اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

نومبر 2024

پچاس خیالات برائے مثبت بقائے باہمی اور اختلاف کو قبول کرنے کا فن:

1. میں تم نہیں ہوں۔

2. ضروری نہیں کہ تم میرے عقیدے کو قبول کرو۔

3. یہ لازمی نہیں کہ تم وہی دیکھو جو میں دیکھتا ہوں۔

4. اختلاف زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔

5. 360° زاویے سے دیکھنا ممکن نہیں۔

6. لوگوں کو سمجھو تاکہ ان کے ساتھ رہ سکو، نہ کہ انہیں تبدیل کرنے کے لیے۔

7. لوگوں کے مختلف رویے مثبت اور تکمیلی ہیں۔

8. جو تمہارے لیے موزوں ہے، ضروری نہیں کہ میرے لیے بھی ہو۔

9. حالات اور واقعات انسان کے رویے کو بدل سکتے ہیں۔

10. تمہیں سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہاری بات سے متفق ہوں۔

11. جو چیز تمہیں پریشان کرتی ہے، ضروری نہیں کہ مجھے بھی کرے۔

12. مکالمہ خیالات پر روشنی ڈالنے کے لیے ہے، نہ کہ دوسروں کو قائل یا مجبور کرنے کے لیے۔

13. میری رائے کو واضح کرنے میں میری مدد کرو۔

14. میرے الفاظ پر نہیں، میرے مقصد پر غور کرو۔

15. میرے کسی ایک لفظ یا حرکت پر فیصلہ نہ کرو۔

16. میری غلطیاں تلاش نہ کرو۔

17. مجھ پر استاد ہونے کا کردار نہ تھوپو۔

18. مجھے اپنی سوچ سمجھنے میں مدد دو۔

19. جیسا میں ہوں، مجھے قبول کرو تاکہ میں بھی تمہیں قبول کر سکوں۔

20. انسان صرف اس سے تعلق قائم کرتا ہے جو اس سے مختلف ہو۔

21. مختلف رنگ مل کر تصویر کو خوبصورت بناتے ہیں۔

22. میرے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔

23. تمہارے دونوں ہاتھ الگ ہیں، مگر ان کا کام مشترک ہے۔

24. زندگی دوہری اور جفت پر مبنی ہے۔

25. تم کائنات کے نظام کا ایک حصہ ہو۔

26. فٹبال کا کھیل دو مختلف ٹیموں سے بنتا ہے۔

27. اختلاف نظام کے اندر آزادی کی علامت ہے۔

28. تمہارا بیٹا تم نہیں ہے، اور اس کا زمانہ تمہارا زمانہ نہیں۔

29. تمہارا شریکِ حیات تمہارا عکس نہیں بلکہ تمہارا ساتھی ہے۔

30. اگر سب ایک ہی سوچ رکھتے تو تخلیق ختم ہو جاتی۔

31. زیادہ پابندیاں انسان کی حرکت کو روک دیتی ہیں۔

32. لوگوں کو تعریف، حوصلہ افزائی اور شکریہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

33. دوسروں کے کام کو کم نہ سمجھو۔

34. میری درست بات کو تلاش کرو، غلطیاں فطری ہیں۔

35. میری شخصیت کے مثبت پہلو دیکھو۔

36. اپنی زندگی کا نعرہ بناؤ: زیادہ تر لوگ اچھے، محبت کرنے والے اور نیک ہوتے ہیں۔

37. مسکراؤ اور لوگوں کو احترام سے دیکھو۔

38. تمہارے بغیر میں کمزور ہوں۔

39. اگر تم مختلف نہ ہوتے، تو میں بھی مختلف نہ ہوتا۔

40. کوئی بھی انسان ضرورت اور کمزوری سے خالی نہیں۔

41. میری ضرورت اور کمزوری تمہاری کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

42. میں اپنا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، مگر تم اسے دیکھ سکتے ہو۔

43. اگر تم میری حفاظت کرو گے، تو میں بھی تمہاری حفاظت کروں گا۔

44. ہم مل کر کم وقت اور کم محنت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔

45. دنیا ہم سب کے لیے کافی وسیع ہے۔

46. جو موجود ہے، وہ سب کے لیے کافی ہے۔

47. تم اپنی استطاعت سے زیادہ کھا نہیں سکتے۔

48. جیسے تمہارے حقوق ہیں، ویسے ہی دوسروں کے بھی ہیں۔

49. تم خود کو بدل سکتے ہو، لیکن مجھے نہیں بدل سکتے۔

50. دوسروں کے اختلاف کو قبول کرو اور اپنی ذات میں بہتری لاؤ۔

میں نے اپنی ماں کو پڑوسیوں سے نمک مانگتے ہوئے سنا، حالانکہ ہمارے گھر میں پہلے سے نمک موجود تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ نمک کیوں مانگ رہی ہیں؟

انہوں نے جواب دیا:
"کیونکہ ہمارے پڑوسی مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں ہیں اور اکثر ہم سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں۔ میں وقتاً فوقتاً ان سے کوئی چھوٹی سی اور معمولی چیز مانگ لیتی ہوں تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ ہمیں بھی ان کی ضرورت ہے۔ اس طرح انہیں زیادہ سکون ملے گا اور وہ بلا جھجک اپنی ضرورت کی چیزیں ہم سے مانگ سکیں گے۔"

انسانی وقار کا احترام یقیناً سب سے اعلیٰ جذبات میں سے ایک ہے۔
یہی سبق میں نے اپنے والدین سے سیکھا۔ آئیں ہم ہمدرد، عاجز، اور مددگار بچوں کی پرورش کریں اور ان اعلیٰ اقدار کی قدر کریں!

امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ اپنے بیٹے کو شادی کی پہلی رات 10 نصیحتیں کیں۔

👈  ہر مرد شادی کرنے سے پہلے ان نصیحتوں کو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے۔جو شادی شدہ ہیں وہ بھی اپنے انداز  و اطوار کا جائزہ لیں۔
 
امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:
"میرے بیٹے! تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان 10 عادتوں کو نہ اپناؤ۔ لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو۔

1-  عورتیں تمہاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے اور اس کا وفادار ہے ۔(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)۔

2-  یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائیگی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔

3-  عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بیجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔

4-  عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا  (ہمارے ہاں شوہروں  میں یہ حس بالکل نہیں پائی جاتی ،خوش لباسی خوش گفتاری، وغیرہ گھر میں آتے ہی عنقا ہو جاتی ہے)۔

5-  یاد رکھو، گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔اسکی اس سلطنت میں بیجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا۔

6-  ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ ،بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اس نے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بے چین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی۔

7-  بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے، یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے۔ جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں لہذا اس کے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو۔ اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو وَرنہ وہ ٹوٹ جائے گی اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائیگا مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بیجا بات مانتے ہی چلے جاؤ وَرنہ وہ مغرور ہو جائیگی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔

8-  شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے۔ اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔ یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں،بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا

9-  ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہوجائے، بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس پر مہربانی کی ہے۔ جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا  لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کیلئے سہولت پیدا کرو۔

10-  آخر میں بس یہ یاد رکھو  بیٹے کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا،اس کی گواہی سب سے پہلی اور معتبر گواہی ہوگی۔
    ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین وجعلنا للمتقین  اماما، آمین

آپ ﷺ کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ھے کہ آپ کو سر زمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے روشناس کرایا جاۓ تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپ ﷺ کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے..

ملک عرب ایک جزیرہ نما ھے جس کے جنوب میں بحیرہ عرب , مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان , مغرب میں بحیرہ قلزم ھے.. تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ھے.. مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد بے آب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ھے جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ھیں.. طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ھیں..

☇یمن :/ یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رھا ھے جس کو پرامن ھونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا.. آب و ھوا معتدل ھے اور اسکے پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ھیں جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ھوتے ھیں.. قوم "سبا" کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند (ڈیم) بناۓ جن میں "مارب" نام کا مشھور بند بھی تھا.. اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ھوگئی..

☇حجاز :/ یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقغ ھے.. حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ھے جسے اللہ نے نور ھدائت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے منتخب کیا.. اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ھے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ھے.. حجاز کا دوسرا اھم شھر یثرب ھے جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شھر ھے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ عرب کے ریگستان میں جنت ارضی کی مثل ھے.. حجاز میں بدر , احد , بیر معونہ , حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ھیں..

☇نجد :/ ملک عرب کا ایک اھم حصہ نجد ھے جو حجاز کے مشرق میں ھے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت "الریاض" واقع ھے..

☇حضرموت :/ یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ھے.. بظاھر ویران علاقہ ھے.. پرانے زمانے میں یہاں "ظفار" اور "شیبان" نامی دو شھر تھے..

مشرقی ساحلی علاقے (عرب امارات) :/ ان میں عمان ' الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ھیں.. یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے جبکہ آج کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ھے..

☇وادی سیناء :/ حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ھے جہاں قوم موسی' علیہ السلام چالیس سال تک صحرانوردی کرتی رھی.. طور سیناء بھی یہیں واقع ھے جہاں حضرت موسی' علیہ السلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں..

⭐نوٹ :/ ایک بات ذھن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب , یمن , بحرین , عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام , عراق اور مصر جیسے ممالک بعد میں فتح ھوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وھاں نقل مکانی کرکے آباد ھوئی اور نتیجتہ" یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے لیکن اصل عرب علاقہ وھی ھے جو موجودہ سعودیہ , بحرین , عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ھے اور اس جزیرہ نما کی شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ھے..

عرب کو "عرب" کا نام کیوں دیا گیا اس کے متعلق دو آراء ھیں.. ایک راۓ کے مطابق عرب کے لفظی معنی "فصاحت اور زبان آوری" کے ھیں.. عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ھم پایہ اور ھم پلہ نہیں سمجھتے تھے اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے..

دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب "عربہ" سے نکلا ھے جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ھیں.. چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ھے اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا..

====>📚بحوالہ:سیرت المصطفیٰ📚 حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندہلوی رحمۃ الله عليه 📚الرحیق المختوم📚 حضرت مولانا صفی الرحمن صاحب مبارکپوری رحمۃ الله علي

*نوکری کی تلاش میں مدد گار ویب سائٹس*

1. LinkedIN
2. Indeed
3. Careerealism
4. Job-Hunt
5. JobBait
6. Careercloud
7. GM4JH
8. Personalbrandingblog
9. Jibberjobber
10. Neighbors-helping-neighbors

*کمپیوٹر سائنسز کی موجودہ اہم ترین فیلڈز*

1. Machine Learning
2. Mobile Development
3. SEO/SEM Marketing
4. Data Visualization
5. Data Engineering
6. UI/UX Design
7. Cyber-security
8. Cloud Computing/AWS
9. Blockchain
10. IOT

*مددگار سائٹس جہاں سے مفت میں پڑھا جا سکتا ہے اور کورسز۔کیے جا سکتے ہیں*

1. Coursera
2. edX
3. Khan Academy
4. Udemy
5. iTunesU Free Courses
6. MIT OpenCourseWare
7. Stanford Online
8. Codecademy
9. Open Culture Online Courses

*انٹرویو کے حوالے سے ضروری لوازمات سیکھنے اور سمجھنے کے لیے مددگار سائٹس*

1. Ambitionbox
2. AceTheInterview
3. Geeksforgeeks
4. Leetcode
5. Gainlo
6. Careercup
7. Codercareer
8. InterviewUp
9. InterviewBest
10. Indiabix

عورت کی عزت! "
اشفاق احمد مرحوم فرماتے ہیں کہ میں اپنی اہلیہ بانو کے ساتھ انگلینڈ کے ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں تبلیغی جماعت کے کچھ نوجوان چہل قدمی کرتے ہوئے پارک میں آئے، اتنے میں مغرب کا وقت ہوا تو انہوں نے وہیں جماعت شروع کردی۔
ان نوجوانوں کو نماز پڑھتا دیکھ کچھ نوجوان لڑکیوں کا ایک گروپ ان کے پاس پہنچا اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ آو دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان کیا بات ہوتی ہے۔
مرحوم فرماتے ہیکہ ہم دونوں میاں بیوی وہاں چلے گئے اور نماز ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔
نماز ختم ہوتے ہی ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر جماعت کروانے والے نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمھیں انگلش آتی ہے؟
تو نوجوان نے کہا کہ جی ہاں آتی ہے۔
تو لڑکی نے سوال کیا کہ تم نے ابھی یہ کیا عمل کیا؟
تو نوجوان نے بتایا کہ ہم نے اپنے رب کی عبادت کی ہے۔
تو لڑکی نے پوچھا آج تو اتوار نہیں ہے تو آج کیوں کی؟
تو نوجوان نے اسے بتایا کہ یہ ہم روز دن میں پانچ بار یہ عمل کرتے ہیں، تو لڑکی نے حیرت سے پوچھا کہ پھر باقی کام کیسے کرتے ہو تم؟
تو اس نوجوان نے اسے مکمل طریقہ سے پوری بات سمجھائی۔
بات ختم ہونے کے بعد لڑکی نے مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا تو نوجوان نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں آپ کو چھو نہیں سکتا، یہ ہاتھ میری بیوی کی امانت ہے اور یہ صرف اسے ہی چھو سکتا ہے۔
یہ سن کر وہ لڑکی زمین پر لیٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور روتے ہوئے بولی کہ اے کاش! یورپ کا نوجوان بھی اسی طرح ہوتا تو آج ہم بھی کتنی خوش ہوتی۔
پھر بولی کہ واہ کتنی ہی خوش نصیب ہے وہ لڑکی جس کے تم شوہر ہو۔
یہ کہہ کر وہ لڑکی وہاں سے چلی گئی۔
اشفاق مرحوم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ"بانو! آج یہ نوجوان اپنے عمل سے وہ تبلیغ کر گیا جو کئی کتابیں لکھنے سے بھی نہیں ہوتی۔"
بے شک عزت اور سر بلندی اسلام میں ہی ھے .
میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والی جاؤ یورپ میں عورت کا حال دیکھو اور خدا کا شکر ادا کرو تم ایک مسلمان پیدا ہوئی ہو

*👈توبہ کرنے کا ایک طریقہ*

توبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ تنہائی میں دورکعت صلوٰۃ التوبہ پڑھے پھر اپنی نافرمانیوں اور رب تعالیٰ کے احسانات ، اپنی ناتوانی اور جہنم کے عذابات کو یاد کر کے آنسو بہائے ،اگررونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت ہی بنا لے ۔ اس کے بعد توبہ کی شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی طلب کرے اور کچھ اس طرح سے دعا کرے :

    ’’ اے میرے مالک ! تیرا یہ نافرمان بندہ جس کا رُواں رُواں گناہوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے ، تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہے، یا اللہ عزوجل ! میں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے دن کے اُجالے میں رات کے اندھیرے میں ، پوشیدہ اوراعلانیہ ، دانستہ اور نادانستہ طور پر تیری نافرمانیاں کی ہیں ، یقیناََ میں نے تجھے ناراض کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اے مولا ! تُو غفور ورحیم ہے، تُو بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے ، اے اللہ پاک ! اگر تُو نے میرے گناہوں پر پکڑ فرمائی تو مجھے نارِ جہنم میں جلنا پڑے گا جس کا عذاب لمحہ بھرکے لئے بھی سہنے کی مجھ میں طاقت نہیں ، اے اللہ پاک ! میں صدقِ دل سے تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں ، یااللہ پاک میری ناتوانی پر رحم فرما، اے میرے پرورد گار! میرے گناہوں کومعاف فرمادے ، اے میرے پرورد گار اللہ عزوجل! میرے گناہوں کومعا ف فرمادے ، اے میرے پرورد گار اللہ عزوجل! میرے گناہوں کو معاف فرمادے ، اے میرے مولا اللہ پاک ! مجھے سچی توبہ کی توفیق دے ، جو عبادات ادا ہونے سے رہ گئیں انہیں ادا کرنے  کی ہمت دے دے ، جن بندوں کے حقوق میں نے تلف کئے ان سے بھی معافی مانگنے کا حوصلہ عطا فرما ، اے اللہ پاک! تُو ہرشے پر قادر ہے ، تُو انہیں مجھ سے راضی فرمادے ، یااللہ پاک! مجھے آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے پر استقامت عطا فرما ، اے اللہ عزوجل! مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔‘‘

    اس کے بعد اس جگہ سے اس یقین سے اٹھے کہ رحیم وکریم پروردگار اللہ عزوجل  نے اس کی توبہ قبول فرما لی ہے ۔ پھر ایک نئے عزم کے ساتھ نئی اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کرے اور سابقہ گناہوں کی تلافی میں مصروف ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
*اگر آپ کو یہ تحریر (Post) پسند آئی ہو تو اپنے دوست و احباب کو ضرور شیئر کریں*

♦حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر تہمت کا قصہ♦

سعید بن المسیب اور عروہ بن زبیر اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے، ان سب لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث روایت کی جب ان پر تہمت کی تہمت کرنے والوں نے اور کہا: جو کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ان کو ان کی تہمت سے۔ زہری نے کہا: ان سب لوگوں نے ایک ایک ٹکڑا اس حدیث کا مجھ سے روایت کیا اور بعض ان میں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے اس حدیث کو بعض سے اور زیادہ حافظ تھے اور عمدہ بیان کرنے والے تھے اس کو اور میں نے یاد رکھی ہر ایک سے جو روایت سنی اور بعض کی حدیث بعض کی تصدیق کرتی ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو قرعہ ڈالتے اپنی عورتوں پر اور جس عورت کے نام پر قرعہ نکلتا، اس کو سفر میں ساتھ لے جاتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈالا ایک جہاد کے سفر میں اس میں میرا نام نکلا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی اور یہ ذکر اس وقت کا ہے جب پردہ کا حکم اتر چکا تھا میں اپنے ہودج میں سوار ہوتی اور راہ میں جب اترتی تو بھی اسی ہودج میں رہتی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے فارغ ہوئے اور لوٹے اور مدینہ سے قریب ہو گئے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو کوچ کا حکم دیا، میں کھڑی ہوئی جب لوگوں نے کوچ کی خبر کر دی اور چلی، یہاں تک کہ لشکر کے آگے بڑھ گئی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوئی تو اپنے ہودج کی طرف آئی اور سینہ کو چھوا، معلوم ہوا کہ میرا ہار ظفار کے نگینوں کا گر گیا ہے (ظفار ایک گاؤں ہے یمن میں) میں لوٹی اور اس ہار کو ڈھونڈنے لگی۔ اس کے ڈھونڈننے میں مجھے دیر لگی اور وہ لوگ آ پہنچے جو میرا ہودج اٹھاتے تھے، انہوں نے وہ اٹھایا اور میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی وہ یہ سمجھے کہ میں اسی ہودج میں ہوں۔ اس وقت عورتیں ہلکی (دبلی) تھیں نہ سنڈھی تھیں نہ موٹی کیونکہ تھوڑا کھانا کھاتی تھیں، اس لیے ان کو ہودج کا بوجھ عادت کے خلاف معلوم نہ ہوا، جب انہوں نے اس کو اونٹ پر لادا اور اٹھایا، اور میں ایک کم سن لڑکی بھی تھی، آخر لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا، اور چل دیئے اور میں نے اپنا ہار اس وقت پایا جب سارا لشکر چل دیا، میں جو ان کے ٹھکانے پر آئی تو وہاں نہ کسی کی آواز ہے، نہ کوئی آواز سننے والا ہے، میں نے یہ ارادہ کیا کہ جہاں بیٹھی تھی وہیں بیٹھ جاؤں اور میں یہ سمجھی کہ لوگ جب مجھے نہ پائیں گے، تو یہیں لوٹ کر آئیں گے، تو میں اسی ٹھکانے پر بیٹھی تھی، اتنے میں میری آنکھ لگ گئی اور میں سو رہی، اور صفوان بن معطل سلمی ذکوانی ایک شخص تھا، وہ آرام کے لیے آخر رات میں لشکر کے پیچھے ٹھہرا تھا، جب وہ روانہ ہوا تو صبح کو میرے ٹھکانے پر پہنچا، اس کو ایک آدمی کا جثہ معلوم ہوا، جو سو رہا ہے، وہ میرے پاس آیا اور مجھ کو پہچان لیا دیکھتے ہی، اس لیے کہ میں پردہ کا حکم اترنے سے پہلے اس کے سامنے ہوا کرتی۔ میں جاگ اٹھی، اس کی آواز سن کر جب اس نے «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا مجھ کو پہچان کر۔ میں نے اپنا منہ ڈھانپ لیا اپنی اوڑھنی سے۔ اللہ کی قسم! اس نے کوئی بات مجھ سے نہیں کی، نہ میں نے اس کی کوئی بات سنی سوائے «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» کہنے کے۔ پھر اس نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اپنا ہاتھ میرے چڑھنے کے لیے بچھا دیا۔ میں اونٹ پر سوار ہو گئی اور وہ پیدل چلا اونٹ کو کھینچتا ہوا، یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچے اور لشکر کے لوگ اتر چکے تھے سخت دوپہر کی گرمی میں، تو میرے مقدمے میں تباہ ہوئے، جو لوگ تباہ ہوئے (یعنی جنھوں نے بدگمانی کی) اور قرآن میں جس کی نسبت «تَوَلَّى كِبْرَهُ» آیا ہے یعنی بانی مبانی اس تہمت کا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول (منافق) تھا۔ آخر ہم مدینہ میں آئے اور میں جب مدینہ میں پہنچی تو بیمار ہو گئی ایک مہینہ تک بیمار رہی اور لوگوں کا یہ حال تھا کہ بہتان کرنے والوں کی باتوں میں غور کرتے اور مجھے ان کی کسی بات کی خبر نہ تھی۔ صرف مجھ کو اس امر سے شک ہوا کہ میں نے اپنی بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ شفقت نہ دیکھی تھی، جو پہلے میرے حال پر ہوتی۔ جب میں بیمار ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اندر آتے اور سلام کرتے پھر فرماتے: ”یہ عورت کیسی ہے .“سو اس امر سے مجھے شک ہوتا لیکن مجھے اس خرابی کی خبر نہ تھی، یہاں تک کہ جب میں دبلی ہو گئی بیماری جانے کے بعد تو میں نکلی اور میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی نکلی مناصع کی طرف (مناصع جگہ تھی مدینہ کے باہر) اور وہ پائخانے کی جگہ تھی ہم لوگوں کے(پائخانے بننے سے پہلے) ہم لوگ رات ہی کو نکلا کرتے اور رات ہی کو چلے آتے اور یہ ذکر اس وقت کا ہے جب ہمارے گھروں کے نزدیک پائخانے نہیں بنے تھے اور ہم پہلے عربوں کی طرح جنگل میں جایا کرتے (پائخانے کے لیے) اور گھر کے پاس پائخانے بنانے سے نفرت رکھتے، تو میں چلی اور ام مسطح میرے ساتھ تھی وہ بیٹی تھی ابورہم بن مطلب بن عبد مناف کی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی تھی جو خالہ تھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی (اس کا نام سلمیٰ تھا) اس کے بیٹے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا، غرض میں اور ام مسطح دونوں جب اپنے کام سے فارغ ہو چکیں تو واپس اپنے گھر کی طرف آ رہی تھیں، اتنے میں ام مسطح کا پاؤں الجھا اپنی چادر میں اور بولی: ہلاک ہوا مسطح۔ میں نے کہا: تو نے بری بات کہی۔ تو برا کہتی ہے اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک تھا۔ وہ بولی: اے نادان! تو نے کچھ نہیں سنا۔ مسطح نے کیا کہا؟ میں نے کہا: کیا کہا: اس نے مجھ سے بیان کیا جو بہتان لگانے والوں نے کہا تھا۔ یہ سن کر میری بیماری دو چند ہو گئی، ایک اور بیماری بڑھی۔ میں جب اپنے گھر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور سلام کیا اور فرمایا: ”اب اس عورت کا کیا حال ہے؟“ میں نے کہا: آپ مجھ کو اجازت دیتے ہیں اپنے ماں باپ کے پاس جانے کی۔ اور میرا اس وقت یہ ارادہ تھا کہ میں ماں باپ کے پاس جا کر اس خبر کی تحقیق کروں۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اجازت دی اور میں اپنے ماں باپ کے پاس آئی۔ میں نے اپنی ماں سے کہا: اماں! یہ لوگ کیا بک رہے ہیں۔ وہ بولی: بیٹا! تو اس کا خیال نہ کر اور اس کو بڑی بات مت سمجھ اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی مرد کے پاس ایک خوبصورت عورت ہو جو اس کو چاہتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور سوکنیں اس کے عیب نہ نکالیں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! لوگوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا۔ میں ساری رات روتی رہی۔ صبح تک میرے آنسو نہ ٹھہرے، اور نہ نیند آئی صبح کو بھی میں رو رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلایا کیونکہ وحی نہیں اتری تھی اور ان دونوں سے مشورہ لیا مجھ کو جدا کرنے کے لیے (یعنی طلاق دینے کے لیے) سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے تو وہی رائے دی جو وہ جانتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کے حال کو اور اس کی عصمت کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اس کے ساتھ۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! عائشہ آپ کی زوجہ ہیں اور ہم تو سوا بہتری کے اور کوئی بات اس کی نہیں جانتے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی اور عائشہ کے سوا عورتیں بہت ہیں اور اگر آپ لونڈی سے پوچھیے تو وہ آپ سے سچ کہہ دے گی (لونڈی سے مراد بریرہ ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتی تھی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے بریرہ! تو نے کبھی عائشہ سے ایسی بات دیکھی ہے جس سے تجھ کو اس کی پاکدامنی میں شک پڑے؟“ بریرہ نے کہا: قسم اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے اگر میں ان کا کوئی کام دیکھتی کبھی تو میں عیب بیان کرتی۔ اس سے زیادہ کوئی عیب نہیں ہے کہ عائشہ کم عمر لڑکی ہے، آٹا چھوڑ کر گھر کا سو جاتی ہے، پھر بکری آتی ہے اور اس کو کھا لیتی ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ ان میں کوئی عیب نہیں جس کو آپ پوچھتے ہیں نہ اس کے سوا کوئی عیب ہے جو عیب ہے وہ یہی ہے کہ بھولی بھالی لڑ کی اور کم عمری کی وجہ سے گھر کا بندوبست نہیں کر سکتی)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی سلول سے بدلا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منبر پر: ”اے مسلمان لوگو! کون بدلہ لے گا میرا اس شخص سے جس کی سخت بات ایذاء دینے والی میرے گھر والوں کی نسبت مجھ تک پہنچی۔ اللہ کی قسم! میں تو اپنی گھر والی (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو) نیک سمجھتا ہوں اور جس شخص سے یہ لوگ تہمت لگاتے ہیں (یعنی صفوان بن معطل سے) اس کو بھی نیک سمجھتا ہوں اور وہ کبھی میرے گھر میں نہیں گیا مگر میرے ساتھ۔“ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ اوس کے سردار تھے) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں آپ کا بدلہ لیتا ہوں۔ اگر تہمت کرنے والا ہماری قوم اوس میں سے ہے تو ہم اس کی گردن مارتے ہیں اور جو ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہے تو آپ حکم کیجئیے ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے (یعنی اس کی گردن ماریں گے) یہ سن کر سیدنا سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج قبیلہ کے سردار تھے اور نیک آدمی تھے لیکن اس وقت ان کو اپنی قوم کی حمایت آ گئی اور کہنے لگے: اے سعد بن معاذ! قسم اللہ کی بقا کی، تو ہماری قوم کے شخص کو قتل نہ کرے گا، نہ کر سکے گا۔ یہ سن کر اسید بن حضیر جو سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی تھے کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ سے کہنے لگے: تو نے غلط کہا: قسم اللہ کی بقا کی! ہم اس کو قتل کریں گے اور تو منافق ہے جب تو منافقوں کی طرف سے لڑتا ہے۔ غرض کہ دونوں قبیلے اوس اور خزرج کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور قریب تھا کہ کشت و خون شروع ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تھے ان کو سمجھا رہے تھے اور ان کا غصہ فرو کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس دن بھی سارا دن روتی رہی کہ میرے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ نیند آتی تھی، پھر دوسری رات بھی روتی رہی کہ نہ آنسو تھمتے تھے، نہ نیند آتی تھی اور میرے باپ نے یہ گمان کیا کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میرے ماں باپ میرے پاس بیتھے تھے اور میں رو رہی تھی، اتنے میں انصار کی ایک عورت نے اجازت مانگی۔ میں نے اس کو اجازت دی وہ بھی آ کر رونے لگی، پھر ہم اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کیا اور بیٹھے۔ اور جس روز سے مجھ پر تہمت ہوئی تھی اس روز سے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینہ یونہی گزرا تھا میرے مقدمہ میں کوئی وحی نہیں اتری۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا بیٹھتے ہی اور فرمایا: ”اما بعد۔ اے عائشہ! مجھ کو تمہاری طرف سے ایسی ایسی خبر پہنچی ہے، پھر اگر تم پاکدامن ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکدامنی بیان کر دے گا اور اگر تو نے گناہ کیا ہے تو توبہ کر اور بخشش مانگ اللہ سے اس واسطے کہ بندہ جب گناہ کا اقرار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے اللہ اس کو بخش دیتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات تمام کر چکے تو میرے آنسو بالکل بند ہو گئے یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی نہ رہا۔ میں نے اپنے باپ سے کہا: آپ جواب دیں میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقدمہ میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میرے باپ بولے: اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کیا میں جواب دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سبحان اللہ باپ تو محب رسول تھے گو ان کی بیٹی کا مقدمہ تھا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دم نہ مارا ..میں نے اپنی ماں سے کہا: تم جواب دو میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ وہ بولی: اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کیا جواب دوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ آخر میں نے خود ہی کہا اور میں کم سن لڑکی تھی میں نے قرآن نہیں پڑھا ہے لیکن میں قسم اللہ کی یہ جانتی ہوں کہ تم لوگوں نے اس بات کو یہاں تک سنا کہ تمہارے دل میں جم گئی اور تم نے اس کو سچ سمجھ لیا (یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے غصے سے فرمایا، ورنہ سچ کسی نے نہیں سمجھا، بجز تہمت کرنے والوں کے) پھر اگر تم سے کہوں میں بے گناہ ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں تو بھی تم مجھ کو سچا نہیں سمجھ نے کے، اور اگر میں ایک گناہ کا اقرار کر لوں جس کو میں نے نہیں کیا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو تم مجھ کو سچا سمجھو گے اور میں اپنی اور تمہاری مثل سوائے اس کے کوئی نہیں پاتی جو یوسف علیہ السلام کے باپ کی تھی (یعقوب علیہ السلام کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رنج میں ان کا نام یاد نہ آیا یوسف علیہ السلام کا باپ کہا) جب انہوں نے کہا:«فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ» یعنی اب صبر بہتر ہے اور تمہاری اس گفتگو پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے، پھر میں نے کروٹ موڑ لی اور میں اپنے بچھونے پر لیٹ رہی اور میں اللہ کی قسم اس وقت جانتی تھی کہ میں پاک ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میری پاکی ظاہر کرے گا لیکن اللہ کی قسم مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میری شان میں قرآن اترے گا جو پڑھا جائے گا(قیامت تک) کیونکہ میری شان خود میرے گمان میں اس لائق نہ تھی کہ اللہ جل جلالہ عزت اور بزرگی والا میرے مقدمہ میں کلام کرے اور کلام بھی ایسا جو پڑھا جائے البتہ مجھ کو یہ امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں کوئی ایسا مضمون ایسا دیکھیں گے جس سے اللہ تعالیٰ میری پاکی ظاہر کر دے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں اٹھے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی اور اتارا قرآن کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی سختی معلوم ہونے لگی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر سے موتی کی طرح پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے، جاڑوں کے دنوں میں اس کلام کی سختی سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا (اس لیے کہ بڑے شہنشاہ کا کلام تھا) جب یہ حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاتی رہی (یعنی وحی ختم ہو چکی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے اور اول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ منہ سے نکالا۔ فرمایا: ”اے عائشہ! خوش ہو جا اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بے گناہ اور پاک فرمایا۔“ میری ماں نے کہا: اٹھ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کر اور شکر کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کا بوسہ لے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں اٹھوں گی اور نہ کسی کی تعریف کروں گی سوائے اللہ تعالیٰ کے اسی نے میری پاکی اتاری۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ» ‏‏‏‏(۲۴-النور: ۱۱) آخر تک دس آیتوں کو تو اللہ جل جلالہ نے ان آیتوں کو میری پاکی کے لیے اتارا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو مسطح سے عزیز داری کی وجہ سے سلوک کیا کرتے تھے یہ کہا: کہ اللہ کی قسم! اب میں اس کو کچھ نہ دوں گا کیونکہ اس نے عائشہ کی نسبت ایسا کہا تو اللہ نے یہ آیت اتاری «وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِى الْقُرْبَى» سے«أَلاَ تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ» آخر تک۔ حبان بن موسٰی نے کہا: عبداللہ بن مبارک نے کہا: یہ آیت بڑی امید کی ہے اللہ کی کتاب میں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ناتے داروں کے ساتھ سلوک کرنے میں بخشش کا وعدہ کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ کو بخشے، پھر مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے وہ جاری کر دیا اور کہا: میں کبھی بند نہ کروں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور رسول اللہ نے ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے میرے باب میں پوچھا: جو وہ جانتی ہوں یا انہوں نے دیکھا ہو۔ انہوں نے کہا: (حالانکہ وہ سوکن تھیں) یا رسول اللہ! میں اپنے کان اور آنکھ کی احتیاط رکھتی ہوں (یعنی بن سنے کوئی بات سنی ہے نہیں کہتی اور نہ بن دیکھے کو دیکھی کہتی ہوں) میں تو عائشہ کو نیک ہی سمجھتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا ہی ایک زوجہ تھیں جو میرے مقابل کی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس تہمت سے بچایا ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے اور ان کی بہن حمنہ بنت حجش نے ان کے لیے تعصب کیا اور ان کے لیے لڑیں تو جو لوگ تباہ ہوئے ان میں وہ بھی تھیں (یعنی تہمت میں شریک تھیں) زہری نے کہا: تو ان لوگوں کا یہ آخر حال ہے جو ہم کو پہنچا۔  صحیح مسلم#7020

تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں ۔ یا اللہ! تو پاک ہے ، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے ۔ آیت#16 سورہ النور

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget