اسموگ
آج کل اسموگ فضاوں پر چھائی ہوئی ہے ۔ یہ دھند کی ایک شکل جدید ہے جونہی خشک سردی آتی ہے، اسموگ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ فضاؤں میں سانس لینا دو بھر ہوتا جا رہا ہے۔۔۔
اسموگ کیا ہے؟ اس کے صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔۔
عوام الناس کی رہنمائی کے لئے ان سوالوں کا جواب دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اسے پڑھ کر اسموگ کے خطرناک اثرات سے بچنے کا بندوبست کر سکیں ۔۔
آلودگی کی وجہ سے جونہی ٹمپریچر میں کمی ہوتی ہے تو گرم ہوا اوپر جانے کی بجائے فضا میں معلق ہو جاتی ہے اور اس میں دھواں ، بھوسے اور کوڑا کرکٹ جلنے سے پیدا ہونے والے ذرات، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پیدا ہونے والیGases اور ذرات فضا میںمعلق ہو جاتے ہیں جس سے فضا نیچے سے اوپر تک آلودہ نظر آتی ہے۔ صبح سویرے تو حد نگاہ تک فضا آلودہ اور ذرات سے معلق نظر آتی ہے۔ ہوا میں مضر صحت گیس نائٹریٹ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہوتے ہیں ۔۔
جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے کہ اسموگ کی وجہ سے سانس کی تکالیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جن لوگوں کو پہلے سے دمہ کی تکلیف ہوتی ہے، ان کی بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔۔
چیسٹ انفیکشن کا بھی خطرہ ہو جاتا ہے۔ آلودہ فضا میں سانس لینے سے طبیعت مضمحل رہتی ہے۔
کسی کا دل نہیں لگتا۔ ہر وقت سر میں درد ہوتا ہے۔ آنکھوں میںسخت جلن ہوتی ہے۔ آنکھوں اور ناک سے پانی جاری رہتا ہے۔ جسم پر سرخ دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔ جب مریض ان تکالیف کا ذکر کرتے ہیں تو ڈاکٹر مختلف قسم کی دوائیاں بشمول اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں لیکن یہ دوائیں کچھ کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اسموگ کے ساتھ ساتھ جونہی سردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں بڑوں اور بوڑھوں میں چیسٹ انفیکشن اور نمونیا جیسے خطر ناک امراض کا سامنا ہو سکتا ہے ۔۔
اسموگ والی آلودہ فضا میں سانس لینے سے مضر اثرات ذرات اور سانس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے جراثیم جسم کے اندر جا کر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔۔
آلودہ فضا اور فضا میں سانس لینا کئی سگریٹیں پھونکنے کے برابر ہے کیونکہ دونوں کے مضر اثرات تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں۔
حاملہ عورتوں کو اسموگ کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بچے کی وقت سے پہلے پیدائش کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔۔
اسموگ اور سردی میں مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کے خطرات اور بد اثرات سے بچا جا سکتا ہے ۔۔
اسموگ کے دوران اگر Visibility خطرناک حد تک کم ہو تو اس دوران ڈرائیونگ سے پرہیز کیا جائے ۔۔
گاڑیوں میں اسپیشل اسموگ لائیٹس کا لگانا ضروری ہے ۔۔
اسموگ کے دنوں میں منہ اور ناک پر Mask کا استعمال آلودگی سے بچاتا ہے۔ آنکھوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کالے شیشے کی عینک استعمال کریں ۔۔
صبح سویرے گرم پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر چائے کی طرح چسکیاں لے کر پیئں ۔۔
جب بھی باہر سے آئیں تو آنکھوں اور چہروں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں ۔۔
اسموگ کے دنوں میں مچھلی کے تیل کے کیپسول ضرور لے لیں۔
اس کے ساتھ ساتھ صبح سویرے زیتون کے تیل کا ایک چمچ لے لیں تو اس سے آپ کا نظام تنفس آلودگی سے بچا رہے گا ۔۔
اسموگ کی وجہ سے ہونے والی علامات میں مختلف قسم کی اینٹی بائیوٹک اور دواؤں کے بے جا استعمال کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ادویات کے بے جا اور مخیر ضروری استعمال سے بچیں ۔۔
صبح شام لیمن گراس قہوہ استعمال کریں ۔۔
سردیوں میں اسموگ کے اثرات کم کرنے کے لیے ڈرائی فروٹ استعمال کریں۔ گرما گرم چائے کے ساتھ میوے والا گڑ یا گرما گرم سوجی کا حلوہ بھی صحت کے لیے مفید ہے ۔۔
اسموگ کے دوران اور سردیوں میں خاص طور پر چھوٹے بچوں کو اچھی طرح ڈھانپ کے رکھیں کیونکہ سردی کے اثرات بچوں پر زیادہ ہوتے ہیں ۔۔
اسموگ کے خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ زیادہ درخت لگانے سے فضا میں آلودگی کم ہو گی اور اسموگ میں بھی کمی ہوگی ۔۔
اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے
جزاک اللہ خیرا
آمین یارب العالمین ۔۔۔۔۔۔۔
ایک تبصرہ شائع کریں