اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

2019

پریشان نہ ہوں ۔۔ 
کچھ لوگ اپنی تعلیم 22 سال کی عمر میں مکمل کر لیتے ہیں۔ مگر ان کو پانچ پانچ سال تک کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی۔
کچھ لوگ 25 سال کی عمر میں کسی کپمنی کے CEO بن جاتے ہیں اور 50 سال کی عمر میں ہمیں پتہ چلتا ہے انکا انتقال ہو گیا ہے۔
جبکہ کچھ لوگ 50 سال کی عمر میں CEO بنتے ہیں اور نوے سال تک حیات رہتے ہیں۔
بہترین روزگار ہونے کے باوجود کچھ لوگ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں اور کچھ لوگ بغیر روزگار کے بھی شادی کر چکے ہیں اور روزگار والوں سے زیادہ خوش ہیں۔
اوبامہ 55 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گیا جبکہ ٹرمپ 70 سال کی عمر میں شروعات کرتا ہے۔۔۔
کچھ لیجنڈ امتحان میں فیل ہونے پر بھی مسکرا دیتے ہیں اور کچھ لوگ 1 نمبر کم آنے پر بھی رو دیتے ہیں۔۔۔۔
کسی کو بغیر کوشش کے بھی بہت کچھ مل گیا اور کچھ ساری زندگی بس ایڑیاں ہی رگڑتے رہے۔۔
اس دنیا میں ہر شخص اپنے Time zone کی بنیاد پر کام کر رہا ہے۔ ظاہری طور پر ہمیں ایسا لگتا ہے کچھ لوگ ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور شاید ایسا بھی لگتا ہو کچھ ہم سے ابھی تک پیچھے ہیں لیکن ہر شخص اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہے اپنے اپنے وقت کے مطابق۔ ان سے حسد مت کیجئے۔ اپنے اپنے Time zone میں رہیں۔۔
انتظار کیجئے اور اطمینان رکھیئے۔
نہ ہی آپ کو دیر ہوئی ہے اور نہ ہی جلدی۔
اللہ رب العزت جو کائنات کا سب سے عظیم الشان ہے اس نے ہم سب کو اپنے حساب سے ڈیزائن کیا ہے وہ جانتا ہے کون کتنا بوجھ اٹھا سکتا . کس کو کس وقت کیا دینا ہے. اپنے آپ کو رب کی رضا کے ساتھ باندھ دیجئے اور یقین رکھیئے کہ اللہ کی طرف سے آسمان سے ہمارے لیے جو فیصلہ اتارا جاتا ہے وہ ہی بہترین ہے۔۔۔ 
خوش رہیں سلامت رہیں

گوشت کھانے سے قبل اس کے خطرناک نقصانات جانیں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہم میں سے اکثر افراد گوشت کھانے کے نہایت شوقین ہوتے ہیں اور ان کا کھانا گوشت کے بغیر ادھورا ہوتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں گوشت کھانا آپ کو بے شمار خطرناک ترین نقصانات پہنچاتا ہے؟

گو کہ گوشت میں شامل غذائی اجزا جسم کے لیے ضروری ہوتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجزا دوسری متبادل غذاؤں جیسے مچھلی، انڈوں یا خشک میوہ جات سے بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گوشت کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنانے سے قبل ان کے خطرناک نقصانات کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

*مصنوعی طریقہ نشونما*
آج کل غذاؤں میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی ملاوٹ سے جانور بھی محفوظ نہیں ہیں۔

گوشت کی فراہمی کا ذریعہ مختلف جانوروں جیسے گائے، بکریوں اور مرغیوں وغیرہ کو صحت مند دکھانے اور ان کی جلدی نشونما کے لیے انہیں مختلف انجیکشنز اور دوائیں دی جاتی ہیں۔

یہ دوائیں ان جانوروں کے گوشت میں شامل ہو کر لامحالہ ہماری غذا کا بھی حصہ بنتی ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا سبب بن سکتی ہیں۔

اسی طرح پولٹری کی صنعت میں انڈوں سے جلدی چوزے نکالنے کے لیے انہیں مصنوعی حرارت دے کر یا انکیوبیٹر کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے جس سے وہ اپنے مقررہ وقت سے قبل نشونما پا کر انڈے سے باہر نکل آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طریقہ استعمال سے وجود میں آنے والے چوزے اور مرغیاں خود بھی بیمار ہوتی ہیں اور ان کا گوشت انسانی صحت کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں مرغیوں کو پانی سے بھرے انجکشن لگانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جس سے مرغیاں بظاہر موٹی اور صحت مند لگتی ہیں۔

*مرغی خریدتے ہوئے دھیان رکھیں*
جب بھی آپ مرغی خریدنے جائیں تو خاص طور پر دھیان رکھیں کہ بظاہر موٹی تازی نظر آنے والی مرغی اگر سست دکھائی دے، یا کھڑے ہوتے ہوئے اس کے پنجے کمزوری کے باعث کانپتے ہوئے نظر آئیں تو ایسی مرغی ہرگز نہ خریدیں کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس مرغی کو دواؤں اور انجکشنز کے ذریعے مصنوعی طریقے سے موٹا کیا گیا ہے۔

*قدرتی گوشت بھی نقصان دہ*
مذکورہ بالا خطرات کے علاوہ صاف ستھرا اور قدرتی گوشت بھی انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ سرخ گوشت (گائے، بکرے کا گوشت) کا بہت زیادہ استعمال بے شمار بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

*کینسر کا امکان*
گوشت پر کی جانے والی مختلف تحقیقوں میں اس بات کی کئی بار تصدیق کی جاچکی ہے کہ بہت زیادہ گوشت کھانا لازمی طور پر کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہفتے میں 3 یا 3 سے زائد بار گوشت کھانے والے افراد میں مختلف کینسر بشمول بریسٹ کینسر کا امکان دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گوشت میں شامل ہارمونز ہمارے جسم میں موجود ان ہارمونز کی طاقت میں اضافہ کردیتے ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر یا ٹیومرز کے خلیات کو نمو دینے میں مدد کرتے ہیں۔

*دوران خون میں رکاوٹ*
سرخ گوشت خون کی شریانوں کو سخت کر دیتا ہے جس سے دوران خون میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل فالج، دل کے دورے یا دماغ کی شریان پھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔

*زندگی کا دورانیہ مختصر*
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے گوشت کھانے والے افراد کی زندگی کا دورانیہ ان افراد کی نسبت مختصر ہوجاتا ہے جو گوشت کا کم استعمال کرتے ہیں۔

*دماغی امراض میں اضافہ*
گوشت میں چونکہ آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لہٰذا آئرن کی زیادتی آپ میں مختلف دماغی امراض خصوصاً الزائمر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

*ہضم کرنے میں مشکل*
گوشت کے سخت ریشوں کو ہضم کرنے کے لیے ہمارے نظام ہاضمہ کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے جس کے باعث ہاضمے کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ سینے اور معدے کی جلن اور بھاری پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

*امراض قلب کا باعث*
گوشت کھانے سے شریانوں کے سخت ہونے اور خون کے گاڑھا ہونے کے باعث دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ قوت صرف کرنی پڑتی ہے جس سے وہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ یہ امر دل کے اچانک دورے سمیت مختلف امراض قلب کا امکان پیدا کرسکتا ہے۔

*فوڈ پوائزن*
سبزیاں کبھی بھی کسی شخص کو فوڈ پوائزن کا شکار نہیں کرسکتیں۔ اس کے برعکس درست طریقے سے صاف نہ کیا گیا گوشت یا گوشت کی چند دن پرانی ڈش فوری طور پر فوڈ پوائزن کا شکار بنا سکتی ہے۔

*وزن میں اضافہ*
ہفتے میں 2 سے 3 بار گوشت کھاتے ہوئے وزن کو معمول کے مطابق رکھنا ناممکن ہے۔ گوشت آپ کی وزن کم کرنے کی تمام کوششوں کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

گھر کے کام میں ہاتھ بٹانا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
جب آپ اپنے بچوں کو رات کا کھانا کھانے کے بعد دسترخوان اٹھانے یا ڈائننگ ٹیبل صاف کرنے یا پھر جب انہیں میلے کپڑے واشنگ مشین میں ڈالنے کے لیے کہتے ہیں تو ان کا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟

اگر وہ اپنے ردِعمل میں بیزاری، چڑچڑا پن یا پھر شور مچانا شروع کردیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں گھر کے کام بورنگ لگتے ہیں۔

تاہم آپ کو بچوں سے گھر کے چھوٹے موٹے کام کروانے چاہئیں۔ جاننا چاہتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جو بچے گھر کا کام کرتے ہیں وہ آگے چل کر کامیاب بالغ فرد ثابت ہوتے ہیں۔

جولی لیتھ کوٹ ہائمز نامی محقق کے مطابق جن بچوں سے گھر کا کام کروایا جاتا ہے تب ان میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ یہ کام زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔

جب والدین ان کے حصے کا کام کرتے ہیں تو بچوں کے ذہن میں یہ بات گھر کرنے لگتی ہے کہ اگر کوئی دوسرا ان کے کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یوں وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے کہ گھر کے کام کس قدر اہمیت رکھتے ہیں اور یہ کہ کس طرح ’تمام افراد کی بھلائی‘ کے لیے ہر ایک کو گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔

جولی لیتھ کوٹ ہائمز کو لگتا ہے کہ جو بچے گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں وہ آگے چل کر اچھے ملازمین ثابت ہوتے ہیں، ان کا اپنی ٹیم کے ساتھ بہتر تعاون قائم رہتا ہے اور دیگر افراد کی طرف ہمدردانہ رویہ پیدا ہوتا ہے، ساتھ ہی ساتھ انہیں تنِ تنہا مختلف کاموں کا ذمہ اٹھانے میں کسی قسم کا ڈر بھی محسوس نہیں ہوتا۔

چنانچہ بچوں کی تربیت کے دوران انہیں گھر کے چھوٹے موٹے کاموں سے باز مت رکھیں۔ بچوں کی تربیت کا موجودہ طریقہ کار بچوں کو اپنے اندر صلاحیتیں پیدا کرنے اور ان میں نکھار لانے سے روک سکتا ہے۔

جو والدین اپنے بچوں کی زندگیوں یا ان کی پرورش میں زیادہ عمل دخل نہیں کرتے، ان پر اکثر لوگوں کی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ بالکل ایسا ہونا چاہیے لیکن ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ جو والدین بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بار بار عمل دخل کرتے ہیں اور جو یہ مانتے ہیں کہ بچے اس وقت تک کامیاب انسان نہیں بن سکتے جب تک والدین ہر موڑ پر ان کا تحفظ اور غلطیوں سے باز نہ رکھیں تو ایسے والدین بھی ایک طرح سے لاشعوری طور پر بچوں کی شخصیت کو کافی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

فکریں تو تمام ہی والدین لاحق ہوتی ہیں لیکن بچوں کو ہر جگہ آپ کے حد سے زیادہ عمل دخل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ کا بچہ کوئی چیلنج قبول کرنا چاہتا ہے تو انہیں ایسا کرنے دیجیے اور انہیں چیلنجز سے نمٹنے دیجیے۔ اپنے بچوں کو محفوظ اور تندرست رکھیں۔ انہیں خالی پیٹ مت رہنے دیں۔ انہیں زندگی کے اہم اسباق کا درس دیجیے۔ یہی آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

میک اپ کے بغیر خوبصورت کیسے نظر آیا جائے؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ایسا کون ہوگا جو یہ نہیں چاہتا کہ اس کی جلد ہمیشہ خوبصورت نظر آئے اور اسے ہر ایونٹ پر اچھا دکھنے کے لیے کسی میک اپ کی ضرورت نہ پڑے؟

لیکن ایسا کرنے کے لیے اپنی جلد کا خاص خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

تو ایسا کرنے کے لیے چند نسخوں کو آزما کر اپنی جلد کو بے حد خوبصورت بنانے کی کوشش کریں:

*ہمیشہ صاف جلد کے ساتھ سونے جائیں*
بہت سی خواتین کسی تقریب سے گھر واپس آنے کے بعد بغیر میک اپ صاف کیے سو جاتی ہیں، جو جلد کے لیے بے حد خطرناک ہے، اس لیے کوشش کریں کہ ہمیشہ سونے سے قبل اپنے چہرے کو صاف ضرور کریں۔

*پانی کی صحیح مقدار*
ویسے تو ہر کسی کی صحت کے لیے پانی پینے کی صحیح مقدار بھی الگ ہوتی ہے لیکن اپنی جلد کو اس سال تازہ دم رکھنے کے لیے دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی ضرور پیئں تاکہ آپ کی جلد جھریوں سے محفوظ رہے۔

*جلد کو نم رکھیں*
چاہے آپ کی جلد خشک ہو یا چکنی، اس کو نم رکھنا بےحد ضروری ہے، اس لیے شہد کے ساتھ اپنی جلد کو نم رکھنا اسے مزید خوبصورت بناتا ہے۔

*چہرے کو دھوپ سے بچائیں*
بہت سے لوگ دن میں باہر جاتے وقت سن اسکرین یا سن بلاک کا استعمال نہیں کرتے، اس سے سورج کا جلد پر منفی اثر پڑتا ہے، اس لیے سن اسکرین کا استعمال لازمی بنائیں۔

*بہتر غذاء کا استعمال*
آپ کی بہتر غذاء بھی جلد کو کافی پرکشش بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے اپنی خوراک میں دہی، تازہ جوس، مچھلی، سبزیاں اور پھل وغیرہ ضرور شامل کریں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

پِتے میں پتھری سے بچانے میں مددگار آسان ٹپس

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اگر آپ کا پِتہ درست کام نہ کررہا ہو تو پتھری کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت، گیس، متلی، قے اور معدے میں درد جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پِتہ کیا ہے؟ پِتہ آپ کے پیٹ میں جگر کے بالکل نیچے دائیں جانب ہوتا ہے اور امرود کی شکل کے اس عضو میں ایک سیال (کیمیکل) بائل یا صفرا ہوتا ہے۔

یہ سیال جگر میں بنتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

جب آپ کھاتے ہیں تو جسم اسے خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔

تاہم اگر وہ صحیح طرح کام نہ کرسکے تو پتھری کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت، گیس، متلی، قے اور معدے میں درد جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو پتے کو اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جبکہ دیگر اس کے لیے کام کرنا مشکل بناتی ہیں۔

*کھانا کبھی مت چھوڑیں*
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے پتہ اس وقت بائل خارج کرتا ہے جب آپ کچھ کھاتے ہیں، جب آپ کھانا نہیں کھاتے تو یہ سیال جمع ہونے لگتا ہے، جس سے پتے میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے لگتی ہے، وقت کے ساتھ یہ چربیلا مواد جم کر پتھری کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

*اجناس بہترین دوست*
اجناس جیسے گندم، جو یا دیگر وغیرہ میں ایسا فائبر ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ فائبر کی سطح کم کرکے دل کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ پتے کی پتھری کو دور رکھتا ہے۔ فائبر کا استعمال نظام ہاضمہ کو متحرک رکھ کر بائل کو جسم کسے خارج کرتا ہے، زیادہ فائبر والی غذائیں جیسے اجناس کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند ہوتا ہے۔

*صحت مند وزن کا حصول*
موٹاپے کا شکار ہونے پر دیگر امراض کے ساتھ ساتھ پتے میں پتھری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپا پتے میں پتھری کا خطرہ 3 گنا بڑھا دیتا ہے کیونکہ یہ اضافی جسمانی وزن پتے کا حجم بڑھا دیتا ہے اور اس کے افعال متاثر کرتا ہے، جس سے کولیسٹرول لیول بڑھتا ہے۔

*پھلوں اور سبزیوں سے پیار*
پھلوں اور سبزیوں جیسے سبز پتوں والی سبزیوں میں وٹامن سی اور ای موجود ہوتے ہیں، جو پتے کو مختلف خطرات سے بچاتے ہیں، پھلوں اور سبزیوں میں پانی اور فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

*تلی ہوئی غذاﺅں کا کم استعمال*
تلی ہوئی چربی والی غذا پتے کے افعال کو مشکل بنادیتی ہے، ایسی غذاﺅں میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھاتی ہیں، جس کے نتیجے میں پتے میں پتھری کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ان غذاﺅں میں کیلوریز بھی بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے موٹاپے کا امکان بڑھتا ہے اور اس کا نقصان اوپر درج ہوچکا ہے۔

*بیریز اور مرچیں بھی فائدہ مند*
یہ رنگا رنگ پھل اور سبزیاں وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ وٹامن پتے کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، جبکہ جسم میں اس کی کمی سے بائل میں کولیسٹرول کی سطح بڑھ سکتی ہے جس کا اختتام پتھری کی شکل میں نکلتا ہے۔

*مناسب مقدار میں پانی کا استعمال*
زندگی میں پانی کی اہمیت سے انکار ممکن ہے اور اس کی کمی دیگر امراض کے ساتھ ساتھ پتے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، کیونکہ پانی اس عضو کو خالی ہونے میں مدد دیتا ہے اور بائل کو جمع ہونے سے روکتا ہے، جس سے پتھری اور دیگر مسائل سے تحفظ ملتا ہے۔

*زیتون کا تیل*
زیتون کا تیل دل کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پتے کو بھی اس سے فائدہ ہوتا ہے، اس میں ایسی چکنائی ہوتی ہے جو پتے کو خالی کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

*جسمانی سرگرمیاں*
جسمانی سرگرمیوں سے کیلوریز جلتی ہیں، مزاج خوشگوار ہوتا ہے اور پتے کے امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جسمانی سرگرمیوں سے پتے کے امراض کا خطرہ 25 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

*گریوں سے بھی لطف اندوز ہوں*
بادام، اخروٹ اور دیگر گریاں فائبر اور صحت بخش چربی سے بھرپور ہوتی ہیں، ان میں متعدد ایسے اجزا ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول جذب ہونے کے عمل کو بلاک کرتے ہیں جس سے پتے میں پتھری سے بھی تحفط مل سکتا ہے۔

*دالیں*
گوشت کم کھا کر زیادہ توجہ دالوں، بیج وغیرہ پر دینا پتے کے افعال کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ چربی والا سرخ گوشت پتے میں ورم کا باعث بن سکتا ہے (اگر بہت زیادہ کھایا جائے)۔ چربی والی غذائیں جیسے تلے ہوئے پکوان، پنیر، آئسکریم اور گوشت کا معتدل استعمال کرنا بھی پتے کی صحت کے لیے بہتر ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

قائد اعظم کی ذہانت کی ہر کوئی ویسے ہی داد نہیں دیتا۔ یہ تحریر پڑھ کر مسکرائیے اور اپنے عظیم لیڈر کو سلام پیش کریں۔قائداعظم سفرِ ریل کے دوران اپنے لیے دو برتھیں مخصوص کرایا کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی نے ان سے وجہ دریافت کی تو جواب میں انھوں نے یہ واقعہ سنایا ’’میں پہلے ایک ہی برتھ مخصوص کراتا تھا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں لکھنٔو سے بمبئی جا رہا تھا۔ کسی چھوٹے سے اسٹیشن پر ریل رکی تو ایک اینگلو انڈین لڑکی میرے ڈبے میں آکر دوسری برتھ پر بیٹھ گئی۔ چونکہ میں نے ایک ہی برتھ مخصوص کرائی تھی، اس لیے خاموش رہا.
ریل نے رفتار پکڑی تو اچانک وہ لڑکی بولی ’’تمھارے پاس جو کچھ ہے فوراً میرے حوالے کردو، ورنہ میں ابھی زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے کاغذات سے سر ہی نہیں اٹھایا۔اُس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ میں پھر خاموش رہا۔ آخر تنگ آ کر اُس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں نے سر اٹھایا اور اشارے سے کہا ’’میں بہرہ ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، لکھ کر دو۔‘‘اُس نے اپنا مدعا کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کر دیا۔میں نے فوراً زنجیر کھینچ دی اور اسے مع تحریر ریلوے حکام کے حوالے کردیا۔ اس دن کے بعد سے میں ہمیشہ دو برتھیں مخصوص کراتا ہوں۔‘‘

ا یک بار قائد اعظم محمد علی جناح سکول و کالج کے طلبا سے خطاب کر رہے تھے , ایک ہندو لڑکے نے کهڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کر کے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں , آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے . ؟
آپ کچھ دیر تو خاموش رہے , تو سٹوڈنٹس نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئیے , کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں , اور پهر ہر طرف سے ہندو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں .
قائد اعظم نے ایک پانی کا گلاس منگوایا , آپ نے تهوڑا سا پانی پیا پهر اسکو میز پر رکھ دیا , آپ نے ایک ہندو لڑکے کو بلایا اور اسے باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا , تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا , 
پهر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا , آپ نے وہی بچا ہوا پانی اس مسلم لڑکے کو دیا , تو وہ فوراً قائد اعظم کا جوٹها پانی پی گیا .
آپ پهر سب طلباء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا , یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں . 
ہر طرف سناٹا چھا گیا . کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہو چکا تها
محمد علی جناح نے کبهی کسی کو گالی نہ دی اور نہ کبهی آپ نے بداخلاقی کی . آپ اپنی بات اس قدر ٹهوس دلائل سے پیش کرتے تهے کہ بڑے بڑے منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور آپ کے سامنے لاجواب ہو جاتے .
قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا , اور سارا دن لوگوں کو بتاتا پهرتا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے .
جی ہاں ایسا تها ہمارا قائد

آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اکثر تھکاوٹ کا احساس ہونا بہت زیادہ عام ہوتا ہے، درحقیقت ایک تہائی صحت مند نوجوانوں، درمیانی عمر یا بوڑھے افراد ہر وقت غنودگی یا تھکن کے احساس کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔

ہر وقت تھکاوٹ مختلف امراض کی عام علامت بھی ہوتی ہے مگر زیادہ تر اس کی وجہ طرز زندگی کے عام عناصر ہوتے ہیں۔

یعنی جیسے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ نیند ہماری صحت کے لیے بہت اہم ہے مگر کئی بار مناسب وقت تک سونا مشکل ہوجاتا ہے۔

اگر آپ اکثر شکایت کرتے ہیں 'آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟' تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ہر وقت تھکاوٹ کی وجوہات

*نیند پوری نہ کرنا*
ہوسکتا ہے کہ آپ پہلے سے ہی یہ جانتے ہوں، مگر اسے نظرانداز کردینا آسان ہوتا ہے مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بیشتر افراد کو 7 سے 9 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے مگر اب بیشتر افراد اس سے کم وقت سونے کے عادی ہوتے جارہے ہیں، جس کا نتیجہ جسمانی تھکاوٹ کی شکل میں نکلتا ہے۔

*ورزش سے دوری اور صحت بخش غذا کا استعمال نہ کرنا*
ایک کے بعد ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جسمانی سرگرمیاں گہری نیند کے معیار بڑھاتی ہیں، اسی طرح تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ پھلوں، سبزیوں، کم پروٹین اور دودھ سے بنی مصنوعات پر مبنی غذا کا استعمال اچھی نیند کے حصول میں مدد دیتا ہے، مگر سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا ناقص نیند کا باعث بنتا ہے اور نیند کی کمی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے، اس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ اگر آپ ورزش کریں اور صحت بخش غذا کا استعمال کریں تو صحت مند زندگی گزارنا ممکن ہوجاتا ہے۔

*ادویات*
بیشتر ادویات کے استعمال سے غنودگی کا احساس ایک عام سائیڈ ایفیکٹ ہے، خصوصاً ٹرائی سائیکل antidepressants، بلڈ پریشر اور الرجی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے استعمال پر ایسا احساس ہوتا ہے۔

*دوپہر یا آدھی رات کا وقت*
کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگوں میں قدرتی طور پر رات گئے 2 سے 4 بجے کے درمیان اور دوپہر میں 2 بجے کے بعد جسمانی توانائی میں کمی آتی ہے؟ اگر رات کو 2 سے 4 بجے کے درمیان تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے تو وہ زیادہ قابل غور نہیں ہوتا مگر بیشتر افراد کو یہ علم نہیں کہ دوپہر میں وہ غنودگی کیوں محسوس کرتے ہیں، اکثر افراد اسے دوپہر کے کھانے کے بعد کا اثر قرار دیتے ہیں، مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ صرف غذا کا اثر نہیں، یہ جسمانی گھڑی کا اثر ہے، جسم کے ہر خلیے میں ایک چھوٹی مالیکیولر گھڑی ہوتی ہے، جو ایک ردہم میں چلتی ہے۔

*نیند کے امراض*
ایسا ممکن ہے کہ رات کو آپ کی نیند جسم کو آرام نہ پہنچا رہی ہو جس کی وجہ کوئی عارضہ جیسے سلیپ اپنیا ہوسکتا ہے، اگر آپ کی تھکاوٹ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں آپ کسی بھی وقت سو جاتے ہیں، چاہے کسی سے بات کررہے ہوں یا گاڑی چلارہے ہوں، تو یہ narcolepsy (ایسا مرض جس میں بار بار نیم خوابی کی کیفیت طاری ہوتی ہے) عارضہ ہوسکتا ہے۔ اگر آپ دن میں تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں کیونکہ رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے رہے ہوں، تو یہ بے خوابی کی نشانی ہوسکتی ہے۔ ان تمام امراض پر آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

*امراض*
ویسے فکرمند مت ہوں، ہر وقت تھکاوٹ کا کینسر سے تعلق نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے مگر یہ کچھ دیگر امراض کا باعث ضرور ہوسکتی ہے۔ پورا دن تھکاوٹ کا احساس اکثر اوقات ڈپریشن کی علامت ہوتی ہے، تھائی رائیڈ کے امراض بھی لوگوں میں تھکاوٹ کا احساس بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح دماغی تنزلی کی کیفیات میں دماغ کے مخصوص حصے تنزلی کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ کے اس حصے جو نیند کو کنٹرول کرتے ہیں، میں تنزلی کے نتیجے میں غنودگی طاری رہنا اکثر کسی مرض جیسے پارکنسن امراض کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

*تھکاوٹ کے احساس کی روک تھام کیسے کریں؟*

*زیادہ نیند*
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سب سے پہلے تو آپ کو اپنے نیند کے معمولات ہی بہتر بنانے چاہیے کیونکہ اس کے بغیر تھکاوٹ کے احساس سے نجات پانا ممکن نہیں۔

*سونے کی جگہ آرام دہ بنائیں*
نیشنل سلیپ فاﺅنڈیشن کے مطابق سونے کے کمرے میں کمپیوٹر، فونز اور دیگر ڈیوائسز جسم میں میلاٹونین نامی ہارمون کے اخراج میں رکاوٹ بنتے ہیں، یہ ہارمون نیند کو متحرک کرتا ہے اور اس کی کمی سے نہ صرف دماغ اور جسم زیادہ الرٹ ہوتے ہیں، بلکہ انتہائی گہری نیند کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔

*زیادہ ورزش اور متوازن غذا*
ان دونوں پر توجہ دینے کی ضرورت کیوں ہے وہ آپ پہلے ہی اوپر پڑھ چکے ہیں۔

*ڈاکٹر سے ادویات پر مشورہ کریں*
اگر آپ ایسی ادویات استعمال کررہے ہیں جن کو کھانے کے بعد غنودگی کا احساس طاری رہتا ہے تو اس پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسری دوا تجویز کردے، مقدار تبدیل کرے یا کوئی بہتر تجویز دے سکے۔

*چائے یا کافی*
تھکاوٹ کے احساس کو دبانے کے لیے یہ گرم مشروبات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، دن بھر میں کچھ کپ چائے کا یاکفی کا استعمال کسی حد تک دماغ اور جسم کو الرٹ کردیتے ہیں، مگر اس کی ایک حد ہے، کیونکہ کیفین نیند کی کمی پوری نہیں کرسکتی۔

*زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز*
اگر آپ کو اکثر تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے تو بہتر ہے کہ زیادہ وقت بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہونے کو عادت بنالیں۔ کھڑے رہنا جسم کو چاق و چوبند بنانے کے چند اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے، جسم کا انداز تھکاوٹ پر بہت زیادہ اثر مرتب کرتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

بچوں کی صحت

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نوزائدہ اور شیرخوار بچوں کے عمومی مسائل میں نزلہ‘ کھانسی‘ گلا خراب‘ دست‘ قے عام ہیں۔ پیدائش سے تین ماہ تک بچوں کو بہت جلدی سردی لگ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کے لئے پہلی سردی بہت مشکل ہوتی ہے۔ بچے کے سارے کپڑے فوری اتار دینے سے بھی سردی لگ جاتی ہے۔ اس کی علامات ناک بہنا‘ کھانسی‘ بخار‘ دست اور شدت بڑھانے پر نمونیا اور سینے میں انفیکشن ہو سکتی ہے۔ ایسے میں بچے کو فوری پیناڈول‘ پیراسٹامول شربت دیں۔ پانی اور دودھ پلاتے رہیں۔ بچے کو گرم رکھیں۔

بہت زیادہ کپڑے پہنانے کے بجائے مناسب کپڑے پہنائیں لیکن کمرہ کا درجہ حرارت بھی مناسب رکھیں۔ تین ماہ سے زائد عمر بچوں کو مرغ کی یخنی بھی دیں۔ بلغم وائی کھانسی ہونے پر بچے کھانسی کے ساتھ بلغم نہیں نکال سکتے۔ اس لئے کھانسی آنے پر وہ قے کر دیتے ہیں۔ ایسے میں گھبرائیں مت۔ یہ بلغم نکالنے کا ایک طریقہ ہے بچے کو سیدھا لٹانے کے بجائے کروٹ پر لٹائیں تاکہ قے کی صورت میں مادہ منہ میں نہ رہے بلکہ منہ سے باہر نکل جائے کمر پر ہاتھ ملیں۔

اگر بچے کی بہت تیز سانس ہو‘ سانس کے ساتھ سیٹی جیسی آواز نکلتی ہو‘ سانس کھینچ کھینچ کر لیتا ہو‘ رنگت پیلی یا نیلی ہو‘ ہونٹ یا ناخن نیلے ہوں تو فوری ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔

سینے میں انفیکشن ہونے کے ساتھ تیز بخار ہو تو بچے کو اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہوتی ہے وگرنہ اینٹی بائیوٹک سے ہر ممکن پرہیز کریں۔ ہلکے بخار یا نزلہ‘ زکام‘ فلو پر صرف پیراسٹامول دیں۔ ساتھ ایری نیک یا کیلپول یا اینٹی ہٹامین ٹرائی مینک شربت دیں۔ بچے کو بھاپ دیں۔ ناک میں نارمل سیلائن کے قطرے ڈالیں۔

ناک پر‘ گلے یا کپڑوں کے کالر پر ویزلین یا وکس لگا دیں جو سانس کے ساتھ تھوڑی تھوڑی ناک میں داخل ہو گی۔ اگر بچہ بہت زیادہ تھوک نکالے تو پریشان نہ ہوں۔ اس کے ساتھ بلغم بھی نکل جائے گی۔

بعض بچے دن میں دو تین بار پاخانہ کرتا ہے۔ ہر بچے کی اپنی روٹین ہوتی ہے۔ اگر یہ بچے کی نارمل عادت ہو تو پریشان نہ ہوں۔ البتہ اگر پاخانہ پتلا‘ سرخی یا کالا یا سنہری مائل ہو‘ اس میں پیپ ریشہ یا جھاگ ہو‘ بدبودار ہو‘ یا نارمل سے زیادہ تعداد اور مقدار میں ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے کو ماں کا دودھ جاری رکھیں۔ نمکول یا او آر ایس بنا کر دیں۔

تین چار ماہ سے زائد عمر کے بچے کو چاول کی پچ کا پانی یا دہی اور کیلا مکس کر کے بھی دیں۔ بوتل سے دودھ لینے والے بچوں کی بوتلوں کی صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں کچھ بچوں میں پیدائش کے کچھ عرصہ بعد تک معدے اور خوراک کی نالی کے درمیان بنے قدرتی والوز پوری طرح فعال نہیں کرتے اس لئے بچہ دودھ پینے کے بعد قے کر دیتا ہے۔ خاص کر اگر دودھ کے بعد بچہ سیدھا لیٹ جائے یا دودھ زیادہ پی لے‘ ایسے بچوں کو دودھ کے بعد کچھ دیر کندھے سے لگا کر ڈکار دلوائیں‘ پھر کروٹ دے کر لٹائیں۔ سیدھا لٹانے سے گریز کریں۔

بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں نہ صرف دودھ دیر سے ہضم ہوتا ہے بلکہ پیٹ میں ہوا کا مسئلہ بھی رہتا ہے۔ اس لئے بچوں کو ڈکار دلوا کر کروٹ دے کر لٹائیں۔ سیدھا لٹانے سے گریز کریں۔ بوتل سے پیٹ میں گیس زیادہ ہو جاتی ہے۔ بچے کو دن میں ایک یا دو بار گرائپ واٹر نیم گرم کرکے دیا جا سکتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

سردیوں میں بچوں کو امراض سے بچانے کے لیے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سردیوں کا موسم اکثر بچوں کے لیے خاصی زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، گلے کی خراش، نمونیہ، بخار وغیرہ اس موسم کی دین ہیں ان سے بچائو کی تدابیر اختیار کرلیں تو آپ کے نونہال بیمار ہونے سے بچے رہیں گے۔

دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناسمجھی کے باعث انہیں احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ شعور نہیں ہوتا اور وہ نتائج سے بے پروا ہو کر اپنے کاموںمیں مگن رہتے ہیں، لہٰذا سردیوں میں ان کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

ایسے میں اکثر مائیں موسم کو الزام دیتی نظر آتی ہیں جو کہ نہایت عجیب امر ہے، کیوں کہ بچے تو ٹھہرے بچے، وہ کیوں کر موسم اور اس کے لیے احتیاطوں کو سمجھ سکتے ہیں؟ یہ کام تو ہے ہی سراسر ان کی مائوں کا کہ انہیں احتیاط کرائیں۔ اگر سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔ انہیں پانی میں کھیلنے سے دور رکھا جائے۔ ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے اور نہانے سے روکا جائے۔  چاکلیٹ، غیر معیاری ٹافیوں اور مٹھائیوں سے دور رکھا جائے تو بچے سینے کی جکڑن، سانس کی تکلیف، نزلے، گلے کی خرابی یا گلے کے غدود میں سوجن کی شکایت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

سردی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پائوں، سینے اور خاص طور پر سر کو گرم رہنا چاہیے۔ شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ برس سے بڑے بچوں کو گرم کپڑے نہ پہنائے جائیں، اور ان کو سرد ہوا کے جھونکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ احتیاط سب کے لیے ضروری ہے۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی چالیس فیصد حرارت سر کے راستے داخل ہوتی ہے اس لیے محتاط رہیں۔ موسم کی سختی کے حساب سے بچوں کے سر پر اونی ٹوپی اور پائوں میں موزے پہنانے کے ساتھ ساتھ سینہ بند یا کوئی ہاف سوئٹر کپڑوں کے اندر  پہنائیں۔ ہائی نیک سوئٹر پہنانا بھی مفید رہے گا، گرم کپڑے پہناتے وقت موسم کی شدت کا درست اندازہ کریں اور اس ہی حساب سے کپڑے پہنائیں۔ ایسا نہ ہو کہ موسم کی شدت سے زیادہ بھاری کپڑے پہنا دیے جائیں، جس سے بچہ گھبرا جائے۔

پانی کی بے احتیاطی سے عام طور پر بچوں کی قوت مدافعت کم زور پڑجاتی ہے اور وہ نزلے زکام اور نمونیے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نمونیے کی صورت میں ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پسلیاں چلنے لگتی ہیں۔ تیز بخار ہو جاتا ہے اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔

نمونیے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ پاکستان میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ نمونیہ ہے جس کی وجہ سے سالانہ  19 فیصد بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو پہلے ہی نمونیے سے بچائو کے ٹیکے لگوالیں۔ بہ حثیت ماں آپ کو اس بیماری کی علامات بھی معلوم ہونی چاہییں تا کہ بروقت تشخیص کی جاسکے۔

ماہرین کے مطابق جب بچہ کراہنا شروع کرے تو والدین کو چاہیے کہ فوری توجہ دیں، جب کہ سانس لینے میں سیٹی کی آواز نکلنا، پسلی چلنا، بچے کا نڈھال ہونا، بخار، نزلہ اور کھانسی کے ساتھ جھٹکے لگنا شدید نمونیے کی علامات ہیں، ایسی کیفیت میں ہنگامی بنیادوں پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، اور اسے حرارت پہنچائیں۔ ضرورت ہو تو کمرے میں انگھیٹی جلا لیں، لیکن یہ بھی دھیان رکھیں کہ کمرے میں ہوا کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بچے کو پائوڈر کا دودھ دیا جا رہا ہے تو ہر بار بوتل کو گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔

سردی سے نارمل بخار ہونے کی صورت میں خود سے اینٹی بایوٹک دینے سے گریز کریں۔ بچے کو بخار سے سردی لگ رہی ہو اور وہ کانپنے لگے تو اسے روئی کا بنولہ نا بنائیں بلکہ ذرا ڈھیلے کپڑے پہنائیں اکثر مائیں بچوں کو بخار میں گرم کپڑوں سے سر سے پیر تک ڈھانپ دیتی ہیں جس سے بعض اوقات ان کی حرارت معمول سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ بخار کی صورت میں بچے کو سوپ اور یخنی دیں۔  وقفے وقفے سے بچے کا درجہ حرارت نوٹ کرتے رہیں اور بخار بڑھنے کی صورت میں معالج سے ضرور رجوع کریں۔

بچوں میں سردی کی وجہ سے نزلہ اور گلے میں خراش کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ نزلہ بہ ظاہر معمولی نظر آتا ہے مگر اس کی وجہ سے ناک میں ورم کے باعث سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ زکام میں گرم پانی پینا مفید ہے۔ شیر خوار بچوں کو دودھ میں دو پیپل کے پتے، دو چھوہارے، چار کھجوریں ان میں سے کوئی ایک چیز دودھ میں ابال کر پلائیں۔ ادرک کا رس اور شہد مکس کر کے چٹائیں، گاجر پالک کا رس پلائیں، موسمی کا رس پلائیں، چنے ابال کر ان کا پانی پلائیں، سونٹھ اور گڑ پانی میں ڈال کر ابال لیں اور وقفے وقفے سے پلائیں جائفل کو پانی میں گھس کر شہد میں ملا کر صبح و شام چٹانے سے زکام وغیرہ کی شکایات دور ہوجائیں گی۔ ٹھوس غذا کھانے والے بچوں کو زکام میں گڑ اور سیاہ تل کے لڈو کھلائیں، آنولے کا مربہ دیں، چائے اور جوشاندہ پلائیں۔ منقہ، امرود اور کچا پیاز کھانے سے بھی زکام ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بچوں کو سرسوں یا زیتون کے تیل کی مالش کر کے دھوپ میں لٹائیں یا بٹھائیں۔ مناسب احتیاط اور تدابیر اختیار کرکے ہم اپنے بچوں کو سردی کے امراض اور تکلیف سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ بچے کے سینے کو ٹھنڈ لگ جانے کی صورت میں پرانی روئی گرم کرکے سینکیں، سینے پر تارپین کا تیل یا معیاری بام مالش کریں۔

نظام تنفس کی تکالیف کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کا پیٹ صاف رہے یعنی وہ قبض میں مبتلا نہ ہو اسے دور کرنے کے لیے دس دانے منقہ ایک دو خشک انجیر وغیرہ کا استعمال کافی ہوتا بچہ چھوٹا ہو تو کیسٹر آئل دینا بھی مفید ہوگا۔ نوزائیدہ بچے کو اجوائن اور ہرڑ گھس کر نیم گرم دودھ میں یا گھٹی کی صورت میں پلائیں۔

بچے کو خسرہ نکل آئے تو بارہ گرام خاکسیر ایک کپڑے میں باندھ کر ایک لیٹر پانی میں ڈبوئیں اور یہی پانی پلاتے رہیں۔ گلا خراب ہونے کی صورت میں ذرا سی گلیسرین شہد ایک کپ دودھ میں ملا کر پینے سے افاقہ ہوگا۔قبض کی صورت میں اسپغول پانی کے ساتھ پلائیں ۔

چھینکوں کی صورت میں روغن گل دو تین قطرے کان اور ناک میں ڈالیں۔ پسلی چلنے کی صورت میں بارہ گرام لہسن کچل کر اس کا پانی نکال لیں اور شہد میں مکس کر کے چٹائیں۔

چھوٹے بچوں کو کھانسی ہو تو چھوٹی الایچی پیس کر چٹا دیں ایک سیب پیس کر ایک صاف رومال میں رکھ کر اس کا پانی نچوڑ لیں اور اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر صبح و شام پلائیں۔ ابلے ہوئے انڈے کی زردی اور اسے شہد میں ملا کر کھلائیں، اس عمل سے سخت سے سخت کھانسی میں بھی آرام آجائے گا۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چٹائیں کھانسی دور ہو جائے گی۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

مالٹے کے 100 نہیں 101 فیصد فوائد

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وٹامن سی کا اہم ذریعے مالٹے کی دنیا بھر میں سیکڑوں مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں کینو اور موسمی سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان کو ثابت اور ان کا جوس نکال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مالٹے میں وٹامن سی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں فائبر اور فولک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔ یہ ’سٹرس فروٹ ‘ فیملی میں سے ایک پھل ہے جو موسم سرما میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، ہر کسی کا من پسند، ذائقے میں کچھ کھٹا کچھ میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

یہ پھل وٹامنز اور منرلز حاصل کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔

*کینو میں پائے جانے والے منرلز اور وٹامنز*
کینو میں وٹامن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، ایک بڑے سائز کے کینو میں روزانہ کی بنیاد پر وٹامن سی کی مطلوب مقدار موجود ہوتی ہے۔

وٹامن کی ایک قسم ’ تھیامن ‘ جسے وٹامن بی 1 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے  کینو میں اس کی مناسب مقدار ہوتی ہے ۔

وٹامن B9 یعنی فولک ایسڈ بھی کینو میں پایا جاتا ہے جو صحت کے لیے بہترین ہے۔

پوٹاشیم پائے جانے کے سبب ہائی بلڈ پیشر کے مریض کینو کا استعمال اگر روزانہ کریں تو بلڈ پریشر کو متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے۔

مالٹے میں سٹرک ایسڈ کی موجودگی کے باعث گردوں میں موجود پتھری کو آسانی سے زائل ہونے میں مدد ملتی ہے ۔

*مالٹے میں پائے جانے والے دیگر قدرتی اجزاء*
مالٹے میں کئی بائیو ایکٹو اجزاء کی موجودگی کے سبب اس کا استعمال انسانی صحت پر براہ راست مثبت اثر دکھاتاہے، اینٹی آکسیڈنٹ کے دو بنیادی اور اہم جز فینولک اور کیروٹینائیدز بھی کینو میں پائے جاتے ہیں۔

*فینولک مرکب*
فینولک کی موجودگی کینو کو مزید اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل بناتی ہے ، فینولک میں ’ہیسپریڈین سٹرس‘ پائے جانے سے اس کا استعمال موسمی وائرل سے بچاتا ہے جبکہ ایک اہم طبی جز ’ اینتھو سیانن ‘ سے خون بننے میں مدد ملتی ہے ۔

*کیروٹینائیدز مرکب*
سٹرس یعنی کھٹے پھلوں میں کیروٹینائید مرکب پایا جاتا ہے ، کینو میں بھی اس کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےجس کے سبب اینٹی آکسیڈنٹ اجزا کو وٹامن اے میں بدلنے میں مدد ملتی ہے۔

*کینو کا استعمال کن بیماریوں سے بچاتا ہے؟*

*دل کی بیماریوں میں مفید*
دل کی صحت خراب ہونے کے سبب دنیا بھر میںوقت سے پہلے اموات ایک بڑا مسئلہ ہے ، کینو کے استعمال سے دل صحت مند اور توانا ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق کینو کے جوس یا اس کے کھانے سے دل کی صحت پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ یہ بند شیریانوں میں جمی چکنائی کو زائل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ فائبر کی موجودگی کے باعث بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر متوازن رہتی ہے ۔

*گردوں میں پتھری میں آرام*
گردوں میں پتھری ہونے کی شکایت میں مریض کو پوٹاشیم، سائیٹریٹ اور سٹرک ایسڈ کا استعمال کرنے کو کہا جاتا ہے، اس کا استعمال گردوں میں پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے۔

*خون کی کمی کو پورا کرتا ہے*
اگر خون کی کمی کا شکار ہیں تو مالٹے اور کینو کے استعمال سے خون کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے، آئرن سے بھر پور غذاؤں کے استعمال کے ساتھ اس پھل کا استعمال کیا جائے تو ہیموگلوبن کے بننے کے عمل میں تیزی آتی ہے ۔

*کینو کا جوس یا یا مکمل کینو کھایا جائے ؟*
ماہرین غذائیت کے مطابق کینو یا مالٹے کا جوس پینے کے بجائے اس پھل کو مکمل کھانا چاہیے کیوں کہ مکمل پھل کھانے میں زیادہ فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اس میں فائبر اور گودے سے گردوں کی صفائی ہوتی ہے اور ہاضمہ بھی درست رہتا ہے جبکہ آنتوں کی صفائی بھی ہوتی ہے ۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

وٹامن اے کی کمی اور زیادتی کے اثرات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وٹامن کا لفظ انگریزی کے ایک لفظ وائٹل سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ناگزیر۔ حیاتین یا وٹامن ’’ حیات‘‘ کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں اس لیے اردو میں انہیں حیاتین کہا جاتا ہے۔ حیاتین کی کئی قسمیں ہیں۔ ہر قسم کی الگ الگ خصوصیات ہیں، لیکن تمام حیاتین کی عام طور پر مجموعی خصوصیات درج ذیل ہوتی ہیں: کیمیائی اعتبار سے حیاتین نامیاتی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔

حیاتین انسانی جسم کو انتہائی قلیل مقدار میں یعنی ملی گرام اور مائیکرو گرام میں روزانہ لازماً مطلوب ہوتے ہیں۔ انہیں روز مرہ خوراک سے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ تو جسم میں براہ راست قوت اور حرارت پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی وزن پیدا کرتے ہیں، بلکہ خود اثر انداز ہوئے بغیر جسمانی افعال کو جاری کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ کئی ایک حیاتین کی کچھ مقدار جسم میں از خود کیمیائی عمل کے دوران تحلیل ہو جاتی ہے ۔

متعدد حیاتین حرارت، روشنی اور ہوا کے خلاف بھی مدافعت نہیں رکھتے اور ضائع ہو جاتے ہیں، اس لیے خوراک میں کچی سبزیوں اور تازہ پھلوں کے استعمال پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، لیکن بعض حیاتین کئی گھنٹے مسلسل پکنے سے بھی متاثر نہیں ہوتے اور ان کی طاقت اور افادیت برقرار رہتی ہے۔

حیاتین الف یا وٹامن اے حیوانی ذرائع میں مچھلیوں کے تیل کے علاوہ کلیجی، گردے، ملائی، انڈے کی زردی وغیر ہ میں پایا جاتا ہے۔ نباتاتی ذرائع میں گہرے ہرے رنگ کی تمام پتے دار اور دیگر سبزیوں مثلاً ساگ، سلاد، چقندر کے پتے، کدو، نارنجی اور زرد سبزیاں مثلاً شلجم، گاجر، شکر قندی وغیرہ میں اور پھلوں میں خوبانی اور آڑو میں بکثرت پایا جاتا ہے۔

وٹامن اے جسم میں متعدد اہم کام سرانجام دیتا۔ بینائی اور آنکھوں کی درستگی اور صحت کے لیے حیاتین الف کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور آنسو بنانے میں معاون ہوتا ہے۔ وٹامن اے جلد اور اندرونی استری جھلیوں مثلاً آنکھ کا قرنیہ، گلے، آنتوں اور تمام اندرونی اعضا کی غلافی جھلیوں کو چکنا اور نرم مرطوب رکھنے کے لیے لازم ہے۔ یہ قوت مدافعت پیدا کرکے چھوت کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

دانت اور ہڈیاں درست بنانے اور مسوڑھوں کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دانتوں کا انیمل بنانے میں بڑااہم کردار ادا کرتا ہے۔ کارٹیزون کا نہایت اہم ہارمون پیدا کرتا ہے جو ہماری نشوونما، صحت اور زندگی کی بقا کے لیے لازمی ہے اور درست عمل تولید کے لیے بھی ضروری ہے۔ وٹامن اے کی کمی کے جسم پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی کمی ہو جائے تو آنکھیں اور بینائی فوری اور شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔ خصوصاً رات میں کم دکھائی دینا، ڈھیلوں کا داغدار ہو جانا، آنسو نہ بننا وغیرہ ۔اس سے شب کوری، چشم آشوب اور اندھے پن کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جلد خشک ہو کر پھٹنے لگتی ہے اور اندرونی غلافی جھلیوں میں خشکی کی وجہ سے غدودی رطوبتوں میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے جس سے گلے، آنکھ، ناک اور کان کی متعدد بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے اور انسان جلدی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ دانت اور ہڈیاں نشوونما نہیں پاسکتے ۔ انیمل یا دانتوں کا خول اکھڑ نے لگتا ہے۔ جس سے دانت نہایت کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔ جسم کی دوسری ہڈیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ خصوصاً ریڑھ کی ہڈی کی غلط نشوونما سے سپائنل کارڈ پر دباؤ پڑتا ہے جس سے کئی ذہنی اور اعصابی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

کارٹیزون کا ہارمون نہ بننے یا کمزور بننے کی وجہ سے تمام جسم کی نشوونما کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس کی کمی سے عمل تولید بھی متاثر ہوتا ہے۔ حیاتین کی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی مختلف علامات ہوتی ہیں۔ پانی میں حل ہونے کی وجہ سے وٹامن اے نہ تو پیشاب میں اورنہ پسینے میں خارج ہو کر ضائع ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی کمی فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔ البتہ جسم کے وزن کے اعتبار سے اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو ہائپر وائٹا منوسز ہو جاتا ہے جس سے متلی، سردرد، سستی اور کمزوری محسوس ہونے کے علاوہ جلد بھی اترنے لگتی ہے۔ 

جسم میں وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے مندرجہ ذیل بیماریاں آہستہ آہستہ اپنی علامات کے ساتھ ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ان بیماریوں میں بچے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ حیاتین کی کمی سے آنکھوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں اندھیرے میں غلط عکس بندی کا ہونا شامل ہے۔ اس میں شروع شروع میں اندھیرے میں چیزیں درست دکھائی نہیں دیتیں۔ شب کوری بھی ہو جاتی ہے۔ اس میں روشنی میں خصوصاً رات کو کچھ دکھائی نہیں دیتا اور روشنی میں آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ آنسو بند ہو جاتے ہیں اور آنکھیں بے آب سی رہنے لگتی ہیں۔ چشم آشوب اس صورت میں ہوتا ہے اگر وٹامن کی کمی زیادہ عرصہ برقراررہے۔ اس سے آنکھ کے ڈھیلے پر داغ دھبے پڑنے لگتے ہیں۔ پپوٹوں میں سوجن کے ساتھ پیپ پڑنے لگتی ہے اور تقریباً عارضی ’’اندھاپن‘‘ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بیماری ننھے بچوں کو اکثر لاحق ہو جاتی ہے۔ وٹامن اے دینے سے اسے آسانی سے رفع کیا جا سکتا ہے۔

اس وٹامن کی کمی سے اندھا پن بھی ہوتا ہے۔ اس کی دیرینہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی کمی اور غذائی کمی کے مجموعی اثرات سے آنکھ کے قرنیے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس وٹامن کی کمی سے خشکی اور ورم بھی ہو جاتا ہے۔ اس کی مسلسل کمی سے پہلے تو جلد خشک ہو کر کھردری ہو جاتی ہے،پھر پھٹنے لگتی ہے۔ رنگت سیاہی مائل ہو نے لگتی ہے۔ خارش ہوتی ہے جس سے جلد پر جابجا زخم ہونے لگتے ہیں۔ اندرونی اعضا کی تمام بلغمی جھلیاں یا غلافی حفاظتی جھلیاں خشک ہونے لگتی ہیں۔ غدودی رطوبتوں میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ ناک اور اندرونی اعضا کے افعال میں گڑ بڑ اور بے قاعدگیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ناک ، کان، آنکھیں اور گلے جیسے نازک اعضا بری طرح متاثر ہو کر بیماریوں کا شکار ہو نے لگتے ہیں جس سے اکثر زکام رہتا ہے۔ گلہ خراب ہو جاتا ہے اورکان اورمنہ میں پھنسیاں اور چھالے نکل آتے ہیں۔ اس کے علاوہ نظام تنفس بگڑنے اور بے قاعدہ ہونے لگتا ہے۔ ان بیماریوں سے نجات کے لیے روزانہ وٹامن اے سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ضروری ہے۔ 

*وٹامن اے کی زیادتی نقصان*

ماہرین کے مطابق وٹامن اے کی زیادتی آپ کو بے شمار بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ یہ وٹامن شکر قندی، سی فوڈ، پپیتا، مٹر اور گوشت وغیرہ میں موجود ہوتا ہے۔

وٹامن اے کے زیادہ استعمال سے ہائپروٹامنوسس نامی بیماری ہوتی ہے۔ اس بیماری میں آپ کو متلی، الٹی، اور پیٹ کا درد ہوسکتا ہے۔


وٹامن اے کی زیادتی سے بالوں کا جھڑنا، جلد کی حساسیت، ناخنوں کا ٹوٹنا، نظر کی دھندلاہٹ یہاں تک کہ منہ کا السر بھی ہوسکتا ہے۔

اس کی زیادتی آپ کی ہڈیوں کے کیلشیئم جذب کرنے کے عمل میں بھی مداخلت کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہڈیاں پھول جاتی ہے اور آپ کو ہڈیوں میں شدید درد محسوس ہوسکتا ہے۔

وٹامن اے سے آپ کا جگر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

کہاوت ہے کہ ہر اچھی چیز کی زیادتی بری چیز ہے۔ چنانچہ اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ وٹامن اے کی زیادہ مقدار فائدہ مند ہے تو اس خیال کو دل سے نکال دیں

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

بچوں کی نیپی ریش

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اکثر مائیں بچو ں کی نا زک جلد پر ہو نے والے ریش کی وجہ سے پر یشان ہو تی ہے۔ زیادہ دیر ڈائپر لگے رہنے سے بچے کی جلد پر ریش ہو نا ایک نا رمل سی بات ہے۔ بعض اوقات یہ ریش اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ بچہ اس تکلیف کو بر داشت نہ کر تے ہوئے روتا ہے۔ بے چین رہتا ہے اور کھانے پینے میں سے بھی انکاری ہو جاتا ہے۔بچے کی اس تکلیف میں زیادہ تر ماؤ ں کی اپنی غلطی ہو تی ہے۔ مائیں اپنے سکھ کے لیے بچو ں کو مسلسل دن رات ڈائپر کر کے رکھتی ہیں۔ بچہ جس وقت پیشاب کر تا ہے تو فوراً صا ف نہیں کیا جاتا۔

ایک ڈائپر جب تین سے چار گھنٹے اور کبھی اس سے بھی زیادہ وقت تک لگا رہتا ہے تو بچے کے پیشاب سے بار با ر گیلا ہو تا ہے اس پیشاب میں مو جو د بیکٹیر یا بچے کی جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ بچے کے رونے اور اس کی تکلیف میں اس وقت اور بھی اضا فہ ہو جاتا ہے جب بچے کو پیشاب کا پا نی اس ریش والی جلد میں جلن پیدا کر تا ہے تو اس کے پاس رونے کے علا وہ کو ئی حل نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اپنی تکلیف کا اظہا ر رو کر کر تا ہے۔
ایک ما ں ہو نے کے نا طے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بچے کو اس تکلیف سے بچائیں۔

ڈائپر کی وجہ سے ریشز ہو ناعام سی با ت ہے۔ ریشز کا سبب پیمپر ز نہیں ہو تے بلکہ پیشا ب اور پا خا نہ کے بیکیڑیا ہو تے ہیں جو ٹھیک طر ح سے صا ف نہ کرنے اور پیمپر زیادہ دیر تک باندھے رکھنے سے انفیکشن کا با عث بنتے ہیں۔یہ زیادہ تر کو لہو ں اور جنسی اعضاء پر ہو تے ہیں۔


*بچوں کے نیپی ریشز کے لیے*
پانی میں ہلدی ڈالیں پھر مسٹرڈ آئل اور کیسٹر آئل کو گرم کرلیں پھر ان سب کو  مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اور ریشز پر لگائیں۔

عرق گلا ب تین کھانے کے چمچ سرسوں کا تیل ایک کھانے کا چمچ
اس مکسچر کو بو تل میں ڈال کر اچھی طر ح مکس کریں اور ریش والی جگہ پر لگائیں ۔ اس سے دو دن میں ریش ختم ہو جائے گی۔

ریش والی جگہ پر ناریل کا تیل لگانے سے ریش ختم ہو جاتی ہے۔

دلیا کا پاؤڈر بناکر اسے پانی میں ملا کر اس کا پیسٹ بنائیں اور اسے بیس منٹ تک ریش والی جگہ پر لگائیں۔ پھر ٹھنڈے پا نی سے دھو لیں۔

کمیلا لے کر اس میں سرسوں کا تیل ڈالیں اور ریش والی جگہ پر لگائیں ۔ اس کے مسلسل استعمال سے ریش نہیں ہو گی( کمیلا پنسا ر کی دکا ن سے مل جائے گا )

بچو ں کو نیپی بانڈھنے سے پہلے کارن فلو ر پاؤڈر کی طرح لگائیں ریش نہیں ہو گی۔

بیکنگ سو ڈا نیپی ریش میں مؤ ثر ہے اسے ریش والی جگہ پر پاؤڈر کی طر ح لگائیں۔
بیکنگ سو ڈا بچے کے نہانے کے ٹب میں ڈالیں اور کچھ دیر بچے کو اس پانی میں بٹھائیں۔ اس سے بچے کو سکو ن ملے گا اور ریش بھی کم ہو گی۔

ڈائپر بدلنے سے پہلے بچے کو آگے پیچھے پٹرولیم جیل لگائیں اس سے ریش نہیں ہو گا ۔

سرسوں کے تیل کو ٹھنڈا کر کے لگانے سے بھی ریش میں فر ق آتا ہے۔

*احتیاط*
بچے کو سا را وقت پیمپرز لگانے سے گر یز کریں۔
دن کا بیشتر وقت اسے بنا پیمپر کے رکھیں۔
وہ جس وقت پیشاب یا پا خا نہ کرے فوراً اسے صاف کر یں۔
پیمپر کر نے سے پہلے اس کی جلد کو خشک کر لیں۔
پیمپربد لنے میں سستی کا مظا ہرہ نہ کر یں۔ کیو نکہ یہ ریشز بعض دفعہ اتنی شد ت اختیا ر کر لیتی ہیں کہ ان سے خو ن رسنے لگتا ہے۔ جو بچے کے لیے پریشانی اور بے چینی کا با عث بنتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے مددگار غذائیں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دنیا میں طویل زندگی کی خواہش کس شخص کو نہیں ہوتی، ویسے تو زندگی اور موت کا فیصلہ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے مگر کسی فرد کا طرز زندگی بھی عمر کے تعین میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔

جسمانی سرگرمیاں، تمباکو نوشی سے گریز اور کم سے کم بیٹھنا وغیرہ جسمانی صحت کو طویل عرصے تک مثالی رکھتے ہیں مگر کچھ غذائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی فرد کی طویل اور صحت مند زندگی میں مدد دے سکتی ہیں۔

طبی سائنس نے ایسی غذاﺅں کا تعین کیا ہے جو ایسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں جن کے ذریعے عمر بڑھنے کے نتیجے میں لاحق ہونے والے امراض جیسے دل کی بیماریاں اور کینسر وغیرہ سے تحفظ مل سکتا ہے۔

ایسی ہی چند غذاﺅں کے بارے میں جانے جو صحت مند زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

*بیریز*
اسٹرابیری، بلیو بیری اور بلیک بیری غرض بیریز کی ہر قسم اینٹی آکسائیڈنٹس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر اور دماغی امراض سے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں، خاص طور پر ان کا استعمال دماغی افعال اور پٹھوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

*زیتون کا تیل*
یہ صحت کے لیے 'فائدہ مند' چکنائی والا تیل ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی خوبیاں رکھتا ہے، کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق غذا پکانے کے لیے اس تیل کا استعمال جسم میں کولیسٹرول لیول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ اس تیل کو دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند مانا جاتا ہے۔

*مچھلی*
مچھلی کو دماغ کی غذا بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود فیٹی ایسڈز ڈی ایچ اے اور ای پی اے ہے، جو دماغ اور اعصابی نظام کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں، ہفتے میں ایک یا 2 بار مچھلی کھانے کی عادت سے دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا امکان کم ہوتا ہے۔ چربی والی مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹس نقصان دہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسڈرز کی سطح میں کمی لاتے ہیں جس سے ورم کی اس قسم میں کمی آتی ہے جو شریانوں میں چربی کے اجتماع کا باعث بنتا ہے، تو فالج یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

*بیج*
بیج غذائی اجزا کے پاور ہاﺅس کی حیثیت رکھتے ہیں، لوبیا، چنے یا دیگر کا ہفتے میں 3 سے 4 بار استعمال بہت فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ ان میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے جبکہ موٹاپے، ارماض قلب اور ذیابیطس کا امکان کم کرسکتا ہے۔ چونکہ ان کو کھانے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے تو جسمانی وزن میں کمی لانا بھی آسان ہوجاتا ہے۔

*سبزیاں*
سبزیوں میں فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور متعدد اقسام کے منرلز اور وٹامنز ہوتے ہیں جو مختلف امراض سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں، سبز پتوں والی سبزیوں میں موجود وٹامن کے ہڈیاں مضبوط بناتا ہے، شکر قندی اور گاجر سے وٹامن اے ملتا ہے جو آنکھوں اور جلد کو صحت مند رکھنے کے ساتھ انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے نتائج ملے جلے ہیں مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو مرد ہفتے میں 10 یا اس سے زائد بار ٹماٹر کھاتے ہیں، ان میں مثانے کے کینسر کا خطرہ 35 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

*گریاں*
گریاں جیسے بادام، اخروٹ، پستے اور دیگر کولیسٹرول فری نباتاتی پروٹین اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، بادام وٹامن ای سے بھرپور میوہ ہے جو فالج کا خطرہ کم کرتا ہے، اخروٹ میں موجود چکنائی سے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ گریاں چکنائی سے پاک نہیں ہوتیں تو اعتدال میں رہ کر ہی ان سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔

*دودھ یا اس سے بنی مصنوعات*
وٹامن ڈی سے بھرپور مشروبات جیسے دودھ جسم کو کیلشیئم کو جذب اور استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر ہڈیاں کمزور ہونے یا بھربھرے پن کی شکایت پر یہ بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ دہی کھانے کی عادت نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

*اجناس*
جو، گندم یا دیگر اجناس کو غذا میں شامل کرنا مخصوص اقسام کے کینسر، ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب سے ممکنہ طور پر بچا سکتا ہے۔ اجناس میں موجود فائبر نظام ہاضمہ کے مسائل جیسے قبض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

شیر خوار بچوں کے لیے شہد سخت نقصان دہ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چھوٹے بچوں کو شہد کھلایا جانا ایک عام سی بات ہے۔ اپنی گرم خاصیت کے باعث شہد مختلف بیماریوں جیسے نزلہ، کھانسی، سینے کے انفیکشن، بخار یا سردی لگنے کی صورت میں بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہوتا ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ شیر خوار بچوں کو شہد دینا ان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ان کے لیے نقصادن دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہد شیر خوار بچوں میں بوٹولیزم کی بیماری پیدا کرسکتا ہے۔

*بوٹولیزم کیا ہے؟*
بوٹولیزم نامی بیماری ایک بیکٹریا بوٹولینم سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ جراثیم مختلف کھانے پینے کی اشیا کے ذریعہ ہمارے جسم میں جا کر بوٹولینم ٹوکزن نامی پروٹین پیدا کرتا ہے جو اس بیماری کو پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

یہ پروٹین شیر خوار بچوں کے جسم میں زہریلا مواد پیدا کرتا ہے اور انہں مفلوج کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس بیماری میں بچوں کے نشونما پاتے پٹھے کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں نتیجتاً ان کا جسم شدید کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی وہ اپنے جسم کے مختلف اعضا خصوصاً سر پر قابو پانے میں ناکام ہوجاتے ہیں اور ان کا سر ڈھلکنے لگتا ہے۔

یہ زہریلا مادہ شیر خوار بچوں کے نشونما پاتے اعصاب سے چپک جاتا ہے اور ان کی نشونما روک دیتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے اعصاب اور پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات وہ مفلوج ہوجاتے ہیں۔

*بچاؤ کیسے ممکن ہے؟*
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک عام بیکٹریا ہے جو مختلف اشیا میں بہ کثرت موجود ہوتا ہے لیکن خوش قسمتی سے یہ آکسیجن میں زندہ نہیں رہ پاتا جو کہ ہماری فضا میں کثیر مقدار میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیکٹریا سے پیدا ہونے والی بیماری کی شرح بہت کم ہے۔

یہ بیماری اگر بڑوں میں پیدا ہوجائے، جس کا امکان بے حد کم ہے تو ان کا مدافعتی نظام بآسانی اس کا مقابلہ کرلیتا ہے تاہم شیر خوار بچے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ آرام سے انہیں اپنا شکار بنا لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری کا سب سے اہم ذریعہ شہد ہے۔ شہد کی مکھیاں جب پھولوں سے رس جمع کرتی ہیں تو اس میں یہ بیکٹریا بھی خاصی مقدار میں موجود ہوتا ہے، تاہم مختلف عوامل سے گزرنے کے بعد ان کی بہت کم تعداد شہد میں رہ جاتی ہے، لیکن یہ اتنی ضرور ہوتی ہے کہ یہ ننھے بچوں کو نقصان پہنچا سکیں۔

یہ بیکٹریا شہد کو ہضم کرنے کے دوران بچوں کے جسم میں فعال ہوجاتا ہے اور اپنا کام دکھا جاتا ہے۔

اس پروٹین کو کاسمیٹکس مصنوعات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر یہ جھریاں ختم کرنے والی مصنوعات کا اہم جز ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

شیر خوار بچوں میں تیزابیت کی اصل وجہ ماں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اکثر شیر خوار بچے عموماً معدے کی تیزابیت یا جلن  کا شکار ہوجاتے ہیں، ایسا دراصل نومولود بچے کے غیر پختہ نظامِ ہاضمہ کی نئی غذاؤں سے نامانوسیت کے سبب ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹرز نومولود بچوں کو صرف ماں کا دودھ ہی تجویز کرتے ہیں۔

بچوں کو ابتدائی دو برس میں صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی پلانا چاہیے کیونکہ یہ بچے کی صحت اور پرورش کے لیے بنیادی اور کامل غذا ہے تاہم  دوسرے سال میں بعض مائیں بچوں کو ہلکی پھلکی دیگر غذائیں بھی کھلاتی ہیں۔

ماں  کا دودھ  بچے کو غذا دینے کا واحد ذریعہ ہے اس لیے ماں پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کا بھی خیال رکھے اور ایسی خوراک استعمال کرے جس سے ماں کے دودھ میں مضر اجزا شامل نہ ہوجائیں یا دور رس منفی اثرات مرتب نہ ہوں کیونکہ بچے کی صحت کا براہ راست تعلق ماں کے دودھ سے ہے۔

شیر خوار بچوں کی ماؤں کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ وہ خودکو تندرست رکھنے کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے پینے کی کون کون سی اشیا کا استعمال کریں اور کون سی غذا سے اجتناب برتیں۔

پیٹ کے درد، بدہضمی، معدے میں جلن اور تیزابیت کو سائنسی اصطلاح میں ایسڈ رفلیکس یا گیسٹرو سوفاگیل رفلیکس کہتے ہیں۔ ایسڈ رفلیکس معدے کی ترشی کو بھی کہتے ہیں جو حلق تک آجاتی ہے، شیرخوار بچوں میں ایسڈ رفلیکس کہ بڑی وجہ ماں کے کھانے کی عادات پر منحصر ہوتی ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ماں بے خیالی میں یا انجانے میں وہ کھانے استعمال کرتی ہے جو بچوں میں تیزابیت کا سبب بنتے ہیں۔

*شیرخوار بچوں میں تیزابیت کی علامات*

*الٹیاں:*

اگر بچہ الٹیاں یا منہ بھر کے قے کررہا ہے تو یہ ایسڈ رفلیکس کی علامت ہے، یہ الٹیاں صحت مند نومولود کے برعکس مختلف ہوتی ہیں اور یہ قسط وار چلتی ہیں۔

*کھانسی:*
خراٹے کے ساتھ سانس لینا یا کھانسی کا مسلسل ہونا بھی ایسڈ رفلیکس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

*کھانے میں دشواری:*
اگر بچہ ایسڈ رفیلکس کا شکار ہے تو وہ کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے یا پھر کھانے میں دشواری ظاہر کرتا ہے۔

*درد:*
ایسڈ رفلیکس بچوں میں درد کا باعث بھی بنتا ہے جس سے عمومی طور پر پیٹ میں درد، گیس یا مروڑ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ وہ  بچے کو دودھ پلانے سے پہلے اور بعد میں اس امر کا جائزہ لے کہ بچے کو درد ہونے کی وجہ کہیں ماں کا دودھ تو نہیں۔

*الٹنا/پیٹ کے بل لیٹنا:*
اگر آپ محسوس کریں کہ بچہ بہت زیادہ الٹا ہو رہا ہے یا بار بار پیٹ کے بل لیٹنے کو ترجیح دے رہا ہے تو یہ بھی ایسڈ رفلیکس کی ایک علامت ہے۔

*شیرخوار بچوں کو تیزابیت کا شکار کرنے والی غذائیں*

یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کس قسم کے کھانے بچے میں ایسڈ رفلیکس کا سبب بنتے ہیں جن سےلازمی  پرہیز کرنا چاہیے، ایک عام اصول ہے کہ وہ کھانے جو دودھ پلانے والی ماؤں کو تیزابیت کا شکار کریں ان کا استعمال فوری روک دیں۔

*کیفین:*
ہم جانتے ہیں کہ کیفین چائے اور خصوصاً کافی کا اہم جز ہے، شیرخوار بچوں میں کیفین بچوں کے معدے کے اہم حصے ایسوفیگس کے خاص پٹھوں کو پرسکون کرتی ہے۔ اس عمل سے بچوں میں بننے والا ایسڈ ریفلکس اپنا اثر دکھاتا ہے اور وہ تیزابیت کے شکار ہونے لگتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس اور چاکلیٹ میں بھی کیفین پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چائے، کافی، سوڈا، انرجی ڈرنکس اور چاکلیٹ میں کیفین کا استعمال کیا جاتا ہے۔

*مرغن اور تیز مرچ والے کھانے:*
تیز مرچ والے یا مرغن کھانے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی تیزابیت کا باعث بنتے ہیں، دراصل مرچیں پیٹ کی دیکھ بھال کرنے اور معدے کی انتڑیوں کی  حفاظت پر مامور جھلیوں کو پریشان کرتی ہیں، بچوں کا نظام ہاضمہ اس قسم کی مرچوں سے بچنے اور لڑنے سے لیس نہیں ہوتا جس کا نتیجہ ایسڈ رفلیکس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

*رسیلے پھل:*
رسیلے ترش ذائقے والے پھل جیسے لیموں یا مالٹا نظام ہاضمہ کو متاثر کرتے ہیں اگر دودھ پلانے والی ماں لیموں یا مالٹے کا کثرت سے استعمال کرتی ہے تو شیرخوار بچہ ایسڈ رفلیکس کا شکار ہوسکتا ہے۔

*کاربونیٹڈ ڈرنکس:*
کاربونیٹڈ ڈرنکس گیس کے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یہ بھی پیٹ کی جھلیوں کو متاثر کرکے ایسڈ رفلیکس کی بڑی وجہ بنتی ہے۔

*بھنی ہوئی اشیا:*
بھنی ہوئی اشیا  صحت کے لیے  نقصان دہ اورغیر ضروری موٹاپے کا باعث بنتی ہیں، یہ اشیا بچے کے ناپختہ  نظام ہاضمہ میں شامل ہوکر بدہضمی اور ایسڈ رفلیکس کی وجہ بنتی ہیں۔

*مصنوعی جوس:*
مصنوعی پھلوں کے جوسز کی مارکیٹ میں بہتات ہے  جو دراصل کیمیکلز کی ملاوٹ سے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکلز بچے بآسانی ہضم نہیں کرپاتے جو بدہضمی کا سبب بنتے ہیں اور یہ بدہضمی شیر خوار بچوں میں ایسڈ رفلیکس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

*سگریٹ نوشی:*
سگریٹ نوشی کی عادت بچے کی نشوونما کے دوران اس پر بہت سے مضر اثرات مرتب کرتی ہے، سگریٹ نوشی بچے کے نظام ہاضمہ کو متاثر کرکے اسے ایسڈ رفلیکس میں مبتلا کردیتی ہے اس لیے سگریٹ نوشی سے حد درجے ممکن دور رہا جائے یا کم از کم دوران حمل یا دودھ پلانے کے دوارن سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ بند گوبی، شملہ مرچ، لال اور کالا لوبیا بھی دودھ پلانے والی ماؤں کے بچوں کو تیزابیت میں مبتلا کرنے والی غذائیں ہیں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

ایڑیاں پھٹنے سے نجات


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایڑیاں پھٹنے یا اس جگہ کی کھال سخت ہونے کے مسائل کافی عام ہوجاتے ہیں۔

آج کے مصروف طرز زندگی کے باعث بیشتر افراد سارا دن چلتے پھرتے گزارتے ہیں جس کے نتیجے میں جلدی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مٹی سے براہ راست رابطہ پیر کی جلد کو جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہت جلد خشک کردیتا ہے۔

جب موسم سرما میں درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو یہ مسئلہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایڑیوں کی جلد پرتوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر ایڑیاں پھٹنے کے نتیجے میں تکلیف اور عدم اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔

تاہم آپ اس مسئلے سے نجات گھر بیٹھے چند عام چیزوں کی مدد سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

*متاثرہ حصے کی نمی بحال کرنا*
اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ جلد میں مناسب نمی کی کمی ہوتی ہے، جلد کو نم رکھنا اسے خشک ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے موئسچرائزر کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، پیروں کے تلوں اور ایڑیوں پر دن میں دوبار اس استعمال پیروں کی جلد کو سخت اور خشک ہونے سے روکتا ہے۔

*شہد اور پانی*
یہ دونوں ہر گھر میں ہی موجود ہوتے ہیں، گرم پانی میں شہد کو مکس کریں اور اپنے پیروں کو اس میں ڈبو دیں، پھر نرمی سے متاثرہ حصے کو رگڑیں، شہد جلد کی قدرتی نمی بحال کرنے کا کام کرتا ہے۔

*پیروں کی صفائی*
جب پیروں کی جلد خشک ہوتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ انگلیوں کے درمیانی حصے کو صاف کرکے مٹی اور سیلن کپڑے سے دور کریں، وہاں موجود سیلن مختلف قسم کے انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔

*ہلدی اور تیل کی مالش*
ہلدی میں تیل کو ملا کر متاثرہ حصے میں مالش کرنا پھٹی ہوئی ایڑیوں میں نمی بحال کرتا ہے، جبکہ سوجن یا درد میں کمی بھی لاتا ہے۔ اس کو معمول بنالینا پیروں میں خون کی گردش بڑھا کر جلد کو مسائل سے دور رکھتا ہے۔

*جرابوں کا استعمال*
ننگے پیر چلنا پیروں کو بیکٹریا اور مٹی کا آسان شکار بنا سکتا ہے، اسے آلودگی اور مٹی سے تحفظ دینے کے لیے کاٹن کی جرابوں کا استعمال اچھا خیال ہے۔

*لیموں اور جرابیں*
سب سے پہلے ایک بڑے سائز کے لیموں کو دو ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور پھر اس کا عرق نکال لیں۔آپ کو تمام عرق نکالنا ہوگا تاہم اس کے اندرونی گودے کا تھوڑا بہت حصہ دونوں ٹکڑوں میں چھوڑ دیجیئے گا۔اب دونوں ٹکڑوں کو ایڑیوں کے نیچے رکھ دیں اور دب جانے پر فکر مت کریں۔اب ان ٹکڑوں سمیت پیروں پر موزے چڑھالیں اور آدھے گھنٹے تک لیموں کے ٹکڑوں کو ایڑیوں سے چپکے رہنے دیں۔

*پانی زیادہ پینا شروع کردیں*
جب ایڑیاں پھٹتی ہیں تو یہ اچانک نہیں ہوتا درحقیقت یہ جسم میں پانی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوتا ہے، تو مناسب مقدار میں پانی پینا یقینی بنانا بھی اس مسئلے کو جلد حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ خشک موسم میں جلد زیادہ متاثر ہوتی ہے اور پانی پینے کی عادت جلد پھٹنے نہیں دیتی۔

*پیٹرولیم جیلی سے گریز*
ایڑیاں پھٹنے پر اکثر افراد پیٹرولیم جیلی کو استعمال کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہئے، ویسے تو یہ نمی کم نہیں ہونے دیتی مگر یہ نمی برقرار رکھنے کا عمل بھی متاثر کرتی ہے۔ پیٹرولیم جیلی کو جلد صحیح طرح جذب نہیں کرپاتی، اس کی بجائے کریم یا لوشن زیادہ بہتر انتخاب ہے۔

*بند جوتوں کا استعمال*
سینڈل یا ایسے جوتے جن میں بیک اوپن ہو، وہ بھی ایڑیاں پھٹنے کا باعث بنتے ہیں بلکہ اسے بدترین بناسکتے ہیں، تو بند جوتوں کا استعمال اس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

بالوں کی خشکی اور خارش سے نجات 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سر میں خشکی بہت عام ہوتی ہے جس کا نتیجہ تکلیف دہ خارش کی شکل میں نکلتا ہے اور یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے نت نئے شیمپوز کا استعمال کرتے ہیں۔

عام طور پر اس کی وجہ بالوں کی صفائی کا زیادہ خیال نہ رکھنا یا جلدی مسائل ہوتے ہیں تاہم گھر سے باہر لوگوں کی موجودگی میں یہ خارش شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہے خاص طور پر خشکی اور جوئیں باہر نکلنا تو شرم سے پانی پانی بھی کرسکتا ہے۔

اس تکلیف سے نجات کے چند سادہ مگر دلچسپ ٹوٹکے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔

*سیب کا سرکہ*
سیب کا سرکہ سر کی خشکی کا بہترین حل ہے کیونکہ اس میں پائی جانے والی تیزابیت سر میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہیں کہ وہاں خشکی کے پیدا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چوتھائی کپ اس سرکے کو چوتھائی کپ پانی سے بھری اسپرے بوتل میں شامل کریں اور اپنے سر پر چھڑکاﺅ کریں۔ اپنے سر پر تولیہ لپیٹ لیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک آرام سے بیٹھ جائیں جس کے بعد سر کو معمول کے مطابق دھولیں۔ یہ عمل ہفتہ بھر میں دو بار کرنا خشکی کو ہمیشہ کے لیے بھگا دے گا۔

*ایلو ویرا جیل*
خشک جلد سر میں خارش کی بڑی وجہ ہوتی ہے اور ایلو ویرا قدرتی موئسچرائزر سمجھا جاتا ہے جبکہ اس میں جراثیم کش اور سکون پہنچانے والی خصوصیات بھی موجود ہیں۔ اس جیل کو سر پر لگائیں اور 20 منٹ بعد سر کو گرم پانی سے دھولیں۔

*ٹی ٹری آئل*
ٹی ٹری آئل ورم کش اور جراثیم کش ہوتا ہے جو کہ بالوں میں خشکی اور خارش کی شکایت پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تیل مختلف وائرسز اور فنگل سے بھی لڑتا ہے جو کہ خشکی اور سر میں خارش کا باعث بنتے ہیں، ٹی ٹری آئل کے چند قطرے اپنے پسندیدہ شیمپو میں ملائیں اور اس عمل کو اس وقت تک دہراتے رہے جب تک خشکی اور خارش ختم نہیں ہوجاتی۔

*ناریل کا تیل*
ناریل کا تیل خشکی کا آزمودہ اور موثر علاج ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کی مہک بھی مزاج پر ناگوار بھی گزرتی۔ نہانے سے پہلے تین سے پانچ چائے کے چمچ ناریل کے تیل سے سر کی مالش کریں اور ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد سر کو شیمپو سے دھولیں، اس کے علاوہ آپ ایسا شیمپو استعمال کرکے بھی اس کی افادیت کو دوگنا بڑھا سکتے ہیں جس میں ناریل کے تیل کا استعمال بھی ہوتا ہو۔

*شہد*
خام شہد بھی ایک ایسا قدرتی ذریعہ ہے جو اس مسئلے سے نجات دلاتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے 9 حصے شہد اور 1 حصہ گرم پانی کا مکس کریں، اس کے بعد بالوں کو دھوئیں اور پھر اس مکسچر سے اس پر دو سے تین منٹ مالش کریں۔ اس کے بعد سر پر تولیہ لپیٹ لیں اور 3 گھنٹے تک انتظار کریں، پھر پانی سے سر دھولیں۔

*زیتون کا تیل*
رات کو زیتون کے تیل کی مالش کرکے سو جانا خشکی کا صدیوں پرانا ٹوٹکا ہے، زیتون کے تیل کے دس قطروں کو سر پر ٹپکا کر اس کی مالش کریں اور سر کو کسی ٹوپی یا تولیے میں چھپا کر سوجائیں۔ صبح اٹھ کر سر کو دھولیں کچھ دنوں میں خشکی آپ سے دور بھاگ جائے گی، تاہم فوری اثر چاہتے ہیں تو ایسے شیمپو کو ترجیح دیں جس میں زیتون کے تیل بھی شامل ہو۔

*مالش*
اپنے بالوں میں گول دائرے میں نرمی سے مالش اور برش کرنا عادت بنائیں، اس سے دوران خون کی رفتار بڑھتی ہے جس سے جلد کے خشک خلیات نکل جاتے ہیں جبکہ بالوں کی جڑیں متحرک ہوتی ہیں۔

*لیموں*
خشکی سے نجات پانے کے لیے دو چائے کے چمچ لیموں کے عرق یا جوس کی مالش اپنے سر پر کریں اور پانی سے دھولیں۔ اس کے بعد ایک چائے کا چمچ لیموں کا جوس ایک کپ پانی میں ملائیں اور اپنے سر کو اس سے بھگولیں۔ اس طریقہ کار کو روزانہ اس وقت استعمال کریں جب تک خشکی کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ لیموں میں موجود تیزابیت آپ کے سر پر ہائیڈروجن کی سطح کو متوازن رکھتی ہے جس کے نتیجے میں خشکی کو دور بھاگنا پڑتا ہے۔

*جسمانی سرگرمیاں*
جسمانی ورزش یا کھیل سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جس کا مطلب ہے یہ ہے کہ جسم کو متعدد اہم عناصر جیسے آکسیجن وغیرہ ملتے ہیں، دوران خون بہتر ہونے سے ورم کم ہوتا ہے جو کہ سر میں خارش کا باعث بنتا ہے۔

*اسپرین*
اسپرین ایسے اجزائ (سیلی کائی لیک ایسڈ) سے بھرپور دوا ہے جو بیشتر خشکی سے نجات دلانے والے شیمپوز کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسپرین کی 2 گولیوں کو پیس کر سفوف کی شکل دیں اور سر پر لگانے کے لیے جتنا شیمپو لیتے ہیں اس میں شامل کرلیں، اس مکسچر کو اپنے بالوں پر ایک سے دو منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر اچھی طرح دھولیں، اس کے بعد پھر سادہ شیمپو سے سر کو دھوئیں آپ اس کا اثر دیکھ حیران رہ جائیں گے۔

*لہسن*
لہسن کی پھپھوندی کی روک تھام کی خاصیت اس خشکی کا باعث بننے والے بیکٹریا کے خاتمے کے لیے بھی بہترین ثابت کرتی ہے۔ لہسن کو پیس کر اپنے سر پر مل لیں، اس کی بو سے بچنے کے لیے اس پیسے ہوئے لہسن میں شہد بھی شامل کرلیں اور پھر سر کی مالش کریں جس کے بعد سر کو معمول کے مطابق دھولیں۔

*نمک*
شیمپو سے پہلے عام نمک کو سر پر رگڑنا یا مالش خشکی کا خاتمہ کرنے میں زبردست کردار ادا کرسکتا ہے۔ نمک دانی کو لیں اور کچھ مقدار میں نمک اپنے سر پر چھڑکیں اور پھر اسے بالوں میں پھیلالیں جس کے بعد کچھ دیر مالش کریں۔ کچھ دیر بعد سر کو شیمپو سے دھو کر حیرت انگیز اثر محسوس کریں۔

*کھانے کا سوڈا*
آپ کا باورچی خانہ اپنے اندر سر کی خارش اور خشکی ختم کرنے کی کنجی چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ بس اپنے بالوں کو گیلا کریں اور پھر اس میں مٹھی بھر کر کھانے کا سوڈا زور سے رگڑیں، شیمپو کو چھوڑ کر بالوں کو دھولیں۔ یہ سوڈا خشکی کا باعث بننے والے عناصر کو متحرک ہونے سے روکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سوڈے سے دھونے کے بعد پہلے آپ کے بال خشک محسوس ہو مگر کچھ ہفتوں بعد آپ کے بال قدرتی تیل پیدا کرنے لگیں گے جس سے وہ نرم اور خشکی سے پاک ہوجائیں گے۔

*ماﺅتھ واش*
بہت زیادہ خشکی کا علاج چاہتے ہو تو پہلے اپنے بالوں کو معمول کے شیمپو سے دھوئیں اور پھر انہیں ماﺅتھ واش سے دھولیں جس کے بعد ہیئر کنڈیشنر کا بھی استعمال کریں۔ ماﺅتھ واشنر میں پھپھوندی کو دور بھگانے والی خوبی خشکی کی روک تھام کرتی ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

دانت نکل رہے ہیں
تذکرہ بچوں کے ایک توجہ طلب مرحلے کا*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بہت کم خواتین کو اس کا علم ہوتا ہے کہ نومولود کے دانت پیدائش کے موقعے پر مسوڑھوں میں اندر موجود ہوتے ہیں۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ماں کی غذائی کمی کا اثر جہاں اور بہت سے حوالوں سے ہوتا ہے، وہیں بچے کے خراب دانتوں کا دوش بھی اسی پر ہے۔

بچے کو دونوں قسم کے دانتوں سے سابقہ پڑتا ہے، دو سے تین سال تک بچے میں تمام عارضی دانت جن کی تعداد 20 ہے، بتدریج نکل آتے ہیں۔  جب کہ سات سال کے بعد مستقل دانت بھی نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کو پہنچ کر ان تعداد کا شمار 32 تک ہو جاتا ہے۔

کیا دانت نکلتے وقت بچے کو تکلیف ہوتی ہے؟ یہ ضروری نہیں، معمولی نوعیت کی شکایات ہو جاتی ہیں۔ مثلاً  بے چینی، بھوک کم ہو جانا، دست وغیرہ۔ یہ تمام تکلیفیں عارضی ہوتی ہیں اور ایسا صرف چند بچوں میں ہوتا ہے۔ دانت جب مسوڑھوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو مسوڑھوں میں ہلکی سوزش اور جلن ہوتی ہے۔ اگر بچے کو دانت نکلتے وقت تیز بخار، کھانسی، اسہال یا تشنج کے دورے پڑ جائیں، تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے مشورہ طلب کریں، دانت نکلتے وقت بچوں کو سخت چیزوں کو چبانے سے سکون ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہاتھ آنے والی ہر چیز کو منہ میں لیتے ہیں، اور یہی فعل ان کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔
چھے سے چودہ ماہ میں بچے کے سامنے کے دانت نکلنا شروع ہو جاتے ہیں، پھر ہر دو ماہ کے وقفے سے آٹھ اندر کی طرف کے دانت نکلتے ہیں، اس کے بعد تقریباً 18 سے 24 ماہ میں چار داڑھیں نکل آتی ہیں۔ دودھ کے بیس دانتوں کا سات سال میں تبادلہ بتدریج مستقل دانتوں سے ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بچوں کے دانتوں کا خیال رکھیں۔ تاکہ ان میں کیڑا نہ لگ جائے اور انہیں نکلوانا نہ پڑے۔ یہ دانت قدرتی طور پر گرنا  شروع ہوتے ہیں اور نئے دانت اس کی جگہ لے لیتے ہیں اور سات سال کے بعد مستقل دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔

بچوں کے دودھ کے دانتوں کی احتیاط والدین پر لازمی ہے کیوں کہ بچے خود صحیح طور پر ان کی حفاظت اور افادیت کو نہیں سمجھ سکتے۔ اس باب میں غذا کی بڑی اہمیت ہے۔ تین سال کی عمر سے ہی اسے ٹوتھ برش اور خوش بو دار ٹوتھ پیسٹ استعمال کرایا جائے۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنی نگہداشت میں بچے کو ٹوتھ پیسٹ کرائیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس طرح دانتوں کو صاف رکھنے کا عادی ہو جائے گا۔ اس کے بچپن کی یہ عادت مستقبل میں اس کے صحت مند دانتوں کی ضمانت ہے۔ بچوں کو میٹھی ٹافیاں، چاکلیٹ سے پرہیز کرانا مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ پھر بھی بچے اس سے بچ نہیں پاتے۔ ایسے میں انہیں  پابند کریں کہ وہ دانتوں کی صفائی بھی کریں، تاکہ دانت صحت مند رہ سکیں

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة 
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
 امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں  يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
 " امراءة نوح " اور " امراءة لوط "  كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

  (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
 جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

 ( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
 ( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

 ( ووهبنا له يحی  و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں 

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
 جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا  اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

 كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي  سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے 

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی  تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

 "وأزواجنا"

 زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو

گوری رنگت، مگر کس قیمت پر؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروما پریرا (فرضی نام) نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’میں اپنی شادی کے روز بہت بری لگ رہی تھی۔ اس دن میں انتہائی بدصورت نظر آ رہی تھی۔‘

وہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے نزدیک رہتی ہیں۔ بہت ساری ایشیائی خواتین کی طرح انھوں نے بھی شادی کے دن سے قبل اپنی جلد کو نکھارنے کی ٹھانی۔

وہ امید کر رہی تھیں کہ شادی کے دن تک ان کی جلد خوبصورت اور چمکدار ہو جائے گی۔


انھوں نے بی بی سی سنہالا کو بتایا کہ ’شادی سے دو ماہ قبل میں ایک سیلون میں گئی جنھوں نے مجھے ایک رنگ گورا کرنے والی کریم تھما دی۔ جب میں نے اس کریم کو ایک ہفتے تک استعمال کیا تو میرا چہرا جھلس سا گیا۔‘

’میں چاہتی تھی کہ میرا رنگ سفید ہو جائے الٹا میری جلد ہی جل گئی۔‘

*گہرے دھبے*
31 سالہ پریرا نے اپنی شادی سے پہلے مہمانوں کی فہرستوں اور خریداری سے متعلق منصوبہ بندی کرنے کے بجائے اپنا وقت اور پیسہ اپنی جلد کے علاج پر صرف کیا۔

’پہلے میری جلد پر سفید زخم پڑے جو بعد میں گہرے دھبوں میں تبدیل ہو گئے۔‘

رنگ گورا کرنے والی جو کریم انھیں اس سیلون سے ملی تھی وہ سری لنکا میں منظور شدہ مصنوعات میں سے نہیں تھی۔ اسے غیر قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔

ایک سال کے علاج کے باوجود گہرے نشانات اب بھی پریرا کی گردن پر نمایاں ہیں۔ ایسی کئی شکایات کے بعد اب سری لنکن حکام غیر منظور شدہ رنگ گورا کرنے والی کریمز کی فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

*مارکیٹ*
لیکن یہ مسئلہ صرف سری لنکا میں موجود نہیں ہے۔ ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین گوری رنگت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

سنہ 2017 میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ کی قدر کا تخمینہ چار ارب آٹھ کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ سنہ 2027 میں یہ دگنا ہو کر 8.9 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔

ان مصنوعات کی طلب بنیادی طور پر ایشیا اور افریقہ کے متوسط طبقے کے صارفین سے آتی ہے۔


ان مصنوعات میں صابن، کریمیں، سکرب، ٹیبلٹس اور یہاں تک کہ ٹیکے بھی شامل ہیں جن کے ذریعے جلد کا رنگ پیدا کرنے والے میلانن نامی خلیے کی پیداوار سست کی جا سکتی ہے اور یہ طریقہ انتہائی مقبول ہیں۔

عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔

نائجیریا کی 77 فیصد خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کر کے افریقہ میں سرِ فہرست ہیں۔ اس کے بعد ٹوگو کی 59 فیصد اور جنوبی افریقہ کی 35 فیصد خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔

ایشیا میں 61 فیصد انڈین اور 40 فیصد چینی خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔

*عالمی چیلنج*
جوں جوں ان مصنوعات کی طلب بڑھ رہی ہے ویسے ہی ان سے متعلق مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔


پچھلے سال گھانا کے حکام نے حاملہ خواتین کو ایسی رنگ گورا کرنے والی ادویات استعمال کرنے سے منع کیا تھا جن میں گلوٹاتھائی اون نام اینٹی آکسیڈنٹ شامل ہو۔

اس ملک میں خواتین اس امید پر یہ ادویات استعمال کر رہی تھیں کہ اس سے ان کے پیٹ میں موجود بچے کی جلد کا رنگ نکھر جائے گا۔

جنوبی افریقہ میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔

گیمبیا، آئیوری کوسٹ اور رواں برس روانڈا نے بھی ایسی تمام جلد سنوارنے والی مصنوعات پر پابندی لگا دی تھی جن میں ہاییڈروکوینون شامل ہو کیونکہ یہ میلانن کی پیداوار کو کم کر سکتا ہے لیکن اس کے باعث جلد مستقل طور پر خراب ہو سکتی ہے۔

میلانن وہ بھورا یا سیاہ رنگ ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے خلیے پیدا کرتے ہیں جس سے جلد کا رنگ متعین ہوتا ہے۔

*علاج*
برٹش سکن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ’جن مصنوعات میں ہائیڈروکوینون موجود ہو اسے ایک ماہرِ جِلد کی نگرانی میں ان جگہوں پر بحفاظت اور اچھے نتائج کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں رنگت کی ناہمواری کے باعث گہرے دھبے پڑے ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ کچھ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی میڈیکل سائنس میں حیثیت بھی ہے۔

فاؤنڈیشن کے ترجمان اینٹون ایلیگزینڈروف نے کہا کہ ’کچھ رنگ گورا کرنے والی کریمیں فائدہ مند بھی ہو سکتی ہیں لیکن انھیں ایک ماہر کی تجویز اور ان کی نگرانی کے بغیر نہیں استعمال کرنا چاہیے ورنہ یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔‘

*افادیت*
لیکن فاؤنڈیشن اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’پوری جلد کے رنگ کو گورا کرنے کا کوئی محفوظ اور سائنسی طور پر تسلیم شدہ طریقہ نہیں ہے۔‘


الیگزینڈروف خبردار کرتے ہیں کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جو کریمیں آپ دوکانوں سے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر خریدتے ہیں ان سے آپ کو مطلوبہ مدد ملے گی۔ ان کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے باعث جلد بہت زیادہ سفید بھی ہو سکتی ہے یا مزید سیاہ بھی۔ اور اس سے آپ کی جلد کی قدرتی خصوصیات بھی زائل ہو سکتی ہیں۔’

لیکن ڈاکٹر میلازما جیسے عارضوں کے علاج کے لیے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات تجویز کرتے ہیں۔

یہ بالغ افراد میں جلد کا ایک عام عارضہ ہے۔ اس عارضے میں چہرے پر بھورے یا سرمئی رنگ کے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ یہ خواتین میں، خاص طور پر حمل کے دوران، کافی عام ہے۔

ایلیگزینڈروف کہتے ہیں کہ ’ماہرِ جلد منظور شدہ کریمز کی مدد سے جلد کی رنگت واپس بحال کر سکتے ہیں۔’

*نقصانات*
لیکن زیادہ تر خواتین کسی ڈاکٹر سے مشورہ یا طبی ہدایات مدِ نظر رکھے بغیر رنگ گورا کرنے والی مصنوعات استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن ان کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ

جلد پر خارش اور دانے
جلد پر جلن یا چبھن محسوس ہونا
جلد کا کھردرا پن اور خارش
(بشکریہ نیشنل ہیلتھ سروس، برطانیہ)

*پارہ*
کچھ مصنوعات جو رنگت تیزی سے تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں ان میں نقصان دہ مادے بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق پارے کی حامل رنگ گورا کرنے والی مصنوعات صحت کے لیے نقصان دہ ہیں


اب بھی چین، ڈومینیکن ریپبلک، لبنان، میکسیکو، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور امریکہ میں ایسی مصنوعات بنتی ہیں جن میں پارہ موجود ہوتا ہے۔

یہ زہریلا کیمیکل ان مصنوعات میں اس لیے موجود ہوتا ہے کیونکہ پارے کے نمکیات میلانن کی پیداوار کو سست کر دیتے ہیں۔

یورپی یونین اور کئی افریقی ممالک نے جلد کی دیکھ بھال سے متعلق ایسی مصنوعات پر پابندی لگا دی ہے جن میں یہ دھات موجود ہو۔ امریکہ، کینیڈا، فلپائن اور چند دیگر ممالک مصنوعات میں پارے کی انتہائی کم مقدار کی اجازت دیتے ہیں۔

*صحت کے مسائل*

الیگزینڈروف کہتے ہیں کہ مرکری زہر ہے اور اس کی وجہ سے صحت سے متعلق بہت سارے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

جن رنگ گورا کرنے والی کریموں اور صابنوں میں غیرنامیاتی پارہ موجود ہوتا ہے ان کے مندرجہ ذیل نقصانات ہو سکتے ہیں:


گردوں کو نقصان
جلد پر زخم، جلد بے رنگ ہونا اور اس پر نشانات پڑ جانا
بیکٹیریا اور فنگس کے انفیکشنز سے مزاحمت میں کمی
اینگزائٹی، ڈپریشن، سائکوسز یا پیری فیرل نیوروپیتھی
(عالمی ادارہ صحت)


*تاثر*
امریکی ماہرِ امراضِ جلد شوائی زو کے مطابق ’لوگ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جلد پر لگانے والی کریمیں محفوظ ہوتی ہیں۔ بہت سے لوگ اس کے باعث صحت پر پڑنے والے مضمرات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ہمیں ایسے رویے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔’

’میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں جب میرے مریض مجھے مختلف کریمیں دکھاتے ہیں جو انھوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر خریدی ہوتی ہیں۔‘

وہ فینبرگ سکول آف میڈیسن میں پڑھاتے ہیں اور انھوں نے کاسمیٹکس اور جسمانی دیکھ بھال کی دیگر مصنوعات کے صحت پر مضمرات سے متعلق تحقیق بھی کر رکھی ہے۔

جلد پر لگانے والی کچھ کریموں میں سٹیرائڈز بھی موجود ہوتے ہیں جو صحیح طریقے سے استعمال نہ کرنے کی صورت میں ایک مریض کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

*خطرات*
ڈاکٹر زو ان خطرناک مصنوعات کی روک تھام کے لیے سخت ریگولیٹری قوانین کی منظوری کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کاسمیٹکس کی صنعت دوا سازی کی صنعت جتنی ریگولیٹڈ نہیں ہے۔ بڑی کمپنیاں نقصان دہ مادوں کے استعمال سے گریز کرتی ہیں لیکن ہمیں درآمد کی گئی کاسمیٹکس سے متعلق بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔‘

مارکیٹ میں جعلی مصنوعات بھی موجود ہیں جنھیں آسانی سے پکڑا نہیں جا سکتا۔ کمپنیوں کے لیے ایسے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوتا ہے جو ان جعلی مصنوعات کی تیاری، ترسیل اور فروخت میں ملوث ہیں۔

ڈاکٹر زو کہتے ہیں کہ کچھ مصنوعات پر تو کریم میں استعمال ہونے والے اجزا تک نہیں لکھے ہوتے۔ ’آپ کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کون بنا رہا ہوتا ہے۔’


وہ لوگوں کو فوری حل اپنانے سے خبردار کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجموعی طور پر زیادہ تر مصنوعات کافی محفوظ ہوتی ہیں پر اگر آپ انٹرنیٹ سے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات خرید رہے ہیں تو آپ کو بہت محتاط رہنا چاہیے۔’

*تعصب*
خوبصورتی بھلے ظاہری چیز ہو سانولی رنگت کے خلاف معاشرتی تعصب بہت گہرا ہے۔ اس سے بہت سارے لوگوں کو اپنی صحت داؤ پر لگا کر کسی بھی حد سے گزر جانے کا حوصلہ ملتا ہے۔

کئی معاشرتی رکاوٹوں کے خلاف لڑنے والے باکسنگ سپر سٹار محمد علی نے سنہ 1983 میں ایک چرچ میں خطاب کرتے ہوئے ان فرسودہ نظریات پر سوال اٹھائے۔

انھوں نے کہا کہ ’سب فرشتے سفید کیوں ہیں؟ کوئی سیاہ کیوں نہیں ہے؟‘

مختلف تہذیبوں اور زبانوں میں سفید رنگ کو امن، خوبصورتی اور ذہانت جبکہ سیاہ رنگ کو موت، سانحوں، بدصورتی اور برے جذبات سے منسلک کیا جاتا ہے۔


*مخالف تحریک*
انٹرٹینمینٹ کی صنعت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص جسمانی ساخت اور رنگ کو فروغ دیتی ہے جس سے لاکھوں خواتین احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں۔

معاشرے میں گہرائی تک رچے بسے ان تعصبات کی مخالفت میں نچلی ترین سطح پر تحریکوں نے جنم لیا ہے۔

’سانولا پن خوبصورت ہے‘ ایسی ہی ایک تحریک ہے جس کے ذریعے انڈین خواتین کو رنگ گورا کرنے والی کریموں سے اجتناب کی ترغیب دی جاتی ہے۔

اس کی ہم پلہ پاکستانی تحریک ’ان فیئر اینڈ لولی’ کے منتظمین اس پیغام کی تشہیر کرتے ہیں کہ ’گوری رنگت ہونا ہی خوبصورتی کا معیار نہیں ہے۔‘

امریکہ میں دی بیوٹی ویل پراجیکٹ کا مقصد صومالی برادری میں رنگ گورا کرنے کے طریقوں اور جلد پر کیمیائی مادوں کے استعمال کی روک تھام ہے۔

*دیوی*
سوروتھی پیریاسامے کا تعلق جنوبی انڈین ریاست تامل ناڈو سے ہے۔


24 سالہ انجینیئرنگ گریجویٹ پیریاسامے نے دو سال قبل ہندو مذہب کی دیوی لکشمی (ہندو دیو مالائی افسانوں میں دولت کی دیوی) کی طرح تصویر بنوائی۔

یہ تصویر ایک مہم کا حصہ تھی جس کا نام ’ڈارک اس ڈیوائن‘ تھا۔ اس مہم کا مقصد دیوتاؤں اور دیویوں کو بھی سانولی رنگت کے ساتھ دکھایا جا سکتا ہے۔

جو لوگ زیورات اور ریشم کی ساڑھیوں پر اشتہار بناتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ صرف گوری رنگت والی ماڈلز ہی ان کے اشتہاروں میں کام کریں۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ معاشرے میں ایک سوچ یہ ہے کہ جلد کی رنگت اور امارت آپس میں منسلک ہیں۔

یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں کافی دھوپ پڑتی ہے جس کی وجہ سے آبادی کے زیادہ رتر حصے کی رنگت سانولی ہے۔

*چمکتی جلد*
جب انھوں نے پچھلے سال خوبصورتی کے مقابلے میں شرکت کی تو پیریاسامے کو کہا گیا کہ ان کی جلد ’چمکدار’ ہونی چاہیے۔


ان کا اصل مطلب یہ تھا کہ ’مجھے سکن بلیچنگ کروا لینی چاہیے تاکہ میری رنگت گوری ہو جائے۔‘

نہ تو ان کے پاس پیسہ تھا اور نہ ہی وہ ایسا کرنے کی خواہش مند تھیں۔ اس کے باوجود وہ مس دیوا مقابلے کی ٹاپ 25 خواتین میں آ گئیں۔ یہ مقابلہ جیتنے والیاں دنیا کے بڑے مقابلۂ حسن میں حصہ لے سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دس کلو وزن کم کیا ہے اور اس مقابلے میں دوبارہ حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔

’میں جانتی ہوں کہ میرے جیتنے کے امکانات کم ہیں اور وجہ ہے میری رنگت لیکن میں اپنا شکل و صورت اور رنگت کے بارے میں پراعتماد ہوں۔ مجھے امید ہے کہ میں ان رکاوٹوں کو عبور کر لوں گی۔

نزلہ اور بلغم یا ریشہ دور کرنے کے نسخہ جات

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سخہ نمبر 1
یہ نسخہ بچوں اور بڑوں سب کے لیے انتہائی مفید ہے جو سردی کے موسم میں ہر گھر میں ہونا چاہیے۔
کاکڑہ سنگھی (ایک ماشہ) شکر تبغال ( ایک ماشہ) زنجبیل (ایک ماشہ) پیپلا مول ( ایک ماشہ) تمام کو باریک پیس کر خالص شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں، یہ نہ صرف کھانسی کو آرام دے گا بلکے اُسے جڑوں سے اُکھاڑ پھینکے گا۔
*نوٹ:* یہ تمام چیزیں آپ کو کسی بھی پنسار کی دوکان سے مل جائیں گی۔

*نسخہ نمبر 2*
یہ نسخہ بزرگوں کی عطا ہے جس کا استعمال کھانسی، ریشہ پر فوری قابو پاتا ہے اور تکلیف سے نجات عطا کرتا ہے اس کا استعمال بھی بچوں بوڑھوں سبھی کے لیے انتہائی مفید ہے۔
شربت توت سیاہ ایک چائے کی چمچ، شربت صدوری ایک چائے کی چمچ اور لعوق سپستاں آدھی چائے کی چمچ کو عرق گاؤزبان میں جوش دیکر قہوہ بنا لیں اور صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں، انشااللہ ایک ہی دفعہ کے استعمال کے بعد مرض غائب ہو جائے گا اور طبیعت ہلکی پھلکی ہوئے گی۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

موٹاپے کی وجوہات اور کچھ ٹپس

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انسانی جسم میں وزن کا بڑھ جانا یا انسانی جسم میں وزن کا کم ہو جانا دونوں ہی باتیں تشویش کا با عث ہوتی ہیں۔جس سے انسان کی روز مرّہ کی کارکردگی اور روز مرّہ کے معمولات پر فرق پڑتا ہے۔اور دونوں ہی غیر معمولی اور غیرصحت مندانہ باتیں ہیں۔

وزن کے بڑھنےیا کم ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

*وزن کا بڑھ جانا* :
ضرورت سے زیادہ کھانے ، مرغّن غذائیں ، چٹ پٹی غذائیں ، ایسی غذائیں کھانے سےجس میں چکنائی کی مقدارزیادہ ہو، نشاستہ والی اشیاء کھانے سے، کولڈ ڈرنک کے زیادہ استعمال ، زیادہ میٹھا کھانے ، ہر وقت کھانے کی عادت ، اور غیر متوازن غذائیں کھانے سے انسان کے جسم کا وزن بڑھ جاتا ہے۔

*وزن کا کم ہو جانا*:
اسی طرح ضرورت سے کم کھانے ،غیر متوازن غذائیں کھانے ،مُضرِ صحت غذائیں کھانے سے،یا کسی بھی قسم کا نشہ کرنے اور کسی بھی بیماری کی وجہ سے انسان کے جسم کا وزن کم ہو جاتاہے۔
ہر غذا میں کیلوریز کی ایک خاص تعداد ہوتی ہے۔ جتنی کیلوریز یعنی حراروں کی ضرورت ایک انسانی جسم کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

اگر انسان اُس مقدار یا تعداد سے زیادہ حرارے لے تو وہ فیٹ یعنی چکنائی یا چربی کی شکل میں انسانی جسم میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اور انسانی جسم کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہےاور حد سے تجاوز کرسکتا ہے ۔اسی طرح اگر انسان کے جسم میں کیلوریز یعنی حراروں کی تعداد کم ہو جائے توانسان کا وزن کم ہوجائے گا۔ اور وہ لاغر، کمزوراور بیمار ہو جائے گا ۔

میڈیکل سائنس نے باقاعدہ ایسے گوشوارے ترتیب دے دیئے ہیں کہ عمر ، جنس اور قد کے لحاظ سے کسی انسان کا مناسب وزن کتنا ہونا چاہیئے ۔اسی طرح کیلوریز سے متعلق بھی گوشوارے ترتیب دے دیئے ہیں کہ حجم یا تعداد یا مقدار کے لحاظ سے کس غذا میں کتنی کیلوریز ہوتی ہیں۔

وزن کم یا زیادہ دونوں صورتوں میں انسان بدہئیت ، بدوضع ، بےڈول اور بیمار دکھنے لگتا ہے۔ جب انسان کا وزن بڑھ جاتا ہے تو انسان کا جسم سُستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وزن کا اثر انسان کے ہڈیوں کے جوڑوں پر بھی پڑتا ہے اور اسے چلنے پھرنے ، اٹھنے بیٹھنے میں دقّت ہوتی ہے۔ وزن کا زیادہ ہونا بھی ایک بیماری ہے۔

*وزن کم کرنے کے لیے*
چکنائی والی غذائی یشیاء سے پرہیز کریں ، مرغّن غذاؤں اور چٹ پٹی غذاؤں سے پرہیزکریں۔ جن غذائی اشیاءمیں نشاستہ ہوتا ہے ان کے استعمال سے اجتناب کریں ۔ اپنی غذا میں سلاد کا استعمال لازم کرلیں۔ تازہ سبزیوں خاص کر ہری سبزیوں اور کچّی سبزیوں کا استعمال کریں پھلوں کا استعمال بھی زیادہ کریں۔ ایسے پھل جو چھلکوں سمیت کھائے جا سکتے ہوں انھیں بغیر چھیلے چھلکوں سمیت ہی کھائیں ہروقت کھانے کی عادت چھوڑ کر صرف دو یا تین وقت کا کھانا کھائیں۔ جسمانی کام کریں۔ ورزش کا طریقہ اپنائیں صبح کی سیر اور رات کو چہل قدمی کریں ۔

وزن میں کمی واقع ہو گئی ہو تو متوازن غذا لیں ۔دن میں بار بار کچھ غذائیت سے بھرپور چیزیں کھائیں۔ دودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال نہ صرف طاقت وتوانائی دیتا ہے بلکہ جسم کو فربہ بھی کرتا ہے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

جتنا چاہے کھاؤ اور وزن کم کرو

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*جتنا چاہے کھاؤ اور وزن کم کرو..!*
بس
ایک کام کرو 
Drink your Food
Eat your Water
اپنے کھانے کو پیو
اور پانی کو کھاؤ
پھر 
جو چاہیے کھاؤ
جتنا چاہے کھاؤ

اور
وزن کم کرو...!

یقین کیجئے یہ سچ ہے
یہ  کوئی مذاق نہیں...!

آپ اپنی پسند کا ہر کھانا کھا سکتے ہیں..! 
جتنا چاہے کھا سکتے ہیں..! 
بس
ایک کام کرنا ہے
اور وزن کم کرنے کے لیے
اس سے آسان علاج معلوم بھی نہیں کرنا
سب سے پہلے
بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھئیے 

کھانے سے پہلے
جتنا چاہے پانی پی لیں
لیکن سپ لے کر چھوٹے چھوٹے گھونٹ
ہر گھونٹ پانی کو کچھ دیر منہ میں رکھیں
اور پینے سے پہلے زرا سا منہ میں گھمائیں

اس کے بعد
جو دل چاہے کھائیں جتنا چاہیے کھائیں
مگر یہ وعدہ کریں ہر لقمہ اتنا چبانا ہے کہ حلق میں جانے سے پہلے بالکل پانی کی طرح لکوئڈ بن جائے

ممکن ہے اسے پچیس سے تیس بار چبانا پڑے
اور یا بتیس بار 
ایک لقمہ منہ میں ڈال کر چمچہ ہاتھ سے رکھ دیں،
روٹی کا دوسرا ٹکڑا مت توڑیں
پہلے منہ میں رکھا لقمہ خوب چبا کر
لکوئڈ بن جانے دیں
اس ایک لقمہ کو خوب انجوائے کیجئیے
اس کا ذائقہ محسوس کیجئے
اس کا بھرپور مزا لیجیے
پھر اسے نگل کر 
دوسرا نوالا بنائیں
پھر چمچے کو ہاتھ لگائیں
ہر ایک لقمے کے بعد الحمدللہ پڑھ لیجیے

ایک وقت کا لنچ کم از کم تیس 30 منٹ میں
ڈنر کم از کم چالیس منٹ میں مکمل کیجے
اسی طرح ناشتہ چاہے کچھ بھی کیجئے
بس اطمینان سے
سکون سے
توجہ کے ساتھ
کیا کھا رہے ہیں محسوس کیجئے 
کھانے کے ہر لقمے کا لطف اٹھائیں

میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں
ضمانت دیتا ہوں
ہر  ماہ
حیرت انگیز طور پر
آپ کا وزن کم ہونے لگے گا
کھانے کا لطف آئے گا
زندگی کا لطف آئے گا
کھانا معدہ پر بوجھ نہیں بنے گا
گیس نہیں بنے گی
قبض ختم ہوجائے گی
پیٹ کی تمام بیماریاں ٹھیک ہونے لگے گیں
کھایا پیا جسم کو لگنے لگا گا
جسم سے چربی کم ہوگی، مگر مسلز مضبوط ہونگے

چند روز میں چہرا آپکی صحت کی گواہی دینے لگے گا
کسی مصنوعی میک اپ کے بغیر چمکنے دمکنے لگے گا
جسم کے سارے درد گم ہو جائیں گے
جسم کی تھکاوٹ دور ہوگی
انرجی واپس آئے گی
یورک ایسڈ، کولیسٹرول، بلڈ پریشر کنٹرول میں آنے لگیں گے

کھانے اور پینے کے اس انداز سے آپ کی زندگی
خوشیوں سے بھر جائے گی بے شمار بیماریاں دور ہونگی
ان شاء اللہ
صحت ہوگی تو
دنیا کی ہر نعمت اچھی لگے گی
شکر گزاری پیدا ہوگی گی تو
دنیا کی ہر نعمت آپ کی جانب رخ کر لے گی

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

بچوں کو غیبت کا زہر نہ پلائیں

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غیبت کرنا ایک بڑا گناہ، اور ہلاکت خیز برائی ہے، اس کی زہرناکیاں بہت زیادہ ہیں، یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ جب بڑے لوگ بچوں کے سامنے بڑوں کی غیبت کرتے ہیں، تو غیبت کا زہر کس طرح بچوں کی رگوں میں سرایت کرجاتا ہے، اور پھر ان کی کتنی مسموم اٹھان ہوتی ہے۔

ایک خاتون کو اپنے سسرالی رشتے داروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرنے کا خاص شوق تھا، ان کے گھر جب کوئی پڑوسن یا سہیلی یا میکے کا کوئی رشتے دار آتا تو وہ جی بھر کر اپنے سسرالی رشتے داروں کی غیبت کیا کرتی تھیں، ان کے بچے بھی غور سے ان کی غیبتوں کو سنا کرتے تھے، بچے ذرا بڑے ہوئے تو انہوں نے خود ان بچوں سے ان کے دادا دادی، چچاؤں چچیوں اور پھوپھیوں کی برائیاں اور خامیاں بیان کرنا شروع کردیا۔

بڑے ہوتے ہوتے لڑکوں کا ذہن یہ بنا کہ ان کے خاندان کے سب لوگ بہت خراب، ان کے بدخواہ اور ان کے والدین کی حق تلفی کرنے والے ہیں، پورے خاندان میں صرف ان کے امی ابو اچھے ہیں، باقی سب خراب ہیں۔ کچھ عرصے بعد ان کے دل سے ان کے امی ابو کا احترام بھی کم ہونے لگا، کیونکہ فطری طور پر یہ باور کرنا ممکن نہیں تھا کہ دادا دادی اور سارے چچا اور ساری پھوپھیاں تو خراب ہیں اور صرف ابو جان گندگی کے ڈھیر میں گلاب کا پاکیزہ پھول ہیں۔ احترام کا پورا محل کھنڈر بن جائے تو ایک سالم دیوار بھی بدنما ہی لگتی ہے۔ ماں نے خاندان کے تمام بزرگوں کی وقعت گرائی، لیکن ساتھ ہی باپ کی وقعت بھی مٹی میں مل گئی، وہ وقت بھی آیا جب ان بچوں نے اپنے باپ کی پگڑی اچھالی، اور ماں کے ساتھ بدکلامی کی۔

لڑکیوں کا ذہن یہ بنا کہ سسرال ایک ایسا گھر ہوتا ہے، جس میں شوہر کے سوا سب لوگ نہایت شرپسند اور قابل نفرت ہوتے ہیں، ان سے جس قدر دور رہا جائے اتنا بہتر ہے۔ انہوں نے پہلی ہی نظر میں ساس اور نندوں کو چڑیلوں کی صورت میں دیکھا، اور کبھی انہیں آزمانے کی زحمت بھی نہیں کی۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ عین مشاہدہ ہے، اور ایک خاتون کی نہیں، بہت سارے گھروں کی کہانی ہے۔

میں ایک ایسی خاتون سے بھی واقف ہوں جس نے اپنے بچوں کے سامنے اپنے سسرالی رشتے داروں کی ہی نہیں بلکہ اپنی سوکن کی بھی ہمیشہ تعریف کی، بچوں کے دل میں دادا دادی کا احترام ایک عقیدے کی طرح بٹھایا۔ کبھی بچوں نے کسی پھوپھی یا چچی کی شکایت کرنے کی جرأت کی تو اس کو سختی سے ٹوک دیا، انجام کار خاندان کے سارے بزرگوں کا احترام کرنے والے بچے اپنے والدین کے احترام میں بھی پیش پیش رہے۔ بزرگوں کے احترام کے عالیشان مینار وقت کے ساتھ اور بلند ہوتے چلے گئے۔

جن بچوں کی تربیت غیبت کے سائے میں ہوتی ہے وہ زہریلے پودے کی طرح ہوجاتے ہیں، پھر ان سے کسی خیر کی امید رکھنا مشکل ہوتا ہے، ان کی نظر میں ہر شخص نہایت برا، خود غرض اور قابل نفرت ہوتا ہے۔ جبکہ انہیں بچوں کے معصوم ذہن کو اگر غیبت کے زہر سے بچائیں اور ان کے دلوں میں رشتے داروں کے لئے احترام اور محبت کو پروان چڑھائیں اوران کے سامنے دل کھول کر ان کے بڑوں کی خوبیوں کو بیان کریں تو وہ پورے خاندان کے لئے ایک سایہ دار درخت بن جاتے ہیں جس کے پھول بہت خوشبودار اور پھل نہایت شیریں ہوتے ہیں۔

غیبت کی زہرناکیوں نے اسلامی تحریک کو بھی بہت نقصان پہونچایا ہے، ایسے تحریکی بزرگوں سے میں واقف ہوں جن کی نجی مجلسوں اور گفتگووں میں بہت سارے رفقائے تحریک کی جم کر غیبت ہوا کرتی تھی، کسی کے کردار پر ضرب لگائی جاتی تھی تو کسی کی نیت پر حملہ کیا جاتا تھا، کسی کے معیار کو پست بتایا جاتا تھا تو کسی کے افکار میں کیڑے نکالے جاتے تھے، یہ غیبتیں ان کے بچے بھی غور سے سنا کرتے تھے، آخر بچوں کا ذہن یہ بنا کہ اسلامی تحریک میں نیچے سے اوپر تک سب لوگ بدعنوان اور مفاد پرست ہیں، تحریک اپنے راستے سے ہٹ گئی ہے اور منزل کو بھول گئی ہے، صرف ہمارے ابوجان اور ان کے دوچار دوست ہیں جو تحریک کے مخلص اور اس کے نصب العین کے امین ہیں۔ ہمارے ابوجان نے تحریک کے لئے بڑی قربانیاں دیں، لیکن لوگوں نے ذرا قدر نہیں کی۔ غرض یہ کہ تحریک کے گہوارے میں ایسی نسل تیار ہوئی جو تحریک کی قیادت کو مفاد پرست اور تحریکی کیڈر کو غیر مخلص سمجھتی تھی، اس کے خیال میں اس کے ابو نرے احمق تھے جو ایسے غلط لوگوں کے درمیان پھنس گئے تھے۔ چنانچہ نئی نسل نے خود کو اس ’’حماقت‘‘ سے دور رکھا۔

غیبت کا شوق فرمانے والے اگر ذرا سا غور کرلیں کہ ان کی غیبت کی وجہ سے ان کے بچوں کی شخصیت میں کس قدر ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، تو شاید اپنے بچوں کے اچھے مستقبل اور خوبصورت شخصیت کی خاطر ہی اس برائی سے خود کو پاک کرلیں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

دانتوں، مسوڑھوں کے امراض

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ڈاکٹر سیّد محمّد کیفی اقبال کا شمار ڈینٹیسٹری کی فیلڈ’’ڈینٹل میڑیل سائنسز‘‘ کے بانیان میں ہوتا ہے۔انہوںنے1997ء میں بقائی میڈیکل کالج، کراچی سے بیچلرز آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کرنے کے بعد2004ء میں یونی ورسٹی آف لندن(کوئین میری) سےایم ایس سی اور2011ء میں بقائی میڈیکل یونی ورسٹی، کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ اس کے بعد کیریئر کا آغاز 1999ء میں بقائی میڈیکل یونی ورسٹی سے بطور لیکچرار کیا۔ بعدازاں 2014ء میں جناح سندھ میڈیکل یونی ورسٹی کی فیکلٹی آف ڈینٹیسٹری سے بہ حیثیت پروفیسر اور ڈین وابستہ ہوگئے اور تاحال ان ہی عُہدوں پر فائز ہیں۔ڈاکٹر کیفی نے پاکستان میں پہلی بار ڈینٹل کمپائونڈنگ کا طریقۂ کار (Concept of Dental Compounding)متعارف کروایا۔واضح رہے کہ ڈینٹل کمپائونڈنگ کی اصطلاح سے مُراد دانت کا کوئی ایسا مرض ہے، جس کی دوا دستیاب نہ ہو اوراُس کے علاج کے لیے باقاعدہ ایک فارمولا تیارکرنا پڑے۔ڈاکٹر کیفی پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن، سینٹرل کاؤنسل کے سینئر وائس پریذیڈنٹ بھی رہ چُکے ہیں،جب کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پران کے 42سائنٹیفک پیپرز کے علاوہ دو کتب بھی شایع ہوئی ہیں۔

انسانی جسم مختلف اعضاء کا مجموعہ ہے اور ہر عضو کی اپنی ہی افادیت ہے۔ دانت، مسوڑھے، مُنہ اور زبان وہ اعضاء ہیں، جو مختلف افعال انجام دینے کے ساتھ نظامِ انہضام کا بھی ایک اہم حصّہ ہیں، لیکن عمومی طور پر لوگ ان کی طرف سے لاپروائی ہی برتتے ہیں۔ حالاں کہ بعض اوقات معمولی سی کوتاہی بھی دانتوں کے مختلف عوارض کا سبب بن سکتی ہے۔ دانتوں کے عوارض، ان کے علاج معالجے اور دیکھ بھال سے متعلق ہم نے معروف ڈینٹل سرجن، جناح سندھ میڈیکل یونی ورسٹی، کراچی کی فیکلٹی آف ڈینٹیسٹری کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر سیّد محمّد کیفی اقبال سے خصوصی بات چیت کی، جس کی تفصیل پیشِ خدمت ہے


*س: دانتوں کے امراض اس قدر عام کیوں ہو رہے ہیں؟*
ج:دانتوں کے عوارض عام ہونے کی بڑی وجہ منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنا ہے۔ یہ بھی مشاہدے میں ہے کہ زیادہ تر افراد تب تک کسی ڈینٹیسٹ کے پاس نہیں جاتے، جب تک تکلیف شدّت اختیار نہ کرلے،حالاں کہ دانتوں کی کوئی تکلیف ہو یا نہ ہو، ہر چھے ماہ بعد دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا ضروری ہے۔پھر پاکستان میں چوں کہ پان، گٹکے، مین پوری اور چھالیا وغیرہ کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے، تو منہ کے عوارض، خاص طور پر منہ کا سرطان ایک عام مرض کی صُورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق منہ کے سرطان سے متاثرہ مُمالک میں پاکستان اب دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے، جب کہ یہ مرض تین سے چار سال کے اندر موت کا پروانہ بن جاتا ہے۔

*س:دانتوں کے عام عوارض کون سے ہیں اور ان کی ابتدائی علامات کیا ہوتی ہیں، جن کی بدولت تشخیص ممکن ہو سکے؟*

ج:زیادہ تر افراد درد کی شکایت کے ساتھ ہی معالج سے رجوع کرتے ہیں۔ تب ایک ماہرمعالج سب سے پہلے یہ تشخیص کرتا ہے کہ درد کی اصل وجہ کیا ہے۔عمومی طور پر یہ درد دانت ، گال، زبان یا پھر تالوکے کسی مسئلے کے باعث ہوسکتا ہے۔بہرحال،حتمی تشخیص کے بعد ہی علاج کیا جاتا ہے۔ تاہم، جو عوارض عام ہیں، اُن میں دانت میں کیڑا لگنا یادانت کاسڑجانا، دانت میں سوراخ یا درد ہونا، مسوڑھوں کی سوزش، ٹھنڈا، گرم لگنا، پائیوریا(ماس خورا) دانتوں پر میل جمنا یا بد رنگ ہوجانا اورمنہ سے بدبو آنا وغیرہ شامل ہیں۔

*س:ان عوارض کی وجوہ اور علاج معالجےسے متعلق بھی کچھ بتائیں؟*

ج: دانت میں کیڑا لگنےیا دانت سڑنے کی وجہ مُنہ میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے جراثیم یا بیکٹیریا ہیں، جو دانتوں کی سطح پر نہ صرف تیزابیت پیدا کرتے ہیں،بلکہ ان کی سخت تہہ کو بھی متاثر کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ابتدائی مرحلے میں دانت کا کچھ حصّہ متاثر ہو کر سیاہ پڑ جاتا ہے۔ یہ تکلیف طبّی اصطلاح میں ڈینٹل کیریز کہلاتی ہے، جو آگے چل کر دانت میں گڑھے یا سوراخ کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ اگر مرض ابتدائی مرحلے میں ہے، تو فِلنگ کردی جاتی ہے، بصورتِ دیگر آر سی ٹی کا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی وجہ سے دانتوں کی حفاظتی سطح متاثر یا مسوڑھے کم زور ہوجائیں، تو کوئی بھی کھانے پینے کی ٹھنڈی یا گرم شے دانتوں کو شدّت سے محسوس ہوتی ہے، جسے "Sansitivity"کہتے ہیں۔ پائیوریامیں دانتوں کی جڑیں کم زور ہو جاتی ہیں اور دانت ہلنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً کھانے پینے میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔ اس کا علاج اسکیلنگ ہے۔ مُنہ سے بدبو آنے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً بعض خواتین کو دورانِ حمل یہ شکایت ہوجاتی ہے، جو زچگی کے بعدخودبخود ختم بھی ہو جاتی ہے، جب کہ ذیابطیس، جگر، معدے اور گُردوں کے عوارض میں مبتلا مریضوں کے منہ سے بھی بدبو آتی ہے ،مگر ہر مرض کی بُو مختلف ہوتی ہے،جسے ایک ماہر معالج شناخت کرکے اُسی کےمطابق علاج کرتا ہے۔

*س:کیا دانتوں کے مختلف عوارض کے علاج معالجے کےلیے بھی الگ الگ اسپیشلیسٹس ہوتے ہیں؟*

ج:جی، بالکل ایسا ہی ہے۔جیسے دانت نکالنے کے ماہر اورل سرجن(Oral surgeon)کہلاتے ہیں، تو آر سی ٹی کے ماہرکو اینڈوڈونٹیسٹ(Endodontist)کہا جاتا ہے۔اسی طرح ڈینچر(Denture) یعنی نقلی بتیسی بنوانے کے لیے پروستھو ڈونٹیسٹ (Prosthodontist) کے پاس ریفر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جب بھی کسی ڈینٹیسٹ کے پاس جائیں، تو اس سے اس کی اسپیشلیٹی اور اپنے مرض کے بارے میں ضرور پوچھیں۔ نیز، جو آلات استعمال کیے جارہے ہیں، وہ اسٹرلائز ہیں یا نہیں، یہ بھی لازماً پوچھا جائے۔

*س:کیا دانت کا کوئی مرض موروثی بھی ہو سکتا ہے؟ اور کیا معدے کی خرابی کا کوئی تعلق، دانتوں کے امراض سے بھی ثابت ہے؟*

ج: دانت کاکوئی مرض براہِ راست تو موروثی نہیں ہوتا، لیکن اگر فیملی ہسٹری میں ذیابطیس ہونےیا پھر کسی اور مرض کی وجہ سے دانت متاثر ہوئے ہوں، تو وہ مرض اگلی نسل میں منتقل ہو کر دانت متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ البتہ دانت باہر کی جانب نکل آناکسی حد تک موروثی ضرورہے۔ رہی بات معدے کی خرابی کےدانتوں سے تعلق کی، تو اس سے انکار نہیں۔ کئی کیسز میں معدے کی خرابی ہی دانتوں کے عوارض کاسبب بنتی ہے۔

*س:کیا ہمارے یہاںمریضوں کی تعداد کی نسبت ماہرین کی تعداد تسلی بخش ہے؟*

ج:ہر گز نہیں۔ اس وقت پاکستان بَھر میں25ہزارڈینٹیسٹس رجسٹرہیں،تواس اعتبار سےآٹھ ہزار مریضو ںکے لیےبہ مشکل ایک ڈاکٹردستیاب ہے۔

*س: فلورائیڈ کی کمی کے باعث جنم لینے والے دانتوں کے مختلف عوارض کون کون سے ہیں؟*

ج:دیکھیں، ہمارے مُلک میں فلورائیڈ کی کمی تو نہیں، البتہ زیادتی کے باعث دانتوں کے مختلف عوارض لاحق ہوجاتے ہیں،جس کی ایک وجہ ٹوتھ پیسٹس ہے۔ بدقسمتی سے ہر دوسرے ٹوتھ پیسٹ پر نمایاں طور پر درج ہوتا ہے، ’’فلورائیڈ کے ساتھ‘‘۔ ہماری 70فی صد آبادی گائوں دیہات میں آباد ہے، جہاں کنووں،نلکوں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے، جس میں فلورائیڈ خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے،اور اسی وجہ سے ان لوگوں میں فلوروسس ڈیزیز (Fluorosis Disease) عام ہے۔ یہ مرض ہڈیوں اور دانتوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اب اگر ٹوتھ پیسٹ بھی فلورائیڈ والا استعمال کیا جا رہا ہو، تو اس کے مضر اثرات بھی ظاہر ہوں گے۔ اس ضمن میں ہر سطح تک آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔پھرکئی ٹوتھ پیسٹس میں اسٹرائیڈز بھی پائے جاتے ہیں، جن کے استعمال سےکسی تکلیف سے فوری افاقہ تو ہوجاتا ہے،لیکن بعد میں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ پہلے لوکل ٹوتھ پیسٹس پر پاکستان ڈینٹل کاؤنسل کی مُہرلگی ہوتی تھی۔ اب آپ کو وہ مُہربھی نظر نہیں آئے گی۔

*س:دانت پیسنے کی وجہ کیا ہے اور یہ دانتوں پر اثرانداز ہوتو ردِّ عمل کیا ہوسکتا ہے؟*

ج:اس کی بنیادی وجہ اسٹریس ہے۔ اِس عادت کے سبب دانت گِھس جاتے ہیں، تو "TMJ:Temporomandibular joints"میں درد کی شکایت ہوجاتی ہے۔ یاد رہے،ٹی ایم جے ہمارے چہرے کا سب سے بڑا جوڑ ہے اور دانت پیسنے کا عمل دانتوں سے کہیں زیادہ اس جوڑ پر اثر انداز ہوتا ہے۔

*س:عام طور پر بچّے دانت نکالنے کی عُمر میں مسوڑھوں پر زبان پھیرتے رہتے ہیں، کیا اسی سبب دانت ٹیڑھے نکلتے ہیںاور اس صورت میں مائوں کو کیا کرنا چاہیے؟ نیز،ماضی کی نسبت آج کل کے بچّوں کے دانت زیادہ خراب کیوں نکل رہے ہیں؟*

ج:بچّوں کا مسوڑھوں پر زبان پھیرنا ایک فطری عمل ہے، جو نقصان دہ نہیں۔اصل میں جن بچّوں کے دودھ کے دانت قبل از وقت کسی بھی وجہ سے ٹوٹ جائیں، تو ان کے پکّے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں۔تاہم، مائوں کو چاہیے کہ وہ اس عُمر کے بچّوں کو انگلی، انگوٹھا یا ہونٹ چُوسنے سے منع کریں، کیوں کہ ان عادات کے سبب دانت آگے کی جانب نکل آتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بہت سی مائیں جب بچّوں کو فیڈر کے ذریعے دودھ پلاتی ہیں، تو بچّہ عموماً نِپل منہ میں رکھ کر سو جاتا ہے اور ماں، بچّے کی نیند خراب نہ ہونے کے خیال سے فیڈر منہ سے نہیں نکالتی،جو بہت غلط ہے۔ اس سے بچّے کے پورے دانت متاثر ہوسکتے ہیں۔ رہی بات دانت خراب نکلنے کی، تو ماضی میں مسواک کا استعمال عام تھا اور بڑے ہی نہیں، بچّے بھی اس کا استعمال ذوق و شوق سے کرتے تھے۔مسواک، دانتوں کے لیےفائدہ مند ٹوتھ پیسٹ ہی کا کام نہیں کرتی، ایک بہترین ٹانک بھی ہے۔

*س:کیا مسواک، ٹوتھ پیسٹ کی نسبت بہتر ہے؟*

ج: جی بالکل۔ اب ترقّی یافتہ مُمالک میں تو ٹوتھ پیسٹ کی جگہ مسواک کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس ہم مسواک ترک کر کے ٹوتھ پیسٹ کو فوقیت دے رہے ہیں۔نیز، ایک جدید تحقیق کے مطابق دانتوں کے عوارض میں مختلف اقسام کی مسواک کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوا ہے، لیکن مسواک سے علاج کے ضمن میں معالج سے مشورہ ضروری ہے۔

*س:اکثر لوگ ڈینٹیسٹ سے کہتے ہیں کہ ’’دانت میں کیڑا لگ گیا ہے یا کیڑےنے دانت خراب کر دیا ہے‘‘تو کیا واقعی دانت میں کیڑا لگ جاتا ہے؟*

ج:طبّی اصطلاح میں اس مرض کو ڈینٹل کیریز کہاجاتا ہے۔ کیڑا لگنے سے مُراد، دانت پر جراثیم کا حملہ آور ہونا ہے اور چوں کہ ماضی میں اس عارضے کو دانت میں کیڑا لگنا کہا جاتا تھا،تو اب تک یہی اصطلاح عام ہے۔

*س:کہتے ہیں، 18،19سال کی عُمر میں ’’عقل داڑھ‘‘ نکلتی ہے اور شدید تکلیف کے ساتھ نکلتی ہے،یہ درست ہے؟*

ج:جی بالکل،عقل داڑھ نکلتی ہے، اور اس کا تکلیف کے ساتھ نکلنا ایک قدرتی عمل ہے، جو پریشانی کا باعث نہیں۔ ہاں، زیادہ درد کی صُورت میں معالج کے مشورے سے دوا وغیرہ استعمال کرلی جائے،تو بہتر ہے۔ویسے لازمی نہیں کہ عقل داڑھ سب ہی کی نکلے اور پوری نکلے۔ بعض اوقات یہ داڑھ آدھی یا ٹیڑھی بھی نکل آتی ہے۔

*س:دانت کا درد عموماً رات ہی میں کیوں شدّت اختیار لیتا ہےاور گھریلو ٹوٹکوں مثلاً لونگ وغیرہ کا استعمال کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوتا ہے؟*

ج:دانت کا درد جب رات میں شدّت اختیار کرتا ہے، تو اسے طبّی اصطلاح میں Closed Pulpitisکہا جاتا ہے۔ اصل میںجب ہم سونے کے لیے لیٹتے ہیں، تو خون کا دبائو نیچے کی جانب زیادہ ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے درد شدّت اختیار کر لیتا ہے۔ رہی بات لونگ وغیرہ کی، تو اس کی افادیت سے انکار نہیں۔ ہمارے پاس کئی ایسے میٹریل ہیں، جن میں لونگ کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔

*س:بچّوں میں دانتوں کے کون کون سے امراض عام ہیں؟*

ج:سب سے عام مرض تو کیڑا لگنا ہی ہے۔یہاں میں ماؤں سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے شیرخوار بچّوں کے بھی منہ کی صفائی پر دھیان دیں۔یعنی دودھ پلانے کے بعد ان کے مسوڑھے ململ کے سفید کپڑے سے لازماً صاف کریں۔ اسی طرح بچّے کو دِن میں ایک بار میٹھی اشیاء جیسے چاکلیٹ وغیرہ چاہےزیادہ مقدار میں کھانے کے لیے دے دیں، مگر بار بارنہ کھانے دیں۔ کیوں کہ میٹھی اشیاء کا زائد استعمال دانتوں کے لیےمضر نہیں، مگر دِن بَھر وقفے وقفے سےکھانا نقصان دہ ہے۔

*س:آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ، برش تجویز کریں گے اور برش کرنے کا آئیڈیل وقت کون سا ہے؟*

ج:پہلی بات تو یہ کہ کوئی بھی ایک پیسٹ مستقل طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ جس طرح ایک ہی اینٹی بائیوٹک بار بار استعمال کرنے سے بے اثر ہو جاتی ہے، اسی طرح ایک ہی برانڈ کی پراڈکٹ مستقل استعمال کرنے سے اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ برش کرنےکا آئیڈیل وقت رات سونے سے قبل اور صبح ناشتے کے بعد کا ہے، لیکن ایک بات کا دھیان رہے کہ سونے سے ایک گھنٹہ قبل کچھ کھایا نہ جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سونے سے قبل دودھ کا گلاس پیا، ٹوتھ برش کیا اور پھر فوراً سوگئے۔ یہ غلط ہے، کیوں کہ جب ہم دودھ پی کر یا کوئی شے کھا کر برش کرتے ہی سو جاتے ہیں، تو تیزابیت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دانتوں کا کوئی مرض لاحق ہوسکتا ہے،البتہ سونے سے قبل پانی پینے میں کوئی حرج نہیں۔ رہی بات ٹوتھ برش کرنے کے طریقے کی، تو برش کے ایک سے دوسرے سرے تک پیسٹ لگانے کی بجائے مٹر کے دانے کے برابر لگائیں۔ پھر سامنے سے مسوڑھوں اور دانتوں کے درمیان برش رکھ کر، نیچے سے اوپر کی جانب اور اوپر سے نیچے کی جانب کم از کم دس بار برش کریں اور زبان بھی لازماًصاف کی جائے۔

*س:روٹ کینال تھراپی کیا ہے؟*

ج:جب ڈینٹل کیریز دانت کے Pulpتک رسائی حاصل کر لیں، تو پھر روٹ کینال تھراپی کی جاتی ہے۔اس طریقۂ علاج میں دانت کی جڑ کو جراثیم سے اچھی طرح پاک کیا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں روٹ کینال تھراپی ایک ہی دِن میں مکمل ہو جاتی ہے، تو کبھی دو سے چار دِن بھی لگ سکتے ہیں۔

*س:بار بار اسکیلنگ کروانا دانتوں کے لیے سود مند ہے یا نقصان دہ؟*

ج:قطعاً سود مند نہیں۔ اگر ضرورت ہےتو کروائیں، شوقیہ طور پر ہرگز نہیں، کیوں کہ اس عمل سے دانت کا قدرتی اینامل گِھس جاتا ہے، جو دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتا۔

*س:آرتھوگنیتھک سرجری (Orthognathic Surgery)کیا ہے اور کیوں کی جاتی ہے؟*

ج:اس طریقۂ علاج میں مسوڑھے کی ہڈی، جو باہر کی جانب نکلی ہو، اُسے نارمل حالت میںلایا جاتا ہے۔ اس سرجری میں ایک پوری ٹیم شامل ہوتی ہے۔ آرتھوگنیتھک سرجری اور ایمپلانٹ دونوں ہی مہنگے طریقۂ علاج ہیں۔ پاکستان میں آرتھوگنیتھک سرجری بہت کم کروائی جاتی ہے،جس کی ایک وجہ اسپیشلیسٹس کا کم ہونا بھی ہے۔

*س:گائوں، دیہات ہی نہیں، شہروں میں بھی کئی مریض سڑک کنارے بیٹھے ’’دانتوں کے مستند معالجین‘‘ سے علاج کرواتے ہیں، تو ان اتائیوں کے حوالے سے بھی کچھ بتائیں؟*

ج:بدقسمتی سے ان اتائیوں کے خلاف کئی تحریکوں نے زور پکڑا، مگر عملی طور پر کچھ نہ ہو سکا اور اب تو چوں کہ بعض اتائیوں کے بچّے باقاعدہ طورپر ڈینٹیسٹری کی تعلیم حاصل کر کے’’طبیبِ دندان بن‘‘چُکے ہیں، تو انہیں اپنی دکان چلانے کے لیے مستند معالج کا لائسنس بھی حاصل ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اتائیوں کو کمائی کے لیے کوئی مناسب متبادل فراہم کیا جائے۔

*س:کراچی میں بعض مقامات پر عام دکانوں کی طرح ایک لائن میں ’’ڈینٹل کلینکس‘‘قائم ہیں۔ جن پر موٹے موٹے حروف میں ’’چائنا کا مشہور دندان ساز ‘‘لکھا نظر آتا ہے، تو یہ کیا ماجرا ہے؟*

ج:اصل میں جو طلبہ بی ڈی ایس کرتے ہیں، انہیں اُردو میں ’’طبیبِ دندان‘‘ کہا جاتا ہے اور جو ٹیکنیشنز ہوتے ہیں، وہ دندان ساز کہلاتے ہیں۔ تو یہ سب ٹیکنیشنز ہی ہیں، معالجین نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بیش تر ٹیکنیشنز بھی نہ ہوں۔ یہ سب اتائیوں کے مختلف رُوپ ہیں،لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ ان کے جھانسے میں ہرگز نہ آئیں۔

*س:دیکھ بھال کے ضمن میں دانت خاصی احتیاط کے متقاضی ہیں، تو ان کی طویل، صحت مند عُمر کے لیے کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ؟*

ج:ہر چھے ماہ بعد دانتوں کا معائنہ ضرور کروائیں، چاہے معمولی سی تکلیف ہو، نظر انداز نہ کریں۔ پان، چھالیا، گٹکےاور مین پوری کا استعمال ترک کر دیں۔ نیز، ٹوتھ پِکس کے استعمال سے بھی گریزکریں، کیوں کہ یہ مسوڑھوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔ ان کی بجائے ڈینٹل فلاس (Dental Floss) کے ذریعے دانتوں کی درمیانی سطح اور مسوڑھوں کو صاف کر لیا جائے۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget