اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

مارچ 2025

ایک عابد نے *خدا کی زیارت* کے لیے 40 دن کا چلہ کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا 
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا: 
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟ 
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا: 
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو .

سقراط نے ایک بار کہا تھا۔
"اگر کوئی گدھا مجھے لات مارتا ہے تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا، شکایت کروں گا یا اسے واپس لات ماروں گا؟"

بات یہ نہیں کہ ہر مباحثہ جیتا جائے یا ہر دلیل میں کامیابی حاصل کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اپنی توانائی ان لوگوں پر صرف کی جائے جو اس کے مستحق ہوں۔  
جہالت چیختی ہے، جبکہ عقل خاموش رہتی ہے۔ جب کسی کے پاس دینے کے لیے توہین اور شور شرابے کے سوا کچھ نہ ہو، تو سب سے طاقتور جواب خاموشی ہے۔  

کسی ایسے شخص کی سطح پر مت گریں جو محض تنازعات کے لیے کوشاں ہو۔  
سچی ذہانت کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ اپنی روشنی سے خود بخود نمایاں ہو جاتی ہے۔

‏یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق ذہانت کی چار اقسام ہیں۔

1) انٹیلیجینس کوشینٹ (IQ)
2) ایموشنل کوشینٹ (EQ)
3) سوشل کوشینٹ (SQ)
4) ایڈورسٹی کوشینٹ (AQ)

1. ذہانت کا حصہ (IQ)
یہ عقل و فہم کی سطح کا پیمانہ ہے۔ آپ کو ریاضی کو حل کرنے، چیزیں یاد کرنے اور سبق یاد کرنے کے لیے IQ کی ضرورت ہے۔

2. جذباتی اقتباس (EQ)
یہ دوسروں کے ساتھ امن برقرار رکھنے، وقت کی پابندی، ذمہ دار، ایماندار، حدود کا احترام، عاجز، حقیقی اور خیال رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

3. سماجی اقتباس (SQ)
یہ دوستوں کا نیٹ ورک بنانے اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

جن لوگوں کا EQ اور SQ زیادہ ہوتا ہے، وہ زندگی میں ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں جن کا IQ زیادہ ہوتا ہے لیکن عموماً EQ اور SQ کم ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی خاص شعور نہیں۔ زیادہ تر اسکول IQ کی سطح کو بہتر بناکر فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ EQ اور SQ پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

ایک اعلیٰ IQ والا آدمی اعلیٰ EQ اور SQ والے آدمی کے ذریعہ ملازمت حاصل کر سکتا ہے حالانکہ اس کا IQ اوسط ہو۔
آپ کا EQ آپ کے کردار کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ آپ کا SQ آپ کی کرشماتی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایسی عادات کو اپنائیں جو ان تینوں Qs کو بہتر بنائے گی، خاص طور پر آپ کے EQ اور SQ۔

 4. مشکلات (مصیبت) (adversity) کا حصّہ (AQ)
زندگی میں کسی نہ کسی مشکل سے گزرنے، اور اپنا کنٹرول کھوئے بغیر اس سے باہر آنے کی آپ کی صلاحیت کا پیمانہ۔
مشکلات کا سامنا کرنے پر، AQ طے کرتا ہے کہ کون ہار مانے گا، کون اپنے خاندان کو چھوڑ دے گا، اور کون خودکشی پر غور کرے گا؟

والدین براہِ کرم اپنے بچوں کو صرف اکیڈمک ریکارڈ بنانے کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں تنگ دستی میں گزارہ کرنے اور مشقت کو پسند کرنے اور اس سے تحمل کے ساتھ نکلنے کے لیے بھی تیار کریں۔
ان کا آئی کیو، نیز ان کا EQ ، SQ اور AQ تیار کریں۔ انہیں کثیر جہتی انسان بننا چاہیے تاکہ وہ آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔
اپنے بچوں کے لیے سڑک تیار نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کو سڑک کے لیے تیار کریں.

مشہور رائٹر اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ می وا (Miwa) نامی ایک جاپانی لڑکی میری آفس کولیگ تھی۔ رمضان شروع ہوا تو کہنے لگی یہ جو تم رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہو اس سے تمہیں کیا ملتا ہے؟

میں نے اسے بتایا کہ روزہ ایک عبادت ہے اور یہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمانداری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ اور تمام برے کاموں سے بھی بچنا ہوتا ہے۔

وہ بڑی سنجیدگی سے بولی: آپ کے تو مزے ہیں جی۔ ہمیں تو سارا سال ان کاموں سے بچنا ہوتا ہے اور آپ کو بس ایک مہینہ۔

*اشفاق احمد کی ڈائری سے*

اپنے اندر کی ہوا نکال دیں خوش رہیں گے ۔۔۔۔۔۔
ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا انعقاد کیا
 راستے میں ان کا گزر ایک سرنگ سے ہوا جس کے نیچے سے بس ڈرائیور پہلے بھی گزرتا تھا
سرنگ کے دہانے پر پانچ میٹر اونچائی لکھی تھی
 ڈرائیور نے نہیں روکا کیونکہ بس کی اونچائی بھی پانچ میٹر تھی
 لیکن اس بار بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کر درمیان میں پھنس گئی
جس سے بچے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے
 بس ڈرائیور کہنے لگا
 ہر سال میں بغیر کسی پریشانی کے سرنگ عبور کرتا ہوں، مگر اب کیا ہوا؟
 ایک آدمی نے جواب دیا: 
سڑک پکی ہو گئی ہے اس لیے سڑک کی سطح تھوڑی بلند ہو گئی ہے
 وہاں رش لگ گیا 
ایک شخص نے بس کو باہر نکالنے کے لیے اپنی کار سے باندھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار رگڑ کی وجہ سے رسی ٹوٹ جاتی
 کچھ نے بس کو کھینچنے کے لیے ایک مضبوط کرین لانے کا مشورہ دیا 
اور کچھ نے کھود کر توڑنے کا مشورہ دیا
 ان مختلف تجاویز کے درمیان
ایک بچہ بس سے اترا اور کہا: 
میرے پاس حل ہے!
 اس نے کہا:
 پروفیسر صاحب نے ہمیں پچھلے سال ایک سبق دیا تھا اور کہا تھا
 ہمیں اپنے اندر سے غرور و تکبر نفرت، خود غرضی اور لالچ کو نکال دینا چاہیے جن کی وجہ سے ھم لوگوں کے سامنے پھولے ہوئے ہوتے ہیں
 اگر ہم ان الفاظ کو بس پر لگا دیں اور اس کے ٹائروں سے تھوڑی سی ہوا نکال دیں تو وہ سرنگ کی چھت سے نیچے اترنا شروع کر دے گی اور ہم باحفاظت گزر جائیں گے
  بچے کے شاندار مشورے سے ہر کوئی حیران رہ گیا اور واقعی بس کے ٹائروں سے ہوا کا دباؤ کم کیا گیا تو بس سرنگ (ٹنل) کی چھت کی سطح سے نیچے گزر گئی اور سب بحفاظت باہر نکل آئے
 ہمارے مسائل ہم میں ہیں
 ہمارے دشمنوں کی طاقت میں نہیں
اس لیے اگر ہم اپنے اندر سے غرور اور باطل کی ہوا نکال دیں گے تو دنیا کی اس سرنگ میں سے ہمارا گزر بآسانی ہوجائے گا
بس اپنے اندر کی غرور وتکبر و انا اور خود غرضی کی ہوا نکال دیں معاشرہ اچھا ہو جائے گا 🤞

مشہور رائٹر اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ می وا (Miwa) نامی ایک جاپانی لڑکی میری آفس کولیگ تھی۔ رمضان شروع ہوا تو کہنے لگی یہ جو تم رمضان کا پورا مہینہ صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہو اس سے تمہیں کیا ملتا ہے؟

میں نے اسے بتایا کہ روزہ ایک عبادت ہے اور یہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزے کے دوران جھوٹ نہ بولنا، ایمانداری سے اپنا کام کرنا، پورا تولنا، انصاف کرنا وغیرہ وغیرہ اور تمام برے کاموں سے بھی بچنا ہوتا ہے۔

وہ بڑی سنجیدگی سے بولی: آپ کے تو مزے ہیں جی۔ ہمیں تو سارا سال ان کاموں سے بچنا ہوتا ہے اور آپ کو بس ایک مہینہ۔

*اشفاق احمد کی ڈائری سے*

فطرت کے انوکھے والدین : محبت، قربانی اور بقا کی عظیم داستانیں

تحریر و تالیف: محمد اویس 

جب ہم 'ماں' یا 'باپ' کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں انسانی والدین کی تصویر آتی ہے جو اپنے بچوں کے لیے لازوال محبت اور قربانیوں کی مثال قائم کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ فطرت کے عجائب گھر میں ایسے بھی والدین موجود ہیں جو اپنی اولاد کے لیے ناقابل یقین حد تک قربانیاں دیتے ہیں؟ ان کی کہانیاں اتنی حیرت انگیز ہیں کہ وہ انسانی والدین کی محبت کو بھی مات دے سکتی ہیں۔ آئیے، ان انوکھے والدین کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ فطرت نے ان میں کیسی انوکھی صلاحیتیں رکھی ہیں۔

1- ماں کی کھال کھانے والے بچے۔۔۔!

کیسیلیئن (Caecilian) کی کچھ اقسام میں ایک حیرت انگیز اور انوکھی ماں بننے کی حکمت عملی پائی جاتی ہے، جسے Dermatotrophy کہتے ہیں۔ اس میں ماں اپنی کھال قربان کر کے اپنے بچوں کو غذا فراہم کرتی ہے 
جب بچے پیدا ہوتے ہیں، تو وہ بالکل دانتوں کے بغیر اور کمزور ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
مادہ کیسیلیئن کی جلد خاص طور پر موٹی اور چکنائی (Fat-rich) سے بھرپور ہوتی ہے۔ نوزائیدہ بچے اپنی ننھی ننھی نوک دار دانتوں والی ساخت (Specialized Teeth) سے اپنی ماں کی جلد کو کھاتے ہیں، جس میں غذائیت بھری ہوتی ہے۔ ماں ہر چند دن میں اپنی جلد دوبارہ اگا لیتی ہے، تاکہ بچے اس سے مزید غذا حاصل کر سکیں۔
ماں اپنی جلد کو کھانے کے لیے پیش کرتی رہتی ہے، جب تک کہ بچے کافی بڑے ہو کر آزادانہ طور پر خوراک حاصل کرنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ اس دوران وہ خود کمزور ہو جاتی ہے، لیکن بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے یہ قربانی دیتی ہے۔

2- ماں کی عظیم قربانی۔۔۔!

وشال آکٹوپس(Giant Octopus) کی مادہ اپنی زندگی کے آخری مراحل میں ایک انتہائی منفرد اور قربانی بھرے ماں بننے کے عمل سے گزرتی ہے، جسے Semelparity کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ زندگی میں صرف ایک بار انڈے دیتی ہے اور اس کے بعد اپنی جان قربان کر دیتی ہے۔ 
مادہ آکٹوپس ایک محفوظ جگہ تلاش کرتی ہے، جیسے کہ کسی غار، چٹان کے نیچے یا کسی گہرے سوراخ میں۔ وہ 50,000 سے 100,000 تک چھوٹے چھوٹے انڈے دیتی ہے اور انہیں چٹانوں سے چپکا دیتی ہے۔ مادہ آکٹوپس اپنے انڈوں کی حفاظت میں اپنی ساری توانائی لگا دیتی ہے۔
وہ ان پر مسلسل پانی کے ہلکے جھونکے مارتی ہے تاکہ آکسیجن کی مناسب مقدار ملتی رہے۔ کسی بھی ممکنہ شکاری (Predators) جیسے مچھلیوں، کیکڑوں یا دوسری مخلوقات کو انڈوں سے دور رکھتی ہے۔ یہ عمل 6 ماہ سے 1 سال تک جاری رہ سکتا ہے اور اس دوران مادہ آکٹوپس بالکل بھی کھانا نہیں کھاتی۔ بعض اوقات وہ اپنی بھوک کی شدت کے باعث Self-Cannibalism یعنی خود کو کھانے لگتی ہے تاکہ اپنی توانائی کو آخری حد تک استعمال کر سکے۔ وہ اپنی توانائی کا آخری ذرہ بھی بچوں کی حفاظت کے لیے خرچ کر دیتی ہے۔ جب انڈے نکلنے کے قریب ہوتے ہیں، تو مادہ آکٹوپس مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ انڈے نکلنے کے بعد، وہ مر جاتی ہے، اور اس کی زندگی کا سفر مکمل ہو جاتا ہے۔ 
یہ حیرت انگیز ماں بننے کی حکمت عملی بچوں کی بقا کو یقینی بناتی ہے کیونکہ مادہ آکٹوپس کی قربانی کی بدولت زیادہ سے زیادہ بچے زندہ بچ کر سمندر میں آزاد ہو سکتے ہیں۔

3- باپ جو حاملہ ہوتا ہے۔۔۔!

سمندری گھوڑے (Seahorse) میں پیرنٹنگ کا نظام باقی تمام جانداروں سے بلکل الٹ ہے، کیونکہ اس میں ماں (مادہ) نہیں بلکہ باپ (نر) بچے پیدا کرتا ہے
جب نر اور مادہ سمندری گھوڑے جوڑا بناتے ہیں، تو مادہ اپنے 200 سے 2,000 انڈے نر کے "Brood Pouch" (خصوصی تھیلی) میں منتقل کر دیتی ہے۔ 
یہ تھیلی باپ کے پیٹ کے نچلے حصے میں ہوتی ہے، جو ایک مصنوعی رحم (Artificial Womb) کی طرح کام کرتی ہے۔ باپ انڈوں کو اپنے جسم کے اندر تقریباً 10 سے 45 دن تک محفوظ رکھتا ہے، جہاں وہ آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے، بالکل ویسے جیسے کسی ماں کا رحم کرتا ہے۔ اس دوران، نر سمندری گھوڑا اپنی خوراک کا خیال رکھتا ہے اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔
جب بچے مکمل طور پر تیار ہو جاتے ہیں، تو نر سمندری گھوڑا شدید مشقت ( Labor pain) سے گزرتا ہے اور چھوٹے سمندری گھوڑے پانی میں چھوڑ دیتا ہے۔ بعض اوقات، یہ پیدائش کئی گھنٹوں تک جاری رہتی ہے، اور ہر بار باپ 100 سے 1,000 چھوٹے سمندری گھوڑے پانی میں چھوڑتا ہے۔ پیدائش کے بعد، بچے فوری طور پر آزاد ہو جاتے ہیں اور خود اپنی خوراک حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ 
یہ نظام سمندری گھوڑے  کو دنیا کی ان چند مخلوقات میں شامل کرتا ہے جہاں ایک باپ بچے پیدا کرتا ہے، یعنی ماں والی تمام ذمہ داری ادا کرتا ہے 

4- ماں کو کھانے والے بچے۔۔۔! 

 اس مکڑی (Crab Spider) کے بچے انڈے سے نکلنے کے بعد جو سب سے پہلی خوراک کھاتے ہیں تو وہ اپنی ہی ماں کو ہی کھا لیتے ہیں۔ یہ عمل matriphagy کہلاتا ہے۔ 
مادہ مکڑی پہلے انڈے دیتی ہے اور ان کی سختی سے حفاظت کرتی ہے۔ اس دوران وہ شکار کرنا چھوڑ دیتی ہے اور اپنی پوری توانائی بچوں کی دیکھ بھال میں خرچ کرتی ہے۔
تقریباً تین ہفتوں بعد، جب انڈے سے بچے نکلتے ہیں تو وہ بہت بھوکے ہوتے ہیں انکی ماں، جو کبھی ایک طاقتور شکاری تھی اب خوراک کی کمی کے باعث کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کی جان، اس کے جسم کا ہر حصہ، اپنے بچوں کی بقا کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔ یہ بچے، اپنی ماں کی قربانی سے مضبوط ہو کر، دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ وہ اپنی ماں کے جسم سے حاصل ہونے والی توانائی سے بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ماں کو ہی کھا لیتے ہیں یہ عمل بچوں کی بقا کے امکانات کو بڑھاتا ہے اور انہیں ایک مضبوط آغاز فراہم کرتا ہے۔

5- پاؤچ میں پرورش/ حمل روکنے کی صلاحیت۔۔۔! 

کینگرو  اس کی سب سے منفرد خصوصیت اس کا "تھیلا" (Pouch) اور ایک حیران کن تولیدی صلاحیت ہے، جس میں یہ حمل کو عارضی طور پر روک (Embryonic Diapause) بھی سکتی ہے۔
جب کینگرو کا بچہ (جسے "Joey" کہا جاتا ہے) پیدا ہوتا ہے، تو اس کا سائز تقریباً ایک جیلی بین یا انگور کے دانے کے برابر یعنی محض ایک انچ لمبائی اور تقریباً 2 گرام وزن جتنا چھوٹا ہوتا ہے اس وقت، یہ نہ آنکھیں کھول سکتا ہے، نہ ہی بال ہوتے ہیں، اور نہ ہی یہ خود سے کچھ کر سکتا ہے۔ ماں کا دودھ پینے کے لیے یہ ننھا بچہ اپنی ماں کے جسم پر رینگتا ہوا تھیلے کے اندر چلا جاتا ہے اندر ماں کے نپلز (Nipples) سے لگ کر بچہ مسلسل دودھ پیتا ہے اور بڑھتا رہتا ہے۔ تقریباً 6 سے 8 ماہ تک، یہ مکمل طور پر تھیلے کے اندر رہتا ہے، جہاں اسے دودھ، گرمی اور تحفظ ملتا ہے۔ جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ باہر جھانکنا شروع کرتا ہے، اور پھر کچھ دیر کے لیے باہر آ کر زمین پر کھیلنا سیکھتا ہے۔
دوسری حیرت انگیز خاصیت تولیدی حکمت عملی (Reproductive Strategy) ہے، جو کینگرو کو دوسری مخلوقات سے منفرد بناتی ہے۔ اگر ماں کے تھیلے میں پہلے ہی ایک بچہ موجود ہو، تو ماں اپنے نئے حمل کو "روک" سکتی ہے ماں کے جسم میں نئی فرٹیلائزڈ ایمبریو (Embryo) کچھ ہفتوں بعد بڑھنا شروع کرنے کے بجائے "سونے" کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ جب پہلا بچہ تھیلے سے باہر آ کر آزاد ہو جاتا ہے، تب ہی ماں اس "روکے ہوئے" حمل کو دوبارہ بڑھنے دیتی ہے۔
اس طریقہ سے کینگرو ماں بیک وقت تین نسلوں کی دیکھ بھال کر سکتی ہے ایک بڑا جوئی، جو زمین پر رہتا ہے اور کبھی کبھی دودھ پینے آتا ہے۔ دوسرا چھوٹا جوئی، جو ابھی تھیلے کے اندر پرورش پا رہا ہے۔ تیسرا "روکا ہوا" حمل، جو ضرورت پڑنے پر دوبارہ فعال ہو جائے گا۔
کینگرو کی "پاؤچ میں پرورش" اور "حمل کو روکنے" کی حیرت انگیز صلاحیتیں اسے ایک ناقابلِ یقین جاندار بناتی ہیں۔

6- اک دھوکہ باز ماں۔۔۔! 

کوئل (Cuckoo) خود گھونسلہ بنانے، انڈے سینے اور بچوں کی پرورش کرنے کی زحمت نہیں کرتی بلکہ یہ اپنی ماتحت پیرنٹنگ (Brood Parasitism) کے ذریعے دوسرے پرندوں کو دھوکہ دے کر اپنے بچوں کی پرورش کرواتی ہے۔
مادہ کوئل کسی دوسرے پرندے (جیسے فاختہ، چڑیا یا بلبل) کے گھونسلے میں خفیہ طور پر انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے اس طرح گھونسلے میں رکھتی ہے کہ وہ میزبان پرندے کے انڈوں سے مشابہت رکھتے ہیں، تاکہ وہ پہچانے نہ جا سکیں۔ کوئل اکثر میزبان پرندے کے ایک یا دو انڈے کھا جاتی ہے یا گھونسلے سے باہر گرا دیتی ہے، تاکہ اس کے اپنے انڈے زیادہ محفوظ رہیں۔ میزبان پرندہ، جو دھوکہ کھا چکا ہوتا ہے، کوئل کے انڈوں کو اپنا سمجھ کر سینا شروع کر دیتا ہے۔ 
کوئل کا بچہ عام طور پر میزبان پرندے کے بچوں سے پہلے نکلتا ہے اور بہت زیادہ بھوکا ہوتا ہے۔ یہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ جیسے ہی پیدا ہوتا ہے، یہ میزبان پرندے کے اصل انڈوں یا بچوں کو گھونسلے سے باہر دھکیل دیتا ہے، تاکہ اسے مکمل خوراک اور توجہ مل سکے۔ 
جب کوئل کا بچہ میزبان پرندے کے گھونسلے میں پل کر جوان ہو جاتا ہے، تو وہ خود ہی اڑ کر اپنی زندگی شروع کر دیتا ہے۔ یہ اپنی اصل ماں (Cuckoo Mother) کو کبھی نہیں دیکھتا، لیکن پھر بھی کوئل کی فطرت اپناتا ہے اور جیسے ہی وہ بالغ ہوتا ہے، وہ اپنی نسل کے دوسرے کوئل پرندوں کی تلاش میں نکلتا ہے۔ اور پھر جب اس کا وقت آتا ہے، تو یہ بھی دوسرے پرندوں کے گھونسلوں میں اپنے انڈے دینے لگتا ہے، جیسے اس کی ماں نے کیا تھا۔
کوئل کا یہ دھوکہ دہی پر مبنی رویہ قدرتی ارتقاء (Evolution) کی ایک حیرت انگیز مثال ہے، جہاں ایک پرندہ دوسرے کی محنت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

7- مکمل تیار بچہ۔۔۔!

چیچڑ مکھی (Tsetse Fly) ایک خون چوسنے والی مکھی ہے جو زیادہ تر افریقہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ اپنی مخصوص طرزِ تولید کی وجہ سے بہت منفرد ہے 
زیادہ تر کیڑے سیکڑوں انڈے دیتے ہیں، لیکن چیچڑ مکھی میں ماں صرف ایک مکمل تیار لاروا (Matured Larva) پیدا کرتی ہے اور اس کی مکمل نشوونما کے دوران اس کا خیال رکھتی ہے، جیسے کہ ممالیہ جانور (Mammals) اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
مادہ چیچڑ مکھی اپنے جسم میں ایک ہی انڈا رکھتی ہے، جو اس کے رحم (Uterus) میں اندرونی طور پر نشوونما پاتا ہے۔ باقی مکھیوں کے برعکس، جو اپنے انڈے یا چھوٹے لاروا باہر چھوڑ دیتی ہیں، چیچڑ مکھی کا بچہ مکمل طور پر ماں کے جسم کے اندر نشوونما پاتا ہے۔ جب بچہ ماں کے جسم میں ہوتا ہے، تو وہ اسے خاص قسم کے غذائیت بھرے سیال (Milk-like Secretion) سے خوراک فراہم کرتی ہے، جو کہ ممالیہ جانوروں کے دودھ سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔
یہ سیال بچے کی مکمل نشوونما میں مدد دیتا ہے، جس سے وہ ماں کے جسم کے اندر ہی مکمل تیار ہو جاتا ہے۔ 
جب بچہ مکمل نشوونما پا لیتا ہے، تو مادہ چیچڑ مکھی ایک مکمل تیار لاروا کو باہر نکال دیتی ہے، جو زمین پر گر کر فوراً ہی ایک محفوظ جگہ تلاش کر کے خود کو مٹی میں دفن کر لیتا ہے۔ محض کچھ گھنٹوں میں، یہ لاروا سخت خول (Pupa) میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کچھ دنوں بعد مکمل بالغ مکھی بن کر باہر آتا ہے۔ 
یہ اپنی زندگی میں صرف 10 سے 12 بچے پیدا کرتی ہے جبکہ دوسری مکھیاں ہزاروں انڈے دیتی ہیں۔ چیچڑ مکھی اپنے دودھ جیسے سیال، مکمل تیار بچے پیدا کرنے، اور پرورش کرنے کے عمل کی وجہ سے دنیا کے سب سے منفرد کیڑوں میں شمار ہوتی ہے، جو اسے تقریباً ممالیہ جانداروں کی طرح بنا دیتی ہے۔

8- پرورش کا انوکھا طریقہ۔۔۔!

زہریلی مینڈک (Poison Dart Frog) کی کچھ اقسام، خاص طور پر Dendrobates اور Ranitomeya، اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ایک غیر معمولی طریقہ استعمال کرتی ہیں، جس میں وہ اپنے ہی انڈے بچوں کو کھلاتی ہیں۔ 
مادہ مینڈک چند انڈے کسی پتوں کے نیچے یا کسی نمی والی جگہ پر دیتی ہے۔ نر اور مادہ دونوں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں نمی فراہم کرنے کے لیے پانی کے قطرے ان پر گراتے ہیں۔ 
جب انڈوں سے کیچوے جیسے ننھے بچے (Tadpoles) نکلتے ہیں، تو مادہ مینڈک انہیں ایک ایک کر کے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر کسی درخت کے گہرے پتوں، پھولوں کے کھلے حصے یا چھوٹے پانی کے ذخائر میں ڈال دیتی ہے۔
یہ پانی کے چھوٹے ذخائر قدرتی جھولے (Nursery) کا کام کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان میں خوراک نہیں ہوتی۔ اس لیے ماں خود ہر چند دن بعد وہاں جا کر اپنے غیر نشوونما یافتہ انڈے بچوں کو کھلاتی ہے۔ یہ انڈے خاص طور پر غذائیت سے بھرپور (Nutrient-Rich) ہوتے ہیں، تاکہ بچوں کی بہترین نشوونما ہو سکے۔
اس عمل کو "Oophagy" کہتے ہیں، یعنی اپنے ہی انڈے کھلا کر بچوں کو پالنا۔

9- قید میں ماں بننے کی حکمت عملی۔۔۔!

مادہ ہورن بل (Hornbill) گھونسلہ بنانے کے لیے کسی کھوکھلے درخت کے اندر جگہ تلاش کرتی ہے۔ جب وہ گھونسلے میں داخل ہو جاتی ہے، تو نر مٹی، تھوک، اور درخت کی چھال کا استعمال کرکے گھونسلے کا داخلی راستہ تقریباً مکمل بند کر دیتا ہے، بس ایک چھوٹا سا سوراخ چھوڑ کر، اس سوراخ کا مقصد صرف خوراک کی منتقلی اور ہوا کی آمد و رفت کے لیے ہوتا ہے۔
ماں گھونسلے میں مکمل طور پر قید رہتی ہے، اور یہیں پر وہ انڈے دیتی ہے۔ باپ سوراخ کے ذریعے خوراک فراہم کرتا ہے جس میں پھل، کیڑے، اور چھوٹے جانور شامل ہوتے ہیں۔ ماں کی یہ قید تقریباً 50 سے 70 دنوں تک جاری رہتی ہے جب بچے کافی بڑے ہو جاتے ہیں اور ماں کی طاقت بحال ہو جاتی ہے، تو وہ اور بچے اندر سے دیوار توڑ کر باہر نکلتے ہیں۔
یہ خوبصورت پرندہ قدرت کی انتہائی دلچسپ پیرنٹنگ تکنیک استعمال کرتا ہے۔ جو حفاظت، وفاداری، اور قربانی کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے۔

10- شدید سردی میں باپ کی قربانی۔۔۔!

ایمپریر پینگوئن (Emperor Penguin) مادہ پینگوئن شدید سردیوں میں ایک انڈہ دیتی ہے اور فوراً خوراک کی تلاش میں چلی جاتی ہے۔ اب یہ نر کی ذمہ داری ہے کہ وہ انڈے کو تقریباً دو ماہ بغیر کچھ کھائے تک شدید سردی میں سینچے۔ 
یہاں درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے لیکن باپ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر انڈے کو بچاتا ہے۔ وہ اپنے پیروں پر انڈے کو رکھتا ہے اور اسے اپنی مخصوص کھال (Brood Pouch) سے ڈھانپ لیتا ہے تاکہ گرمی برقرار رہے۔ اس دوران، وہ کچھ بھی نہیں کھاتا۔ تقریباً 2 مہینے تک یہ باپ اپنے جسم کی چربی جلا کر زندہ رہتا ہے اور اگر یہ بہت کمزور ہو جائے، تو مر بھی سکتا ہے۔
جس وقت بچہ انڈے سے نکلنے لگتا ہے ہے تو ماں کو واپس آ جانا چاہئیے لیکن  اگر ماں وقت پر نہ پہنچی، تو یہ باپ اپنی مخصوص "فزی دودھ" (Crop Milk) بچے کو پلاتا ہے جو اس کے جسم میں ایک خاص نظام سے بنتا ہے۔
باپ اس دوران 20 سے 25 کلو وزن کھو چکا ہوتا ہے اور شدید بھوکا ہوتا ہے جیسے ہی ماں واپس آتی ہے وہ بچے کو اپنی دیکھ بھال میں لے لیتی ہے۔ اب باپ فوراً خوراک کی تلاش میں سمندر کی طرف جاتا ہے کیونکہ وہ تقریباً مرنے کے قریب ہوتا ہے۔
ایمپریر پینگوئن قدرت کے سب سے سخت جان والدین میں سے ایک ہیں جو انتہائی سرد ماحول میں بھی اپنی نسل کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

جانوروں کی دنیا میں والدین کی یہ انوکھی کہانیاں زندگی کی ان پیچیدگیوں سے پردہ اٹھاتی ہیں، جن میں بقا کی جدوجہد اپنی انتہا کو چھوتی ہے۔ یہ کہانیاں ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہیں کہ محبت اور قربانی صرف انسانی جذبات نہیں، بلکہ یہ فطرت کے ہر ذی روح میں رچی بسی ہیں۔ ہر جاندار اپنی نسل کے تسلسل کے لیے سر توڑ کوشش کرتا ہے، اور قدرت کے یہ عظیم والدین، جو اپنی اولاد کی پرورش کے لیے انوکھے طریقے اپناتے ہیں، ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہماری اجتماعی بقا کا راز محبت اور قربانی کے لازوال جذبے میں پوشیدہ ہے۔ ان کی یہ داستانیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ہم سب اس وسیع کائنات کا حصہ ہیں، اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

🔘 ‏سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کا ایک قول بہت مشہور ہے جو اپنے اندر بہت سے معنی سموئے ہوئے ہے
صلاح الدین ایوبی ؒ نے فرمایا تھا
میں یہ نہیں جانتا کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے یا تلوار سے، مگر اسلام کی حفاظت کے لئے تلوار ضروری ہے۔

🔘 صلاح الدین ایوبی سے کہا گیا کہ آپ بڑی لمبی مسافت سے تشریف لائے ہیں پہلے آرام کر لیں تو صلاح الدین ایوبی نے تاریخی الفاظ کہے ًٰ”میرے سر پر جو دستار رکھ دی گئی ھے میں اس کے اہل نہیں تھا ۔ 

🔘 اس دستا ر کاحق نبھانے کی خاطر میں نے اپنا آرام اور اپنی نیند کو ختم کر دیا کیا آپ لوگ مجھے اس جگہ پر نہیں لے جاتے جہاں میرے فرائض میرا انتظار کررہے ہیں.

🔘 جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے ،وہاں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں ایک عورت کی عزت اور دوسری مرد کی غیرت“
جب سلطان صلاح الدین ایوبی مصر پہنجا تو مصر کے شہنشہا ہ نے ان کے استقبال کے لیے راستے میں پھولوں کی بتیاں پیچھا دی تو صلاح الدین ایوبی نےرستے میں پھولوں کی بتیاں دیکھ کر پاؤں پیچھے کر لیا اور کہا صلاح الدین یہاں پر پھولوں کی بتیاں مسلنے نہیں آیا۔ 

🔘 “مسلمان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں ۔
کیا تم جانتے نہیں ھو صلیبی ، سلطنت اسلامیہ کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں صرف وہ اس لیے کہ ھم نے پھولوں کی پتیوں پر چلنا شروع کر دیا ھے ھم نے اپنی ہی پچیوں کو بے پردہ کرکے عصمتیں روند ڈالی ہیں میری نظریں فلسطین پر لگی ھوئی ہیں ۔

🔘  تم میری راہ میں پھول پجھا کر مصر سے بھی اسلام کا پرچم اتروا دینا چاہتے ھو ؟
صلاح الدین ایوبی نے ارطاق والٹی کرک ریجی نالڈ نامی گستاخ رسول کو قتل کیا۔اُس نے کچھ مسلمانوں کو پکڑا تھا اور کہا تھا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو اُس سے کیوں نہیں کہتے کہ تمہں آکر چھڑائے۔ 

🔘 سلطان صلاح الدین ایوبی کو جب یہ بات پتہ چلی تو اُس نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اُس گستاخ رسول کو میں ہی قتل کروں گا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اُس کی تمام بد اعمالیاں گنوائی اور پھر یہ بھی کہا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد چاہتا ہوں اور اپنے ہاتھوں سے اُس کا سر قلم کر دیا۔ 

🔘 جب سلطان صلاح الدین ایوبی کا انتقال ھوا تو خزانے میں تجہیز و تکفین کیلئے بھی رقم موجود نہ تھی۔ 600 سال بعد سلطان ایوبی کی قبر کشائی کی گئی تو لاش تر و تازہ تھی۔

ٹبہ ، ٹویا ۔ اک برابر
گڈیا ، بویا ۔ اک برابر

راتیں اکھ تے بدل برسے
رویا ، چویا ۔ اک برابر

قسمےسُن کے نیندر اڈ گئی
سُتا ، مویا ۔ اک برابر

ماڑے گھر نوں بوھا کادھا؟
کھلا ، ڈھویا ۔۔ اک برابر

سورج ٹُردا نال برابر
دن کیوں لگن سال برابر

وِتھ تے سجنا وِتھ ہوندی اے
بھاونویں ہووے وال برابر

اکھ دا چانن مر جاوے تے
نیلا، پیلا، لال برابر

جُلی منجی بھین نوں دے کے
ونڈ لئے ویراں مال برابر

مرشد جے نہ راضی ہووے
مجرا ، ناچ، دھمال برابر

اُتوں اُتوں پردے پاون 
وچوں سب دا حال برابر

✨🥀🍂

عورتیں اگر گنجی ہو جائیں تو بدصورت نظر آتی ہیں...
اگر عورتوں کی مونچھیں آ جائیں تو بدصورت لگتی ہیں...
اگر عورتوں کے سکس پیک ایبس نکل آئیں،
تو عجیب لگتی ہیں ......

اور آپ کہتے ہیں کہ عورتیں خوبصورت ہوتی ہے...؟؟؟

اب بات کرتے ہیں مردوں کی....
یعنی لڑکے...

اگر لڑکے کلین شیوں ہوں تو خوبصورت لگتے ہیں...
اور داڑھی رکھیں پھر اور زیادہ خوبصورت لگتے ہیں ....

لڑکے گنجے ہو جائیں تب بھی خوبصورت لگتے ہیں...
بڑے بال رکھیں، پھر بھی خوبصورت لگ تے ہیں ۔
درمیانے بال ہیں، پھر بھی خوبصورت نظر آتے ہیں۔
اگر لڑکوں کو سکس پیک ایبس آ جائیں تو خوبصورت
اور اگر چھریرے ہیں تو پھر بھی خوبصورت...

یعنی عورت کا حسن بس ایک چھلاوہ ہے...!
جیسے کسی جادوگر کا جادو ...!!

لیکن مرد کی خوبصورتی......
ایک ابدی سچائی ہے جو ہر حال میں چھائی رہتی ہے۔

نوٹ - خواتین دھکا- مکی نہیں کریں..🙂

سات قسم کے لوگ جن سے دور رہنا بہتر ہے! ✅🥀
1️⃣ خود غرض لوگ (عربۂ ہاتھ – Wheelbarrow):
یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ دوسروں پر بوجھ بنے رہتے ہیں۔
انہیں اپنی بھلائی کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی۔
یہ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تم انہیں سنبھال لیتے ہو، تو پھر بھی انہیں آگے دھکیلنے کے لیے مزید محنت کرنی پڑتی ہے۔

🔴 نوٹ: ایسے لوگ تمہاری توانائی، وقت اور وسائل کا ضیاع کرتے ہیں۔

2️⃣ مچھر جیسے لوگ:
یہ لوگ تمہاری زندگی سے اچھائی جذب کرتے ہیں اور اس کے بدلے زہر گھولتے ہیں۔
یہ صرف اپنے فائدے کے لیے تمہارے قریب آتے ہیں، مگر بدلے میں کبھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
یہ ایسے ہوتے ہیں جیسے مچھر، جب تک ان کا مطلب پورا نہ ہو، وہ تمہارے آس پاس رہتے ہیں، اور بعد میں نقصان پہنچا کر چلے جاتے ہیں۔

🔴 نوٹ: یہ لوگ صرف اس وقت تعریف کرتے ہیں جب انہیں تم سے کوئی مطلب ہو، اور بعد میں تمہاری پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں۔

3️⃣ سہارے کے نام پر کنٹرول کرنے والے (Scaffolding):
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو تمہاری مدد اس نیت سے کرتے ہیں کہ تم پر ہمیشہ اپنی برتری قائم رکھ سکیں۔
یہ چاہتے ہیں کہ تم کبھی ان کے سائے سے باہر نہ نکلو، ہمیشہ ان کے قابو میں رہو۔

💡 نوٹ: سہارا لینا کبھی کبھار فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن جب سہارا تمہاری ترقی میں رکاوٹ بننے لگے، تو اسے چھوڑ دینا بہتر ہے!

4️⃣ دھوکہ باز اور موقع پرست لوگ (Crocodile – مگرمچھ):
یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے قریب صرف اس لیے آتے ہیں تاکہ تمہاری کمزوریاں جان سکیں، اور بعد میں انہیں تمہارے خلاف استعمال کر سکیں۔
یہ لوگ دھوکہ باز، چغل خور، اور جھوٹے ہوتے ہیں۔

🔴 نوٹ: یہ لوگ پہلے ہمدرد بنتے ہیں، مگر بعد میں تمہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

5️⃣ حسد کرنے والے اور منافق لوگ (Chameleons – گرگٹ):
یہ لوگ ہمیشہ تمہاری کامیابی پر جلتے ہیں، اور تمہیں نیچا دکھانے کے چکر میں رہتے ہیں۔
یہ لوگ تمہارے ساتھ چلتے ضرور ہیں، مگر صرف اس لیے کہ وہ تمہیں بغور دیکھ سکیں اور تمہیں گرانے کے لیے سازشیں کر سکیں۔

🔴 نوٹ: حسد کرنے والے دوست تمہاری ترقی کے بجائے تمہاری ناکامیوں پر خوش ہوتے ہیں اور تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

6️⃣ ناامیدی پھیلانے والے لوگ (Rejectors – مسترد کرنے والے):
یہ لوگ کبھی تمہارے خوابوں اور مقاصد کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
یہ ہمیشہ تمہیں بتائیں گے کہ تمہاری کوشش بیکار ہے، تم کامیاب نہیں ہو سکتے، اور تمہاری ہر امید کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

🔴 نوٹ: یہ لوگ نہ خود کوئی خواب رکھتے ہیں، اور نہ ہی کسی کے خواب کو حقیقت بنتے دیکھ سکتے ہیں۔

7️⃣ منفی سوچ رکھنے والے (Garbage Pushers – کچرا پھیلانے والے):
یہ لوگ ہمیشہ منفی سوچ رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی مایوس کرتے ہیں۔
یہ جہاں بھی جاتے ہیں، مایوسی، پریشانی، اور خوف کی خبریں پھیلاتے ہیں۔

🔴 نوٹ: ایسے لوگ ہمیشہ مسائل اور مشکلات کی خبریں لاتے ہیں، مگر کبھی کسی حل پر بات نہیں کرتے۔

✨ اگر تم نے آخر تک یہ تحریر پڑھی، تو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجو ✨
🤲 اللہم صل وسلم وبارک على سيدنا محمد وآله الطيبين الطاهرين 💙

سب سے بڑی آزمائش جو آج مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے!

یہ آزمائش وہ نہیں کہ کوئی عورت کسی مرد کو لبھا کر چھین لے، کیونکہ کوئی بھی باشعور مرد یوں زبردستی نہیں لے جایا جا سکتا… وہ اپنی مرضی سے جاتا ہے۔

یہ بھی نہیں کہ کوئی مرد شادی شدہ عورت کے پیچھے لگا رہے تاکہ اسے اپنی طرف کھینچ لے… کیونکہ کوئی عورت یہ دروازہ خود ہی کھولتی ہے جب وہ جان بوجھ کر کسی کی توجہ کو قبول کرتی ہے۔

ہاں! ہوسکتا ہے کہ دونوں کمزور پڑ جائیں، مگر یہ آزمائش ہمیشہ کسی ایسی کمزوری کو نشانہ بناتی ہے جو پہلے سے اندر موجود ہوتی ہے۔ یہ آزمائش انسان کو یہ احساس دلانے آتی ہے کہ اس کے دروازے کھلے ہیں اور وہ کمزور ہے۔
اور جس کے دل میں خیر ہو، اللہ اسے یا تو بچا لیتا ہے یا اس تجربے سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔

حقیقی آزمائش کیا ہے؟

حقیقی آزمائش یہ نہیں کہ کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے پڑ جائے یا کوئی عورت کسی مرد کو لبھانے لگے…
بلکہ اصل آزمائش وہ ہوتی ہے جو خاموشی سے دل میں جگہ بناتی ہے!

✅ وہ مرد جو باوقار ہو، جو کام کے دوران یا زندگی کے معاملات میں کسی عورت کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کرے۔
✅ وہ عورت جو مہذب ہو، جو اپنے دائرے میں رہ کر مردوں سے حد میں رہ کر بات کرے۔

لیکن!
وہ ایک لمحہ جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے!
کہ ہر نرم رویہ، ہر مدد، ہر ہمدردانہ جملہ کسی کے دل میں “رابطے” کی چنگاری جلا سکتا ہے!

یہ ظاہری طور پر جائز لگتا ہے، لیکن اندرونی طور پر حرام کی طرف پہلا قدم بن سکتا ہے۔

کیسے؟

❌ جب تم نرمی اور ہمدردی کے الفاظ کہو، دل میں کشش پیدا ہو سکتی ہے۔
❌ جب تم کسی کی فکر کرو، اس کی مشکلات سنو، دل مائل ہو سکتا ہے۔
❌ جب تم کسی کو خاص توجہ دو، وہ تمہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھنے لگے گا۔

"تم پریشان کیوں ہو؟"
"تم ٹھیک ہو؟"
"کسی مسئلے میں مدد چاہیے؟ میں ہوں نا۔"

یہ سب بظاہر بے ضرر لگنے والے الفاظ وہ چنگاریاں ہیں جو آگ بھڑکانے کے لیے کافی ہوتی ہیں!

کیوں یہ اتنا خطرناک ہے؟

💔 کیونکہ گھروں میں پہلے ہی مشکلات اور درد موجود ہوتے ہیں۔
💔 کیونکہ عورتیں جذباتی ضروریات رکھتی ہیں، اور اگر شوہر مصروف ہو، غیر متوجہ ہو، یا غافل ہو، تو وہ کہیں اور سے یہ جذباتی سہارا ڈھونڈ سکتی ہیں۔
💔 کیونکہ مرد دباؤ میں ہوتے ہیں، اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی عورت نرمی اور توجہ دے رہی ہے، تو وہ خود کو بے اختیار محسوس کرتے ہیں۔

یہ سب محبت اور ہمدردی کے نام پر شروع ہوتا ہے… اور پھر دل پھسلنے لگتا ہے!

"تم کافی پیو گے؟"
"تم آج تھکے ہوئے لگ رہے ہو، میں کسی کو نہیں کہوں گی کہ تمہیں تنگ کرے۔"

یہ وہ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں جو دھیرے دھیرے آگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں!

کام کی جگہ پر یہ سب کیسے روکا جائے؟

🚫 کسی کو یہ احساس مت دو کہ تم اس کی فکر کرتے ہو۔
🚫 کسی کی ذاتی زندگی میں مت گھسو۔
🚫 کسی کے دل کو تمہارے لفظوں اور ہمدردی کا عادی مت بننے دو۔

✅ کام کی جگہ پر صرف اور صرف پیشہ ورانہ گفتگو کرو!
✅ حدود متجاوز نہ کرو!
✅ نرمی اور دوستانہ رویے میں بھی ایک لکیر رکھو!

سب سے زیادہ اجر کہاں ہے؟

"تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"

❌ کام کی جگہ پر زیادہ ہمدرد اور زیادہ مہذب بننے کا کوئی ثواب نہیں۔
✅ زیادہ تقویٰ اسی میں ہے کہ تم خود کو حدود میں رکھو!

یہ معمولی نہیں، یہ بہت بڑا فتنہ ہے!

✅ اپنے تعلقات میں “بے تکلفی” کو کم کرو۔
✅ اپنی بات چیت میں نرمی کو کم کرو۔
✅ دوستی اور الفت میں محتاط ہو جاؤ۔

کیونکہ شیطان بہت چالاک ہے!
وہ قدم بہ قدم لے جاتا ہے، جب تک کہ تم گرتے نہیں، تمہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ تم خطرے میں ہو۔

🚫 نہ خود کسی کے لیے فتنہ بنو، نہ کسی کو اپنا فتنہ بننے دو!
🚫 جو شادی شدہ ہے، اس سے واضح فاصلہ رکھو!
🚫 جو غیر شادی شدہ ہے، اس کے دل کو باندھنے کے بجائے وضاحت سے بات کرو!

❌ کسی کے دل کو امید نہ دو اگر تم اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں چاہتے۔
❌ کسی کے لیے جذباتی سہارا نہ بنو اگر تم خود اسے اپنانے کے لیے تیار نہیں ہو۔

یہ “دل کا رجحان” کیا کر سکتا ہے؟

❌ یہ شادیاں توڑ سکتا ہے۔
❌ یہ لوگوں کو جذباتی بحران میں ڈال سکتا ہے۔
❌ یہ کسی کی زندگی میں بے یقینی اور ذہنی پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔

اور اس سب کی جڑ کیا ہے؟
اللہ کے احکام اور حدود سے لاپرواہی۔

✨ جو شخص شبہات سے بچتا ہے، وہ اپنے دین اور عزت کو محفوظ رکھتا ہے۔
✨ جس نے اللہ سے ڈر کر حدود کی حفاظت کی، وہی کامیاب ہے!

📌 یہ بات دل میں بٹھا لو: بے تکلفی سے زیادہ، حد بندی میں خیر ہے۔
📌 اللہ ہمیں اور سب کو اس آزمائش سے محفوظ رکھے۔ 🤲

ایک 90 سالہ بزرگ خاتون کی طرف سے لکھا گیا! ❤️  
زندگی نے مجھے 42 سبق سکھائے ۔  
یہ ایسی چیز ہے جسے ہم سب کو ہفتے میں کم از کم ایک بار پڑھنا چاہیے! یقینی بنائیں کہ آپ آخر تک پڑھیں!  
سادہ ڈیلر، کلیولینڈ، اوہائیو کی 90 سالہ ریجینا بریٹ کی طرف سے لکھا گیا۔  
"بوڑھے ہونے کا جشن منانے کے لیے، میں نے زندگی کے 42 سبق لکھے ہیں۔" یہ سب سے زیادہ مانگا جانے والا کالم ہے جو میں نے کبھی لکھا ہے۔ اگست میں میری عمر 90 سال ہوگئی، لہٰذا یہ کالم ایک بار پھر پیش ہے:  

1. زندگی منصفانہ نہیں ہے، لیکن یہ پھر بھی اچھی ہے۔  
2. جب شک ہو تو، صرف اگلا چھوٹا قدم اٹھائیں۔  
3. زندگی بہت مختصر ہے، اس سے لطف اٹھائیں۔  
4. جب آپ بیمار ہوں گے تو آپ کا کام آپ کا خیال نہیں رکھے گا، بلکہ آپ کے دوست اور خاندان رکھیں گے۔  
5. ہر ماہ اپنے کریڈٹ کارڈز کی ادائیگی کریں۔  
6. آپ کو ہر بحث جیتنے کی ضرورت نہیں ہے، اپنے آپ سے مخلص رہیں۔  
7. کسی کے ساتھ رونا اکیلے رونے سے زیادہ شفا بخش ہوتا ہے۔  
8. اپنے پہلے پے چیک سے ہی ریٹائرمنٹ کے لیے بچت شروع کردیں۔  
9. جب بات چاکلیٹ کی ہو تو مزاحمت بے کار ہے۔  
10. اپنے ماضی کے ساتھ صلح کرلیں تاکہ یہ آپ کے حال کو خراب نہ کرے۔  
11. یہ ٹھیک ہے کہ آپ کے بچے آپ کو روتے ہوئے دیکھیں۔  
12. اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں، آپ نہیں جانتے کہ ان کا سفر کیا ہے۔  
13. اگر کسی تعلق کو راز رکھنا پڑے تو اس میں رہنا ہی نہیں چاہیے۔  
14. ایک گہری سانس لینا دماغ کو سکون دیتا ہے۔  
15. کسی بھی ایسی چیز سے چھٹکارا پالیں جو مفید نہ ہو، بے کار سامان آپ کو کئی طرح سے بوجھل کرتا ہے۔  
16. جو چیز آپ کو مار نہیں دیتی، وہ آپ کو مضبوط بناتی ہے۔  
17. خوش رہنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی، لیکن یہ سب آپ پر منحصر ہے، کسی اور پر نہیں۔  
18. جب زندگی میں اپنی پسند کی چیز کے پیچھے جانے کی بات ہو تو، کسی کے "نہ" کو جواب نہ دیں۔  
19. موم بتیاں جلائیں، اچھی چادریں استعمال کریں، فینسی لنگری پہنیں۔ کسی خاص موقع کا انتظار نہ کریں، آج ہی کا دن خاص ہے۔  
20. زیادہ سے زیادہ تیاری کریں، پھر حالات کے مطابق چلیں۔  
21. ابھی سے سنسنی خیز ہوجائیں، جامنی رنگ پہننے کے لیے بڑھاپے کا انتظار نہ کریں۔  
22. سب سے اہم جنسی عضو دماغ ہے۔  
23. آپ کے علاوہ کوئی آپ کی خوشیوں کا ذمہ دار نہیں ہے۔  
24. ہر نام نہاد مصیبت کو ان الفاظ میں دیکھیں: "پانچ سال بعد کیا یہ معاملہ اہم ہوگا؟"  
25. ہمیشہ زندگی کو ترجیح دیں۔  
26. معاف کردیں مگر بھولنا نہیں۔  
27. دوسرے لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، وہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔  
28. وقت تقریباً ہر چیز کو ٹھیک کردیتا ہے، وقت دیں۔  
29. حالات چاہے جتنے بھی اچھے یا برے ہوں، بدل جاتے ہیں۔  
30. خود کو اتنی سنجیدگی سے مت لیں، کوئی اور نہیں لیتا۔  
31. معجزات پر یقین رکھیں۔  
32. زندگی کا حساب کتاب نہ کریں، اسے جئیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔  
33. بڑھاپا جوان مرنے سے بہتر ہے۔  
34. آپ کے بچوں کو صرف ایک بچپن ملتا ہے۔  
35. آخر میں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے محبت کی ہے۔  
36. ہر روز باہر نکلیں، معجزے ہر جگہ انتظار کر رہے ہیں۔  
37. اگر ہم سب اپنی پریشانیوں کو اکٹھا کرکے دیکھیں تو ہم اپنی اپنی پریشانیاں واپس لے لیں گے۔  
38. حسد وقت کا ضیاع ہے، جو آپ کے پاس ہے اسے قبول کریں، جو نہیں ہے اس کی تلاش نہ کریں۔  
39. بہترین ابھی آنا باقی ہے۔  
40. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں، اٹھیں، تیار ہوں اور دکھائیں۔  
41. پیداواری رہیں۔  
42. زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، لیکن یہ پھر بھی ایک تحفہ ہے۔  

(اشفاق احمد مرحوم کی ایک یادگار تحریر )
ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے یا ان کے جانے کا وقت آجائے.
"اشفاق احمد" کہتے ہیں:
ایک فوتگی کے موقع پر میں نیم غنودگی میں کچھ سویا ہوا تھا اور کچھ جاگا ہوا نیم دراز سا پڑا تھا۔
وہاں بچے بھی تھے جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی بات نے مجھے چونکا دیا وہ کہہ رہا تھا،
کہ"کوئی فوت ہوجائے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں."
پھر ایک بچے نے کہا ، کہ
"اب پتا نہیں کون فوت ہوگا،
نانا ناصر کافی بوڑھے ہوچکے ہیں، ان کی سفید داڑھی ہے شاید اب وہ فوت ہوں گے۔
اس پر جھگڑا کھڑا ہوگیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ کچھ بچوں کا موقف تھا کہ پھوپھی زہرا کافی بوڑھی ہوگئی ہیں وہ جب فوت ہوں گی تو ہم ان شاءاللہ فیصل آباد جائیں گے اور وہاں ملیں گے اور خوب کھیلیں گے. "
خواتین و حضرات!
مَیں آپ کو ایک خوشخبری دوں کہ اس بحث میں میرا نام بھی آیا۔
میری بھانجی کی چھوٹی بیٹی جو بہت چھوٹی ہے اس نے کہا کہ"نانا اشفاق بھی بہت بوڑھے ہوچکے ہیں."
خواتین و حضرات! شاید مَیں چونکا بھی اس کی بات سن کر ہی تھا. جو میرے حمایتی بچے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جب نانا اشفاق فوت ہوں گے تو بہت رونق لگے گی کیونکہ یہ بڑے مشہور ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا کچھ بڑھ گیا اور ان میں تلخی بڑھنے لگی تو ایک بچے نے کہا کہ"جب نانا اشفاق فوت ہوں گے تو گورنر آئیں گے۔
اس پر ایک بچے نے کہا کہ نہیں گورنر نہیں آئیں گے بلکہ وہ پھولوں کی ایک چادر بھیج دیں گے کیونکہ گورنر بہت مصروف ہوتا ہے۔ تمھارے دادا یا نانا ابو اتنے بھی بڑے آدمی نہیں کہ ان کے فوت ہوجانے پر گورنر آئیں گے."
وہ بچے بڑے تلخ، سنجیدہ اور گہری سوج بچار کے ساتھ آئندہ ملنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ظاہر ہے بچوں کو تو اپنے دوستوں سے ملنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے نا!
ہم بڑوں نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ہم رشتے بھول کر کچھ زیادہ ہی کاروباری ہوگئے ہیں۔
چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں حالانکہ چیزیں ساتھ نہیں دیتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشتے طاقتور ہوتے ہیں اور ہم رشتوں کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔
خدا کے لیے کوشش کریں کہ ہم اپنے رشتوں کو جوڑسکیں ایسی خلیج حائل نہ ہونے دیں کہ ملاقاتیں صرف کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت ہی رہ جائیں.
کیا ہم ان بچوں کی طرح اس بات کا انتظار کریں گے کہ کوئی مرے پھر ہم مجبوری کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے یا چھڑی پکڑے وہاں جائیں۔
جب ہم کہیں جائیں تو یہ فخر دل میں ہونا چاہیے کہ مَیں ایک شخص سے ملنے جارہا ہوں. مجھے اس سے کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ اس کے پاس اس لیے جارہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے ہم اس کام کے لیے کم وقت دیں لیکن دیں ضرور۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget