پلاسٹک
دنیا میں ہر سال ۳۰۰ ملین ٹن پلاسٹک کی اشیا بنائی جا رہی ہیں اور ان کا ایک انتہائی چھوٹا حصہ ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ باقی سارا پلاسٹک سال ہا سال کے لئے لینڈ فِل میں رہتا ہے یا سمندری مخلوق کو تباہ کرتا ہے۔ ریسرچز کہتی ہیں کہ ۲۰۵۰ تک سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک پایا جائے گا۔ اور ۲۰۵۰ بس ۳۰ سال کے فاصلے پر ہے۔ دنیا کی فکر تو جانے دیں، اپنی سگی اولاد کے لئے ہم کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں، اتنا سوچیں۔
جو تین چیزیں ڈی کمپوز ہونے میں سب سے زیادہ وقت لیتی ہیں ، ان میں سب سے پہلا نام پلاسٹک بیگ ہے۔ حکومت بین کرے گی تو ہم مجبورا چھوڑ دیں گے، لیکن خود نہیں چھوڑیں گے۔ اوسطا ایک بیگ صرف گیارہ منٹ انسان کے ہاتھ میں استعمال ہوتا ہے۔ اور ڈھیر کیمیکلز اور ٹاکسنز ماحول میں چھوڑتا، کوئی ۵۰۰ سے ہزار سال لیتا ہے ختم ہونے میں۔ گیارہ منٹ کے استعمال کی کیا قیمت ادا کر رہے ہیں آپ؟ کپڑے کا بیگ استعمال کر لینا ایسا کیا مشکل ہے؟ ہمارے بزرگ گھر سے ٹوکریاں لے کر جاتے تھے، اس وقت تو ہر گھر میں گاڑی بھی نہیں تھی۔
دوسرے نمبر پر پلاسٹک کی بوتلیں جنہیں ختم ہونے میں ۷۰ سے ۴۵۰ سال لگتے ہیں۔ ہر گھنٹے میں ۲۵۰،۰۰۰ بوتلیں پھینکی جاتی ہیں۔ ہر منٹ میں تقریبا ۴۱۶۶۔۔ لینڈ فِل کا پچاس فیصد پلاسٹک کی بوتلوں سے بھرا ہے۔ پانی کے لئے؟ گھر سے پانی لیجائیں بوتل بھر کے۔ جوس کے لئے؟ چینی، رنگ، اور مصنوعی ذائقے سے بھرا وہ جوس تو آپ بہتر صحت کی خاطر چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔ ہمارے شیمپو، کنڈیشنر، فیس واش، اور جانے کیا کیا۔۔۔ انکے بہتر متبادل ڈھونڈیے جو آپ کی جلد کیلیے بھی بہتر ہوں، ماحول کیلیے بھی۔
تیسرا نمبر ڈائپرز کا ہے جنہیں ختم ہونے میں ۵۰۰ سال تک لگ جاتے ہیں۔ سالانہ ۴۵۰ بلین ڈایپرز کوڑے میں بھینکے جاتے ہیں جو قریبا" ۷۷ ملین ٹن گندگی بنتی ہے۔ آپ کا اس میں کیا حصہ ہے؟ ایک بچہ پاٹی ٹرین ہونے سے پہلے اوسطا" سات ہزار ڈائپرز استعمال کرتا ہے۔
ہم زمین میں خلیفہ بنا کر بھیجے گئے تھے نہ کہ فساد فی الارض برپا کرنے۔
Forget about diamonds - plastic is forever
ایک تبصرہ شائع کریں