اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جولائی 2019

*13 سے 19 سال کے ٹین ایج لڑکے....!*

خضر اور میران
جب ٹین ایج میں داخل ہوئے
تو انہیں کچھ باتیں خاص طور پر  سمجھائی گئی

*مثلاً*
1⃣  سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اصرار اس بات پر رہا کہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھنا اس لئے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں
صرف دیکھتے ہیں
کہتے کچھ نہیں مگر

*نمبر کٹ جاتے ہیں..!*

2⃣  دوسری بات
ڈیڈورنٹ ضرور لگایا کرو
آپ کے پاس سے کوئی بری اسمیل نہیں آنی چاہیے
کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر
آپ کے دوست، اسکول فیلو، ساتھ سفر کرنے والے ہمسفر
آفس کولیگ اس سے سخت پریشان ہونگے
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں..!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے مگر
*نمبر کٹ جائیں گے...!*

3⃣  اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھنا
منہ سے آنے والی بدبودار سانس
آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہے
مگر
لوگ بولیں گے نہیں..!
آپ کو کہہ نہیں سکتے کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں
لیکن
*نمبر کٹ جائیں گے..*!

4⃣  گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے
ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں
گردن بہت اچھی طرح مل کر دھونی ہے
کوئی میل نظر نہ آئے
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے
دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے
لیکن

*نمبر کٹ جاتے ہیں..!*

5⃣  پھر
ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی
ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک چہرا سر نہیں کھجانا
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے
ایسا کرسکتے ہیں
مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے
تو انگلی سے نہیں الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے
کھجا سکتے ہیں
سیدھے ہاتھ سے تو ھرگز نہیں
جس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہے
اس سے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھنا
کیونکہ
*نمبر..............!*

6⃣ اسی طرح
جسم کے مخصوص حصوں پر کبھی ٹچ نہ کرنا

📝  چند مزید ھدایات جو کہ یاددہانی کے لئے اکثر دھراتے رہیں
🎗  *چاہے شلوار ہو یا پینٹ*
*انڈروئیر ضرور پہنو*

🎗   گھر سے باہر جاتے وقت
منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار روانہ مت ہو
🎗  اپنا منہ ہاتھ دھو کر بال بنا کر درست لباس
اچھے شوز پہن کر جاؤ چاہیے *قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نا لانا ہو*
شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں
🎗  آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس سخت معیوب لگتی ہیں
🌷 خاص طور پر مسجد جاتے ہوئے
شلوار قمیض میں ہونا چاہیئے
🌷  آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے
وہ بھی
*کچھ کہہ نہیں سکتے*
مگر
*آپ کی تربیت پر دل ہی دل میں کوستے ضرور ہیں*

🎗  گھر کے اندر کا لباس بھی
باوقار ہونا چاہئے
*ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں*
*کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا*

📍 بہنوں کے کمرے میں بلاوجہ نہیں بیٹھنا

📍 اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھو
*انہیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آو*

🎗  اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں
جب یہ ٹین ایج میں داخل ہوئے تو بازار سے ریزر بلیڈز لا کر دیئے اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھایا کہ کس طرح
اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں

🎗  *اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھنا*
پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان *طریقہ* یہ ہے کہ
*اپنا ہاتھ پورا بازو کھول لیں*
*یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے*
*نا کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں  جائیں*
*یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں*
*نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں*

🤝🏻  یقیناً سفر میں کار بس جہاز کی سیٹ کا معاملہ زرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنا چاہیے

🎗  بچوں کو
سمجھایا ہے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں
سب سے پہلے
ایک سانس میں
یہ *چار باتیں* بتا دیں
*سلام، نام، جگہ، کام*

♻  یعنی پہلے سلام کریں
🔅 پھر اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں
🔅 پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
*آپ سے بات ہوسکتی ہے*..؟
*میں اندر آسکتا ہوں*..؟
*یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں*..؟
*اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی صحیح..*!

🔊  *بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا*
کیونکہ

" *یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے*"

          *ایک بات*

جو اکثر بتائی کہ بیٹا
*کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں*
*اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں*
*یہ مسکراہٹ آپ کے لئے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے*

🤝🏻  کسی سے ہاتھ ملاؤ تو پورا ہاتھ ملاؤ
گرم جوشی سے اس کے ساتھ ساتھ نظریں بھی ملائیں
*یہ نہیں کہ منہ ادھر ہاتھ ادھر بات کسی اور سے*..!

🌹  وطن کے سارے بچوں کو
میں اپنا بچہ ہی سمجھتا ہوں
*ان بچوں کی اچھی تربیت ان کے لئے ہمارا*
*سب سے اچھا تحفہ ہے*

ٹین ایج بچوں کی تربیت کے بارے میں
مزید بہت سی باتیں اور بھی دل میں ہیں
👈🏻  *آپ نے حکم کیا تو دوسری قسط میں عرض کروں گا*

*آج کے لئیے*
                     *اجازت*

🎊  خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں

🤝🏻  *دعاگو اور دعاؤں کا طالب ہوں*

✍🏻   

فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہےاور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریںجو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ” پبلشرز ” بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیںاور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں،بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ” کوڑھ مغز ” اور ” کند ذہن ” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اوروہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔طالبعلموں کا اسکول میں سارا وقت سائنس ” رٹتے ” گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی ” سائنس دان ” نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہبدقسمتی سے سائنس ” سیکھنے ” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہےاور ہم اسے بھی ” رٹّا” لگواتے ہیں۔آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ” پاسنگ مارکس ” 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئےاور ہم میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔علامہ اقبال ؒ کے شعر کا یہ مصرعہ اس تمام صورتحال کی صیح طریقے سے ترجمانی کرتا نظر آتا ہے کہ۔۔شاخ نازک پر بنے گا جو آشیانہ ، ناپائیدار ہو گا۔

*حج عمرہ پہ جانے کا نسخہ*

حضرت یوسف بنوری رحمتہ اللہ نے پانچ ایسے عمل بتائے جس کو کرنے کے بعد حاضری نصیب ہوتی ہے.
وہاں بلاوا کبھی یہ دیکھ کر نہیں آتا کہ آپ کے پاس پیسہ ہے یا نہیں بس وہاں سے بلاوا آجائے تو اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا فرمادیتے ہیں کہ بندہ حیرت میں مبتلا ہوجا تا ہے.
حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ یہ پانچ عمل اخلاص کی نیت سے کرلیں تو کامیابی ہے.
1- درود شریف کی کثرت کریں یہ عمل مدینے میں حاضری کا سبب بنتا ہے.

2- پیسے حج اور عمرے کی نیت سے جمع کرنا شروع کریں ایک ڈبہ بنالیں دس روپے بھی ہوں تو اس میں اس نیت سے ڈالیں یہ نہ سوچیں کہ دس روپے ہیں سو ہیں دوسو ہیں بس آپ ڈالتے جائیں اب اللہ کا کام ہے وہ آپ کی نیت اور اخلاص کو دیکھ کر اسباب عطا فرمادیں گے.

3- سورہِ حج کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیں .بے شک روز پڑھیں یا پھر ہر ایک دو دن بعد پڑھ لیں.

4-راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کی عادت ڈالیں اللہ کریم ضرور کرم فرمائیں گے.

5- دعا منگیں تہجد میں ہر نماز میں دعا مانگنا خود پہ لازم کرلیں اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں اللہ کو ما.گنا بہت پسند ہے اللہ سے مانگیں رو کر ، لاڈ سے اس کو منائیں.
اللہ کرم فرمائیں گے.

اس قیمتی معلومات کو ہم تک پہنچایا ہے.

*شیخ حافظ ابراہیم نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ*

آپ کی ذرا سی بے احتیاطی کسی کا لباس،مزاج اور دن بگاڑ کر رکھ سکتی ہے۔۔۔
بارشوں کے موسم میں گاڑی چلاتے ہوئے پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکل سوار لوگوں کا خیال رکھیں، ان کے حقوق پائمال نہ کریں۔۔۔
جو آپ کی طرح بند گاڑی میں نہیں بیٹھے ہوئے اُن کی عزتِ نفس کو مدِ نظر رکھیں
اگر رستے میں پانی کھڑا ہو تو گاڑی کو آہستگی سے چلائیں تاکہ اُن کے کپڑے اور آپ کا کردار داغدار ہونے سے بچا رہے!
دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنیں ، تکلیف کا نہیں!!!۔۔۔*

*ذالحج کے دس دنوں میں اللہ کو راضی کرنے کے کام*

〰🍄🍄〰🍄🍄〰

🚨ذالحج کے پہلے دس دن میں سب سے اہم *یومِ عرفه* ہے۔

*📒یومِ عرفه میں کرنے کے کام*

*👈🏻روزہ*
🎁اس ایک دن کے روزے سے *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پچھلے سال اور اگلے ایک سال کے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے۔*

*👈🏻دعائیں مانگنا*
🤲🏻عرفہ کے دن خوب خوب دعائیں کیجئے۔
بادشاہوں کے بادشاہ کیلئے کچھ دینا ناممکن نہیں۔اس لئے جو چاہے مانگیں۔اسکی عطا اور بخشش سے مانگیں۔
*اپنے لئے مغفرت ضرور مانگیں*

👈🏻پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن کیلئے یہ کلمات بتائے۔
*لااله الا اللہ وحدہ لا شریك له.له الملک وله الحمد.و ھو علی کل شئ قدیر*

〰〰💠〰💠〰〰

*📒عشرہ ذالحجہ میں کرنے کے کام*

⛅اشراق کا اہتمام کریں۔
کیونکہ *دن کو ضائع نہیں کرنا جتنا ہو سکے کمائی کرنی ہے۔*

🎁تمام نمازوں میں جو سنتیں ہیں یعنی 12 رکعات ضرور پڑھیں۔
اس پر *جنت میں محل* کا وعدہ ہے۔

⛅لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
اپنی زبان کو نرم رکھیں۔اللہ کے بندوں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

*⛅تہجد پڑھیے۔*
اگر لمبا قیام نہیں بھی کر سکتے۔اگر زیادہ رکعتیں نہیں بھی پڑھ سکتے۔ مختصر ہی سہی۔لیکن پڑھ لیں۔

⛅چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے موقع بھی ضائع نہ کیجئے۔
*یہ دس دن سنہری موقع ہیں کہ ہم جنت کمالیں۔اور جہنم سے نجات لے لیں۔*

❗❗❗❗❗❗

اگر سیل لگی ہوں یا ایک ماہ کے کام پر 2 ماہ کی تنخواہ ہو تو ہم بالکل بھی یہ موقع نہیں گنوائیں گے۔
*یہاں تو اللہ تعالی 2 سال کی بخشش دے رہے ہیں۔تو کیا ہم یہ 10 دن گنوا دیں گے۔*

*💗اللہ تعالی کو قیام اور روزہ بہت پسند ہیں۔*

اس لئے نوافل بھی پڑھیں تاکہ قیام ہو۔تو اللہ کو ہم پرکتنا پیار آئے گا۔

اور روزے بھی رکھیں۔

*🚨آپ یہ پیغام خود تک نہ رکھیں*
بلکہ اپنےگھروالوں،دوستوں،رشتے داروں کو بھی بتائیں۔ کیونکہ ان دنوں کی فضیلت سے ہمارے ہاں بہت کم لوگ واقف ہیں۔
*صحابہ کرام رضہ رمضان المبارک کی طرح ان دنوں کی تیاری کیا کرتے تھے۔*

🎁اگر آپ بھی پہلے نہیں جانتے تھے تو الحمدللہ اس مرتبہ خوب فائدہ اٹھائیں۔

*🌷یاد رکھیں۔*
👈🏻اللہ کا سودا سستا نہیں ہے۔
*👈🏻اللہ کا سودا جنت ہے۔*
*❗اسکی قیمت ادا کرنی پڑے گی*
اپنے نفس پر کنٹرول۔۔۔اپنی خواہشات کی قربانی کی قیمت۔۔۔۔

اللہ تعالی ہمیں یہ دن ہماری زندگی میں دیں اور اللہ کو راضی کرنے کی توفیق دیں۔
*آمین*

#سلسلہ_قربانی
قربانی کے مسائل:
گوشت کا حکم:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے گھر کے لیے،ایک حصہ رشتے داروں اور دوست واحباب کے لیے اور ایک حصہ فقرا ء ومساکین میں تقسیم کیا جائے، ہاں اگر عیال زیادہ ہوں تو سارا گوشت خودبھی رکھ سکتے ہیں۔(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص370)
اگر قربانی کے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جا ئے اندازے سے تقسیم کر نا جائز نہیں۔(البحرالرائق:ج8ص198)
قربانی کا گو شت فروخت کرنا یا اجرت میں دینا جائز نہیں۔(بدائع الصنائع ج4ص225)
قربانی کی کھال:
اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں مثلاً مصلیٰ، مشکیزہ وغیرہ بنا سکتے ہیں البتہ اس کو فروخت کرکے قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ فقراء کو دینا واجب ہے۔(عالمگیری ج3 ص 372)
نیزکھال کی قیمت مسجد کی تعمیر میں نہیں لگا ئی جا سکتی اسی طرح کسی فلاحی ادارہ میں بھی اس کا خرچ کرنا درست نہیں کیو ں کہ اس میں ضروری ہے کہ اس کا فقرا ء ومساکین کو مالک بنا دیا جا ئے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھال کسی دینی مدرسہ اور جامعہ کے طلبا ء کو دی جائے کیوں کہ اس میں ان کی امداد کر نے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا سبب بھی۔
تکبیراتِ عیدین
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کر یہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کر چار۔گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمار ہوں گی۔
بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کرچاربتایا گیا ہے اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھ ہی بنتی ہیں۔
تکبیرات عیدین میں رفع یدین کرنے کا ثبوت
نماز عیدین میں تکبیرات کے ساتھ رفع یدین کیا جاتا ہے، دلائل ملاحظہ ہوں:
دلیل نمبر1:
ترجمہ:جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات جگہوں میں رفع یدین کیا جاتا ہے۔(1) نماز کے شروع میں(2)نمازِ وترمیں قنوت کے وقت (3)عیدین میں (4) حجر اسود کو سلام کے وقت، (5) صفا و مروہ پر،(6) مزدلفہ اورعرفات میں(7)دو جمروں کے پاس ٹھہرتے وقت۔
(سنن الطحاوی:ج1ص417 باب رفع الیدین عند رویۃ البیت)
دلیل نمبر2:
ترجمہ: فقہاء کرام کا عیدین کی تکبیرات کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح لعلی القاری: ج 3ص495 باب صلاۃ العیدین)
دلیل نمبر3:
ترجمہ:ائمہ فقہاء کا تکبیرات عیدین کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔
(رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ: ص63)
دلیل نمبر4:
ترجمہ: فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتروں میں قنوت کی تکبیر اور عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین کیا جائے۔
(بدائع الصنائع للکاسانی: ج1ص484 ، رفع الیدین فی الصلوۃ)
فائدہ: پنجگانہ نمازوں میں رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا ممنوع اور عیدین میں کیا جانے والا رفع یدین مشروع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:
ترجمہ:اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔
تو نماز کا وہ عمل جو خود ذکر یا مقرون بالذکر (ذکر سے ملا ہوا) ہو تو اس آیت کی رو سے مطلوب ہو گا اوراگروہ عمل خود ذکر یا مقرون بالذکر نہ ہو توغیر مطلوب اور قابلِ ترک ہو گا۔عیدین والے رفع یدین کے ساتھ ذکر یعنی اللہ اکبر ملا ہوتا ہے اس لیے یہ مطلوبِ شریعت ہے اور پنجگانہ نمازوں والے مذکورہ رفع یدین میں خالی حرکت ہوتی ہے ذکر نہیں ہوتا، اس لیے یہ غیر مطلوب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔

ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں
گشت کررہی تھی کہ
ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔
پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟
جواب آیا:
ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔
اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔
عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔
شہزادی
مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی:
کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟
عالم:
یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں
شہزادی:
کیا تمہارا ایمان نہیں کہ
اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟
عالم:
یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔
شہزادی:
تو کیا اللہ نے آچ ہمیں
تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟
عالم:
یقیناً کردیا ہے-
شہزادی:
تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ
خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟
عالم:
نہیں
شہزادی:
کیسے؟
عالم:
تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟
شہزادی:
ہاں دیکھا ہے
عالم:
کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے
اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟
شہزادی:
ہاں رکھے ہوتے ہیں۔
عالم:
اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو
چھوڑ کو کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں،
اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں،
تو چرواہا کیا کرتا ہے؟
شہزادی:
وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے
تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔
عالم:
وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟
شہزادی:
جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے
اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔
عالم نے کہا :
تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے
حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو
جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے
اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا،
اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا
جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے
اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔
آج پھر وہی حال ہے
آج کتے ہم پر مسلط ہیں
یہودیوں عیساٸیوں، ہندوؤں  اور لبرلز کی صورت میں
اور جب تک ہم واپس نہ آجاٸیں اسلام کی طرف
تب تک ہم پر مسلط رہیں گے۔۔۔۔۔

قبر نے جگہ نہ دی
ایک صاحب نے بتایا کہ میں بلدیہ میں ملازم تھا۔ بلدیہ کے ذمہ لاوارث لاشوں کو دفنانا بھی شامل ہے۔ ایک دفعہ ایک لاوارث لاش کے دفن کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی۔ قبر کھودی گئی، جب قبر مکمل تیار ہو گئی کہ لاش کو دفن کرتے ہیں تو اچانک قبر گر گئی اور مٹی کا ڈھیر بن گئی۔ پھر قبر کھودی پھر جب مکمل تیار ہوئی تو پھر گر گئی۔ گورکن تھک کر چور ہو گئے اور ان کی بری حالت تھی۔ تمام جسم پھوڑے کی طرح دکھنے لگا۔ تیسری دفعہ قبر کھودی گئی اور قبرستان سے ادھر ادھر گری پڑی اینٹیں اکٹھی کر کے چاروں طرف دیوار بنا کر اور چھت سی بنا کر مٹی ڈال دی تاکہ نہ گرے ۔ ہمارے چہروں پر عجیب سا خوف طاری تھا۔ بصد مشکل مٹی ڈال کر قبر کا منہ بند کر دیا کہ اچانک قبر کے اندر سے کڑ کڑاھٹ کی آواز سنی۔ وہ عجیب قسم کی آواز تھی جس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آواز ایسی تھی جیسے کوئی شخص پتلی سوکھی لکڑی کو پاﺅں کے نیچے دباتا ہے تو چرچرانے کی آواز نکلتی ہے بالکل ویسی آواز قبر کے اندر سے آئی تھی۔ تمام لوگوں نے آواز سنی اور تمام لوگ خوف زدہ تھے اور جلدی جلدی واپس جانا چاہتے تھے ۔ اس کے بعد دل ہلا دینے والی آوازیں آنے لگیں اور قبر کے اندر سے تین دفعہ کڑ کڑانے کی آوازیں آئیں۔ جس طرح لکڑی کو ہاتھ میں لے کر یا گھٹنے پر رکھ کر توڑتے ہیں۔ اس طرح ہڈیوں کے توڑنے کی اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی آواز تھی۔ ان حالات میں قبرستان میں رکنا اور باقی مٹی ڈالنا مشکل ہو گیا۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی اور ہم بھاگ کر قبرستا ن سے نکلے اور و ہ رات بہت بھاری تھی۔ خوف کی وجہ سے نیند نہ آئی اور کئی دنوں تک خوف کی کیفیت طاری رہی اور عجیب قسم کی بے چینی‘ ڈر اور اضطراب تھا کہ نامعلوم کس گناہ کی پکڑ میں یہ شخص مبتلا تھا انسان جب گناہ کرتا ہے، اللہ کی نا فرمانی کرتا ہے توبھول جاتا ہے کہ قبر میں جانا ہے۔ کیا پتہ قبر جگہ دیتی ہے یا نہیں؟

*1:ـ* جو نرم، خوش اخلاق اور حسن سلوک کرنے والا ہو
*2:ـ* اس پر لازم کئے گئے حقوق کو ادا کرنے میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی نہ کرنے والا ہو
*3:ـ* اجنبی غیر  عورت پر نگاہ نہ ڈالے
*4:ـ* اپنی بیوی کو اپنے  آرام و سکون میں برابر کا شریک سمجھے
*5:ـ* اپنی بیوی پر کبھی بھی  ظلم اور کسی قسم کی  زیادتی نہ کرے ۔
*6:ـ* زوجہ کی سخت مزاجی اور بد اخلاقی پر صبر کرے
*7:ـ* زوجہ کی خوبیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں کوتاہیوں کو نظر انداز کرے
*8:ـ* اپنی بیوی کی مصیبتوں، بیماریوں اور رنج و غم میں دل جوئی، تیمارداری اور وفاداری کا ثبوت دے
*9:ـ* بیوی کو پردہ میں رکھ کر عزت و آبرو کی حفاظت کرے ۔
*10:ـ* جو اپنی بیوی کو دینداری کی تاکید کرتا رہے اور شریعت کی راہ پر چلائے۔
*11:ـ* اہل و عیال کو کما کما کر رزق حلال کھلائے
*12:ـ* بیوی کے رشتے داروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔
*13:ـ* اس کو ذلت و رسوائی سے بچائے رکھے۔
*14:ـ* بلاوجہ  اخراجات میں بخیلی اورکنجوسی نہ کرے ۔
*15:ـ* جو اپنی بیوی پر اسطرح کنٹرول رکھے کہ وہ کسی برائی کی طرف رخ بھی نہ کر سکے۔
*منجانب : سوشل میڈیا ،

ایک سمجھدار عورت نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت کچھ مفید نصیحتیں کیں جو ہر رخصت ہونے والی بیٹی کے نئے گھر کو امن کا گہوارا بنا سکتی ہیں۔
 اے بیٹی، تو ایک دوست ماحول اور وطن سے دور اجنبی ماحول میں جا رہی ہے، جسے تو جانتی نہیں ایک ایسے ساتھی کے ہاں تجھے جانا ہے جس کے ساتھ تو مانوس نہیں میری چند باتیں یاد رکھنا۔
*پہلی بات :* اپنے شوہر کے ساتھ قناعت اور سادگی سے زندگی گزارنا ، اس کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا کیونکہ قناعت میں دل کو راحت پہنچتی ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں خاوند خوش ہوتا ہے۔
*دوسری بات:* کوشش کرنا  کہ تجھ سے خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات سرزد نہ ہو اگر  غلطی سے ہو بھی جائے تو  غلطی کی تلافی کی  بھرپور کوشش کرنا۔
*تیسری بات:* خوب بناؤ سنگھار کرنا مگر صرف اپنے خاوند کے لیے ، تیرا خاوند تجھے صاف ستھرے اور مہکتے لباس میں ہی ملبوس دیکھے۔
*چوتھی بات:* اس کے کھانے کے وقت کا خیال رکھ ، سونے کے وقت بھی اس کے آرام کا خیال رکھ کیونکہ بھوک کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے اور نیند سے اچانک جگانا غصے کا سبب ہوتا ہے۔
*پانچویں بات:*  ہمیشہ اس کے مال کی حفاظت کرنا ہے یعنی اس کو اپنا مال سمجھنا اور اسے صحیح جگہ خرچ کرنا ۔۔۔ فضول خرچی سے بچتے رہنا ۔
 *چھٹی بات:* اس کے رشتے داروں اور خاندان کا لحاظ رکھنا ،کیونکہ مال کی حفاظت حسن ترتیب اور رشتے داروں اور خاندان کی رعایت حسن انتظام کی علامت ہے ۔
*ساتویں بات :* اس کے رازوں کو ظاہر نہ کرنا ، یعنی گھر کی بات کو گھر  تک رکھنا باہر کسی  غیر سے مت کرنا  کہ یہ بات تم دونوں میں جدائی کا سبب بن سکتی ہے ۔
*آٹھویں بات :* اس کے حکم کی نافرمانی نہ کرنا ، اگر نافرمانی کی،تو اس کے غصے کو بھڑکا دے گی  اور یہ چیز تیرے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔
*نویں بات :*  تجھے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں، تو اپنے خاوند سے اس وقت تک حاصل نہ کر سکے گی جب تک کہ تو  تمام معاملات میں اپنے خاوند کی خواہش اور رضا کو اپنی مرضی پر ترجیح نہ دے ۔
*دسویں بات :* اس گھر کو اپنا گھر سمجھنا  ، اس کے ماں باپ کو اپنے ماں باپ سمجھنا   تا کہ تیری اجنبیت جلد از جلد مانوسیت میں بدل جائے ۔۔۔ جو تیرے وہاں رہ سکنے کے لیے لازمی ہے ۔
اللہ تعالیٰ تجھے اپنی رحمت کے سائے میں رکھے اور تم دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دے ،،، آمین ۔
*(منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)*

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget