اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

فروری 2025

گفتگو کا ہنر 
آنکھوں کی زبان سیکھ کر دِلوں پر راج کریں.! 

انسان کی گفتگو صرف الفاظ کا کھیل نہیں،
بلکہ جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اور سب سے بڑھ کر آنکھوں کی زبان بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے کامیاب لوگ
اپنی بات کو پراثر بنانے کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات توجہ سے سنیں، آپ کی شخصیت کا احترام کریں اور آپ کی گفتگو میں ایک خاص کشش پیدا ہو، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔

آنکھوں میں دیکھنے کا صحیح وقت اور انداز.! 

آپ نے دیکھا ہوگا
کہ کچھ لوگ جب بات کرتے ہیں
تو ان کی باتوں میں وزن محسوس ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک اعتماد جھلکتا ہے، اور سننے والا ان کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی گفتگو کے دوران صحیح وقت پر آنکھوں میں دیکھنے کا فن جانتے ہیں۔

گفتگو کے دوران مسلسل آنکھوں میں دیکھنا
بعض اوقات سامع کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ دباؤ ڈال رہے ہیں یا سوال کر رہے ہیں۔

گفتگو کے دوران ہلکی پھلکی نظر کا رابطہ رکھیں تاکہ سننے والا محسوس کرے کہ آپ اس سے جُڑے ہوئے ہیں۔ لیکن مسلسل گھورنے سے گریز کریں۔

جب آپ جملہ مکمل کریں،
تب آنکھوں میں دیکھیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جب آپ کی بات کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے، سننے والے کو یقین آتا ہے کہ آپ پُراعتماد اور مخلص ہیں۔

اپنے مخاطب کو نرمی اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھیں تاکہ آپ کے الفاظ میں شدت کے بجائے اپنائیت محسوس ہو۔

یہ ہنر سیکھنے کے لیے عملی مشقیں..! 

1. آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کسی خیالی سامع سے بات کریں اور دیکھیں کہ آپ کی آنکھوں کی حرکت کیسی لگ رہی ہے۔

2. روزمرہ کی گفتگو میں کسی سے بات کرتے ہوئے اس اصول کو آزمانے کی کوشش کریں۔

3. کسی تقریر یا پریزنٹیشن کے دوران اپنے سامعین کی آنکھوں میں جملے کے اختتام پر دیکھنے کی عادت ڈالیں۔

4. اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے نوٹ کریں کہ کب اور کیسے نظر کا رابطہ زیادہ مؤثر لگتا ہے۔

دنیا کے کامیاب لوگ یہ اصول کیسے اپناتے ہیں؟

یہ کوئی عام ہنر نہیں،
بلکہ نفسیات اور باڈی لینگویج کی دنیا میں اس پر باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر آلبرٹ مہربیان (Albert Mehrabian) نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ گفتگو میں الفاظ سے زیادہ اثر باڈی لینگویج اور آواز کے اتار چڑھاؤ کا ہوتا ہے۔

ایمی کَڈی (Amy Cuddy)،
جو کہ ہارورڈ بزنس اسکول میں پروفیسر ہیں،
کہتی ہیں کہ خود اعتمادی کے اظہار کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال ضروری ہے۔

دنیا کے بڑے لیڈرز
اپنی تقریروں میں جملے کے اختتام پر سامعین کی آنکھوں میں دیکھنے کی مہارت رکھتے تھے، جس سے ان کی بات زیادہ پراثر لگتی تھی۔

یہ ہنر سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

اس سے آپ کی گفتگو میں اعتماد پیدا ہوگا۔
لوگ آپ کی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے سنیں گے۔
اگر آپ کسی انٹرویو میں ہیں، تو یہ ہنر آپ کو زیادہ پیشہ ور اور قابل شخصیت کے طور پر پیش کرے گا۔

اگر آپ استاد، مقرر، خطیب یا لیڈر ہیں، تو اس سے آپ کی بات کا اثر کئی گنا بڑھ جائے گا۔

گفتگو کا حسن صرف الفاظ سے نہیں،
بلکہ آنکھوں کی زبان سے بھی جُڑا ہے۔ اگر آپ یہ سادہ سا اصول سیکھ لیں کہ بولتے وقت نرم رویہ اختیار کریں، اور جملہ مکمل ہونے پر آنکھوں میں دیکھیں، تو آپ کی شخصیت میں ایک خاص کشش پیدا ہو جائے گی۔

یہ ہنر سیکھنے میں کچھ وقت لگے گا،
مگر اگر آپ مستقل مزاجی اور اخلاص سے اس کی مشق کریں، تو ایک دن آپ بھی ان کامیاب لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی باتوں کو دنیا سنتی ہے اور پسند کرتی ہے۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے 
منقول

(اشفاق احمد مرحوم کی ایک یادگار تحریر )
ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے یا ان کے جانے کا وقت آجائے.
"اشفاق احمد" کہتے ہیں:
ایک فوتگی کے موقع پر میں نیم غنودگی میں کچھ سویا ہوا تھا اور کچھ جاگا ہوا نیم دراز سا پڑا تھا۔
وہاں بچے بھی تھے جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی بات نے مجھے چونکا دیا وہ کہہ رہا تھا،
کہ"کوئی فوت ہوجائے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں."
پھر ایک بچے نے کہا ، کہ
"اب پتا نہیں کون فوت ہوگا،
نانا ناصر کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، ان کی سفید داڑھی ہے شاید اب وہ فوت ہوں گے۔
اس پر جھگڑا کھڑا ہوگیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ کچھ بچوں کا موقف تھا کہ پھوپھی زہرا کافی بوڑھی ہوگئی ہیں وہ جب فوت ہوں گی تو ہم ان شاءاللہ فیصل آباد جائیں گے اور وہاں ملیں گے اور خوب کھیلیں گے. "
خواتین و حضرات!
مَیں آپ کو ایک خوشخبری دوں کہ اس بحث میں میرا نام بھی آیا۔
میری بھانجی کی چھوٹی بیٹی جو بہت چھوٹی ہے اس نے کہا کہ"نانا اشفاق بھی بہت بوڑھے ہوچکے ہیں."
خواتین و حضرات! شاید مَیں چونکا بھی اس کی بات سن کر ہی تھا. جو میرے حمایتی بچے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جب نانا اشفاق فوت ہوں گے تو بہت رونق لگے گی کیونکہ یہ بڑے مشہور ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا کچھ بڑھ گیا اور ان میں تلخی بڑھنے لگی تو ایک بچے نے کہا کہ"جب نانا اشفاق فوت ہوں گے تو گورنر آئیں گے۔
اس پر ایک بچے نے کہا کہ نہیں گورنر نہیں آئیں گے بلکہ وہ پھولوں کی ایک چادر بھیج دیں گے کیونکہ گورنر بہت مصروف ہوتا ہے۔ تمھارے دادا یا نانا ابو اتنے بھی بڑے آدمی نہیں کہ ان کے فوت ہوجانے پر گورنر آئیں گے."
وہ بچے بڑے تلخ، سنجیدہ اور گہری سوج بچار کے ساتھ آئندہ ملنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ظاہر ہے بچوں کو تو اپنے دوستوں سے ملنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے نا!
ہم بڑوں نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ہم رشتے بھول کر کچھ زیادہ ہی کاروباری ہوگئے ہیں۔
چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں حالانکہ چیزیں ساتھ نہیں دیتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشتے طاقتور ہوتے ہیں اور ہم رشتوں کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔
خدا کے لیے کوشش کریں کہ ہم اپنے رشتوں کو جوڑسکیں ایسی خلیج حائل نہ ہونے دیں کہ ملاقاتیں صرف کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت ہی رہ جائیں.
کیا ہم ان بچوں کی طرح اس بات کا انتظار کریں گے کہ کوئی مرے پھر ہم مجبوری کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے یا چھڑی پکڑے وہاں جائیں۔
جب ہم کہیں جائیں تو یہ فخر دل میں ہونا چاہیے کہ مَیں ایک شخص سے ملنے جارہا ہوں. مجھے اس سے کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ اس کے پاس اس لیے جارہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے ہم اس کام کے لیے کم وقت دیں لیکن دیں ضرور۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget