اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

نومبر 2019

بچہ

‏چائینہ میں دوسرا بچہ پیدا کرنے پر پابندی ہے اور "پاکستان " میں پہلا بچہ تو رشتہ داروں کو صرف یہ ثابت کرنے کے لیے جلدی کرنا پڑتا ہے کہ میاں بیوی دونوں صحت مند ہیںدوسرا پہلے بچے کےساتھ کھیلنے کے لیے،تیسرا بے احتیاطی کی وجہ سے اور چوتھا جوڑیاں مکمل کرنے کے لیے

سائنس کی نظر میں 


تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے،
ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے،
جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں۔

یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔
تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔
6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔
90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔
ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں،
اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
تو میرے دوستوں غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی،
یہ سب کہاں جاتا ہے؟
سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے

انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟
مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔
پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔۔۔
دنیا میں اکڑ کر چلنے والا،
اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا
دوسروں کو حقیر سمجھنے والا
دنیا پر حکومت کرنے والا
قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف "مٹی" رہ جاتی ہے

لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیئے،
اللہ کو یاد کرنا چاہیئے،
ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیئے
اور
خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیئے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین

نومولود بچے سے ملنے جانے والوں کےلئے ہدایات



بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک نئی زندگی کا اس دنیا میں آنا ایک طرف تو والدین اور قریبی افراد کے لیے خوشی کا باعث بنتا ہے، تو دوسری طرف کچھ مسائل پیدا کرنے کا باعث بھی بنتا ہے خصوصاً نومولود بچے اور ماں کو درکار ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے کچھ مشکل بھی پیش آسکتی ہے۔

خصوصاً جب کسی گھر میں پہلی بار نومولود بچے کی آمد ہو تو ایسے میں والدین اور دیگر اہل خانہ کی مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے جس سے نمٹنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

ایسے میں نومولود بچے سے ملتے ہوئے کچھ باتوں اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا چاہیئے تاکہ گھر والے مزید مشکل میں مبتلا نہ ہوں، یہ تدابیر کچھ یوں ہیں۔

نومولود کی آمد کی خبر سنتے ہی اسپتال کی طرف دوڑ لگانا مناسب نہیں چاہے آپ کتنے ہی قریبی عزیز کیوں نہ ہوں۔ نومولود بچے اور ماں سے ملنے کے لیے کم از کم 24 گھنٹے بعد جائیں۔ البتہ اگر آپ سے مدد طلب کی جائے تو اسپتال جانے میں کوئی حرج نہیں۔

ملنے کے لیے جاتے ہوئے پرفیوم اور سگریٹ کے استعمال سے پرہیز کریں۔

اگر آپ ننھے بچے کی تصویر لینا چاہتے ہیں تو پہلے والدین سے اجازت لیں اور اجازت ملنے پر بغیر فلیش کے تصویر کھینچیں۔

نومولود بچہ اپنا زیادہ تر وقت سوتے ہوئے گزارتا ہے لہٰذا کمرے میں شور مت کریں۔

جب ماں بچے کو دودھ پلانے لگے تو کمرے سے باہر چلے جائیں۔

بچہ اپنے بستر میں آرام سے سو رہا ہوتا ہے لہٰذا پیار جتانے کے لیے اسے گود میں اٹھانے، ٹہلانے اور چومنے سے گریز کریں۔ اس سے بچہ ڈسٹرب ہوسکتا ہے۔

آدھے گھنٹے سے زیادہ ملاقات غیر ضروری ہے، بچے اور ماں کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا طویل ملاقات سے اہلخانہ کو بے آرام نہ کریں۔

سب سے اہم بات یہ کہ اگر آپ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہیں تو نومولود سے ملنے کا ارادہ ملتوی کردیں اور اپنی صحت یابی کا انتظار کریں۔ چھوٹے بچے نہایت حساس اور نازک ہوتے ہیں لہٰذا معمولی سے جراثیم بھی ان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

جلد کی بہتری کے اقدامات

کیا آپ دانوں کے نشانات سے پریشان ہیں؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خواتین اپنے چہرے کی جلد کو خوبصورت بنانے کے حوالے سے بڑی حساس ہوتی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا چہرہ داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے پاک ہولیکن آج کل کی مرغن غذاؤں اور فاسٹ فوڈز وغیرہ کھانے کی وجہ سے چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلتے ہیں اور جب یہ دانے ختم ہوتے ہیں تو جاتے جاتے جلد پر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔جو دیکھنے میں بہت بدنما لگتے ہیں ۔ ایکنی کی وجہ سے بننے والے ان داغ دھبوں کو ختم کرنے کے لیے مارکیٹ مختلف طرح کی پروڈکٹس سے بھری پڑی ہے او ر ان پروڈکٹس میں موجود کیمیکلز وقتی طور پر چہرے کو صاف ستھرااور رنگت کوگوری کر دیتا ہے ۔

لیکن یہ چند دنوں کے استعمال کے بعد چہرے کا ستیاناس کر دیتی ہیں ۔ جلد مکمل طور پر خراب ہو جاتی ہے اور پہلے سے زیادہ دانے اور نشانات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ آج میں آپ کے لیے ایکنی کی وجہ سے پڑنے والے داغ دھبوں کے نشانات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے ایک ماسک لے کر آئی ہوں ۔ جو آپ گھر پر ہی تیار کر سکتی ہیں ۔اس کے چند دنوں کے استعمال سے ہی ان شاء اللہ چہرے کی جلد پر موجود داغ دھبوں کے نشانات ختم ہو جائیں گے۔ داغ دھبوں کے نشانات کو ختم کرنے کے لئے گھریلو قدرتی ماسک بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔

*اجزاء*
ہلد ی : ایک چوتھائی چائے کا چمچ
شہد(خالص) : آدھا چائے کا چمچ
انگورکارس : 2سے 3 انگوروں کو مسل کر ان کا رس نکال لیں

*ترکیب اور طریقہ استعمال*
ایک پیالے میں ہلدی اور شہد کو ڈال کر مکس کر لیں ۔ پھر انگوروں کو اس میں ڈال کر چمچ یا انگلی سے مسل دیں اور انگوروں کے چھلکے باہر نکال لیں۔ ان تینوں کو چمچ کی مدد سے اچھی طرح مکس کر لیں ۔چہرے کو کسی اچھے کلینزر سے دھونے کے بعدکسی نرم کپڑے سے اچھی طرح خشک کر لیں ۔اب اس مکسچر کو روئی یا میک اپ برش کی مدد سے چہرے پر لگائیں اور 30 منٹ تک لگا رہنے دیں ۔ آدھے گھنٹے بعد گرم پانی کے ساتھ چہرہ صاف کر لیں ۔اس مکسچر کے استعمال سے آپ کے چہرے کی جلد کے مسام کھل جائیں گے۔

اس لیے نیم گرم پانی سے چہر ہ دھونے کے بعد ٹھنڈے تازہ پانی سے بھی چہرہ دھوئیں اس سے چہرے کے مسام اپنی نارمل حالت میں آجائیں گے۔اچھے نتائج کے لیے ہفتے میں دو سے تین دن لگائیں اور دو ہفتوں میں چہرے پر بننے والے داغ دھبے اور نشانات سے چھٹکاراحاصل کریں۔

شہد، انگور او ر ہلدی کے جلد پر ہونے والے مثبت اثرات کی وجہ سے ہی ان کو ایکنی کے نشانات کے لیے بے حد مفید پایا گیا ہے۔ آئیے آپ کو ان سب کی چند ایک خصوصیات کے بارے میں بتاتی ہوں ۔

*ہلدی*
ہلدی ایک اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل جز ہے ۔ جو چہرے پر موجود داغ دھبوں کو دور کرتا ہے ، چہرے کی رنگت نکھارتا ہے اوردھوپ کی وجہ سے جلدکے کالے پن کو دور کرتا ہے۔ہلدی جلد کو نرم و ملائم بناتی ہے۔ جھریوں اور چھائیوں کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔صدیوں سے ہلدی کا استعمال دلہن کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

*انگور*
انگور کا رس ایکنی کے نشانات کو ختم کرنے کے لیے بہت موثر ہے اور نئے نشانات بننے سے روکتا ہے۔ انگور کے اند ر کیلشیئم،میگنیشیم، پوٹاشیئم، وٹامن بی1،بی2 ،بی3 ،بی 5، بی6 ،سی اورفلیونائیڈ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں جو جلد کے لیے بہت زیادہ کارآمد ہیں ۔ جلد کو ملائم رکھتا ہے اور جھریوں سے بچاتا ہے۔بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

*شہد*
شہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسانوں کے لیے شفا قرار دیاہے۔شہد سے بہت سی جسمانی اور جلدی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ شہد جلد کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اینٹی بیکٹیریل ہونے کی وجہ سے جلد پر موجود بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے۔جلد کو نرم وملائم بناتا ہے۔ بے رونق جلد کو تازگی دیتا ہے اور ایکنی کے مسائل کا خاتمہ کرتا ہے۔

ان سب اجزاء کے مکسچر میں وہ تمام خصوصیات موجودہیں ، جو چہر ے کی جلدپر دانوں کی وجہ سے بننے والے نشانات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے استعمال کے چند دن بعد ہی انشاء اللہ داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔

اگر آپ اس قسم کے مسائل کا شکار ہیں تو سب سے پہلے میٹابولزم کی درستگی پر دھیان دیں ۔ چہرے کی خوبصورتی کا دارومدار خون پر ہوتا ہے اور جسم میں خون بننے کا عمل درست میٹابولزم کے ہی مرہون منت ہے ۔ جسم میں جس قدر عمدہ اور صاف و شفاف خون پیدا ہو گا اسی قدر جلد نرم و ملائم خوبصورت اور چمکدار ہو گی ۔ جلد کی رنگت میں خرابی ، داغ دھبے اور کیل مہاسے بننے کی اصل وجہ خون میں زہریلے مادوں اور تعفن کا شامل ہونا ہے  .

ایسی تمام غذائیں جو ہاضمے کو خراب کرنے کا سبب بنتی ہوں انہیں فوراً اپنی خوراک سے نکال دینا چاہیے ۔ ان غذاؤں میں پیزا  ، برگر ،  سموسے ،  پکوڑے  ، نمکو ،  کولا مشروبات  ، بیکری مصنوعات  ، تلی اور بھنی ہوئی غذائیں وغیرہ شامل ہیں ۔ کچی سبزیوں ،  پھلوں اور پھلوں کے رس کا بکثرت استعمال کریں ۔ دانوں کے نشانات دور کرنے کے لیے مغز اخروٹ اور کڑوے مغز بادام پیس کر سرکہ انگوری میں پیسٹ بنا کر رات کو سوتے وقت چہرے کے داغوں پر لگائیں ۔

صبح کچے دودھ سے چہرے پر اچھی طرح مساج کرکے کسی اچھے بیوٹی سوپ سے دھولیں ۔ بہت جلد چہرے سے داغ دھبے دور ہو جائیں گے ۔ ایسی ورزشیں جن سے چہرے کی طرف خون کی روانی بہتر ہو ، وہ نہارمنہ ضرور کریں ۔

 آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی ایسی قدرتی اشیا ہیں، جو ہماری جلد کے لے بہترین ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہر موسم اور ہر قسم کی جلد کے لیے سودمند ہوتی ہیں۔

*باسل Basil*
یہ ایک جراثیم کُش جڑی بوٹی ہے۔ چہرے پر اس کا استعمال کیل مہاسوں اور دانوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دوران خون بہتر ہوتا ہے اور چہرے پر نکھار آتا ہے۔ باسل کے چند پتوں کو پانی میں پندرہ منٹ تک ابال لیں اور پھر اسے ٹھنڈا کر کے فریج میں رکھ دیں۔ کاٹن بال یا روئی کی مدد سے اسے دن میں دو مرتبہ اپنے چہرے پر لگائیں، بہت کم عرصے میں آپ اپنے چہرے پر اس کے حیرت انگیز نتائج دیکھیں گی۔ اس کے علاوہ باسل کے چند پتوں کو صاف کر کے اسے کچل لیں اور اس کو ہاتھوں سے دبا کر رس نکال لیں اور پھر روئی کی مدد سے یہ رس اپنے دانوں پر لگائیں۔

*نیم*
یوں تو نیم کے بے شمار فوائد ہیں، لیکن یہ چہرے کے لیے بھی ہر لحاظ سے بہترین ہے۔ نیم بھی چہرے کے داغ دھبے اور دانوں کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ نیم کے چند خشک پتوں کو پیس کر سفوف کی شکل دے لیں، پھر اس میں عرق گلاب یا پانی ملا کر اپنے چہرے پر لگائیں اور چند منٹ کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ یہ ہر قسم کے کیل مہاسوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بازار میں نیم کا تیل بھی دست یاب ہے۔ اسے روزانہ رات کو اپنے چہرے پر لگائیں اور صبح ٹھنڈے پانی سے منہ دھولیں تو جلد ہی اس کے مثبت نتائج دیکھیں گی۔

*لیونڈر lavender*
لینونڈر کا شمارخوش بو دار نباتات میں ہوتا ہے۔ اس کا تیل ہر قسم کے دانوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ چند قطرے لیونڈر کا تیل عرق گلاب کے ساتھ ملا کے لگائیں۔ اسے روزانہ استعمال کرنے سے چہرے پر سرخ اور سفید دانوں کے ساتھ ان کے نشانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ لیونڈر تیل کے تیز اثرات کو معتدل بنانے کے لیے اس میں تیل، پانی یا پھر عرق گلاب ملا کے لگانا ضروری ہے۔ اگر آپ اس کے چند قطرے اپنے روزانہ کے موئسچرائزر میں شامل کر لیں، تو اس کا آپ کی جلد پر اچھا اثر پڑے گا۔

*ہرا دھنیہ*
ایک اور قدرتی جڑی بوٹی ہے، جو چہرے کے دانوں کے ساتھ بلیک ہیڈز صاف کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ دھنیے کی چند پتیوں کو ہاتھوں کی مدد سے پیس لیں اور اس کا رس اپنے چہرے پر لگائیں۔ چند قطرے لیموں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ آمیزہ دانوں کے لیے اکسیر ہے۔ اگر آپ چاہیں، تو دھنیے کو ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر اسے پیس کر اپنے چہرے پر لگالیں۔ دس سے پندرہ منٹ کے بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھولیں۔

*ایلوویرا*
جلد اور زیبائشی اشیا کے حوالے سے یہ جڑی بوٹی خاصی نمایاں ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کہ چہرے کی جلد کو صحت مند رکھتی ہے اور دانوں اور مہاسوں کے نشانات بھی مٹا دیتی ہے۔ ایلو ویرا کا رس یا جیل بازار میں بہ آسانی دست یاب ہے۔ اس کے علاوہ ایلوویروا کے پتوں کو درمیان سے کاٹ کر اس کا گودا نکال لیں اور چہرے پر پندر ہ منٹ تک لگائے رکھیں، پھر ہلکے یا نیم گرم پانی سے دھو لیں۔

*سبز چائے*
سبز چائے کا روزانہ استعمال مختلف بیماریوں سے ہی محفوظ نہیں رکھتا، بلکہ ہماری جلد پر اس کے مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ سبز چائے کے استعمال شدہ ’’ٹی بیگز‘‘ کو ٹھنڈا ہونے کے بعد چہرے کے دانوں پر لگائے رکھیں اور 10 سے 15 منٹ تک متاثرہ جگہ کا مساج کریں تو یہ بھی کافی اچھا رہتا ہے۔

*بیکنگ سوڈا*
بیکنگ کے لیے استعمال کیا جانے والا سوڈا ہماری جلد کے لیے حیرت انگیز نتائج دیتا ہے۔ اگر اسے ماسک کے طور پر لگایا جائے، تو جھریوں سے بچاتا ہے اور ہماری جلد چمک دار اور تنی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اسے کلینزنگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چہرے پر کتنا ہی پرانا داغ یا نشان کیوں نہ ہو اس کے لگانے سے ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے دو سے تین چائے کے چمچے بیکنگ سوڈے کو پانی میں ملا لیں اور اسے چہرے پر دس سے پندرہ منٹ کے لیے لگائیں۔ روزانہ استعمال کرنے پر آپ اس کا دورانیہ بڑھا سکتی ہیں اور جب آپ اس کے نتائج اپنے چہرے پر دیکھیں گی تو خود ہی حیران رہ جائیں گی۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

اینگزائٹی
پریشانی
گھبراہٹ
کم کرنے کے 20 آسان اور فوری علاج. 

ہر انسان
زندگی میں کبھی نہ کبھی
ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے
جب پریشانی گھبراہٹ بے چینی اینگزائٹی خوف پینک اٹیک ذہن پر سوار ہوجاتے ہیں. 

ان سب کیفیات کو بغیر کسی دوا کے کم کیا جاسکتا ہے. 
ان بیس میں کوئی ایک ضرور آپ کے کام آئے گا
اور پریشانی میں کمی لائے گا... ان شاء اللہ. 

. Whisper سرگوشی
جی ہاں
وسپرنگ، اپنے موبائل فون کے مائک میں
سرگوشی کے انداز میں باتیں کیجئے
بہتر ہے اپنی اس کیفیت کو وائس ریکارڈر میں محفوظ کر لیں. 

. Blowing بلوئنگ
جیسے غبارے میں ہوا بھرتے ہیں یا کسی گرم کھانے کی چیز کو پھونک مار کر ٹھنڈا کرتے ہیں
اس انداز میں منہ پھلا کر ہوا نکالیں
تین سے پانچ منٹ. 

. Scratching کھجانا
انگلیوں سے سر، چہرے، کان پر اسکریچنگ کیجئے. 

. Tapping تھپتھپانا

یہ ایک انتہائی موثر تھیراپی ہے اس کے بے شمار فوائد ہیں پریشانی گھبراہٹ دور کرنے میں بہت مفید ہے.  اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس ترتیب کے ساتھ
تھپتھپانا ہے ٹیپنگ کرنی ہے
سر کے بالکل اوپر، 
آنکھوں کی بھویں دونوں کنارے، 
آنکھ کے نیچے کی ھڈی پر، 
گلے کے ساتھ کالر بون پر، 
ہتھیلی کی باہر والی سائڈ پر؛ اسے کراٹے چوپ کہتے ہیں. 

. Page Turning صفحے الٹنا
کسی بھی کتاب کے صفحات الٹنا شروع کر دیں
بغیر پڑھے الٹتے جائیں ایک وقت میں کم از کم سو دو سو صفحات الٹائیں. 

. Writing لکھئے
کچھ نہ کچھ لکھئے، 
پھول پتیاں بنائیں، اپنے دستخط کر لیں. 
بہتر ہے اپنی پریشانی کیفیات لکھ لیجیے یہ لکھنا ایک حیرت انگیز علاج ہے. 

. Chewing 
کچھ چبائیں
مثلاً سونف، الائچی یا چیونگم. 
آزمودہ ہے فوری اثر کرتا ہے.    
. Fruit Juice
موسم کے تازہ پھلوں کا جوس پیجیے. 

. Head Brushing
کسی اچھے بڑے ھئیر برش سے سر میں مساج کیجئے. 

. Ear Brushing
میک اپ برش کو کان پر پھیریں،
اس کی آواز اور ٹچنگ سے ذہن فوری طور پر ریلیکس ہوجاتا ہے بس کر کے دیکھئے.                                  
. Humming
ہمنگ کہتے ہیں بھنورے کی آواز کو، 
اپنے دونوں کانوں پر انگلی رکھ کر  منہ بند کر کے ہوووووووووں کی آواز نکالیں. 

. Typing ٹائپنگ
اینگزائٹی دور کرنے کے لیے
اپنے کی بورڈ پر بلاوجہ ٹائپنگ کیجیے. 
یہ کمال کی تھیراپی ہے
یہ کام کسی پرانے ٹائپ رائٹر پر اچھا ہوگا ورنہ کمپیوٹر کا کی بورڈ بھی چلے گا. 

Eye Contact نظریں ملائیے
آپ گھر میں ہوں یا دفتر میں
کسی سے گفتگو شروع کیجئے اور نظر ملا کر بات کیجئے
آئی کونٹیکٹ ایک اچھا علاج ہے گھبراہٹ دور کرنے کا. 

Crinkling
کرنکلنگ کیجئے
اسے سمجھنے کے لیے یاد کرنا ہوگا جب
آپ کو انجکشن لگتا ہے تو چہرے کے ری ایکشن کیسے ہوتے ہیں..؟
آنکھیں زور سے بند
دانت سختی سے بند
اور منہ کھلا جس میں دانت نظر آئیں
اس عمل کو دو سیکنڈ کیجئیے
پانچ سیکنڈ رکیں ایسا دو سے تین منٹ دھرائیں. 

. Hand Movement ہاتھوں کو گھمانا
اپنے ہاتھ مٹھی بند کر کے ایسے چلائیں جیسے
کھانا پکاتے وقت بڑا چمچہ چلاتے ہیں. 
کم از کم دو سے تین منٹ

. Coloring Book کلر بک
بچوں کی رنگ بھرنے والے کتاب میں رنگ بھریں
یہ ایسی کامیاب تھیراپی ہے جسے شروع کرتے ہی
پہلے پانچ منٹ میں اینگزائٹی دور ہوجائے گی
اور نیند بہترین آئے گی. 

. Color Mixing رنگ ملائیں
گھر میں رنگ کے کچھ ڈبے رکھیں
جب کبھی خوف گھبراہٹ اینگزائٹی ہو
برش سے رنگ گھولئیے.         
. Sound Therpay
 بارش ،ہوا، سمندر کی لہروں کی آوازیں سنیں
یو ٹیوب پر اس طرح کی ہزاروں آوازیں موجود ہیں. 

. Blow Air in Paper Bag
کاغذ کے صاف لفافے میں سانس لیں
منہ اور ناک پر لفافہ رکھ کر اسی میں دو سے تین منٹ سانس لینا ہے. 

. Bubbles بلبلے پھلائیں
یقین جانیں
یہ تو لاجواب علاج ہے. 
بلبلے پھلانے کی اسٹک اور سلوشن بازار سے مل جاتا ہے
گھر میں بھی بنا سکتے ہیں
اوپر بتائے گئے ہر علاج سے زیادہ کارآمد ہے، مفید ہے، بہترین ہے. 

حرف آخر:
اور سب سے آخر میں سب سے حتمی علاج
سورہ رحمن کی تلاوت سنئیے
یا خود پڑھ لیں
ایسا دن میں پانچ بار کیجئے
ذہنی، روحانی، جسمانی
ہر طرح کی تکلیف کا علاج ہے ان شاء اللہ. 

اللہ کریم
آپ کو سکون اور سلامتی
والی زندگی عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔“

شناختی کارڈ

قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی پہچان ہے
مگر بہت ہی کم لوگ
شناختی کارڈ نمبر کی ٹیکنالوجی
اور
اسکے شناخت کے خودکار نظام سے واقف ہوں گے.
اگرچه
آپ سب لوگ تقریبا روز اپنا شناختی کارڈ دیکھتے هونگے،
لیکن آج تک
آپ کو اس پر لکھے
13ہندسو ں کے کوڈ کا مطلب کسی نے نہیں بتایا ہو گا۔
درج ذیل تحریر آپکو شناختی کارڈ نمبر کے متعلق معلومات فراهم کرے گی.
*شناختی کارڈ نمبر کے*
*شروع کے پہلے پانچ نمبر*
هم مثال کے طور پر
ایک شناختی کارڈ نمبر لکھتے هیں
12101-*******-*
اس میں سب سے پہلے آنے والا پہلا نمبر
یعنی 1
جو کہ صوبے کی نشاندہی کرتاہے.
یعنی جن لوگوں کے
شناختی کارڈز کے نمبر 
1 سے شروع ہوتے ہیں،
وہ لوگ
صوبه خیبر پختون خواہ کے رہائشی ہیں.
اسی طرح
اگر آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر 
2 سے شروع ہو رہا ہے،
تو آپ فاٹا کے رہائشی ہیں۔
اسی طرح
پنجاب کیلئے 3،
سندھ کیلئے 4،
بلوچستان کیلئے 5،
اسلام آباد کیلئے 6،
گلگت بلتستان کیلئے 7.
اس پانچ ہندسوں کے کوڈ میں
دوسرے نمبر پر آنے والا ہندسہ
آپ کے ڈویژن کو ظاہر کرتاہے.
مثال کے طور پر
اوپر دئیے گئے کوڈ میں
دوسرے نمبر پر 
2 کا ہندسہ ہے،
جو
ڈیره اسمعیل خان ڈویژن
کو ظاہر کرتاہے.
جبکہ باقی تین ہندسے
آپ کے متعلقه ضلع،
اس ضلع کی متعلقه تحصیل،
اور یونین کونسل نمبر
کو ظاہر کرتے ہیں۔
*درمیان میں لکھا ہوا*
*7 نمبر پر مشتمل کوڈ*
*****-1234567-*
یه درمیانہ کوڈ
آپ کے خاندان نمبر کو ظاہر کرتاہے.
هر خاندان کے تمام افراد
جو ایک دوسرے سے خونی رشتوں کے تحت جڑے هوتے هیں،
ان سب افراد کا باهمی تعلق کا تعین
اسی درمیانے کوڈ سے هوتا هے.
اسی کوڈ کے ذریعے
کمپیوٹرائزڈ شجره
یعنی Family Tree تشکیل پاتا هے.
*آخر میں - کے بعد آنے والا نمبر*
*****-*******-1
یه آخری هندسه
آپ کی جنس کو ظاہر کرتا ہے
مردوں کیلئے
یہ نمبر ہمیشہ طاق میں ہو گا.
مثال کے طور پر
1,3,5,7,9
اور
خواتین کیلئے
یہ نمبر جفت میں ہوگا،
مثال کے طور پر
2,4,6,8
اس طرح
نادرا کے خودکار نظام کے تحت
هم سب کا
قومی شناختی کارڈ نمبر وجود میں آتا هے..!!

سستا والا پٹرول

ایک نوجوان نے کراچی کی ایک کمپنی سے سیلزمینی کی جاب چھوڑی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کینیڈا چلا گیا۔۔۔۔وہاں اس نے ایک بڑے ڈیپارٹمینل اسٹور میں سیلزمین کی پوسٹ پر ملازمت  کیلئے اپلائی کیا۔۔۔۔اس اسٹور کا شمار دنیا کے چند بڑے اسٹورز میں ہوتا تھا جہاں سے آپ سوئی سے جہاز تک سب کچھ خرید سکتے ہیں۔۔۔

اسٹور کے مالک نے انٹرویو کے دوران پوچھا
"آپکے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ کا تعلق کسی ایشیائی ملک پاکستان سے ہے۔۔۔پہلے بھی کہیں سیلزمینی کی جاب کی "

"جی میں آٹھ سال کراچی پاکستان کی ایک کمپنی میں جاب کر چکا ہوں"

مالک کو یہ لڑکا پسند آیا
"دیکھو۔۔۔میں آپ کو جاب دے رہاہوں۔۔۔آپ نے اپنی کارگردگی سے میرے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔۔۔کل سے آ جاؤ۔۔۔۔گڈلک"

اگلے دن وہ پاکستانی لڑکا اپنی جاب پر پہنچا۔۔۔پہلا دن تھا۔۔۔طویل اور تھکا دینے والا دن۔۔۔بہرحال شام کے چھ بج گئے۔۔۔

مالک نے اسے اپنے دفتر میں بلایا
" ہاں بھئی۔۔اپ نے آج دن میں کتنی سیل ڈیل کیں؟"
"ایک" اس نے جواب دیا
"صرف ایک" مالک مایوسی سے بولا "دیکھو۔۔۔میرے سیلزمین دن میں کم سے کم 20 سے 30 ڈیلز کرتے ہیں۔۔۔آپ کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا ورنہ مشکل ہو جائیگی"
"بہتر سر"

مالک نے پھر پوچھا "اچھا۔۔۔یہ بتاؤ تمہاری یہ ڈیل کتنے ڈالر کی تھی؟"

"سر نو لاکھ پچاس ہزار سات سو نو ڈالر کی" وہ بولا

"کیا۔۔۔نو لاکھ ڈالر۔۔۔۔نو لاکھ ڈالر کی ایک ڈیل" مالک حیرت سے کھڑا ہو گیا تھا
"نو لاکھ نہیں۔۔۔۔سر۔۔۔نو لاکھ پچاس ہزار سات سو نو ڈالر"

"او خدا کے بندے! کیا بیچا" ملک چیخ ہی پڑا تھا

"سر! ایک آدمی آیا ۔پہلے میں نے اسے مچھلی پکڑنے والی چھوٹی، پھر درمیانی  اور پھر سب سے بڑی رسی ROD بیچی۔۔۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ وہ مچھلی کہاں پکڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ کہنے لگا کہ سمندر کے خاموش پانیوں میں۔۔۔تو میں نے اسے کہا کہ تب تو اسے ایک کشتی کی ضرورت ہو گی۔۔۔۔میں اسے کشتی والے پورشن میں لے گیا۔۔۔اس نے ایک بڑی کشتی خریدی۔۔۔پھر میں نے اس سے کہا کہ اس کی گاڑی یہ کشتی ساحل تک نہیں لے جا سکے گی۔۔۔۔میں اسے آٹوموبائل  والے پورشن میں لے گیا۔۔۔۔جہاں اس نے ایک 4*4 بلیزر گاڑی خریدی۔۔۔۔پھر میں اسے کہا کہ "آپ کسی ہوٹل کے خشک کمرے میں ٹھہرینگے یا رونق بھرے جگمگاتے جاگتے ساحل پر" اسے میرا آئیڈیا پسند آیا۔۔۔اور ساحل پر رات گزارنے کیلئے ایک 6*6 کا خیمہ ، خیمہ ڈیپارٹمنٹ سے خریدا۔۔۔کھانے پینے کی چیزوں، میوزک سسٹم ، کچھ دیگر ضروری سامان کے علاوہ دو کارٹن بیئر کے خریدے۔۔۔"

مالک گویا پاگل ہونے کو تھا۔۔۔"یعنی۔۔۔ایک ہی گاہک کو تم نے یہ سب کچھ بیچا۔۔۔ایک ہی گاہک جو صرف مچھلی پکڑنے والی چھوٹی Rod خریدنے آیا تھا"

"جی نہیں۔۔۔۔وہ اپنی بیوی کے لئے Always کے پیڈ لینے آیا تھا..... میں نے اسے کہا چار دن گھر میں کیا کرے گا، جا... جاکر مچھلی پکڑ۔۔۔۔۔بس پھر اس نے پانچ ڈالر  Always کے پیڈ کے بجائے ساڑھے نو لاکھ۔۔۔۔۔ "

مالک "او بھائی۔۔۔۔تو کہاں سے آیا ہے۔۔۔"

"سر آیا تو میں پاکستان سے ہوں پر یہ سب ہم نے عمران خان صاحب سے سیکھا ہے"

ہمیں کچھ بھی نہیں چاہیے تھا وہ آیا اور سب کو لسن لگا گیا"
اس نے عوام کو موٹی ویٹ کیا کہ 65 کا پٹرول مہنگا ہے تمہیں 120 کا سستا والا پٹرول خریدنا چاہیے"

ہم بھی کبهی مر سکتے ہیں

ہمیں مرے ہوئے تین چار منٹ ہی ہو چکے تھے لیکن ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا که ہم بھی کبهی مر سکتے ہیں! 
میرے ساتھ والی قبر میں ایک اسمارٹ خوبصورت مردہ تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ تم نے کبھی سگریٹ پیا‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ کبهی ’’ شراب‘ چرس‘ گانجا‘‘ اس کا سر انکار میں ہلتا رہا- کبھی رش ڈرائیونگ کی ‘ پانی میں اندھی چھلانگ لگائی‘ تم سڑک پر پیدل چلتے رہے ہو یا تم لوگوں سے الجھ پڑتے ہو‘‘ اس نے انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولا ’’ میں نے زندگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ 
میں نے پوچھا ’’ تمہاری عمر کتنی تھی‘‘ اس نے جواب دیا ’’ صرف 32 سال‘-’’ پھر تم کیسے مر گئے‘‘ اس نے کہا که میں بھی اس بات پر حیران ہوں، میں کیسے مر سکتا ہوں‘‘ اس نے چیخ کر جواب دیا ’’ میں اپنے لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا‘ مجھے اچانک سینے میں درد محسوس ہوا۔ میں نے چائے کا کپ میز پر رکھا‘ دُہرا ہوا اور اس کے بعد سیدھا نہیں ہو سکا‘ میں مر گیا‘‘۔
میں نے پوچھا ’’ تمہاری اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟‘‘ 
اس نے میری طرف دیکھا اور بولا ’’ پانچ منٹ کی زندگی!! میں صرف تین منٹ کے لیے واپس جانا چاہتا ہوں. میرے ابو مجھ سے ناراض تھے، میں اپنی بیوی سے بدتمیزی کرتا تھا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا، میں ملازموں کو وقت پر تنخواہ نہیں دیتا تھا اور میں نے اپنے لان میں گلاب کے پھول لگوائے تھے لیکن میں ان کے پاس نہ بیٹھ سکا. میں نے ہمیشہ اپنے جسم کو اللّه تعالیٰ کی کبریائی سے مقدم رکھا. میں تین منٹ میں سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں اور میں اپنے گلابوں کو چھو کر دیکھنا چاہتا ہوں‘‘ 
ہم سب سناٹے میں تهے که اگلی قبر میں سے #ایگزیکٹوقسم_کاسیریس_مردہ تھا. اس کے چہرے پر کامیاب بزنس مین کا اعتماد تھا. میں نے اس سے پوچھا ’’ تم بھی مر گئے؟‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا اور جواب دیا ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں. میں دنیا کے بہترین ڈاکٹر، اعلیٰ ترین اسپتال اور مہنگی ترین دوائیں افورڈ کر سکتا تھا. میں نے دنیا کی مہلک ترین بیماریوں کی ویکسین لگوا رکھی تھی. میں امریکا اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں سے ہر چار ماہ بعد اپنے ٹیسٹ کرواتا تھا۔ ہفتے میں دو بار اسٹیم باتھ لیتا تھا، میں ڈائیٹ چارٹ کے مطابق خوراک کھاتا تھا. ہر ہفتے فل باڈی مساج کرواتا تھا. میں کام کا سٹریس بھی نہیں لیتا تھا. میں نے ہمیشہ بلٹ پروف گاڑی اور ذاتی جہاز میں سفر کیا‘ میرے پاس پانچ ہزار لوگ ملازم تھے. یہ لوگ میرا سارا سٹریس اٹھا لیتے تھے اور میں صرف عیش کرتا تھا مگر پھر مجھے کھانسی آئی‘ میں نیچے جھکا‘ فرش پر گرا اور مر گیا اور میں پچھلے تین منٹ سے یہ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں نے تو کبھی مرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘‘ 
میں نے اس سے پوچھا ’’ تم اب کیا چاہتے ہو‘‘ اس نے تڑپ کر جواب دیا ’’بس دو تین منٹ کی زندگی‘ میں واپس جا کر اپنی ساری دولت کسی مدرسہ یا ویلفیئر کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں‘ میں اس سے بڑا اسلامک ادارہ یا فری میڈیکل کالج‘ ملک کا سب سے بڑا تھیلیسیمیا اسپتال یا پھر ملک کی سب سے بڑی سائنس یونیورسٹی بنانے کا حکم دوں گا اور پھر واپس آ جاؤنگا۔
ابھی اس کی بات جاری تھی #تیسرامردہ بول پڑا‘ یہ مردہ چال ڈھال اور شکل شباہت سے سیاستدان دکھائی دیتا تھا‘ اس کے چہرے پر مکاری موجود تھی. 
میں نے پوچھا ’صاحب آپ بھی فوت ہو گئے‘‘ 
وہ دکھ میں ڈوبی آواز میں بولا ’’ ہاں اور میں اسی بات پر حیران ہوں‘ سوچ رہا ہوں‘ میں کیسے مر سکتا ہوں‘ میں تو وہ شخص تھا جس کے ایک نعرے پر لوگ جان دیتے تھے‘ میری گرفتاری‘ میری قید پر میرے ورکر خود سوزی کر لیتے تھے‘ لوگ مجھ سے ٹکٹ لینے کے لیے گیارہ ہزار وولٹ کے کھمبے پر چڑھ جاتے تھے۔ میرے جوتے اٹھا کر سینے سے لگا لیتے تھے اور میں اس وقت تک کوئی چیز کھاتا تھا اور نہ ہی پیتا تھا میرے ڈاکٹر جب تک اس کی تصدیق نہیں کر دیتے تھے. میں ہمیشہ بلٹ پروف شیشوں کے پیچھے رہا اور میں تقریر بھی بلٹ پروف کیبن میں کھڑے ہو کر کرتا تھا‘ میں ہر مہینے عمرے کے لیے جاتا تھا اور ہر دوسرے دن دو لاکھ روپے خیرات کرتا تھا مگر آج اچانک میرے سر میں درد ہوا‘ میں نے کنپٹی دبائی‘ میرے دماغ میں ایک ٹیس سی اٹھی‘ میں نے چیخ ماری اور مر گیا۔
میں نے اس سے بھی پوچھا ’’ آپ کی اس وقت سب سے بڑی خواہش کیا ہے‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ صرف دو منٹ کی زندگی‘ میں اس دنیا کے تمام سیاستدانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں‘ آپ موت سے نہیں بچ سکتے چنانچہ عوام اور اپنے درمیان سے بلٹ پروف شیشے ہٹا دیں‘ خدمت اور تبدیلی وہی ہے جو آپ آج لے آئے‘ اگر آج کی ٹرین مس کر دی تو دوبارہ نہیں پکڑ سکیں گے‘ آپ خادم ہیں تو خدمت کریں نعرے نہ لگائیں‘‘ 
ابھی اس کی بات جاری تھی کہ مولوی صاحب کا مردہ سیدھا ہو گیا۔ ان کے ماتھے پر زہد اور تقویٰ کا محراب تھا‘ گردن عجز اور انکساری کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھی‘ 
میں نے انھیں پوچھا ’’ حضور آپ بھی مر چکے ہیں‘‘ 
مولوی صاحب بولے ’’ میں بھی اس بات پر حیران ہوں‘ میں نے زندگی میں سیکڑوں جنازے پڑھائے‘ اپنی ہر تقریر میں موت‘ میدان حشر اور حساب کا ذکرکیا لیکن اس کے باوجود مجھے یقین تھا میں نہیں مروں گا‘ الله تعالیٰ مجھے بہت عمر دے گا اور میں جب تک موت کے فرشتے کو اجازت نہیں دوں گا یہ میرے بستر کے قریب نہیں پھٹکے گا مگر ہوا اس سے الٹ, میں مسجد میں نماز سے فارغ ہوا ابھی مسجد سے نکلنے بھی نہ پایا کہ روح جسم سے پرواز کرگئی 
مجھے بھی اب صرف تین منٹ چاہئیں۔ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اللّه تعالیٰ ،کتاب الله اور رسول ﷺ کی طریقوں کو اپنانا چاہئے اللّٰه سے اپنی غلطیوں‘ گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو‘ قرآن کریم پڑھو اور رسول ﷺ کی ہر ایک سنت سے اپنی زندگی سنوارتے جاؤ ۔۔۔
تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کی ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائے تو پھر نماز پڑھوں گا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا ...جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہو جائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوں گے

عالمہ عورت

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ نے عالمہ عورت سے ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ، شادی کے بعد اس لڑکی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ  ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ اور ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ -

ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ بیوی ﻧﮯ ﺍسے ﮐﮩﺎ ﮐﮧ
 *ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮬﻢ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺎس و سسر ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ہوتاﮬﮯ۔  ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ -

ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ -

ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ وکیل صاحب ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ اور اپنا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا- وکیل صاحب ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ -

 ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ وکیل صاحب سے ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ - 
وکیل ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ جا کر اپنی ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎؤ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ *ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہو گی۔

ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ سٹپٹا ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ! ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼشادی کو، ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ﮬﯽ ﺭﮬﻮﻧﮕﯽ *آﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ میرے بھی والدین ہیں اور انﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ بھی ﮬﮯ۔
سبق
 ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ وکیل ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ بیٹھا کریں کیونکہ ہر ﻣﺴئلہ ﮐﺎ ﺣﻞ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ.

آخر تم لوگ ڈاکٹر ہو یا قاتل ہو؟

ضلع پنجگور کے رہائشی محمد طاہر کی چھوٹی بیٹی جوکہ پچھلے مہینہ میں پیٹ کی درد کی وجہ سے BMC ہسپتال کوئٹہ گئے تھے اور وہاں ڈاکٹر نے انہیں بتایا تھا کہ انکی Appendix کی وجہ سے پیٹ میں درد ہو رہی ہے اور جلد ہی آپریشن کرنا پڑے گا تو وہ لوگ ڈرگئے تھے اور آپریشن کر والیا تھا اور آپریشن کے پانچ دن بعد پھر سے اسکی پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو وہ لوگ پھر سے کوئٹہ آئے تھے اور پھر سے BMC ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر کو دکھایا تھا تو ڈاکٹر نے کچھ دوائیں لکھ کے دی تھی تو دوا لینے کے بعد پھر بھی وہ ٹھیک نہیں ہوئے تھے تو ڈاکٹر نے انہیں کہا تھا کہ ہو سکتاہے گردوں کا مسئلہ ہوگا 
پھر مجبوراً وہ سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ کی طرف گئے تھے.

سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں ان لوگوں نے (ڈاکٹر کریم زرکون) کو  دیکھا تھا جوکہ گردوں کے امراض کے ماہر ہیں
ڈاکٹر کریم صاحب نے ایک ہزار روپیہ فیس لیکر ان کو ہزاروں روپیہ کا میڈیسن دینے کے ساتھ ہر دو دن بعد MRI اور Ultrasound کروایا اور کہتے رہے  کہ ان کی kidney کا چھوٹا مسئلہ ہے اور ٹھیک ہوجائے گا اور 12 انجیکشن لکھ کر دئیے تھے جوکہ فی انجکشن کا قیمت 5000 روپیہ تھا.
ڈاکٹر کریم صاحب نے کہا تھا کہ ان کو میڈیسن دیں اور انجکشن لگاتے رہیں 15 دن بعد پھر سے میرے پاس مہائینہ کرنے کیلئے آجائیں.
ایک غریب شخص جوکہ ایک لاوارث بلوچستان کے ضلع پنجگور سے تعلق رکھتے تھے وہ اتنی مہنگی دواؤں کیلئے پتہ نہیں کس کس سے قرضہ لیکر پیسے جمع کرتے اور دوائیں خرید لیا کرتے تھے مگر پھر بھی کوئی فرق نہیں تھا، انکی بیٹی کی طبیعت ویسے کا ویسا ہی تھا.

پھر بار بار ڈاکٹر کریم کے پاس جانے اور بےشمار Ultrasound,MRI کرنے کے بعد ڈاکٹر کریم نے ایک اور سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس بھیجا کہا کہ آپ لوگوں کا مسئلہ وہی حل کریں گے.
مجبور باپ اور کیا کر سکتا تھا
مجبوراً وہ رشتہ داروں سے امداد لینے پر مجبور ہوگئے اور پھر سے سلیم میڈیکل کمپلیکس میں سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس گئے اور اپنی مریض بیٹی کو اسے دیکھایا انہوں نے کہا کہ پچھلے مرتبہ جو Appendix کا آپریشن  ہوا تھا اسی انفیکشن ہوا ہے، ہم پھر سے اسی کا آپریشن کریں گے ٹھیک ہو جائے گا، لیکن اس آپریشن میں 40 ہزار روپیہ تک خرچہ آئیگا مجبور اور لاچار باپ نے اپنی رشتہ داروں سے امداد لیا اور آپریشن کیلئے
سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں سرجن (ڈاکٹر عالیہ ھاشمی) کے پاس گئے
اس نے 20 جولائی 2019 کو سلیم میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ میں رات  کے وقت مسلسل 4 گھنٹے آپریشن کیا اور Appendix کی آپریشن کا بتاکر انہوں نے  محمد طاہر کی بیٹی کا ایک گردہ نکال دیا اور گردہ نکالنے کی بات ڈاکٹر نے چھپالیا تھا کہ ان لوگوں نے ایک گردہ نکال دیا ہے اور پھر دوسرے دن  آپریشن کے 24 گھنٹے بعد سرجن (ڈاکٹر عالیہ ہاشمی) نے آکر مریض کے غریب باپ سے کہا کہ ہم لوگوں نے آپ کی بیٹی کا ایک گردہ نکال دیاہے کیونکہ وہ گردہ ناکارہ تھا
لاچار باپ نے حیرانگی سے کہا ایسے کیسے؟
بناء بتائیں آپ کسی اور آپریشن کا نام لیکر دوسرا  آپریشن کیسے کر سکتے ہیں کم سے کم آپ مجھے بتا تو دیتے. 
اگر آپریشن کیا بھی ہے تو نکالا گیا گردہ ہمیں دیکھا دیتے تاکہ ہمیں پتہ تو چلتا کہ گردہ نکال دیا گیا ہے. 

مگر ڈاکٹر عالیہ ہاشمی نے appendix کے آپریشن کے بہانے اسکی جسم سے ایک گردہ نکال دیا ہے اور اس گردے کا آخر کیا ہوا؟ کہاں گیا؟ کس کو بھیج دیا گیا؟ ابھی تک معلوم نہیں ہوا..

شادی کیا ھے؟
                  
         • شادی  ..;
 وہ خوبصورت جنگل ھے ... جہاں  ... "
 *بہادر شیروں " کا شکار .ہرنیاں کرتی ہیں.!!*

             • شادی مطلب ..
. *اجی سنتے ہو سے لیکر ..بہرے ہوگئے ہوکیا؟* 
 تک کاسفر  .!! 

           • شادی مطلب ...
*تیرے جیسا کوئی نہیں  سے لیکر تیرے جیسا بہت دیکھے ہیں .!!* 

             • شادی مطلب  ...
 *آپ رہنے دیجئیے ..*
*سے لیکر۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تو رہنے ہی دیجیئے*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تک کا سفر... 

           • شادی مطلب ...
*کہاں گئے تھے جان  ... سے لیکر ... کہاں مرگئے تھے ...*
 تک کا سفر۔۔.. 

         • شادی کا مطلب
*آپ نصیب سے ملے ہو !*
*سے لیکر  ...میرا نصیب ہی پھوٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
  تک کا سفر ... 

*• شادی شدہ زندگی کشمیر جیسی ھے*
*خوبصورت تو ھے۔۔۔۔۔۔لیکن دھشتگردی بہت ھے*
سب شادی شدہ دوستوں کو شادی کا عالمی دن مبارک ہو

ھنسنا منع ھے
 
ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے .
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا 
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ 
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے 
استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا 
کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی 
جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں

شدید کنوارے

کل دن میں ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی.......
فون اُٹھایا اور کہا...!!!
جی جناب ____
دوسری طرف سے کوئی خاتون تھیں،،،،، بولی : جی کے بچے...!!! صبح ناشتہ کیے بغیر کیوں چلے گئے آفس؟؟  کتنی بار کہا ہے رات کی لڑائی کو صبح بھول جایا کرو لیکن تمہیں سمجھ نہیں آتی.....
آج تم آؤ تو سہی گھر،،،، تمہاری طبیعت صاف کرتی ہوں تیرے بچوں کا خیال نہ ہوتا تو کب کی تمہیں دفع دور کر چکی ہوتی.....!!!
وہ خاتون نان سٹاپ بولے جا رہی تھیں اور مَیں ہکا بکا سوچ رہا تھا کہ یہ کون معصوم عورت ہے جو مجھے اپنا میاں سمجھ کر کلاس لے رہی ہے.....
ادھر تو منگنی کا بھی دور دور تک کوئی سین نظر نہیں آتا.....
وہ ذرا رُکی تو مَیں نے کہا :: محترمہ آپ نے شاید رونگ نمبر پہ کلاس لے لی ہے لیکن مَیں آپ کا شکر گزار ہوں دو منٹ ہی سہی مجھے شادی شدہ والی فیلنگز آ گئیں آپ کی کلاس سے......

کہنے لگی :: بھائی مَیں بھی کوئی شادی شدہ نہیں ہوں
بس دل کی تسلی کے لیے رونگ نمبر پر مرد کی آواز سُن کر کلاس لے لیتی ہوں تو عجیب سی تسکین حاصل ہوتی ہے........ 

اسکو کہتے ہیں 
.
 شدید کنوارے

سگے اور سوتیلے شہید

ڈیرہ غازی خان میں دو پولیس مقابلے ہوئے ۔جن میں کّل آٹھ پولیس اہلکار شہید ہوئےایک جوان ڈیرہ غازی خان میں شہید ہوا جبکہ سات جوان راجن پور میں شہید ہوئے ۔ان میں سے پانچ ضلعی پولیس کے اور تین ایلیٹ فورس کے جوان تھے۔ایک دن یہ خبر چلی اس کے بعد نواز شریف کی بیماری اور اسکے ملک سے باہر جانے کی خبریں اتنی اہم تھیں کے ان شہیدوں کے بارےمیں کسی کو کچھ پتہ نہ چل سکا کے وہ کون تھے ؟وہ کون سی ماں کے لال تھے؟وہ کونسی بیوی کے سہاگ تھے؟کوئی بیٹا تھا۔۔۔۔کوئی باپ تھا ۔۔۔ کون بھائی تھا؟ اور وہ کیوں مارے گئے؟نہ تو کسی دانشور کا بیان آیا ۔۔۔نہ سوشل میڈیا پر کوئی پراپیگنڈاہوا۔۔۔اور نہ ہی لفافہ صحافیوں نے ٹیلی ویژن پر 8 سے 9 بجے تک کوئی پروگرام کیا ۔۔۔پروگرام تو وہ کیے جاتے ہیں جن سے ٹی وی چینلز کا مالی فائدہ ہومگر پولیس والوں کے مرنےکی خبر پر پروگرام کرنے سے ان کا کیا مالی فائدہ ہونا تھا ۔۔۔خبرصرف یہ تھی کے پولیس والے مارے گئے۔ 
پھرمیں نے سوشل میڈیا پر ایک ننھی سی بچی کی وڈیو دیکھی جو اپنے شہید باپ کی گالوں کو سہلاتے ہوئے رو رہی ہے۔۔۔یہ بھی انھی میں سے ایک شہید کی بچی تھی جو اپنے باپ کو الودع کررہی تھی۔مجھے اپنی تھانہ بھونگ میں کیئے گئے وہ تمام ریڈ ز یاد آگئےجو میں نےاپنی پوسٹینگ کے دوران کچہ کے علاقہ میں کیے اور ہر ریڈ میں ہمارے ایک یا دو جوان شہید ہو جاتے تھے ۔اس کی وجہ کچہ کے علاقے کی جغرافیائی صورت حال سے واقف نہ ہو نا ،نامناسب اسلحہ ،ناقص بلٹ پروف جیکٹس اور ناقص بکتر بند گاڑیوں کا ہونا بھی اسکی سب سے بڑی وجہ تھا۔۔۔میری تعیناتی میں صرف ایک بکتر بند گاڑی ہوا کرتی تھی جو ایک کلومیڑ کے بعد گرم ہوجاتی تھی بعد میں اسے تھانہ ما چھکہ کے بازار میں کھڑا کردیا گیا تھا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر خوش ہوں ۔مجھے آج بھی وہ ریڈ یاد ہے جو بغیر کسی "ریکی "کے ASPپرویز چانڈیو نے کروایا۔ریڈ کے دوران بکتر بند گاڑی کھالے میں پھنس گئی ۔ہم ASPکو کہتے رہے نکل چلیں کیونکہ ریڈ کے بعد کچے کے علاقے میں رکنا انتہائی خطرناک ہوتا ہے ۔جوں جوں وقت گزرتا ہے تمام جرائم پیشہ افراد آپس میں رابطہ کرنے کے بعد ایک دوسرے کی مدد کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔جدید اسلحہ سے لیس یہ ڈاکو ٹیلی سکوپ رائفل سے نشانہ لے لے کر پولیس ملازمین کو زخمی یا شہید کرتے تھے۔۔۔۔سرمد سعید خان SSPرحیم یار خان تھےوہ اس روز میٹنگ کے سلسلہ میں لاہور گئے ہوئے تھے۔ایک ناتجربہ کار ASPجسے ہم SHO’sکہتے رہے کہ بکتر بند گاڑی بعد میں مل جائے گی مگر وہ ٹیلی فون پر SSPسے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے کیونکہ سرمد سعید خان میٹنگ میں تھے بات نہ ہوسکی ۔اتنی دیر میں ڈاکووں نے ہمیں گھیرا میں لے لیا فائرنگ شروع ہو گئی ۔۔ہمارے تین جوان شہید ہوگئے ۔۔کافی زخمی ہوئے ۔ہماری ایک LMGگن چھین لی گئی اور اس ملازم کو ٹانگ میں گولی مار دی ۔۔۔۔اسی طرح 2015 میں چھوٹو گینگ اور پولیس کے درمیان مقابلے میں راجن پور پولیس کے SHOاور پانچ جوان شہید ہوگئے جن کو ایک ایسی کشتی میں بیٹھا کر اس جزیرہ پر بھجوایا گیا جہاں ڈاکووں کی پناہ گاہ تھی ۔بے یارو مددگار پولیس ملازمین کشتی میں ڈاکووں کے رحم و کرم پر تھے ۔جوں ہی کشتی جزیرے کے پاس پہنچی ڈاکووں نے برسٹ مار کر ان کو شہید کردیا ۔۔۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ افسران کیمپ لگا کر سارا دن چائے پیتے اور کھانا کھاتے رہتے تھے ۔۔۔نہ کسی کو کسی کے مرنے کا دکھ اور نہ ہی کوئی غم ! ان کے لیے یہ پکنک ہوا کرتی تھی ۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی اس طرح کے ریڈ کیے جاتے ہیں سب سے پہلے فورس کے ملازمین کی حفاظت کا خیال کیا جاتا ہے ۔بلٹ پروف جیکٹس آرام دہ اور ہلکے وزن کی ہوتی ہیں جبکہ ہماری پولیس کو دی گئیں بلٹ پروف جیکٹس اتنی وزنی ہوتی ہیں کہ وہ بمشکل پہنی جاسکتی ہیں۔یہی حال بکتر بند گاڑیوں کا ہےصادق آباد کے علاقہ میں ڈاکووں سے لڑتے ہوئے انسپکٹر تبسم شہید ہوا جوکہ بکتر بند گاڑی کے اندر تھا اور ڈاکوں کی گولی بکتر بند گاڑی کو چیرتی ہوئی اندر بیٹھے انسپکٹر کو لگی ۔لیاقت پور کے ایک تھانہ کا نام تبسم شہید کے نام پر رکھا دیا گیا۔
میں نے اپنی ملازمت میں نوٹ کیا اور میرا تجربہ بھی ہے کہ ریڈ پر جاتے ہوئے نہ تو ملازمین کو اس ریڈ کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی انھیں ریڈ کے مطابق حفاظتی اقدامات کرائے جاتے ہیں۔اکثر کچے کے ریڈ کے دوران پولیس ملازمین کراس فائرنگ میں اپنا نقصان بھی کر لیتے ہیں۔۔۔زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے مگر وہ افسران جو لاجسٹک کے انچارج ہیں اسلحہ ،بلٹ پروف جیکٹس ،بکتر بند گاڑیاں لیتے وقت اگر رشوت نہ کھائیں اور اقربا پروری کرتے ہوئے ان کمپنیوں سے سامان نہ خریدیں جن کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی بلکہ ان کمپنیوں سے یہ سامان لیں جن کی کوالٹی اچھی ہوتی ہےتو شاید ہم محکمہ پولیس میں ہونے والے نقصان کو کم کرسکیں۔
پولیس ڈپارٹمنٹ میں مرنےوالے تو شہید کہلاتے ہیں ان کے ورثا کو کچھ مالی امداد بھی مل جاتی ہے لیکن اس مالی امداد کے لیے وہ جس طرح دھکے کھاتے ہیں ناقابل بیان ہے۔۔۔مرنے والے تو مر جاتے ہیں مگر زخمی ہونے والے نہ زندہ ہوتے ہیں نہ مردہ ۔۔۔۔۔۔کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا ۔پریس ریلز اور اخباری بیانات دے دیے جاتے ہیں ۔۔ہرسال پولیس کے یوم شہدا پر شہدوں کے ورثا کو بلا کر ان کے ساتھ کھانا کھانے کاڈرامہ کردیا جاتا ہے جبکہ پورا سال وہ کس حالت میں ہوتے ہیں یہ کوئی IG,DIGاورSPنہیں جانتا ۔ہماری پولیس میں شہدوں کی بھی قسمیں ہیں۔اگرPSP آفیسر شہید ہو جائے تو اس کے نام پر ٹول پلازہ ، پولیس لائنز کےنام رکھے جاتے ہیں ۔ان کے عزیر و اقارب کو عزت و احترام سے بیٹھایا جاتا ہے ۔ مگر کراچی میں ایک شہید ASIکی والدہ کو زمین پہ بیٹھا کر کھانا کھلایا گیاجو باعث شرم تھا۔۔
آرمی کے شہدا کو جو عزت و احترام دیا جاتا ہے شاید وہ پولیس کے نصیب میں نہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ خود ہمارے افسران ہیں ۔سیاسی سفارشوں پر لگے ہوئے IGکس منہ سے اپنی فورس کی خیرخواہی ان سیاست دانوں سے مانگیں گے جنھوں نے ان کی پوسٹینگ کروائی ۔انھیں تو صرف اپنا مفادعزیز ہوتاہے ۔پولیس میں شہادتیں عام بات ہیں آئے دنوں اخبارات میں اور میڈیا پر خبر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں مگر میرے لیے سابقہ پولیس آفیسر ہونے کے ناطےیہ بات باعث شرم ہے کے ڈیرہ غازی خان کے شہدا کے جنازے میں نہ تو IGپولیس گیا اور نہ وزیر اعلیٰ جسکا اپنا گھر ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہے۔جنازہ پر جانے سے شہدا نے زندہ نہیں ہو جانا تھا پر ان کے ورثا کو تسلی ضرور ہوتی کہ محکمہ کا سربراہ اپنے بچوں کے جنازے میں آیا ہے۔
شاید ہمارے حکمرانوں اور افسران کے لیے سگے اور سوتیلے شہید ہوتے ہیں پر اللہ کی نظر میں تمام شہید ایک جیسے ہیں۔

تاریخ سیکهو

حکومت پنجاب کے وزیر اطلاعات اور پی.ٹی.آئی کے رهنما اسلم اقبال بیگ کہتے ہیں مولانا کے مارچ میں اسفندیار ولی خان نے شرکت کی جن کے دادا نے پاکستان میں دفن ھونا بھی پسند نہیں کیا ۰
حضور باچاخان نے تو اپنے آبا و اجداد کی مٹی , اور اسلامی ملک میں اسودہ خاک ھونے کو پسند کیا۰ ذرا پاکستان کے ان مامووں کے بارے میں بھی کچھ ارشاد فرمائیے کہ انھوں نے پاکستان میں دفن ھونا  کیوں پسند نهیں کیا ؟

1۔گورنر جنرل غلام محمد : ان کو انکی وصیت کے مطابق دشمن ملک ھندوستان کے شھر لکھنو میں واقعہ درگاہ حاجی وارث شاہ بارہ بنکی میں پاکستان سے خصوصی طیارے میں لے جا کردفن کیا گیا
2 - جنرل موسیٰ خان 1966 ء سے لے کر 1969 ء تک مغربی پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ 1985 میں ، وہ بلوچستان کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے اور 1991 میں ان کی وفات تک وہ اس عہدے پر رہے۔ کو ان کی خواھش کے مطابق ایران کے شھر مشھد لے جاکر دفنایا گیا۰
3- جناب معین قریشی جو 18 جولائی 1993 سے اکتوبر 1993 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے ایک امریکی خاتون لیلو الزبتھ کے شوہر نامدار بھی تھے جب 22 نومبر 2016 کو 86 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تو اپنی وصیت کےمطابق امریکی شھر واشنگھٹن ہی میں دفنائے گئے۰
4۔ چوھدری رحمت علی جس نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا۰ جب فروری 1951 کو انتقال کر گئے تو ان کو انگلستان کے شھر کیمبرج کے نیو مارکیٹ قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۰
5- سکندر مرزا : پاکستان کے چوتھے اور آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر سکندر مرزا لندن میں فوت هوۓ اور ایران میں دفنایا گیا- اور اس کی بیوی ناهید مرزا 24 جنوری 2019 کو لندن میں فوت هوېي اور وهی پر دفن کردی گئ-
6 - دینا واڈیا - قایٔدآعظم کی اکلوتی بیٹی دینا واڈیا نے ایک هندو نیول واڈیا سے شادی کیا ، اور 98 برس کی عمر میں 2 نومبر 2017 میں لندن میں انتقال کرگیٔ ، اور بهارت میں دفنایا گیاـ
7 -  مولانا محمد علی جوہر - تحریک خلافت کے روح رواں اور مطالعہ پاکستان کے اوراق کی زینت مولانا محمد علی جوہر کو ان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کے مطابق اسرائیل کے شھر یروشلم میں سپرد خاک کیا گیا۰
ڈومز آف راکس کے قریب واقع ان کے قبر پر یہ الفاظ کندہ ہیں
"Here lies al-Sayyid Muhammad Ali al-Hindi”

سائنس کی نظر میں

تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے، 
ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے، 
جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں۔

یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔

تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔
6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔
17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔
60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔
90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔
ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں، 
اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
تو میرے دوستوں غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی، 
یہ سب کہاں جاتا ہے؟
سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے

انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ 
مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔
پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔۔۔
دنیا میں اکڑ کر چلنے والا، 
اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا
دوسروں کو حقیر سمجھنے والا 
دنیا پر حکومت کرنے والا
قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف "مٹی" رہ جاتی ہے

لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیئے، 
اللہ کو یاد کرنا چاہیئے، 
ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیئے
اور
خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیئے۔۔۔!
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین

بشارتیں

*نماز فجر کی پابندی کرنے والوں کے لئے 10 بشارتیں:*

میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بہت بڑا بدنصیب ہی ہوگا جو ان نبوی بشارتوں کو پڑھنے یا سننے کے بعد بھی نماز فجر چھوڑ کر سوتا رہے گا!

❍ *پہلی بشارت:* 
*بروز قیامت اسے مکمل نور حاصل ہوگا۔*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ( بَشِّرْ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) رواه أبو داود (561) وصححه الألباني في صحيح أبي داود۔

ترجمہ: تاریکیوں میں پیدل چل کر مسجد جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت دے دو۔

❍ *دوسری بشارت:* *فجر کی سنت موکدہ دنیا ومافیہا سے افضل اور بہتر ہے تو پھر فجر کی فرض نماز کی کیا فضیلت ہوگی!*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ( رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ) رواه مسلم (725)

ترجمہ: فجر کی دونوں رکعتیں یعنی سنت دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔

❍ *تیسری بشارت:* *مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر آنے سے زیادہ نیکیوں کا حصول:*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو جو بندہ اپنے گھر سے مسجد کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ہر ایک قدم پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا گویا مسلسل نماز پڑھ رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے اپنے گھر کو لوٹ جائے۔ (مسند أحمد ١٧٤٥٩)

❍ *چوتھی بشارت:* 
*نماز فجر میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔*

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (78)
نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک  اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے. (سورة الإسراء : ٧٨) 

❍ *پانچویں بشارت: جہنم سے نجات۔*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
 لَنْ يلجَ النَّار أَحدٌ صلَّى قبْلَ طُلوعِ الشَّمْس وَقَبْل غُرُوبَها يعْني الفجْرَ، والعصْرَ. 

ترجمہ: وہ شخص ہرگز جہنم میں نہیں جائے گا جو طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھے یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ (صحيح مسلم ٦٣٤)

❍ *چھٹی بشارت: اللہ تعالی کا دیدار۔*

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ( اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی ) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے ( فجر اور عصر ) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو۔ (صحيح البخاري ٥٧٣ ومسلم ١٨٢)

❍ *ساتویں بشارت: پوری رات تہجد کا ثواب۔*

 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے پوری رات تہجد پڑھی۔. (مسلم ٦٥٦)

❍ *آٹھویں بشارت: فرشتوں کی دعا۔*

پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص نماز فجر پڑھنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ! اس بندے کی مغفرت فرما. اے اللہ! اس بندے  پر رحم فرما۔
(مسند أحمد ١٢٥١)

❍ *نویں بشارت: مکمل حج اور عمرے کا ثواب۔*

 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ , تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ ) رواه الترمذي (586).

ترجمہ: جو شخص فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر و اذکار کرتا رہے پھر دو رکعت نماز ادا کرے تو اسے پورا پورا پورا حج اور عمرے کا ثواب اب حاصل ہوگا۔

❍ *دسویں بشارت: نماز فجر آفات و مصائب سے حفاظت کی ضامن ہے۔*

 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ( مَن صَلَّى الصُّبحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلا يَطلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِن ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَيُدرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ )

ترجمہ:جو صبح کی نماز ادا کرلے تو وہ اللہ کے حفظ و امان میں آجاتا ہے۔ (صحيح مسلم ٦٥٧)

آسمانی بجلی

اس سیزن میں آسمانی بجلی گرنے کے امکانات بھت زیادہ ہوتے ہیں، کیوں کہ بادل انتہائی اونچائی اور ھلکے پیمانے پر ہوتے ہیں، جس میں آسمانی بجلی ایک منٹ یعنی 60سیکنڈ میں کم از کم 15 سے 20 مرتبہ نیچے زمین کی طرف مقناطیسی چیزوں، بجلی کے آلات، درختوں، جانوروں اور انسانوں پر کشش کرتی ہے، اور 15 سے 20 مرتبہ گرنے کے امکانات ہوتے ہیں، تو اس حالات میں آپ اپنے گھروں سے باہر مت نکلیں، بجلی کے آلات سے دور رہیں، ٹیلی-ویژن، کیبل، یو پی ایس اور فرج کی تاریں نکال دیں، اپنے گھروں کی مین سپلائی کے چینج اور مین سوئچ بند کردیں، چھتری لینے سے گریز کریں، درخت کے نیچے اور جانور کے پاس اور کسی تلاب کے ساتھ کھڑے رہنے سے گریز کریں، شکریہ
خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے گھر کے بچوں کو بھی محفوظ رکھیں

ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟

ﺳﻮ ال ﺗﮭﺎ کہ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ کس مذہب کے لوگ داخل کیے جائیں گے ۔ ﯾﮩﻮﺩﯼ ؛ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ یا پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟ 
اس سوال کے جواب کے لئے تینوں مذاہب کے علماء کو مدعو گیا گیا ۔
مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ۔؛
ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼﺍﻭﺭﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺭﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺎ گیا :
ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟؟؟
ﯾﮩﻮﺩﯼ، ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟۔
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺪﻟﻞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ تمام ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺭﺑﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ.
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ، ﺟﺎﻣﻊ، معقولیت سے بھرپور ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ کے ساتھ رواداری ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ تھا. ان کے جواب نے سارے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ یہ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ.
"ﺁﭖ ﻧﮯ فرمایا:
ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.اور انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر نبی معبوث کیا ۔
اﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ بھی ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ. اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مخلوق کی رہبری اور ہدائیت کے لئے نبی معبوث کیا ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ 
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ اکرم
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفےٰﺻﻠﯽ اللّٰہﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ نہ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔۔،،

پاکستانی قوم

پاکستانی ایک عمدہ قوم ہے۔!!
اگست آئے تو سچے پاکستانی۔
رمضان آئے تو پکے مسلمان۔
جنگ لگے تو سب فوجی۔ 
کھیل کا میدان لگے تو سب کھلاڑی۔
الیکشن ہوں تو سب سیاستدان۔ 
احتساب شروع ہو تو سب نیب۔
بجٹ آٸے تو سب اکانومسٹ۔
خبر آٸے تو سب تجزیہ نگار۔
کسی بیمار کو ملیں تو سب ڈاکٹر۔
 ڈاکٹر کو ملیں تو سب مریض بن جاتے ہیں۔
کوئی شرعی مسئلہ پیش آئے تو سب مفتی۔ 
کوئی متنازعہ مسئلہ پیش آئے تو سب وکیل۔
شادی اور پروگرام کے موقع پر سب فنکار۔ فضول رسم و رواج کےموقع پر سب مالدار۔
اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آئے تو سب زکاة کے مستحق بن جاتے ہیں۔

اس قوم کی صلاحیت پانی جیسی ہے جس برتن میں ڈالو اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

الغرض لامحدود تجربات سے لبریز قوم۔ 

عالمی طاقتیں کبھی اس قوم سے پنگا لینے 
کی غلطی نہ کریں
ورنہ بعد میں پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔

مرد کا ڈی این اے

مرد کا ڈی این اے (DNA) عورت کے جسم میں 4 ماہ 10 دن تک موجود رہتا ھے

مسلم عورتوں کی عدت اور ڈی این اے (DNA) کی سائنسی تحقیق
DNA
(Deoxyribo Nucleic Acid)

فلوریڈا کا ایک ڈاکٹر جیمز انسانی جسم کے ڈی این اے پر 1968ء میں ایک لیبارٹری میں کام کر رھا تھا
وہ ایک کرسچن تھا اس کی بیوی سیاہ فام تھی اور ان کے تین بچے تھے
اس کے پڑوس میں ایک مسلم فیملی رہتی تھی ڈاکٹر جیمز کی بیوی کا مسلم گھرانے میں آنا جانا رہتا تھا
 مسلمان عورت کا مرد اسی دوران فوت ہو جاتا ھے اس لئے وہ عورت شوہر کے انتقال کے بعد عدت میں بیٹھ جاتی ھے۔
ڈاکٹر جیمز کی بیوی اپنے شوہر سے مسلمان عورت کی عدت کا ذکر اکثر گھر میں کرتی رہتی تھی کہ یہ کیسا مذہب ھے جو عورت کو 4 ماہ 10 دن تک گھر میں قید کر رکھے۔۔۔
ڈاکٹر جیمز کو سائنسی تحقیق کا شوق ہوا اور اس نے مسلم عورتوں کی عدت کے دورانیے کی تحقیق اسلامی مطالعہ پر کی اور اس دوران ان کے جسم میں ڈی این اے پر ریسرچ شروع کئے
جوں جوں وہ تحقیق کرتا گیا اللہ پاک اس ڈاکٹر کے عقل کے پردے کھولتا گیا
وہ اس نتیجے پر پہنچا
کہ مسلم عورتیں دوسرے مذاہب کی عورتوں سے عدت کی وجہ سے بھی پاکباز رہتی ھیں۔
وجہ ۔ ۔ 
یہ کہ ایک مرد کا ڈی این اے عورت کے جسم میں 4 ماہ 10 دن تک موجود رہتا ھے
جب عورت کا شوہر فوت ہو جائے یا عورت کو طلاق ہو جائے تو اسلام نے عورت پر 4 ماہ 10 دن عدت اس لئے لازمی قرار دیا ھے
تاکہ
جب بیوہ یا مطلقہ عورت دوسری شادی کرے تو اس کے جسم میں پہلے شوہر کے ڈی این اے کا وجود باقی نہ رہے،،،
جو مطلقہ یا بیوہ عورت 4 ماہ 10 دن کی عدت کے اندر دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ھے وہ پاکباز نہیں ھوتی، کیونکہ اس کے جسم میں پہلے شوہر کا ڈی این اے موجود ہوتا ھے
جو کہ عدت کے اندر شادی کرنے والی مطلقہ یا بیوہ عورت کے دوسرے شوہر سے پیدا ہونے والی اولاد میں ٹرانسفر ھو جاتا ھے جس کی اسلام میں انتہائی ممانعت بیان کی گئی ھے۔ یہ ریسرچ کرتے کرتے ڈاکٹر جیمز نے اپنی بیوی اور تینوں بچوں کے ڈی این اے سیمپل اپنی لیب میں چیک کیے تو اسکی بیوی کے جسم میں 4 مختلف لوگوں کے سیمپل پائے گئے
اور ان کے بچوں میں سے سوائے ایک بیٹا کے باقی دو بچوں میں ڈاکٹر جیمز کے علاوہ دو اور لوگوں کے ڈی این اے سیمپل نکل آئے۔۔۔
ڈاکٹر جیمز نے اپنے ایک بیٹا جس میں فقط ڈاکٹر اور اسکی بیوی کا ڈی این پایا گیا تھا اسکو اپنے پاس رکھا اور بیوی کے ساتھ دو بچوں کو چھوڑ کر مسلمان ھو گیا۔
اور کینیڈا جا کر ایک مسلم عورت سے شادی کر لی۔ ڈاکٹر جیمز عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گیا اور اپنا نام ڈاکٹر جون  رکھ لیا
اس نے اپنی اس ریسرچ کو کینیڈا کے  ایک اخبار میں اپنی رپورٹوں کے ساتھ شائع کروایا تو ڈاکٹر جون کے حلقہ احباب میں سے کافی سارے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔
یورپ میں ڈی این اے پر سائنسی تحقیق 1960ء کے عشرے میں شروع کی گئی تھی جبکہ 
مذہب اسلام میں صدیوں پہلے عدت کی بنا پر انسانی ڈی این اے کی طرف اشارہ دیا گیا ھے...

معاف‏ کرنا

السَّلامُ وَعَلَيْكُمْ 
جہاں معاف‏ کرنے سے خوشگوار  نتائج اور اچھائی کا امکان ھو " وہاں بدلہ لینا ظلم ھے- اپنے دل کو ‏ھرے ‏بھرے درخت کی مانند بنا‏ کر رکھو -  سکون اور ‏پیار ‏کے پرندے خود  ‏ہی اس‎ پر آبیٹهیں گے۔۔۔ 
الله كريم لوگوں سے احسن سلوک كى توفيق عطا فرمائے اور آپ كو صحت، عزت، سلامتى  کے ساتھ ہميشہ خوش و خرم ركهے_ آمين

ایمان اور کفر

بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌

ایمان کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہنا کفرکے ساتھ محل میں رہنے سے بہتر ہے.....!

محکمہ پولیس میں چھٹی

پولیس رول کے مطابق کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک پولیس افیسرز کو جو چھٹی ملتی ہے وہ اُنکا حق نہیں بلکہ یہ دی جانے والی چُھٹی افسران بالا کی طرف سے رعایت ہے،یعنی اگر گزٹڈ افیسر کی مرضی ہوگی تو وہ چھٹی دے دے گا ورنہ آپ چھٹی کسی بھی قانون کے مطابق اِن سے نہیں مانگ سکتے 
ویسے یہ رعایت سال میں 30 دن تک کی چھٹی کی صورت میں افسران بالا آپکو دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور ہاں ! یہ 30 دن کی رعایت سال میں پوری نفری کا 10% کو ایک وقت میں دی جاتی ہے۔ اگر حالات خراب ہوں تو اس 10% نفری کی چھٹی بھی بند کردی جاتی ہے نتیجتاً جب چھٹی کُھلتی ہے تو چھٹی کا بحران پیدا ہوا ہوا ہوتا ہے
چھٹی کا طریقہ کار ہمیں انگریزوں سے وراثت میں ملا ہے جن کے قوانین کا مقصد صرف یہ تھا کہ برصغیر کے لوگوں کو اپنی غلامی میں رکھنا باقی آپ سمجھدار ہوں گے
ایک بات آپکو میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پولیس افیسر بھی انسان ہوتا ہے اور انسانوں کی مختلف ضروریات،مصروفیات،رشتےدار،بیوی،بچے،موت فوت،زچہ بچہ،بیماری اور وغیرہ وغیرہ بہت کچھ ہے سنانے کو۔۔۔۔۔اسلام میں بیوی سے کم سے کم دور رہنے کا وقت بھی  آپ کومعلوم ہوگا، اس لیے کچھ افیسرز کو اپنے فرض و سنت کی ادائیگی کیلیے بھی چھٹی چاہیے ہوتی ہے____اور ہاں ایک بات یہ بھی میں نے افیسرز سے سنی ہیکہ اگر گھر کے کام کرنے تھے تو گھر ہی بیٹھتے پولیس فورس جوائن نہ کرتے،یعنی پُلسیہ بننے کے بعد پولیس والا نہ باپ رہتا ہے،نہ بیٹا،نہ بھائی،نہ شوہر،نہ کسی کارشتہ دار اور نہ ہی اس کی کوئی خوشی غمی ہوتی ہے

جی!!!! تو اب اس نقطے پر آتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں ایک پولیس افیسر کس طرح اپنی چُھٹی Manage کرتا ہے 
چُھٹی حاصل کرنے کےلیے مختلف پولیس افیسرز اپنا اپنا طریقہ کار اختیار کرتے ہیں جن کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں
*جب مُنشی کے پاس چھٹی کی گنجائش نہیں ہوتی اور ایک حق دار کو چھٹی چاہیے ہوتی ہے تو ذیل طریقے پہ عمل پیرا ہوتا ہے*

1_بیمار نہ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر کو پیسے دے کر جھوٹا بیماری کا میڈیکل بنواتا ہے
2_کسی قریبی رشتہ دار((ماں،باپ،بہن،بھائی،بیٹا،بیٹی، یا کوئی اور قریبہ رشتہ دار)) جو یا تو زندہ ہوتا ہے یا پھر مرے ہوئے عرصہ بیت چکاہوتا ہے،کی فوتگی کا بہانہ بنا کر 3 دن ایمرجنسی چھٹی لے کر گھر چلا جاتا ہے 
3_غیر حاضر ہوجاتا ہے،جس کو واپسی پہ محکمانہ سزا بھگتنا پڑتی ہے
4_کچھ لوگ مُنشی کے ساتھ گپ شپ رکھتے ہیں اور خوش بھی رکھتے ہیں،لہذا کچھ منشی بھی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خوش کرنے والوں کو ناخوش نہیں دیکھ سکتے، مطلب چھٹی مل جاتی ہے ایسوں کو بھی
5_کچھ پولیس افیسرز کو خاموش طبیت ہوتے ہیں اس لیے ہر دکھ سکھ کو اپنے دل۔میں رکھتے ہیں اور میرٹ پہ چھٹی ملنے کا انتظار کرتےہیں،یہ انتظار دو مہینے سے لے کر 5 مہینہ، مزید 6 مہینہ سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے

*اس ساری صورتحال میں کچھ  پُلسیے چِڑچڑےاور ٹینشن کے مریض اور کچھ محکمہ میں عادی مجرم بن جاتے ہیں،کچھ کے رشتےدار ناراض ہوجاتے ہیں،کچھ کی بیگمات اور بچے ناراض ہوئے ہوتے ہیں،اور ہاں دیکھنے میں آیا ہیکہ پولیس والے کے بچے بگڑے ہوئے اور نافرمان ہوتے ہیں۔۔۔جس کی وجہ باپ کا سر پہ سایہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ پولیس والے کو گھر قانونی طور پر جانے کا اتنا ہی موقع ملتا ہے جس طرح ایک کسان کو کھیتوں میں فصل کےبیج بونے کا اور کاٹتے وقت درانتی ہاتھ میں لے کر کاٹ آنے کا*  

بات یہ ہیکہ پولیس کو رعایت نہیں بلکہ حق دینا چاہیے اور انگریزوں کے غلامانہ قوانین کی بجائے اُمت محمدی کے قوانین کو برسرپیکار لانا چاہیے
اس کاوش کے بعد ہوسکتا ہے پولیس پہ لگے ہوئے رشوت خوری کے ٹیگز میں کچھ کمی آئے اور پولیس کے رویے میں شاید  باپ،بھائی،اور بیٹے کی جھلک نظر آئے۔۔۔۔
جزاک اللہ

مس عائشہ اور طارق

مس عائشہ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﻼﺱ 5 ﮐﯽ ﭨﯿﭽﺮ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ " ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ " ﺑﻮﻻ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﭽﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ مس عائشہ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﻧﮧ ﺑﮭﺎﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ طارق ﺗﮭﺎ۔ طارق ﻣﯿﻠﯽ ﮐﭽﯿﻠﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺁﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﮕﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﺴﻤﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﻗﻤﯿﺾ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﺮ ﭘﺮ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ۔
مس عائشہ ﮐﮯ ﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺗﻮ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺧﻮﻟﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮐﮧ طارق ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ۔ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ مس عائشہ ﮐﻮ طارق ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ طارق مس عائشہ ﮐﯽ ﺳﺨﺖ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ طارق ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﮑﮭﻼ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺍﻭﺭ مس عائشہ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ طارق ﻧﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
مس عائشہ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﺮ ﮈﺍﻧﭧ، ﻃﻨﺰ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ مس عائشہ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﭼﮍ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮩﻼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﭘﻮﺭﭨﯿﮟ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ مس عائشہ ﻧﮯ طارق ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﻟﮑﮫ ﻣﺎﺭﯾﮟ۔ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ طارق ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ مس عائشہ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ۔ " مس عائشہ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮﺁﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ طارق ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ۔ " " ﻣﯿﮞ ﻤﻌﺬﺭﺕ ﺧﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ طارق ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﻤﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮫ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ۔ " مس عائشہ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻝ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﺁﺋﯿﮟ۔
ﮨﯿﮉ ﻣﺴﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭙﮍﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ مس عائشہ ﮐﯽ ﮈﯾﺴﮏ ﭘﺮ طارق ﮐﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﮟ۔  اگلے دن مس عائشہ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ طارق ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭨﺲ ﮨﯿﮟ۔ " ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﻼﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮩﯽ ﮔﻞ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮨﻮﻧﮕﮯ۔ " ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﺱ 3 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻤﺎﺭﮐﺲ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﮨﮯ۔ " طارق ﺟﯿﺴﺎ ﺫﮨﯿﻦ ﺑﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ " " ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﭽﺮ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﮕﺎﺅ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ""
ﺁﺧﺮﯼ ﺳﯿﻤﺴﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ طارق ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﮨﮯ۔ " مس عائشہ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺱ 4 ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﮭﻮﻟﯽ۔ " طارق ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺍﺛﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ " " طارق ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﮐﺎ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ۔ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﮯﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ۔ " "
طارق ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ طارق ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺭﻣﻖ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ " مس عائشہ ﭘﺮ ﻟﺮﺯﮦ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﯾﺲ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﻨﺪ ﮐﯽ۔ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ مس عائشہ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﺴﺘﻤﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺟﻤﻠﮧ " ﺁﺋﯽ ﻟﻮ ﯾﻮ ﺁﻝ " ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﯽ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ طارق ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﭽﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ طارق ﭘﺮ ﺩﺍﻏﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ طارق ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ مس عائشہ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮉﺍﻧﭧ ﭘﮭﭩﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﻨﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺧﻼﻑِ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺑﻞ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ طارق ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﺩﮨﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮩﺎ۔
طارق ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﺧﺮ ﺑﻮﻝ ﮨﯽ ﭘﮍﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯽ مس عائشہ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﭘﺮﺟﻮﺷﺎﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻟﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺋﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺠﻮﺍﺋﯿﮟ۔ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎمس عائشہ ﮨﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﺘﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺏ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﻣﺜﺎﻝ طارق ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺭﻓﺘﮧ ﺭﻓﺘﮧ ﭘﺮﺍﻧﺎ طارق ﺳﮑﻮﺕ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ مس عائشہ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻼ ﻧﻘﺺ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﮯ ﻧﺌﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﺏ ﮐﺴﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺳﻨﻮﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ، ﮐﭙﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺻﺎف ہوتے ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺳﺎﻝ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ طارق ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﺍﻟﻮﺩﺍﻋﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ مس عائشہ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺤﻔﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ مس عائشہ ﮐﮯ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﻥ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺪ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﭘﯿﮏ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺗﺤﻔﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﻟﮕﯽ ﮑﮧ ﺗﺤﻔﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ طارق ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ مس عائشہ ﻧﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ۔ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﯿﮉﯾﺰ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺪﮦ ﺷﯿﺸﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻣﻮﺗﯽ ﺟﮭﮍ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ مس عائشہ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﭼﮭﮍﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻦ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﭽﮯ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ۔ﺧﻮﺩ طارق ﺑﮭﯽ۔ ﺁﺧﺮ طارق ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ مس عائشہ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭨﮏ ﺍﭨﮏ ﮐﺮ مس عائشہ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺁﺝ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ "
ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺩﻥ ﮨﻔﺘﻮﮞ، ﮨﻔﺘﮯ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎﮞ ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ؟ ﻣﮕﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ مس عائشہ ﮐﻮ طارق ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﺻﻮﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ " ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺌﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﺳﮯ ﻣﻼ۔ ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ " ﭘﮭﺮ طارق ﮐﺎ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺨﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﻮﻁ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ۔ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﺰﯾﺪ ﮔﺰﺭﮮ ﺍﻭﺭ مس عائشہ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮈﺍﮎ ﻣﯿﮟ طارق ﮐﺎ ﺧﻂ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ: 
" ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ۔۔ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ۔ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ - " فقط ڈاکٹر طارق 
 ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ جہاز  ﮐﺎ ﺭﯾﮍﻥ ﭨﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ مس عائشہ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮧ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ وہ دوسرے شہر  کے لئے  ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﻋﯿﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ شادی کی جگہ  ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻟﯿﭧ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﮈﺍﮐﮍ، ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ  کہ وہاں موجود نکاح خواں  ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺘﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ طارق تقریب کی  ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﮔﯿﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺗﮭﺎ۔ پھر سب نے دیکھا کہ  جیسے ہی یہ بوڑھی ٹیچر گیٹ  سے داخل ہوئیں  طارق ان کی طرف لپکا اور  ﺍﻥ ﮐﺎ وہ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﮍﺍ ﭘﮩﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ " ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﺁﭖ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﺍﺅﻧﮕﺎ۔ ۔ ۔ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮨﯿﮟ - !

!!ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮐﺮ ﮐﮧ ﮨﯽ ﻣﺖ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ، طارق ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺌﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﻣﺮﺟﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺗﻮﺟﮧ، ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﻘﺖ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﻫﮯ

دوائی ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق


ﻟﮑﮭﻨو ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﺐ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺣﮑﯿﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ " ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺍﻭلاد ﺑﺎ ﺍﺩﺏ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺍ دیں ﮐﮧ ﻓﻄﺮﺗﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﺩﺏ ﺁﺩﺍﺏ ﻭﺍلا ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺟﺎئے"
ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺩﻭﺍ ﺩﯼ ، ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ، ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﺳﺘﺮ ﭼﮭﭙﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ " ﺁﺩﺍﺏ"
ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﻡ ﺍﭨﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﮦ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯿﺎ ﺍﻭلاﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻟﮑﮭﻨﺆ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﮯ!
ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﻠﯽ ﺗﻮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﻭﺍ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﮯ ﻟﯽ " ﺍچھا ﮨﯽ ﮨﮯ زیادہ ﺁﺩﺍﺏ ﻭﺍلا ﺁئے"
ﺟﺐ ﺩﺱ ﺳﮯ ﮔﯿﺎﺭﮨﻮﺍﮞ ﻣﺎﮦ ﮨﻮ چلا ﺍﻭﺭ ﺁﻣﺪ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺩﻭﮌﮮ
ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻥ ﺍﮔﻟﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﯽ کچھ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺩﻭﺍ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ؟
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﮔﻨﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺮ ﭘﯿﭧ ﮐﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ

" ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺟﮍﻭﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ... ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ۔۔۔۔۔۔۔!!"
نتیجہ:
دوائی ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق استعمال کیجئے.

چارکام


میری پینتیس سالہ بزنس زندگی کا نچوڑ ہے جتنے بھی آپ تنگ ہو چار چیزیں مت کرنا
  • ایک کسی کے ساتھ مشترکہ کاروبار مت کرنا چاہے آپ کا بھائی یا کوئی بھی رشتہ ہی کیوں نا ہو
  • دوسرا جتنے بھی آپ تنگ ہو باہر ملک جاب کے لیے مت جانا مسلم ممالک میں تو بھول کر بھی مت جانا
  • تیسرا اگر آپ صرف سادہ تعلیم ایف اے بی اے ہی کرنا چاہتے ہیں تو ان پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ میٹرک کرتے ہی کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کردیں کاروبار کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ایف اے بی اے کر سکتے ہیں اگر کاروبار کے لیے بلکل بھی پیسے نہیں ہے تو آپ ماڑکیٹنگ کا کام شروع کردیں آپ ہول سیل کی ماڑکیٹ سے مختلف چیزیں لے اور ایک کلومیٹر کے اندر اندر جتنی دکانیں آتی ہے سب پر جائے مارکیٹنگ کریں اور چیزیں بیچ دیں اگر آپ ایک فریش اپ ببل کے پیکٹ ہی دکان والوں کو سیل کرنا شروع کردیں تو یہی کام آپ کو بہت ہوجانا
جتنا عرصہ آپ نے ایف اے بی اے کرنے میں ضائع کرنے ہیں
اتنے میں آپ کا ماڑکیٹ میں ایک نام اور ایک پہچان بن جانی ہے اپنا اخلاق اچھا کرلو اپ مارکیٹنگ کی دنیا کے بادشاہ بن جاؤ گے
اور آپ بہت جلد ہی ایک بہترین تاجر بن کر ابھرے گے
جب ایف اے بی اے کرکے نوجوان نوکری کے لیے دھکے کھارہے ہونگے جب وہ پندرہ بیس ہزار کی نوکری کو ترس رہے ہونگے اُس وقت آپ اپنے کاروبار کے مالک بن کر سفید کپڑے پہن کر اُن سے ہزار درجہ بہتر زندگی گزار رہے ہونگے
ایک بات یاد کرنا دنیا میں کوئی بھی انسان جاب سے امیر نہیں بنا جو بھی بنا اپنے کاروبار سے بنا
  • چار: آپ شرم چھوڑ دیجیئے یہ مت سوچیئے لوگ کیا کہے گے کوئی بھی اپنا چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے سے شرم مت کرنا لوگ تو صرف باتیں ہی کرتے ہیں ضرورت کے وقت کوئی کام نہیں آتا لہزا لوگوں کی پرواہ مت کریں وقت کو ضائع مت کریں
یہ باتیں میری پینتیس سالہ زندگی کا نچوڑ ہے بہت دھکے کھائے یاد رکھو وقت پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتا آج اگر آپ جاب کی تلاش میں وقت ضائع کررہے ہیں تو چھوٹے سا اپنا کام کرنے سے شرماتے ہیں تو کل یہی وقت آپ کو ضائع کردے گا۔۔۔

دلچسپ واقعات


سوڈان کے ایک شخص نے ایک مضمون لکھا ہے. اس میں اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں.
پہلا واقعہ
مجھے آیرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی. میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے. اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا. ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا. اس خط میں لکھا تھا کہ "آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے. ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جا رہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے"
حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے!!
دوسرا واقعہ:
میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا.
ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھ رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے.
مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟!
اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے.
میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟!
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے. زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا پیچ رہے ہیں.
میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا.
اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے.
میں نے کہا کہ دونوں دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو. کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا.
اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا : کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟؟؟
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا اور میں آگے بڑھ گیا.
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟!
یہ کون سا اخلاق ہے؟!
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا.
یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے..
یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن۔
اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم
لٹیرے نہیں ؟
جگاڑ میں حلال حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں

زندگی کا نچوڑ


میری زندگی کا نچوڑ ہے جتنے بھی آپ تنگ ہو
چار چیزیں مت کرنا
*ایک کسی کے ساتھ مشترکہ کاروبار مت کرنا چاہے آپ کا بھائی یا کوئی بھی رشتہ ہی کیوں نا ہو
*دوسرا جتنے بھی آپ تنگ ہو باہر ملک جاب کے لیے مت جانا مسلم ممالک میں تو بھول کر بھی مت جانا
*تیسرا اگر آپ صرف سادہ تعلیم ایف اے بی اے ہی کرنا چاہتے ہیں تو ان پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ میٹرک کرتے ہی کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کردیں اگر کاروبار کے لیے بلکل بھی پیسے نہیں ہے تو آپ ماڑکیٹنگ کا کام شروع کردیں آپ ہول سیل کی ماڑکیٹ سے مختلف چیزیں لے اور ایک کلومیٹر کے اندر اندر جتنی دکانیں آتی ہے سب پر جائے مارکیٹنگ کریں اور چیزیں بیچ دیں اگر آپ ایک فریش اپ ببل کے پیکٹ ہی دکان والوں کو سیل کرنا شروع کردیں تو یہی کام آپ کو بہت ہوجانا
جتنا عرصہ آپ نے ایف اے بی اے کرنے میں ضائع کرنے ہیں
اتنے میں آپ کا ماڑکیٹ میں ایک نام اور ایک پہچان بن جانی ہے اپنا اخلاق اچھا کرلو اپ مارکیٹنگ کی دنیا کے بادشاہ بن جاؤ گے
اور آپ بہت جلد ہی ایک بہترین تاجر بن کر ابھرے گے
جب ایف اے بی اے کرکے نوجوان نوکری کے لیے دھکے کھارہے ہونگے جب وہ پندرہ بیس ہزار کی نوکری کو ترس رہے ہونگے اُس وقت آپ اپنے کاروبار کے مالک بن کر سفید کپڑے پہن کر اُن سے ہزار درجہ بہتر زندگی گزار رہے ہونگے
ایک بات یاد کرنا دنیا میں کوئی بھی انسان جاب سے امیر نہیں بنا جو بھی بنا اپنے کاروبار سے بنا
* چار: آپ شرم چھوڑ دیجیئے یہ مت سوچیئے لوگ کیا کہے گے کوئی بھی اپنا چھوٹے سے چھوٹا کام کرنے سے شرم مت کرنا لوگ تو صرف باتیں ہی کرتے ہیں ضرورت کے وقت کوئی کام نہیں آتا لہزا لوگوں کی پرواہ مت کریں وقت کو ضائع مت کریں
یہ باتیں میری پینتیس سالہ زندگی کا نچوڑ ہے بہت دھکے کھائے یاد رکھو وقت پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتا آج اگر آپ جاب کی تلاش میں وقت ضائع کررہے ہیں تو چھوٹے سا اپنا کام کرنے سے شرماتے ہیں تو کل یہی وقت آپ کو ضائع کردے گا۔۔

مغالطہ( Paradox ) 


شاگردوں نے استاد سے پوچها :
مغالطہ( Paradox ) سے کیا مراد هے؟
استاد نے کہا:
اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.

دو مرد میرے پاس آتے ہیں.
ایک صاف ستهرا اور
 دوسرا گندا.
  میں
ان دونوں کو
مشورہ دیتا ہوں کہ وہ
غسل کرکے
پاک و صاف ہو جائیں.

اب آپ بتائیں کہ
ان میں سےکون غسل کرے گا؟

  شاگردوں نے کہا: گندا مرد.
استاد نے کہا:
نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا
کرے گا کیونکہ
  اسے نہانے کی عادت ہے
      جبکہ گندے کو
صفائی کی قدر و قیمت
      معلوم ہی نہیں.

اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
بچوں نے کہا:  صاف آدمی.

استاد نے کہا:
نہیں  بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ
اسے صفائی کی ضرورت ہے.

پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
 سب نے کہا:  گندا.

استاد نے کہا :
نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے
کیونکہ صاف آدمی کو
نہانے کی عادت ہے
جبکہ گندے کو نہانے کی
ضرورت ہے.

اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا :دونوں.

استاد نے کہا:
نہیں کوئی نہیں. کیونکہ
گندے کو نہانے کی
عادت نہیں جبکہ صاف کو
نہانے کی حاجت نہیں.

اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے :کوئی نہیں.

پهر بولے:
استاد آپ ہر بار الگ جواب
دیتے ہیں اور ہر
جواب درست معلوم ہوتا  ہے.
ہمیں درست بات
کیسے معلوم ہو؟

استاد نے کہا:(Paradox) مغالطہ یہی تو ہے.
بچو!
آج کل اہم یہ نہیں ہے کہ
حقیقت کیا ہے؟

اہم
یہ ہے کہ
میڈیا کس چیز کو
ثابت کرنا چاہتا
ہے.!

امید ہے میڈیا کے چکروں کی
سمجھ آ گئی ہو گی

اگر آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو
دوسروں کو بھی سمجھا دیں

خلیفہ ہارون الرشید 


خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“یحییٰ خالد رکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔ یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘ آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیں لیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے.مکرم قارئین کرام چلتے، چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سی زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!

دلچسپ انگریزی


1۔ انگلش زبان کے جس بھی لفظ کے شروع یا درمیان میں "q" ہوگا تو اُسکے بعد ہمیشہ "u" آئے گا۔
2۔ "Dreamt" انگلش میں وہ واحد ایسا لفظ ہے جو "mt" پر ختم ہوتا ہے
اس کے علاوہ انگلش میں کوئی ایسا لفظ نہیں.

3۔ "Underground" انگلش زبان میں واحد لفظ ہے جو "Und" سے شروع اور "Und" پر ہی ختم ہوتا ہے۔
4۔ پوری انگلش زبان میں صرف چار الفاظ ایسے ہیں جو "dous" پر ختم ہوتے ہیں
Tremendous, Horrendous, Stupendous, & Hazardous

5۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق انگلش زبان کا سب سے بڑا لفظ۔۔!
"pneumonoultramicroscopicsilicovolcanoconiosis" یہ ہے جو کہ پھیپھڑے کی ایک بیماری کا نام ہے۔

6۔ "Therein" انگلش کا ایک ایسا لفظ ہے جس سے دس الفاظ نکل سکتے ہیں۔۔!
The, There, He, In, Rein, Her, Here, Ere, Therein, Herein

7۔ Key بورڈ پر صرف بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ٹائپ ہونے والا سب سے بڑا بامعنی لفظ "Stewardesses" ہے۔
8۔ ہم اپنی روزمرہ گفتگو میں (ok) کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں اِس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ایک امریکی صدر "اینڈریو جیکسن" نے all correct کے غلط ہجے یعنی oll kurrect استعمال کرتے ہوئے اس کے ابتدائی حروف o.k کو پاپولر بنا دیا۔
9۔ اگر آپ دنیا کے براعظموں کے نام انگریزی میں لکھیں تو آپ پر انکشاف ہوگا کہ ہر براعظم کا نام جس حرف سے شروع ہوتا ہے، اسی پر ختم ہوتا ہے۔ سوائے America کے North اور South کے
1۔ Asia۔۔۔2۔ Africa۔۔۔3۔ America۔۔۔4۔ Antarctica۔۔۔5۔ Europe۔۔۔6۔ Australia
10۔ "Typewriter" کا لفظ ہی وہ واحد بامعنی لفظ ہے جو آپ Key بورڈ کی صرف پہلی قطار کے حروف کے اندر اندر ٹائپ کر سکتے ہیں۔
11۔ خدا حافظ کہنے کے لیے انگریزی کا لفظ "good bye" استعمال ہوتا ہے جس کی اصل "God be with you" ہے۔
12۔ انگریزی میں "Silver" اور "Orange" ہی دو ایسے الفاظ ہیں جن کا کوئی ہم قافیہ لفظ انگریزی میں موجود نہیں۔
13۔ انگریزی زبان میں صرف تین الفاظ ایسے ہیں جن میں دو "u" ایک ساتھ آتے ہیں Vacuum, Residuum, Continuum

پیغامِ حدیث


جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔
دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔
مسواک کرنے میں منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رضا ہے۔(زاد الطالبین)
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک کمینے اور پست درجہ کے لوگ بلند درجہ نہ ہوجائیں۔(لغات الحدیث)
اﷲتعالیٰ اس دل کو عذاب نہیں دیں گے، جس نے قرآن کو سمجھ کر یاد کیا (آج کل صرف یاد کیا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا)۔(لغات الحدیث)
پیٹ اور شرم گاہ دو ایسی چیزیں ہیں، جنکی وجہ سے اکثر لوگ جہنم میں  جائیں 
گے۔(لغات الحدیث)

  سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ

بال سے زیادہ باریک


حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار بات چیت اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے..!!

(بکھرے موتی ص 938)

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget