اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جولائی 2023

*دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ*
1- چیت/چیتر (بہار کا موسم)
2- بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، ملا جلا) 
3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ) 
4- ہاڑ/اساڑھ/آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز) 
5- ساون/ساؤن/وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون) 
6۔ بھادوں/بھادروں/بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں) 
7- اسُو/اسوج/آسی (معتدل) 
8- کاتک/کَتا/کاتئے (ہلکی سردی) 
9۔ مگھر/منگر (سرد) 
10۔ پوہ (سخت سردی) 
11- ماگھ/مانہہ/کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند) 
12- پھاگن/پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا اغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے، جبکہ پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر، اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

بکرمی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ہندوستان کے ایک بادشاہ "راجہ بِکرَم اجیت” کے دور میں ہوا۔ راجہ بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ اس شمسی تقویم میں سال "چیت” کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

1: 14 جنوری۔۔۔ یکم ماگھ
2: 13 فروری۔۔۔ یکم پھاگن
3: 14 مارچ۔۔۔ یکم چیت
4: 14 اپریل۔۔۔ یکم بیساکھ
5: 14 مئی۔۔۔ یکم جیٹھ
6: 15 جون۔۔۔ یکم ہاڑ
7: 17 جولائی۔۔۔ یکم ساون
8: 16 اگست۔۔۔ یکم بھادروں
9 : 16 ستمبر۔۔۔ یکم اسوج
10: 17 اکتوبر۔۔۔ یکم کاتک
11: 16 نومبر۔۔۔ یکم مگھر
12: 16 دسمبر۔۔۔ یکم پوہ
بکرمی کیلنڈر (پنجابی دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے.
ان پہروں کے نام یہ ہیں۔۔۔
1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت
2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت
3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت
4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت
5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت
6۔ کفتاں ویلا:
رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت
7۔ ادھ رات ویلا:
رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت
8۔ سرگی/اسور ویلا:
صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت
لفظ "ویلا” وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے.

*پاکســـتانی ہیـــرے*

دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا تو ہمسائے اور اہل محلہ سارے اکٹھے تھے، تیور تو غصے والے تھے جنہیں دیکھ کر گھر سے برآمد ہونے والے بزرگ تھورا سا پریشان ہوئے، اور پوچھا کیا بات ہے سب خیریت ہے نا؟
خیریت کہاں ہے بھائی تمھارا لڑکا آئے روز ہمارے گھر کی دیواروں پر کوئلے سے پتا نہیں کیا نقش و نگار بناتا رہتا ہے، ساری دیواریں اس نے کالی کررکھی ہیں، تم اپنے لاڈلے کو منع کیوں نہیں کرتے؟
اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔"
بڑے میاں نے وقتی طور پر اہل محلہ کو سمجھا بجھا کر بھیج تو دیا، لیکن وہ اس شکایت سے قدرے نالاں بھی تھے، بیٹے کو سمجھایا " یار باز آجا کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے، اپنی پڑھائی پر دھیان دے اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا" 
بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا، لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا۔ یہ آڑھی ترچھی لکیریں تو اس کا شوق تھا اور شوق سے لاتعلقی کون اختیار کرسکتا ہے۔
 
پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کردیا لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا، یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا، اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے وہ اپنے شوق کی تکمیل کرتا رہتا، کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی دونوں برابر ملتے رہے. 
وقت گزرتا رہا، اسکول میں منعقدہ خطاطی اور خوش نویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا، جو بھی لکھا ہوا، یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا۔
خوش نویسی کے قواعد یا خطوں کی پہچان تو اسے بالکل بھی نہیں تھی لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا، کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے یا کون سا اسٹائل ہے تو وہ بتا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی نہ ہی پہچان تھی۔ کلاس میں سب سے پہلے آتا، چاک سے تختہ سیاہ پر اپنی مشق کرتا رہتا، باقی ہم جماعتوں اور اساتذہ کے آنے سے پہلے وہ ٹھیک ٹھاک مشق کرلیتا اور اگر کبھی کبھار کوئی استاد دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا اتنا عمدہ خوش خط۔ آہستہ آہستہ اس کی مشق میں پختگی تو آگئی لیکن باقاعدہ راہنمائی سے محروم ہی رہا، اسکول میں کوئی خطاطی کا استاد نہیں تھا اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا لیکن وہ لڑکا ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتتا رہا، محلے میں بھی بینر اور اشتہار لکھنے والے کی حیثیت سے پہچان بنوا لی۔ اسی دوران میٹرک کرلی اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا تو اسکول جانا چھوڑ دیا۔ 
برش اور رنگ لیتا اور گلیوں محلوں میں نکل جاتا لوگوں کی دکانوں پر نام لکھتا، بینر لکھتا اور چند پیسے کماتا، اس کام سے اسے تسکین نہیں مل رہی تھی وہ اس کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتا تھا لیکن اسے کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔ اسکول جب چھوڑ دیا تو وقت کی فراوانی بھی ہوگئی اور کام میں روانی بھی ہوگئی۔  
ایک دن اسے کہیں سے ایک کتاب مل گئی جس کا نام تھا، خوشخطی سیکھیں۔ اس کتاب میں اردو اور عربی کے خطوں کے متعلق معلومات تھیں جیسے برش، قلم اور رنگوں کی بنیادی معلومات۔ اس نے وہ کتاب حفظ کرلی اور خطوں کی شکلیں یاد کرکے ان کی مشق شروع کردی۔ ایک دن وہ بڑی کتابوں کی دوکان میں گیا اور وہاں سے اپنے کام کے متعلق کسی کتاب کا پوچھا، اسے کوئی خاص کتاب تو نہ ملی مگر عربی رسم الخط کے متعلق اسے ایک چھوٹا سا کتابچہ مل گیا اس نے وہی خرید لیا۔ اب عربی تو وہ پڑھ نہیں سکتا تھا لیکن عربی خطوں کی شکلیں اسے پتا چل گئیں، 
چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے وہ بڑی کمپنیوں اور اداروں کے کام کرنے لگا۔
ایک دفعہ کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پر وہ یونہی تاج کمپنی کا سائن بورڈ لکھنے میں مصروف تھا کہ ایک بڑی گاڑی اس بورڈ کے نیچے آکر رک گئی اور گاڑی میں بیٹھے شخص نے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ نیچے آیا تو دیکھا اس سے مخاطب ایک عربی شخص ہے اور عربی زبان سے تو وہ ناواقف تھا، اس بڑی گاڑی کے پیچھے ایک چھوٹی گاڑی بھی آکر رکی اس میں عربی شخص کے جاننے والے پاکستانی افراد تھے۔ وہ نیچے اترے اور اس لڑکے سے کہنے لگے کہ شیخ چاہتا ہے کہ تم اس کے ساتھ سعودی عرب چلو اور وہاں جاکر اس کے لیے خطاطی کا کام کرو۔ لڑکا کہنے لگا مجھے تو عربی بولنا اور لکھنا آتی ہی نہیں میں کیسے یہ کام کروں گا، تو اس عربی شخص نے بتایا کہ تم جس خط میں یہ بینر لکھ رہے ہو یہ عرب کا مشہور خط ہے اور اسے ہر کوئی لکھ بھی نہیں سکتا۔ تم تو اسے کمال مہارت سے لکھ رہے ہو اور کہتے ہو میں جانتا بھی نہیں۔

وہ عربی سعودی سفیر کا دوست تھا اور پاکستان سے ہنر مند افراد کو لینے آیا تھا، اسے پاکستانی خطاط لڑکے کا کام پسند آگیا اور اسے ساتھ چلنے کا کہا۔ یوں گھر سے اجازت لے کر اس نے پاسپورٹ بنوا کر شیخ کے حوالے کیا اور چند دنوں بعد وہ سعودی شہر ریاض میں بیٹھا بینر لکھ رہا تھا۔ جب کام کرتے ہوئے کافی سال گزر گئے تو سعودیہ میں رہنے سے ایک تو اس نے عربی زبان میں مہارت حاصل کرلی دوسرا تمام عربی خط اور رسم الخط میں وہ تقریباً کمال کے درجے تک جا پہنچا۔ اس کا کفیل اچھا آدمی تھا اور اس پاکستانی خطاط کی بے پناہ عزت بھی کرتا تھا، وہ اپنے کفیل سے اجازت لے کر کئی بار عمرہ اور زیارتیں وغیرہ بھی کر آیا۔
 ایک دفعہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے اس کے دل میں خواہش نے جنم لیا کہ کاش مجھے موقع ملے اور مسجد نبویﷺ کے اندر اپنے ہاتھ سے ایک تختی پر ایسی خطاطی کروں کہ دنیا حیران رہ جائے. یہ خواہش لے کر وہ وہاں سے ریاض آگیا، کام کاج کرتا رہا، وقت گزرتا رہا لیکن خواہش برابر پروان چڑھتی رہی۔
ایک بار اس نے کہیں سے سنا کہ مدینہ منورہ میں اعلان ہوا کہ دنیا بھر سے خطاط حضرات کو دعوت ہے کہ وہ ایک مقررہ تاریخ پر ایک مخصوص رسم الخط میں ایک مخصوص عبارت لکھ کر جمع کروائیں جو خطاط اس مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اسے مسجد نبویﷺ کا خطاط مقرر کیا جائے گا۔ اسے لگا جیسے اس کی خواہش پوری ہونے کا وقت آگیا ہے، وہ وہاں گیا تو دیکھا وہاں دنیا بھر سے ایسے ایسے خطاط اپنا کام لے کر آئے تھے کہ ان سب کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں تھی۔ وہ گیا اور اپنا کام پیش کرنے کی خواہش کی لیکن کسی نے بھی اسے سنجیدہ نہ لیا، نہ تو وہ معروف تھا اور نہ ہی اس کا کوئی کام ایسا تھا جو مشہور ہو، اور اوپر سے وہ کتابت کی جگہ سائن بورڈ اور بینر لکھنے والا اور پھر اہل زبان بھی نہیں، اور یوں اسے حصہ نہ لینے دیا گیا اور وہ مایوس ریاض لوٹ آیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور اس کی ایک بھی نہیں چل رہی تھی، تقریباً اس نے دل چھوڑ ہی دیا تھا کہ اس کی دکان پر ایک عربی آیا اس نے کہا مجھے فلاں سائز کی تختی خط ثلث میں چاہیے، اس نے لکھ دی تو وہ حیران رہ گیا کہ اتنے چند ریالوں میں اتنا بہترین کام تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ اس نے کہا تم میرے ساتھ چلو اور میرے لیے کام کرو وہاں معاوضہ دگنا ملے گا۔ اس لڑکے نے انکار کردیا تو وہ عربی کہنے لگا میں ایک دکان مدینہ منورہ میں کھولنا چاہ رہا ہوں اگر کوئی دوسرا خطاط ہوا تو بتانا۔ جب اس لڑکے نے مدینہ منورہ کا نام سنا تو کہا مجھے لے چلو میں وہاں کام کروں گا۔ اسے ایک امید لگ گئی کہ شاید میرا وسیلہ بن جائے۔
 
یوں وہ کسی نہ کسی طرح پہلے مہربان کفیل کو تقریباً ناراض ہی کرکے مدینہ منورہ چلا گیا۔ مقابلے کے اختتام کا وقت قریب تھا اور نئے کفیل کے ساتھ کام کاج بہت زیادہ تھا، دکان چھوڑ کر نکلنا بڑا مشکل تھا۔ نیا کفیل اس کے کام سے حد درجہ خوش تھا، اس جیسا کام تو سعودیہ میں کوئی دوسرا کرنے والا تھا ہی نہیں۔ کفیل تو یوں تھا جیسے اس کا مرید ہوگیا ہو، اسے بہترین کھانے کھلاتا، جب بھی ملتا تو ہاتھ اور ماتھا چومتا، غرض بڑی آؤ بھگت کرتا۔ اس نے ایک دن کفیل سے اپنا مدعا بیان کیا کہ میں مسجد نبوی ﷺ میں خطاطی کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتا ہوں میری کچھ مدد کردو۔ کفیل نے اس کی بات مان لی اور اپنے جاننے والوں سے کہہ کہلوا کر اسے کسی طرح اس مقابلے تک لے ہی گیا، بڑی مشکل سے اس کا نام رجسٹر ہوا اور اسے مقابلے کے لیے بطورِ نمونہ پہلے ایک عبارت لکھوائی گئی پھر اسے شریک کیا گیا۔ یوں اس کی لکھی ہوئی تختی اور وہ اس مقابلے میں شریک ہوگئے۔

مقابلہ ختم ہوا اور نتائج کے اعلان کا دن تھا، دنیا بھر سے ماہر اساتذہ کے درمیان اس کا کام کیا حیثیت رکھتا تھا، بہرحال مقابلے کے نتیجے کا اعلان ہوا اور خلاف توقع وہ دنیا بھر کے ماہر خطاطوں کو پچھاڑ کر اوّل انعام کا حقدار ٹھہرا، امام الحرم اور جیوری نے جب اس خطاط کا نام اور ملک پوچھا تو کہنے لگا:

" شفیق الزمان، پاکستان سے"

 پورے مجمعے پر خاموشی چھا گئی اور پورے عرب کے خطاط ایک دفعہ حیران رہ گئے کہ اجنبی نام اور غیر عرب کیسے اہل عرب سے جیت گیا، اور وہ شخص جیتا جسے مقابلے میں شریک ہی نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔

یوں جناب محترم شفیق الزمان کی خوش نصیبی اور سعادت کہ کہاں ایک تختی لگانے کی خواہش اور کہاں در و دیوار منور کرنے کے لیے مسجد نبوی ﷺ کا خطاط مقرر کیا گیا۔ آہستہ آہستہ وہ وہاں کے تمام خطاطوں کے استاد بن گئے۔ آج سعودی عرب میں نصف صدی کے لگ بھگ عرصہ گزارنے کے بعد مسجد نبوی ﷺ کے در دیوار پر پچاسی فیصد کام شفیق الزماں کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ہے، حتیٰ کہ جس دروازے (باب سلام) سے داخل ہوکر اور جس مقام پر پہنچ کر سارا عالم اسلام روضۂ اقدسﷺ پر حاضری اور سلام کی سعادت حاصل کرتا ہے ان تمام جگہوں کو شفیق الزمان کے قلم اور برش نے مزین کررکھا ہے۔ ایک عجمی کا خطاط المسجد النبوی ﷺ پانا ایک معجزہ اور ایک سعادت سے کم نہیں۔ آج حرم مکی کے امام، حرم مدنی کے خطاط سے ملنے میں سعادت اور فخر سمجھتے ہیں اور حرمین الشریفین کے تمام خطاطی کے کاموں کے لئے شفیق الزمان سے مشاورت کی جاتی ہے۔

‏اپنی بیٹیوں کو درج ذیل باتیں سکھائیے 
1۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوٸی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاٶ اور اس کے بعد چڑھیے۔
2۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو ہو اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھیے۔
3۔اپنے چچا،ماموں ،خالہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کیجیے۔
4۔اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کےساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیے۔
5۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیے۔
6- سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیے۔
7- جب کوٸی ملنے آٸے تو اسے توجہ دو ، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاٶ اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیجیے
8-گلی محلہ کے سبھی مرد باپ کے سوا اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
9-جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکو.. کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو .. پھر کھڑے ہو جائیں.. تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب نہ ہو۔
10-اپنی پوری زندگی بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کیجیے۔
سبھی بیٹوں, لڑکوں, مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب 'ضرور' کرنے والے ہیں مجھ سمیت

#جہنم_کا_تعارف
اور 19: باتیں غور سے دیکھیں
#1/ جہنم میں گرایا گیا پتھر 70 سال بعد جہنم کی تہہ میں پہنچتا ہے- (مسلم)
#2/ جہنم کے ایک احاطہ کی دو دیواروں کے درمیان 40 سال کی مسافت کا فاصلہ ہے- (ابو یعلی)
#3/ جہنم کو میدان حشر میں لانے کے لے 4 ارب 90 کروڑ فرشتے مقرر ہوں گے-(مسلم)
#4/ جہنم کا سب سے ہلکا عذاب آگ کے دو جوتے پہننے کا ہوگا جس سے جہنمی کا دماغ کھولنے لگے گا- (مسلم)
#5/ جہنمی کی ایک داڑھ (بڑا دانت) احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی- (مسلم)
#6/ جہنمی کے جسم کی کھال 42 ہاتھ (63 فٹ) موٹی ہوگی- ( ترمذی)
#7/ جہنمی کے دونوں کندھوں کے درمیان تیزرو سوار کی 3 دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا- (مسلم)
#8/ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کے برابر جسم دیا جائے گا-(ترمذی)
#9/ جہنمی اس قدر آنسو بہائيں گے کہ ان میں کشتیاں چلائی جاسکیں گی-(مستدرک حاکم)
#10/ جہنمیوں کو دیے جانے والے کھانے (تھوہر) کا ایک ٹکڑا دنیا میں گرا دیا جائے تو ساری دنیا کے جانداروں کے اسباب معیشیت برباد کردے- (احمد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)
#11/ جہنمیوں کو پلائے جانے والے مشروب کا ایک ڈول (چند لٹر) دنیا میں ڈال دیا جائے تو ساری دنیا کی مخلوق کو بدبو میں مبتلا کردے- (ابو یعلی)
#12/ جہنمیوں کے سر پر اس قدر کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا کہ وہ سر میں چھید کرکے پیٹ میں پہنچ جائے گا اور پیٹ میں جو کچھ ہوکا اسے کاٹ ڈالے گا اور یہ سب کچھ (پیٹھ سے نکل کر) قدموں میں آگرے گا- (احمد)
#13/ کافر کو جہنم میں اس قدر سختی سے ٹھونسا جائے گا جس قدر نیزے کی انی دستے میں سختی سے گاڑی جاتی ہے-(شرح اسنہ)
#14/ جہنم کی آگ شدید سیاہ رنگ کی ہے- (جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے گا) ( (مالک)
#15/ جہنمیوں کو آگ کے پہاڑ "صعود" پر چڑھنے میں 70 سال لگيں گے اترے گا تو پھر اسے چڑھنے کا حکم دیا جائے گا- (ابو یعلی)
#16/ جہنمیوں کو مارنے کے لیے لوہے کے گرز اتنے وزنی ہوں گے کہ انسان اور جن مل کر بھی اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے- (ابو یعلی)
#17/ جہنم کے سانپ قد میں اونٹوں کے برابر ہونگے اور ان کے ایک دفہ ڈسنے سے کافر 40 سال تک اس کے زہر کی جلن محسوس کرتا رہے گا- (حاکم)
#18/ جہنم کے بچھو قد میں خچر کے برابر ہوں گے ان کے ڈسنے کا اثر کافر 40 سال تک محسوس کرتا رہے گا- (حاکم)
#19/ جہنمیوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا- (مسلم)
اللہ تعالیٰ ہم سب کے صغیر و کبیرہ گناہ معاف فرمائے اور جہنم کے عذابوں سے محفوظ فرما کر جنة الفردوس کا حقدار بنائے آمین ثم آمین😭
طالب دعا ۔ حافظ زاہدالرحمان حسانی

6 LAWS TO WIN IN LIFE

1.Stop telling people your plans

When you over share, you hurt your own progress. Keep things private and win.

2.Know when to say no

Strong people put their own well being before pleasing others. Practice saying no more often.

3. Make a decision, and commit to it

Too many people lack discipline and go back to their toxic patterns. Make a decision to change, and stick to it.

4. There is power in numbers

Nobody has made it in life all by themselves. You need a team that uplifts and supports you. Stop being a lone wolf.

5. Starve your distractions, feed your focus

Focus on your goals instead of
cheap dopamine. You will achieve anything you ever wanted.

6. Always provide value to others

There is only one secret to success: making other people's lives easier. In business and relationships, providing value will keep you their first priority.

جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا گیا تو ان کے لیے دودھ لایا گیا، جیسے ہی آپ نے دودھ پیا تو وہ آپ کی پسلیوں کے زخم سے بہہ نکلا۔ طبیب نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! وصیت فرما دیں، آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ 

تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور کہا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس بلاؤ۔ 
حذیفہ بن الیمان حاضر ہو گئے۔ یہ وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ناموں کی فہرست عطا کی تھی اور ان ناموں کے بارے میں اللہ پاک، اس کے رسول ﷺ اور حذیفہ بن الیمان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ 

حضرت عمر نے پوچھا جبکہ خون ان کی پسلیوں سے بہہ رہا تھا۔ کہ اے حذیفہ بن الیمان میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا اللہ کے رسول ﷺ نے میرا نام منافقین کے ناموں میں لیا ہے یا نہیں؟ 

یہ سن کر حذیفہ بن الیمان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا! یہ میرے پاس رسول اللہﷺ کا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔
آپ نے پھر پوچھا! خدا کے لیے مجھے اتنا بتادیں، اللہ کے رسول ﷺ نے میرا نام شامل کیا ہے یا نہیں؟ 

حذیفہ بن الیمان کی ہچکی بندھ گئی اور کہتے ہیں!
اے عمر! میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی زبان نہ کھولتا اور وہ بھی صرف اتنا بتاتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے اس میں آپ کا نام شامل نہیں کیا۔ 

حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا!
کہ دنیا میں میرے لیے ایک چیز باقی رہ گئی ہے۔
حضرت عبداللہ نے پوچھا! وہ کیا ہے ابا جان؟ 

حضرت عمر نے فرمایا! بیٹا میں جوار رسول ﷺ میں دفن ہونا چاہتا ہوں۔
لہذا ام المؤمنین حضرت عائشہ کے پاس جاؤ، ان سے یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین عمر بلکہ کہنا کہ کیا آپ عمر کو اپنے ساتھیوں کے قدموں میں دفن ہونے کی اجازت دیتی ہیں؟ کیونکہ آپ اس گھر کی مالکن ہیں۔ 
تو ام المؤمنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے تیار کر رکھی تھی لیکن آج میں اسے عمر کے لیے ترک کرتی ہوں۔ 

عبداللہ ابن عمر شاداں و فرحاں واپس آئے اور عرض کی، اجازت مل گئی ہے۔
عبداللہ ابن عمر نے دیکھا کہ حضرت عمر کا رخسار مٹی پر پڑا ہے تو انہوں نے آپ کا چہرہ اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔
حضرت عمر نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیوں تم میرا چہرہ مٹی سے بچانا چاہتے ہو۔ 
عبداللہ ابن عمر نے کہا ابا جان۔
لیکن حضرت عمر نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ اپنے باپ کا چہرہ مٹی سے لگنے دو۔ بربادی ہے عمر کے لیے اگر کل اللہ پاک نے اسے نہ بخشا۔ 

حضرت عمر اپنے بیٹے کو یہ وصیت فرما کر موت کی آغوش میں چلے گئے!
اے میرے بیٹے میری میت مسجد نبوی میں لے جانا اور میرا جنازہ پڑھنا اور حذیفہ بن یمان پر نظر رکھنا، اگر وہ میرے جنازے میں شرکت کریں تو میری میت روضہ رسولﷺ کی طرف لے جانا۔
اور میرا جنازہ روضة الرسولﷺ کے دروازے پر رکھ کر دوبارہ اجازت طلب کرنا اور کہنا!
اے ام المؤمنین آپ کا بیٹا عمر یہ مت کہنا کہ امیر المؤمنین، ہو سکتا ہے میری زندگی میں مجھ سے حیا کی وجہ سے اجازت دی گئی ہو، اگر اجازت مرحمت فرما دیں تو دفن کرنا ورنہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ 

عبداللہ ابن عمر کی نظریں حذیفہ بن الیمان پر تھیں. وہ کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کو ابا جان کی نماز جنازہ پر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہم جنازہ لے کر روضہ رسول کی طرف چلے گئے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر میں نے کہا۔ "يا أمنا! ولدك عمر في الباب
هل تأذنين له"؟ اے ہماری ماں، آپ کا بیٹا عمر دروازے پر ہے، کیا آپ تدفین کی اجازت دیتی ہیں؟
ام المؤمنین نے جواب دیا! مرحبا یا عمر۔ عمر کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے پر مبارک ہو۔ ام المؤمنین نے اپنی چادر سمیٹی اور روضہ رسولﷺ سے باہر نکل آئیں۔ رضي الله عنهم و رضو عنه.
اللہ پاک راضی ہو حضرت عمر سے، زمین کا چپہ چپہ جن کے عدل کی گواہی دیتا ہے، جن کی موت سے اسلام یتیم ہو گیا، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی خوشخبری دی ہو پھر بھی اللہ کے سامنے حساب دہی کا اتنا خوف! ہمارا کیا بنے گا؟

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget