھو دھو کے تھک گیا ہے اور انتظار میں ہے کہ تُو "کما" کر لائے گی تو وہ ہانڈی چڑھائے گا، مجھے یقین ہے کہ ہماری ان "معصوم" خواتین کی یہیں پر بس ہو جانی ہے، ممکن ہے آپ بھی کہیں کہ جناب آپ نے بھی تو سیدھا گٹر میں اتار دیا، ٹرک پر چڑھا دیا، کھمبے پر لٹکا دیا۔
 تو بھائی ان کی اپنی ہی تو ڈیمانڈ ہے، جب برابری کرنی ہے تو ڈیوٹی بھی برابر پوری کرنا ہوگی نا ؟؟ جب اللّٰہ کی تقسیم سے انکار کرنا ہے تو "اچھا اچھا ہپ اور کڑوا تھو" کا اختیار نہیں مل سکتا، اب ذرا زندگی کے دوسرے شعبہ جات کی طرف آ جائیے، کیا خواتین بیس بیس گھنٹے حشر کی گرمی میں ٹرک چلا سکتی ہیں، یا ملتان کی تپتی گرمی میں 15 گھنٹے میں کھدائی کر سکتی ہیں؟ 
ان کی بات کرتے ہوئے ایک اور بات یاد گئی کہ ایک دفعہ 
بابا جی کھیت میں بھینس کو جوت کر ہل چلا رہا تھا اور چھپر میں بیل صاحب آرام فرما رہے تھے  _ کسی سیانے کا گزر ہوا  _ 
اس نے بابا جی سے پوچھا :
    " یہ کیا تماشا ہے؟ تم نے بیل کو چھپر کے نیچے باندھا ہے اور بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے !" 
    بابا جی نے کہا : 
"یہ بی بی شہر سے آئی ہے _  اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کربھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے ، لہذا تم پہلے ہی دن اپنے مالک سے اپنے حقوق کی بات کرنا  _  اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں  _"
 میں نے کہا :" بیل تو ہل جوتتا ہے  _" 
اس نے کہا : "میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی _جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں  _"
      چنانچہ میں نے اسے ہل جوتنے پر لگا دیا  _  اب یہ خوشی خوشی کھیت میں بھی کام کرتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے  _ 
بیل کے پاس کرنے کو کام نہیں ، لہذا وہ سارا دن چھپر میں آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے ۔



 انسان  کو ہمیشہ اللہ پر کامل یقین رکھنا چاہیے اور کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔کبھی کبھار بہت زیادہ محنت کے باوجود ہم وہ     چیز نہیں حاصل کر پاتے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم منزل تک پہنچنے ہی والے ہوتے ہیں کہ ہم ہار مان لیتے ہیں اور ہماری ساری محنت رائیگاں ہو جاتی ہے ہم جب ایک دو دفعہ ناکام ہو جاتے ہیں ہیں تو ہم دوبارہ کوشش بھی نہیں کرتے ہم اپنے دماغ میں یہ الفاظ نقش کر لیتے ہیں کہ یہ ہم سے نہیں ہوگا اس کے بعد ہمیں کوئی صحیح راستے پہ نہیں لا سکتا کیونکہ ہم خود ہی صحیح ہونا نہیں چاہتے وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک اسے خود احساس نہ ہو اپنی حالت بدلنے کا اسی لیے انسان کو ہمیشہ صبرو تحمل سے کام لینا چاہیے اورمسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔


  محمود غزنوی کی مثال تو ہمارے سامنے ہی ہے جس نے انڈیا پرسترہ حملے کئے۔مسلسل پندرہ حملے کے بعد جب سولہویں حملہ میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ہمت ہار کے بیٹھ گیا اور دل میں سوچ لیا کہ اب حملہ نہیں کروں گا۔

 ایک دن اکیلا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا تو دیکھتا ہے کہ ایک چیونٹی دیوار پر چڑھ رہی ہے اور چڑھتے چڑھتے بار بار گر جاتی ہے لیکن ہمت نہیں ہارتی اور دوبارہ کوشش شروع کر دیتی ہے محمود غزنوی کو یہ منظر اچھا لگا اور وہ دھیان لگا کر چیونٹی کو دیکھنے لگا چیونٹی کافی دیر تک کوشش کرتی رہی بار بار گرتی پھر اٹھتی اور دیوار پہ چڑھنا شروع کر دیتی آخرکار کافی زیادہ کوششوں کے بعد چیونٹی دیوار چڑھنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔محمود غزنوی جب یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے تو سوچنے لگ جاتا ہے کہ یہ اتنی چھوٹی مخلوق ہوکربھی ہمت نہیں ہارتی اور بار بار تگ و دو کے بعد اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مجھے کیا ہوا میں کیوں ہمت ہار کے بیٹھ گیا ہوں مجھے تو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے یعنی سب مخلوقات میں سے افضل۔ بالآخر وہ ایک بار پھر انڈیا پر حملہ کرتا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اللہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے اس لیے انسان کو مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔


اس طرح شارک مچھلی کو ایک بڑے کنٹینر میں بند کر دیا گیا اور جب کچھ اور چھوٹی مچھلیوں کو اس میں چھوڑا گیا تو شارک ان کو کچھ ہی لمحوں میں کھا گئی۔
اب ایملی (جو ایک میرین بائیولوجسٹ ہے) نے تجربے کے لیے اس کنٹینر کو درمیان میں سے ایک شیشے کی دیوار سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔
جب چھوٹی مچھلیوں کو دوسرے حصے میں چھوڑا گیا تو شارک نے پہلے کی طرح حملے کی کوشش کی پر شیشے کی دیوار کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ پر وہ بار بار کئی گھنٹوں تک شیشے سے سر ٹکراتی رہی۔ پھر تھک ہار کر اس نے سمجھو تا کر لیا۔
اگلے دن ایملی نے پھر چھوٹی مچھلیوں کو کنٹینر کے دوسرے حصے میں چھوڑا۔ شارک نے پھر کوشش کی پر اس دفعہ جلدی ہار مان لی۔ کچھ دن مزید یہی تجربہ دہرانے کے بعد ایک ایسا دن آیاکے شارک نے ایک دفعہ بھی کوشش نہ کی۔
ایملی نے اگلے دن وہ شیشے کی دیوار ہٹا دی۔ اب حیران کن بات یہ کہ چھوٹی مچھلیاں شارک کے ارد گرد تیر رہی ہیں پر شارک ان سے بالکل بے پرواہ ہے۔ کیوں کی کچھ دن کی کوشش اور ناکامی نے اس کے لاشعور میں یہ بات ڈال دی کہ یہ چھوٹی مچھلیاں اس کی دسترس میں نہیں۔

بالکل انسان اسی طرح کچھ ناکامیوں سے مایوس ہو کر کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے کیسے ہی مواقع کیوں میسر نہ آئیں وہ اپنی پرانی ناکامیوں کی وجہ سے دسترس میں موجود ہر موقع کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔لہٰذا انسان کو ہمت کبھی نہیں ہارنی چاہیے اور مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
کوشش کرتے رھیں _______ جب تک آپ کامیاب ھو جائیں ۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget