صدقہ اور خوش گفتاری
حضرت عدی بن حاتم رضی اللَّہ عنہ سےروایت ھے رسول اللَّہ ﷺ نےفرمایا تم میں سے ہر شخص سے (براہ راست)اس کا رب ہم کلام ھو گا ،اسکے اور رب کے درمیاں کوئی اور ترجمان نہیں ھو گا، پس انسان اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آپنے آگے بھیجے ھوے عمل ہی نظر آئیں گے ،بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے کرتوت دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو جہنم کی بھڑکتی ھوئ آگ اسکے چہرے کے سامنے ھو گی ،پس تم آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی ھو(یعنی اسکا صدقہ کرکے)،اگر اسکی بھی طاقت نہ ھو تو اچھی بات کے ذریعےسے(دوزخ سے بچو)۔
صحیح بخاری شریف۔
(ہر شخص فرداًفرداً اللَّہ کے حضور پیش ھو گا اور اکیلے ہی جواب دہی ھو گی اس وقت جو اعمال دنیا میں کیے صرف وہی کام آئیں گے اس لئے صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ھے کہ صدقہ اور خوش گفتاری ہی نجات کا ذریعہ بن سکتی ھے اللَّہ عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین)
ایک تبصرہ شائع کریں