اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جولائی 2025

🌸 پاکستانی والدین کے لیے بہترین مشورہ 🌸
(براہِ کرم یہ پیغام ہر ماں باپ تک پہنچائیں 👨‍👩‍👧‍👦)

1️⃣ اپنے بیٹے یا بیٹی کو خبردار کریں کہ کسی کی گود میں نہ بیٹھیں — چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ 🚫🪑
2️⃣ دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے سامنے کبھی بھی کپڑے نہ بدلیں۔ 🧥👀
3️⃣ اپنے بچے کو کسی کے گھر اکیلا مت بھیجیں۔ 🚷🏠
4️⃣ پہلے خود کارٹونز دیکھیں، کیونکہ آج کل کی کئی سیریز میں نامناسب مواد شامل ہوتا ہے۔ 📺⚠️
5️⃣ اپنے بچوں کو کبھی بھی کسی کو مذاق میں “بیوی” یا “شوہر” کہنے کی اجازت نہ دیں۔ ❌👰🤵
6️⃣ جب بچے اپنے دوستوں کے ساتھ باہر ہوں، تو جانیں وہ کس قسم کے کھیل کھیلتے ہیں۔ 🕵️‍♂️🎮 (آپ جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے!)
7️⃣ بچوں کو صحیح جنسی تعلیم دینا ضروری ہے، ورنہ وہ غلط ذرائع سے خطرناک معلومات حاصل کریں گے۔ 📚🚫
8️⃣ والدین کے کنٹرول 🔒 ہمیشہ اس نیٹ ورک پر سیٹ کریں جس تک بچے کی رسائی ہو۔ 🌐📱
9️⃣ وقتاً فوقتاً اپنے بچے کی براؤزنگ ہسٹری چیک کریں۔ 🧑‍💻🧐

📢 یاد رکھیں: تربیت صرف دعاؤں سے نہیں، شعور اور احتیاط سے ہوتی ہے۔ 💡

آخر بروس لی میں ایسی کیا خوبی تھی کہ دنیا آج بھی انہیں یاد رکھتی ہے؟
چین اور ہانگ کانگ کے مارشل آڑٹسٹ کو لی کیوں ناپسند تھا؟

نومبر 1940 ء کو امریکہ میں پیدا ہونے والے بروس کا بچپن مشکلات والا تھا۔
جب 6 سال کی عمر میں والدین اسے ہانگ کانگ لے گے۔
تو وہاں گلی محلہ کے بدمعاشوں سے سامنا رہا۔

پہلے تو بروس لی چپ رہا۔
پھر وہ بھی جوابا لڑنے لگا۔
اور اک مقام یہ ٰآیا کہ اس نے اپنا گینگ بھی بنا دیا۔
اس نے شاندار فٹ ورک کی بدولت صرف 18 سال کی عمر میں ہانگ کانگ چیمپئین شپ جیتی۔

والدین نے بروس لی کو ڈسپلن بچے کی بجائے بدمعاش بنتے دیکھا تو فکر مند ہوئے۔ یوں چند سال بعد ہی وہ سی ایٹل چلے گے۔

یہاں جب 1964ء میں اپنا ادارہ کھول کر مارشل آرٹ سکھانا شروع کیا۔
تب ہانگ کانگ اور چینی کراٹوں کے ماہرین اس سے خفہ ہونے لگے۔
کیوں کہ لی چینیوں سمیت ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو سکھا رہا تھا۔

اسی دوران ایکشن کے راجہ کو ایک جاپانی نژاد لڑکی ایمی سے محبت ہوئی۔
دونوں کی دوستی بھی ہوئی۔
 اور رشتہ بھی چلا مگر شادی میں کنورٹ نہ ہوسکا۔
مختلف فیملی بیک گرائونڈز سمیت بروس کے شرمیلے پن کو بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔

ایمی کے بقول:
“وہ اپنی ایک شناخت قائم کرنے میں ناکام ہوتا تھا۔”

حالاں کہ ایمی نے اقرار کیا کہ وہ بھی لی سے محبت کرتی تھی۔

پھر لیندا کی انٹری ہوتی ہے۔ 
جو بروس لی کی شاگردہ تھی۔
لیندا کا کہنا تھا:

“لی ناصرف جسمانی طور پی مضبوط تھا۔
 بلکہ ذہنی طور پہ بھی انسپائرنگ تھا۔
اپنے چینی کے برتنوں میں وہ خود چائے/کافی پیش کیا کرتے تھے۔”

ایک دفعہ چاپ سٹک کا طریقہ سکھاتے ہوئے اس نے اپنی شاگردہ کو بتایا:

“جس میں صبر ہو۔
وہی چاپ سٹک کا فن سیکھ سکتا ہے۔"

دھیرے دھیرے دونوں کو محبت ہونے لگی ۔ 
بروس لی نے اپنی تصویر کے پیچھے یہ جملے لکھ کر لیندا کو دیے:

"لیندا! سادہ وسائل میں خوش رہنا سیکھنا۔ 
عیش و عشرت کے بجائے وقار کو تلاش کرنا۔ 
اور فیشن کی بجائے نفاست کو اپنانا۔  ہر چیز کو خوش دلی سے سہناہے۔ 
تم نے موقع کا انتظار کرنا مگر کبھی جلدبازی نہ کرنا۔ 
یعنی یہ کہ روحانی غیر شعوری طور پر جو کچھ عام زندگی سے اُگتا ہے۔
اُسے پنپنے دینا۔"

بلآخر گوری رنگت والی لیندا کی چینی نسل کے آرٹسٹ سے شادی ہوگی۔
سن 1966ء کو انہوں نے The Green Hornet میں اداکاری کی۔
مگر اگلے پانچ برس انہیں خاص رول نہیں ملے۔

اس میں اہم وجہ امریکی فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں رنگت کا ایشو تھا۔

پھر 1971ء کو "The Big Boss" نے ایشیا میں ریکارڈ بزنس کیا۔
اور یہاں سے لی کے ستارے جگمگانے لگے۔

اگلے ہی سال Fist of the Fury نے لی کو دنیا بھر میں شہرت کی نئی بلندیوں سے روشناس کیا۔

مارشل آرٹ میں ان کے کچھ ریکارڈز آج بھی ناقابل یقین لگتے ہیں:
★اک ہاتھ سے 400 دفعہ پش اپس کرنا۔
★دو انگلیوں پہ 200 پش اپس کرنا۔
★اک انگوٹھے سے سو پش اپس کرنا۔
★اک سیکنڈ میں ناقابل یقین رفتار سے 9 پنچ ماردینا۔

مگر ان کا سب سے خطرناک "ون انچ پنچ" تھا۔ 
(جس کی ویڈیو آپ کو یوٹیوب پہ بھی مل جائے گی۔)

وہ 1 انچ کی دوری سے75 KG کے وزنی انسان کو 6 میٹرز دور پھینک سکتا تھا۔

سب سے مشہور فلم کی ریلیز ہونے سے پہلے ہی لی کے دماغ میں سوجن ہوئی۔

وہ ہانگ کانگ میں کومے میں رہنے کے بعد 32 سال کی عمر میں فوت ہوا۔

ان کی مشہور فلمیں درج ذیل ہیں:
★The Orphan
★Marlowe
★Orphan in the Spring Rain
★The Big Boss
★Fist of Fury
★The Way of the Dragon
★The Game of Death
★Fist of Unicorn

اپنے ڈسپلن اور غیریقینی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے ناصرف عوام میں پسند کیا جاتا ہے۔ بلکہ جیٹ لی سے لے کر جیکی چن اور دیگرایکشن ہیروز بھی انسپائرڈ رہے ہیں۔


مسجد سے ایک انوکھا اعلان ہوا اور سننے والا ہر بندہ دنگ رہ گیا.
اعلان یوں تھا کہ مسجد کے قریب ہی ایک ریڑھی پہ مختلف ریسٹورنٹ کے گاہکوں کا بچا ہوا سالن دستیاب ہے. وہ غریب اور نادار لوگ جو سالن پکانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے برتن لے آئیں اور سالن فی سبیل اللہ لے جائیں.
مارے تجسس کے میں بھی مسجد کی طرف چل دیا کہ دیکھوں آخر ماجرا کیا ہے. میں جیسے ہی وہاں پہنچا تو مرد و زن کا ایک ہجوم برتن لے کر پہنچا ہوا تھا.کوئی سالن لے کے گھر کو جا رہا تھا تو کوئی حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا.
ریڑھی پہ تین پتیلے پڑے ہوۓ تھے.ایک پتیلے میں دال دوسرے میں قورمہ اور تیسرے میں مختلف اقسام کی مکس سبزیوں کا سالن رکھا ہوا تھا.
تھوڑی ہی دیر میں اس کے تینوں پتیلے خالی ہو گئے .
سالن لے جانے والوں کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی اور وہ سب دعائیں دیتے ہوۓ جا رہے تھے.
میں سالن بانٹنے والے کے پاس کھڑا ہو گیا اور اس سے استفسار کیا کہ یہ آئیڈیا اس نے کہاں سے لیا تو اس نے کہا کہ
”بس جی ایک دن ہوٹل میں کھانا کھایا تو آدھے سے زیادہ سالن بچ گیا. میں نے سوچا کہ انہوں نے ویسے ہی ضائع کر دینا ہے.
چنانچہ ایک ویٹر کو بلا کر سالن شاپر میں ڈلوایا اور کسی ضرورتمند کے گھر دے آیا.
اس کام سے دل کو بہت خوشگوار راحت حاصل ہوئی اور یقین کریں سالوں سے نیند کی گولی کھا کر سونے کا عادی تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اس رات بغیر گولی کھاۓ بہت پرسکون ہو کر سویا.
بس پھر اس سلسلے کو بڑھانے کا تہیہ کر لیا. پانچ بڑے ریسٹورنٹ مالکان سے رابطہ کیا تو بہت مثبت جواب ملا اور پھر ہر ریسٹورنٹ پر تین تین برتن رکھوا دیے.
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری وجہ سے بہت سے غریب گھروں میں بہترین کھانا پہنچتا ہے“وہ بتاتے ہوۓ ایسے خوش ہو رہا تھا جیسے اس کی لاکھوں کی کمیٹی نکل آئی ہو.
لیکن میں سوچ رہا تھا کہ واقعی اس کی لاکھوں کی کمیٹی تو نکل چکی تھی اور وہ کمیٹی تھی بے پناہ اجر وثواب کی.
اللہ کے ہاں مقرب ہونے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ کروڑوں روپے خرچ کریں یا سالوں سال مراقبے کریں.
بعض اوقات ایک چھوٹی سی نیکی بھی بڑی بن جاتی ہے، آپ بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کوئی چھوٹی سی نیکی کر کے دیکھیں شاید یہی نیکی آپ کا جنت کا پلڑہ بھاری کر دے...❤️🌷🌼🌼🌷❤️

آخر لیڈی ڈیانا میں ایسا کیا تھا؟
 جو آج بھی اس پہ فلمیں اور کتابیں بنائی،لکھی جارہی ہیں؟

اک نرسری سکول ٹیچر کیسے برطانیہ کی شہزادی بنی؟

لیڈی ڈیانا کی پیدائش یکم جولائی 1961 کو برطانوی میں ہوئی۔
جب وہ 17 سال کی تھی۔
  تو اپنی بہن کے ساتھ شہزادہ چارلس سے دعوت پہ ملی۔
 سادگی، نرم دلی اور بچوں سے محبت کرنے والی ڈیانا پہ چارلس کا دل آگیا۔

چند سالوں میں یہ رشتہ مزید قربت اختیار کرتا گیا۔

صرف 20 سال کی عمر میں جب دنیا بھر میں شادی کی کوریج کی گی۔
ہر کسی نے اسے "ڈریم شادی" کہا۔
اتنے رچ رچائو اور بہترین انداز میں ہوئی تھی۔

پچیس فٹ لمبا گائون کروڑوں لوگوں نے دنیا بھر سے دیکھا اور پسند کیا۔

لوگوں کی شہزادی کہلائی جانے والی کو پہلے دن سے چند تکالیف کا سامنا ہوا۔

جس کا اظہار انہوں نے 1992ء کے بی بی سی کے انٹرویو میں بھی کیا:
"ہماری شادی میں دو نہیں تین لوگ تھے۔"

ہاں اسے رشتے کے درمیان "کسی تیسرے" کی موجودگی نے دکھ دیا تھا۔

دراصل شہزادہ شادی والے دن بھی اپنی ایکس کامیلا سے رابطہ میں تھا۔
★شادی والے دن بھی خفیہ کالز ہورہی تھیں۔
★گھڑ سواری کے بہانے کامیلا نے ملنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
★دونوں ایک دوسرے کو گفٹس بھی دیتے تھے۔
(جن پہ خاص کوڈز ہوتے تھے)

؀ تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
(داغؔ دہلوی)

ایک دفعہ ڈیانا کا کامیلا سے سامنا ہوا۔
تو وہ کہنے لگی:
"مجھے علم ہے کہ آپ شہزادے سے محبت کرتی ہیں۔
 اور وہ بھی آپ سے محبت کرتا ہے۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آخر یہ رشتہ کب تک چلے گا؟"

کہا جاتا ہے کہ شہزادی اپنی سادگی کی بدولت دنیا بھر میں پسند کی جاتی تھی۔
★کبھی وہ اپنے بچوں کو خود سکول سے پک کرنے جاتی۔
★کبھی وہ سکول میں کھیلوں کے مقابلے میں خود بھی بھاگتی تھی۔

لوگوں کی بے پناہ محبت نے اس کی پرائیوسی کو کافی خراب کیا۔
بالی ووڈ کے پیڈ پاپارازی کی بجائے اصل فوٹوگرافر اس کو تلاش کرتے رہتے۔

اک جھلک اگر کہیں سے مل جائے۔
 تو وہ میگزین دھڑا دھڑسولڈ آئوٹ ہوجاتا تھا۔

پھر 1989ء کی ایک ٹیپ کال پبلک ہوئی۔
جس میں شہزادہ اپنی ایکس کے ساتھ رومانوی باتیں کرتا ہوا پایاگیا۔

؀ جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے
ایسی شدت تو مرے عہدِ وفا میں بھی نہ تھی

اور یہ کال ہی ڈیانا اور شہزادے کے درمیان علیحدگی کی وجہ بنی۔
اور بعد میں طلاق بھی ہوگی۔

اپنے 1995ء کے انٹرویو میں اک جملہ جو بعد میں کافی مشہور بھی ہوا:
There were three of us in this marriage, so it was a bit crowded.”

ڈیانا کا دل کرچی کرچی ہوچکا تھا۔
 اور وہ زیادہ کھانا کھانے کی بیماری کا شکار ہوچکی تھی۔
وہ تنہائی پسند بنتی گی۔
مگر پاپارازیوں نے اسے آخر دم تک تنگ کیے رکھا۔

پھر ایک پاکستانی کی انٹری ہوئی۔
لندن کے ایک ہسپتال میں شہزادی کے ملاقات ڈاکٹر حسنات خان سے ہوئی۔

اسے یہ انسان کافی پسند آیا۔
اور وہ پیار سے Mr. Wonderful کہتی تھی۔
وہ پاکستان بھی گی۔
اور حسنات خان کی فیملی سے مل کر شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔
مگر قسمت کی دیوی نے شہزادی کا دل ادھورا ہی رکھا ہوا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ ڈیانا نے یہاں تک کہا تھا:

"میں حسنات کی خاطر پاکستان بھی رہ سکتی ہوں۔
اگر وہ ہاں کہے تو میں سب کچھ چھوڑ دوں گی۔"

ممکنہ طور پہ غیر مسلم تھی۔
وہیں شاہی وقار اور فیملی سٹائل میں فرق کی وجہ سے یہ رشتہ نہ بن سکا۔

اگست 1997ء کو اک سرنگ کے اندر شہزادی کو حادثہ پیش آیا۔
اور دنیا بھر سے فینز نے دکھ کا اظہار کیا۔

میں نے جتنا ڈاکٹر حسنات پہ ریسرچ کی ہے۔
یہ بندہ فقید المثال عاشق ثابت ہوا ہے۔
(آئی وش محبت کے معاملہ میں سبھی کو ڈاکٹر حسنات سے سیکھنا چاہیے۔)

جہاں ڈیانا کا ایک ایک فوٹو لاکھوں میں بکتا تھا۔
وہیں حسنات خان نے اپنے ریلیشن شپ پہ اک لفظ بھی نہیں کہا۔

وہ خاموشی سے اپنی زندگی گزارنے کو پسندکرتے ہیں۔

اک طرف شہزادی کہا کرتی تھی:
He is too honorable to put me through that life. I respect him even more for it

دوسری طرف ڈاکٹر حسنات نے کہا تھا:
“Out of respect for her, I will not discuss our relationship in details.

؀ خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم
م
رئیس امروہوی

ڈیانا کی زندگی پہ بننے والی چند مشہور فلمیں درج ذیل ہیں:
Spencer. 2021
Diana. 2021
The Princess. 2022
Becoming Princess Diana
Princess Diana's Death: Mystery Solved
Princess Diana: A Life After Death
Princess Diana: Tragedy or Treason
The Crown
Diana (2013)
Spenser

آپ کے خیال میں ڈیانا، جو حسن، شہرت اور دولت میں مالا مال تھی۔
انسانیت سے بھرپور روح محبت کے معاملہ میں کیوں ادھوری رہی؟



طعنہ دینے اور مذاق اڑانے والوں کو شکست دیں۔۔۔.
جھانوی پرور پانی پت کے گائوں شہرا ماپور میں پیدا ہوئی‘ رنگ بھی کالا تھا‘ قد بھی چھوٹا تھا اور قدرت نے اسے نین نقش بھی واجبی دیے تھے چناں چہ یہ ہر لحاظ سے خوش حالی‘ تہذیب‘ تعلیم اور جسمانی خوب صورتی سے محروم تھی لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک چھوٹا سا طعنہ آیا اور اس طعنے نے اس کا مقدر بدل دیا‘ جھانوی میں نقل اتارنے کا قدرتی ٹیلنٹ تھا۔
یہ مامی‘ چچی‘ پھوپھو‘ گلی کے پھیرے بازوں اور ریڈیو ٹی وی کے اناؤنسرز کی ہو بہو نقل اتار لیتی تھی اور یہ کام سارا دن جی بھر کر کرتی تھی‘ اس نے ایک دن چلتے پھرتے ٹیلی ویژن پر انگریزی کا کوئی شو دیکھا‘ اسے اینکر کا لہجہ پسند آگیا اور اس نے اسکی نقالی شروع کردی‘ یہ اس کے لہجے میں انگریزی بولنے لگی‘ اسے لفظ نہیں آتے تھے لیکن یہ پکا سا منہ بنا کر انگریزی لہجے میں باتیں کرتی رہتی تھی۔۔
گھر ہو‘ محلہ ہو یا اسکول ہو یہ ہر جگہ اس انگریز کے لہجے میں بات کرتی تھی‘ یہ ایک دن گلی سے گزر رہی تھی‘گزرتے گزرتے انگریز بن کر بات کرتی جا رہی تھی‘ محلے دار اسے دیکھ رہے تھے اور کھی کھی کر کے ہنس رہے تھے‘ اس کے ایک رشتے دار کو یہ مذاق برا لگا‘ وہ اس کے پاس گیا اور غصے سے بولا ’’اے چھوری تو بڑی انگریج بن کر پھر رہی ہے‘ بس کر‘ بند کر یہ ناٹک‘‘ رشتے دار کے طعنے میں کچھ ایسا تھا جس نے جھانوی پرور کو نئی راہ دکھا دی اور اس نے سوچا ،
’’مجھے انگریج کی نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
میں انگریج بن جاتی ہوں‘‘ یہ سیدھی گھر گئی‘والد کا ٹیپ ریکارڈ لیا‘ بی بی سی لگایا‘ خبریں ریکارڈ کیں اور برٹش لہجے میں انگریزی سیکھنا شروع کردی‘ قدرت نے اسے شاندار یادداشت سے نواز رکھاتھا‘ یہ جو لفظ سنتی تھی‘ وہ اسکے ذہن میں چپک جاتا تھا‘ جھانوی تین ماہ میں برطانوی لہجے میں فرفر انگریزی بولنے لگی‘ 
یہ انگریزی کے تقریری مقابلوں میں شریک ہونے لگی اور ہر بار جیت کر واپس آتی‘ والد نے اس کا ٹیلنٹ دیکھ کر اسے سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘ جھانوی کو چند ماہ بعد پتا چلا کہ انگریزی زبان ایک ہے لیکن دنیا میں انگریزی کے 9 بڑے لہجے ہیں‘ اس نے یہ سارے لہجے سیکھنا شروع کردیے‘ والد اسے مختلف لہجوں کے کورس اور کیسٹ لا کر دیتا اور یہ ان لہجوں کی پریکٹس کرتی رہتی تھی‘ 
اس نے مقابلے جیت جیت کر رقم جمع کی اور کمپیوٹر خرید لیا‘ کمپیوٹر نے اس کی کیسٹس اور ٹیپ ریکارڈر سے جان چھڑا دی‘ آپ یہ جان کر حیران ہونگے یہ لڑکی 10 سال کی عمر میں برٹش‘ امریکن‘ کینیڈین‘ اسکاٹش‘ نارفوک‘ کوکنی‘ پوش اور آسٹریلین لہجے میں انگریزی بولنا سیکھ گئی‘ اس کا لہجہ اس قدر پختہ تھا کہ بڑے سے بڑے استاد بھی چکرا جاتے تھے۔ یہ حیران کن صلاحیت تھی ، چنانچہ یہ بڑی تیزی سے پورے بھارت میں مشہور ہوتی چلی گئی‘ حکومت نے 2015 میں اسے ممبئی انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں سرکاری افسروں سے خطاب کی دعوت دی‘ اس کی عمر اس وقت صرف 12 سال تھی اور یہ انسٹیٹیوٹ کی ہسٹری میں افسروں سے خطاب کرنے والی پہلی بچی تھی‘جھانوی نے مختلف لہجوں میں تقریر کر کے تمام بیورکریٹس کو حیران کر دیا‘ حکومت نے اس کے بعد اسے انسٹیٹیوٹ کا مستقل اسپیکر بنا دیا‘ یہ سال میں درجن مرتبہ انسٹیٹیوٹ جاتی ہے اور نئے اور پرانے بیوروکریٹس کو اچھی انگریزی بولنے اور سمجھنے کی ٹریننگ دیتی ہے۔
یہ صرف یہاں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے انگریزی کے بعد فرنچ‘ اسپینش اور جاپانی زبان بھی سیکھ لی‘ یہ تینوں زبانیں بھی روانی سے بول لیتی ہے‘ اس کی عمر اس وقت 25سال ہے اور یہ بھارت میں ’’ونڈر گرل آف انڈیا‘‘ کہلاتی ہے‘ اسے ٹیلیویژن شوز میں بلایا جاتا ہے‘ یہ اکیڈمیز‘ انسٹی ٹیوٹس اور ڈبیٹنگ پلیٹ فارمز پر تقریریں کرتی ہے اور یہ بچپن ہی میں خوش حال ہو چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ طعنے مارنے والے لوگوں کو میں اپنا محسن قرار دیتی ہوں‘ یہ تمام لوگ میرے ہیلپر تھے‘ یہ لوگ اگر میری زندگی میں نہ آتے تو میں ہریانہ میں گم نام زندگی گزار رہی ہوتی‘ یہ وہ لوگ تھے جو مجھے طعنے مارتے رہے اور میں ان کے طعنوں کے کندھوں پر چڑھ کر آگے بڑھتی رہی‘ مجھے لوگ شروع میں کہتے تھے ’’تم بڑی انگریج بن رہی ہو‘‘ اور میں نے یہ طعنہ سن کر انگریز بننے کا فیصلہ کر لیا‘ پھر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ’’یہ کیا بڑی بات ہے‘ انگریزوں کی نقل ہی تو اتارتی ہے‘‘ میں نے یہ طعنہ سنا تو میں نے انگریزی سیکھ لی۔
پھر کسی نے کہا’’یہ برٹش ایکسنٹ ہے‘امریکی لہجے میں انگریزی بولے تو پھر دیکھیں گے‘‘ اور میں نے نو کے نو لہجے سیکھ لیے‘ پھر کسی نے کہا ’’یہ صرف انگریزی بول سکتی ہے‘‘ تو میں نے یہ سن کر فرنچ‘ اسپینش اور جیپنیز بھی سیکھ لی‘ 
پھر کسی نے کہا ’’لفظ کچھ نہیں ہوتے‘ یہ تو طوطے بھی سیکھ لیتے ہیں‘ اصل چیز وزڈم ہوتی ہے‘ یہ لڑکی وہ کہاں سے لائے گی‘‘ اور میں نے وزڈم بھی حاصل کر لی‘ میں موٹیویشنل اسپیکر بن گئی اور پانچ پانچ سو لوگوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگی چناں چہ لوگ طعنے مارتے رہے اور میں آگے سے آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ میں سوا ارب آبادی کے ملک میں ونڈر گرل بن گئی‘‘۔
جھانوی کا کہنا تھا ’’طعنے دینے والےلوگ‘ آپ کا مذاق اڑانے والے منفی رشتے دار بنیادی طور پر آپ کے ہیلپر ہوتے ہیں‘ آپ اگر ان لوگوں کو پازیٹو لیں‘ آپ اگر ان کی باتوں کو اپنے لیے چیلنج بنا لیں تو پھر آپ زندگی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
الله نے اپ کو جو بھی ٹیلنٹ دیا ہے اس پر کام کریں۔ لوگ طعنہ دیں تو اپنے کام کو اور بڑھا دیں۔ آپ آگے نکل جائیں گے اور طعنہ مارنے والے پیچھے رہ جائیں گے۔

*یونورسٹی کی لڑکی کا بس ڈرائیور کے ساتھ نکاح*
اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار سے پرورش کی ، جوان ہوئی تو والدین کی رضا مندی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا ، باپ کو جب پتہ چلا تو بیٹی نے جواب دیا۔

میرا نکاح بو چکا ھے ، بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاوں گی؟

باپ نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حتمی فیصلہ ہے تو آپ نے گھر سے جو کچھ لینا ھے لے لیں اور خود ہی اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ ، لیکن یہ یاد رکھنا ، اب آپ کا ہم سے اور ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ آپ ہمارے لیئے مر گئیں اور ہم آپ کیلئے وہ خوشی خوشی سامان پیک کرکے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ تقریبا آٹھ سال بعد اسکی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آیا.

خیر خیریت دریافت کرنے کے دوران اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ وہ سمجھا کہ شاید گھر کے حالات صحیح نہیں ہوں گے۔ والدین کی نافرمانی اور جدائی کا پچھتاوا اسے لائے جا رہا ہو گا۔ تمام گھر والے اسے دلاسے دینے لگے اور رونے کیوجہ دریافت کرنے لگے۔ بہت اصرار کے بعد اس نے رونے کی وجہ بتائی وہ کچھ یوں گویا

ہوئی۔

میں نے والدین کی نافرمانی کی ، ان سے تمام تعلقات ختم ہو گئے۔ اسکا پچھتاوا تو مجھے ساری زندگی رھے گا ۔ مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ھے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ھے۔

لیکن میرے لیے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ھے وہ

کچھ

اور ھے میری صرف ایک ہی بیٹی ھے میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے چپکے سے کئی بار انکی
 دعا سنی  ھے وہ روتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک سے صرف
ایک ہی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔

يا الله !!!!! میری بیٹی ماں پہ نہ جائے .

یا اللہ !!!! میری بیٹی ماں پہ نہ جائے

یا اللہ !!! یہ اپنی ماں کیطرح گھر سے بھاگ کے کبھی شادی نہ کرے۔ یہ اپنی ماں کیطرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا
نہ کرے۔۔۔۔

یہ دعا تمام لڑکوں اور لڑکیوں کیلیئے ایک پیغام ، ایک .
.... نصیحت اور ایک اعلان ھے ، اگر کوئی سمجھے تو۔۔

اللہ پاک کسی بھی ماں باپ کو اپنی اولاد  کی رسوائی سے ‏ بچائے ، آمین 🤲🏻🤲🏻🤲🏻🤲🏻

"بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔" ہاں، یہ بات درست ہے، لیکن آئیے ایمانداری سے بات کریں...

انہیں واقعی جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ایک صحت مند، مستقل، اور محبت کرنے والی مثال ہے کہ ایک باپ کیسا ہونا چاہیے۔

ایسا مرد جو صرف جسمانی طور پر موجود نہ ہو، بلکہ جذباتی طور پر بھی شریک ہو۔ ایسا شخص جو صرف "باپ" کا لقب نہ رکھے، بلکہ اپنے عمل سے اس رشتے کا حق ادا کرے۔

کیونکہ بچے انتشار سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ وہ غفلت، جذباتی غیر موجودگی، یا اپنی ماں کو روز بے عزتی کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھ کر پروان نہیں چڑھتے۔

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں باپ جیسا کردار کوئی ایسا شخص ہے جو جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، چیختا چلاتا ہے، یا زندگی میں آتا جاتا رہتا ہے جیسے دروازہ ہو... تو یہ باپ ہونا نہیں، یہ dysfunction (خرابی) کا سبق ہے۔

بچوں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک مرد اپنی بیوی سے عزت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ انہیں ایسا شخص دیکھنے کی ضرورت ہے جو ذمے داری لیتا ہے، جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ نہیں دیتا، اور جو جذباتی طور پر غیر حاضر رہنے کے لیے بہانے نہیں بناتا۔

انہیں ایک ایسے باپ کی ضرورت ہے جو عمل سے سکھائے... کہ کیسے معافی مانگی جاتی ہے، کیسے بات کی جاتی ہے، دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے، اور کیسے ایک انسان دوسروں کے لیے پُرامن جائے پناہ بنتا ہے، طوفان نہیں۔

تو نہیں، بات صرف یہ نہیں کہ "بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہے"۔ اصل بات یہ ہے کہ "بچوں کو ایسے باپ کی ضرورت ہے جو واقعی باپ ہونے کا کردار ادا کرے"۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا، تو بہتر ہے کہ بچہ اپنی ماں کو ایک پُرامن زندگی بناتے ہوئے دیکھے... بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھ کر بڑا ہو کہ خرابی اور بدسلوکی ہی محبت کی پہچان ہے۔


"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"

بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔

نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔

یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔

قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"

نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔

اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔

وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔

سو وہ چل پڑا۔

پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔

"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"

دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"

"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔

"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"

وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔

راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"

"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"

"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"

"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"

"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"

وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔

آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔

وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔

کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"

وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔

اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔

جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔

کئی گھنٹے گزر گئے۔

اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...

تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔

"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"

اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"

"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"

اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔

گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔

تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:

"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔

تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔

اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"

اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔

تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:

"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"

اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔

اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔

کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔

جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔

اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget