اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اپریل 2025

سقراط نے ایک بار کہا تھا۔
"اگر کوئی گدھا مجھے لات مارتا ہے تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا، شکایت کروں گا یا اسے واپس لات ماروں گا؟"

بات یہ نہیں کہ ہر مباحثہ جیتا جائے یا ہر دلیل میں کامیابی حاصل کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اپنی توانائی ان لوگوں پر صرف کی جائے جو اس کے مستحق ہوں۔  
جہالت چیختی ہے، جبکہ عقل خاموش رہتی ہے۔ جب کسی کے پاس دینے کے لیے توہین اور شور شرابے کے سوا کچھ نہ ہو، تو سب سے طاقتور جواب خاموشی ہے۔  

کسی ایسے شخص کی سطح پر مت گریں جو محض تنازعات کے لیے کوشاں ہو۔  
سچی ذہانت کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ اپنی روشنی سے خود بخود نمایاں ہو جاتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی محلے کی گلی میں ایسا لڑکا دیکھا جو tape‑ball سے باؤلنگ کر کے سب کو حیران کر دیتا ہے، مگر چند مہینے بعد کہیں گم ہو جاتا ہے؟  
اگر ہاں، تو اگلے دو منٹ میں آپ ایک اصول جاننے والے ہیں جو شاید آپ کے اپنے کیریئر یا کاروبار کا نقشہ بدل دے۔

پہلی تصویر: گوجرانوالہ کی ایک ورکشاپ میں ایک عام قد کا نوجوان موبائل کی مدھم روشنی میں یوٹیوب سے ویلڈنگ کے ٹوٹکے دیکھتا ہے۔ روزانہ چند گھنٹے کی پریکٹس کے بعد دو برس میں وہ اسی فیکٹری کا مینٹیننس اِنچارج بن جاتا ہے۔ کسی نے اسے جینیئس نہیں کہا، سب کو پتہ ہے کہ یہ مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔

دوسری تصویر: لاہور میں ایک بچہ غیر معمولی سریلی آواز کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اسکول کے مقابلے جیتتا ہے، مگر ریاض سے جی چُراتا ہے۔ چند سال بعد جب نئی آوازیں آتی ہیں تو پرانے انعام ماند پڑ جاتے ہیں۔ یہاں خداداد صلاحیت تو تھی، مگر ایندھن—یعنی محنت—کم پڑ گیا۔

سائنس کیا کہتی ہے؟  
– سویڈن کے ماہر اینڈرز ایریکسن کی تحقیق: دس ہزار گھنٹے کی شعوری مشق اوسط شخص کو بھی ماہر بنا دیتی ہے۔  
– امریکہ کی باسکٹ بال لیگ NBA کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ صفِ اوّل کے ہر پانچ میں سے چار کھلاڑی جسمانی صلاحیت میں بالکل عام تھے؛ فیصلہ کن فرق مسلسل ٹریننگ نے پیدا کیا۔  
– پاکستان میں ہر تین میں سے دو اسٹارٹ اپ فاؤنڈر پہلی کمپنی میں ناکام ہونے کے بعد اگلی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں—شرط یہ ہے کہ پہلی ٹھوکر کے بعد دوگنی محنت لگائی جائے۔

اس سچائی کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔  
بائیکیا: موٹرسائیکل رائیڈ ہیلِنگ نے 2016 سے اب تک بائیس ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا اور تین بڑے شہروں میں پھیل گئی۔   
بزار: صرف دو سال میں ستر ملین ڈالر کی سیریز‑بی فنڈنگ لے کر ریٹیل کو ڈیجیٹائز کر رہی ہے۔ 
صحت کہانی: ٹیلی ہیلتھ اسٹارٹ اپ نے 2024 میں دو اعشاریہ سات ملین ڈالر کا راؤنڈ بند کیا جبکہ فنڈنگ سکڑ رہی تھی۔   
اور پھر ائیرلفٹ: پچاسی ملین ڈالر اکٹھا کر کے بھی 2022 میں بند ہو گئی، کیونکہ خرچ کی رفتار محنت اور ڈسپلن سے میل نہ کھا سکی۔ 

یہ تمام مثالیں بتاتی ہیں کہ ٹیلنٹ ایک تحفہ ضرور ہے، مگر گاڑی کا انجن صرف تب چلتا ہے جب اُس میں مسلسل ایندھن ڈالا جائے۔ آپ کے پاس اگر ہنر ہے مگر ورزش، ریاض یا execution نہیں، تو سفر آدھے میں رُک سکتا ہے۔ اور اگر آپ قدرتی صلاحیت کے بغیر ہیں لیکن محنت پر تیار ہیں تو منزل کا راستہ پھر بھی کھلا ہے۔

*اصل جنگ کیا ہے؟*
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان

شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔ 
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔ 
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔ 
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔ 
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔ 
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔ 
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔ 
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔ 
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔ 
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔ 
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ 
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔ 
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔ 
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔ 
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔ 
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ 

"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔ 
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ 
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔ 
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔ 
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ 
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔ 
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔ 
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔ 
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ 
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔ 
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔ 
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔ 
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔  

Red heifer found
Mastery of Red heifer

یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ 
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔ 
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔ 
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ 
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟

کاپی

بیٹے بھی پرائے ہو جاتے ہیں۔۔۔
 ایک خاموش جدائی کی کہانی !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہماری تہذیب میں بیٹیوں کی رخصتی کو ایک عظیم قربانی اور جذباتی لمحہ سمجھا جاتا ہے۔ماں باپ کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں،بہن بھائی دل تھام کر کھڑے ہوتے ہیں،اور ہر چہرہ اداسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
مگر کیا کبھی ہم نے سوچا کہ بیٹے بھی تو ایک دن اپنے ہی گھر سے رخصت ہو جاتے ہیں؟
 بس فرق یہ ہے کہ ان کی رخصتی خاموش ہوتی ہے،بغیر رسم کے،بغیر آنسو کے،بغیر بین کے۔۔۔ صرف ایک دعا اور ایک نظر کے ساتھ۔
بیٹے، جن کی ذمہ داریاں عمر کے ساتھ بڑھتی ہیں،جن کا کندھا معاش کا بوجھ اٹھاتا ہے،جو اپنے جذبات چھپا کر باہر کی دنیا سے لڑنے نکلتے ہیں،وہ کب کے ماں باپ کے گھر سے دور ہو چکے ہوتے ہیں۔ 
کوئی پردیس میں ہے،کوئی شہر بدر،کوئی صبح سے رات تک محنت میں مگن،اور کوئی تھکا ہارا روزی روٹی کی چکی میں پسا ہوا۔
یہ بیٹے کسی کے بھائی ہیں،کسی کے شوہر،کسی کے بیٹے، اور کسی کے باپ۔۔۔
مگر اصل میں یہ سب سے پہلے انسان ہیں،جذبات رکھنے والے،درد سہنے والے، مگر اکثر خاموش رہنے والے۔
کسی ماں کو شکایت ہے کہ بیٹا ہفتوں سے نہیں آیا،کسی باپ کا دل بیٹے کے بغیر سنسان ہے،بہن کو بھائی کی آواز ترسا دیتی ہے،بیوی کو شوہر کا لمس یاد آتا ہے،اور بچے باپ کے چہرے کو خواب میں ڈھونڈتے ہیں۔ 
مگر وہ بیٹا جو اِن سب کی چاہت ہے،خود اپنے آپ کو کھو بیٹھا ہے۔
 دن میں محنت،رات میں فکر،اور درمیان میں اپنی خوشی،اپنی نیند،اپنا سکون قربان کر چکا ہوتا ہے۔
ہم بیٹیوں کے رخصت ہونے پر آنسو بہاتے ہیں،خوبصورت اشعار کہتے ہیں، مہندی لگاتے ہیں،دعائیں دیتے ہیں۔۔۔
مگر بیٹوں کی رخصتی؟
وہ تو بس ایک بیگ،ایک ٹرین یا بس کی روانگی،اور ماں باپ کی چپ کے سائے میں ہوتا ہے۔
یہ مضمون صرف ایک احساس ہے — ان ہزاروں بیٹوں کے لیے جو خاموشی سے گھر سے دور اپنی دنیا بناتے ہیں،تاکہ ان کے پیاروں کی دنیا محفوظ رہے۔
 یہ ایک خراجِ تحسین ہے اُن مردوں کے لیے،جو گھر والوں کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرتے ہیں،اور کبھی جتاتے تک نہیں۔
اللہ سب کے بیٹوں کو سلامت رکھے،آمین،یا رب العالمین۔

یہ نہ سمجھو کہ ہمیں ان سے گلہ کچھ بھی نہیں
بات ایسی ہے کہ دانستہ کہا کچھ بھی نہیں

ہم سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے جب وہ بدلے
وہ بدلتے ہی گئے ہم کو ہوا کچھ بھی نہیں

جب جیے ہم تو ہوا راز یہ افشاں سارا
زیست ناکام تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں

غیر محسوس طریقے سے ہوئی عمر تمام
اور محسوس یہ ہوتا ہے جیا کچھ بھی نہیں

جتنے دن رات ملے جتنے ماہ و سال کٹے
یونہی بے کار گئے اور کیا کچھ بھی نہیں

ہاتھ اٹھے تھے تمناؤں کی یلغار بھی تھی
ہونٹ ہلتے رہے اور حرفِ دعا کچھ بھی نہیں

جانے کس بات کا رنج ان کو رہا زندگی بھر
یاد پڑتا ہے ہمیں ایسا کیا کچھ بھی نہیں

اپنی غلطی کہ انھیں ہم نے مثالی سمجھا
وہ بھی اوروں کی طرح ہی تھے جدا کچھ بھی نہیں

اک تعلق تھا نبھانا تھا، نبھاتے گزری
عشق، ایثار، وفا اور جفا کچھ بھی نہیں

شگفتہ نعیم ہاشمی

ماہرین نفسیات نے والدین کو اپنے بچوں کے راز افشا کرنے میں مدد کرنے کے چند طریقے وضع کیے ہیں 

بچوں کا والدین میں سے کسی ایک کی جانب جھکاٶ طبعی و فطری طور پر ہوتا ہے 
عموما اس حوالہ سے کٸی لوگ بچوں سے سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کو امی زیادہ اچھی لگتی ہیں یا ابو ؟ 
صراحتا بچے سے ایسا سوال کرنا قطعی طور پر مناسب نہیں 
چاٸلڈ ساٸیکالوجسٹ نے 5 بالواسطہ طریقے بتلاٸے ہیں انہیں آزمائیں، کیونکہ وہ آپ کے بچے کے ساتھ نمٹنے کی کلید ہو سکتے ہیں۔

.
1- چڑیا کی کہانی 🐥 
اپنے بچے کو باپ پرندے، ماں پرندے اور ان کے بیٹے، چھوٹے پرندے کی کہانی سنائیں،جو کہ درخت کے اوپر گھونسلے میں ایک رات سوٸے ہوتے ہیں.. کہ اچانک تیز ہوا چلتی ہے اور گھونسلے سمیت سب نیچے گرجاتے ہیں
باپ پرندہ ایک درخت پر اڑ کر بیٹھ جاتا ہے اورماں پرندہ دوسرے درخت پر.. 
اب آپ اپنے بچے سے پوچھیں: کہ چھوٹا پرندہ کہاں اڑ گیا؟.. 

اگر آپ کا بچہ کہتا ہے کہ پرندہ اپنے باپ کے پاس اڑ گیا، تو وہ سمجھ جاٸیے کے وہ باپ کے ساتھ Atach ہے۔ اور اگر وہ کہتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے پاس اڑ گیا، تو وہ اپنی ماں سے جڑا ہوا ہے اور اسے حفاظت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

-2 خوف کی کہانی
 اپنے بچے کو بتائیں کہ ایک بچہ ہے جو بہت روتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بہت ڈرتا ہے...
بچے سےسوال کیجیے کہ بیٹا بھلا وہ کس سے یاکیوں ڈرتا ہوگا ؟ 
بچے کا جواب آپ کو اس کے بہت سے ذاتی خوف اور ان لوگوں سے آگاہ کرے گا جو اسے خوفزدہ کرتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی اسے خوفزدہ و ناراض کرتی ہے۔

3- سفر کی کہانی ✈
بچے کو بتاٸیے کہ کوئی ایسا شخص ہے جوعنقریب بہت لمبے سفر پر روانہ ہو رہا ہے اور کبھی واپس نہیں آئے گا..
تم کیا توقع رکھتے ہو کہ وہ شخص کون ہے ؟ 
بچے کے جواب سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ بچہ کس شخص سے نفرت کرتا ہے اور اس سے دور رہنے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو بتائے کہ جو سفر کرے گا وہ (میں) ہوں گا تو اس کا مطلب ہے وہ خود سے نفرت کرتا ہے!! 

4- نئی خبروں کی کہانی 
اپنے بچے کو بتائیں کہ ایک بچہ ہے جو اسکول سے واپس آیا ہے اور اس کی ماں نے اسے کہا جلدی سے میرے پاس آٶ.. میرے پاس آپ کے لیے ایک نئی خبر ہے!.. 
اور اپنے بچے سے پوچھیں: آپ کو اس خبر کی کیا امید ہے؟ بچے کے جواب سے ہمیں اس کی کچھ خواہشات، خوف اور توقعات کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔

-5 ایک پریشان کن خواب کی کہانی
اپنے بچے کو بتائیں کہ ایک بچہ ہے جو تھکا ہوا اور پریشان ہے اور اپنی ماں کو بتایا کہ اس نے نیند میں ایک پریشان کن خواب دیکھا، اور اپنے بچے سے پوچھیں: آپ کے خیال میں بچے نے خواب میں کیا دیکھا ہو گا؟
اس کا جواب آپ کو اس کے خاندان کے ارکان اور دوستوں کے ساتھ اس کے تعلقات میں اس کی کمزوریوں اور مسائل کے بارے میں جاننے پر مجبور کرے گا۔ **

نوٹ: یہ ضروری ہے کہ آپ بچے کو جواب تجویز نہ کریں یا اگر یہ جواب آپ کے موافق نہیں ہے تو انہیں مورد الزام مت ٹھہرائیں۔ اور اسے یہ مت کہو کہیں کہ آپ اس سے کسی اور جواب کی امید رکھتے ہو!! 
ان کہانیوں کا مقصد بچے کے خوف اور خدشات کی نشاندہی کرنا اور ان سے نمٹنا ہے۔

#بچے_کی_تعلیم_وتربیت

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔
ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھشکر۔‘‘ چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘
ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔
دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔
وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔
ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔
میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔
آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔
مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔
میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔
ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔
محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔
حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ بازار میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔
اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔
حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘
محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔
حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر... اگر آپکو یہ تحریر اچهی لگے تو اس کو اپنی خوبصورت وال پہ جگہ ضرور دے. ایک شیئر پہ آپکے دو تین سیکند لگے گے.

چیونٹیوں میں موت کے عجائب

چیونٹی جب مرتی ہے تو اپنے ساتھیوں کو اپنے مرنے کی اطلاع دیتی ہے۔ مگر یہ کیسے ہوتا ہے؟
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جب کوئی چیونٹی مرتی ہے تو وہ ایک خاص قسم کی خوشبو خارج کرتی ہے، جو باقی چیونٹیوں کو فوری طور پر تدفین کے لیے متحرک کرتی ہے تاکہ دوسری حشرات اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔

جب باقی چیونٹیاں اس خوشبو کو سونگھتی ہیں، تو انہیں پتا چل جاتا ہے کہ ان کی ایک ساتھی چیونٹی مر چکی ہے اور وہ فوراً اسے دفنانے کا عمل شروع کر دیتی ہیں۔

ایک تجربے میں، ایک سائنسدان نے ایک زندہ چیونٹی پر اس مخصوص خوشبو کا قطرہ لگایا۔ باقی چیونٹیوں نے فوراً اسے مردہ سمجھ کر دفنانا شروع کر دیا، حالانکہ وہ زندہ تھی، حرکت کر رہی تھی اور مزاحمت بھی کر رہی تھی۔ جیسے ہی اس چیونٹی سے "موت کی خوشبو" کو ہٹایا گیا، اسے واپس بستی میں رہنے دیا گیا۔

اس خوشبو کو "حمض الزیٹیك" یا "اولیک ایسڈ" کہا جاتا ہے۔

جس طرح انسان اپنے مرنے والوں کو دفن کرتا ہے، اسی طرح چیونٹیاں بھی اپنی مردہ ساتھیوں کو دفن کرتی ہیں۔ چیونٹیوں کے بھی اجتماعی قبرستان ہوتے ہیں، اور ان کے قبرستان صاف ستھرے اور بستی سے دور ہوتے ہیں۔

چیونٹیوں کا تدفین کا جلوس بھی بہت منظم اور شاندار ہوتا ہے، اور وہ اپنی ساتھی کو اس کے آخری آرام گاہ تک لے جاتی ہیں، بالکل انسانوں کی طرح۔

ایک دن میں کئی چیونٹیاں مر سکتی ہیں، جن کی تعداد درجنوں اور کبھی کبھار سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ چونکہ دفنانے والی چیونٹیاں مردہ چیونٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوتی ہیں، ان پر بھی موت کی خوشبو لگ جاتی ہے۔ اس لیے جب وہ قبرستان سے واپس آتی ہیں تو اپنے جسم کو اپنی زبان سے صاف کرتی ہیں تاکہ ان پر موت کی خوشبو باقی نہ رہے، ورنہ انہیں بھی زندہ ہونے کے باوجود دفن کر دیا جائے گا۔

یہ ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی یاد دلاتا ہے کہ تمام جاندار مخلوقات بھی ہماری طرح اپنی اقوام اور معاشرت رکھتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور زمین میں چلنے والے جاندار اور پروں سے اڑنے والے پرندے سب تمہاری طرح کی امتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔" (سورۃ الانعام، آیت 38)

کاپیڈ

1. *Father of Modern Physics*: Albert Einstein
2. *Father of Classical Physics*: Isaac Newton
3. *Father of Chemistry*: Antoine Lavoisier
4. *Father of Modern Chemistry*: Dmitri Mendeleev
5. *Father of Biology*: Aristotle
6. *Father of Modern Biology*: Charles Darwin
7. *Father of Medicine*: Hippocrates
8. *Father of Microbiology*: Antonie van Leeuwenhoek
9. *Father of Genetics*: Gregor Mendel
10. *Father of Computer Science*: Alan Turing
11. *Father of the Internet*: Vint Cerf
12. *Father of Psychology*: Wilhelm Wundt
13. *Father of Sociology*: Auguste Comte
14. *Father of Economics*: Adam Smith
15. *Father of Political Science*: Aristotle
16. *Father of Geometry*: Euclid
17. *Father of Trigonometry*: Hipparchus
18. *Father of Calculus*: Isaac Newton and Gottfried Wilhelm Leibniz (jointly credited)
19. *Father of Modern Astronomy*: Nicolaus Copernicus
20. *Father of Robotics*: Joseph Engelberger
21. *Father of Modern Education*: John Dewey
22. *Father of Kindergarten*: Friedrich Froebel
23. *Father of Special Education*: Jean-Marc-Gaspard Itard
24. *Father of Educational Psychology*: Edward Thorndike
25. *Father of Indian Education*: Dr. Sarvepalli Radhakrishnan
26. *Father of Public Education*: Horace Mann
27. *Father of Progressive Education*: John Dewey
28. *Father of Adult Education*: Malcolm Knowles
29. *Father of Distance Education*: Michael G. Moore
30. *Father of Educational Technology*: Seymour Papert
21. *Father of Algebra*: Al-Khwarizmi
22. *Father of Ecology*: Ernst Haeckel
23. *Father of Evolutionary Theory*: Charles Darwin
24. *Father of Paleontology*: Georges Cuvier
25. *Father of Modern Economics*: John Maynard Keynes
26. *Father of Taxonomy*: Carl Linnaeus
27. *Father of Botany*: Theophrastus
28. *Father of Zoology*: Aristotle
29. *Father of Modern Geology*: James Hutton
30. *Father of Geophysics*: Sir Isaac Newton
31. *Father of Oceanography*: Matthew Fontaine Maury
32. *Father of Meteorology*: Luke Howard
33. *Father of Modern Optics*: Ibn al-Haytham (Alhazen)
34. *Father of Quantum Mechanics*: Max Planck
35. *Father of Electromagnetism*: James Clerk Maxwell
36. *Father of Sociology and Anthropology*: Lewis Henry Morgan
37. *Father of Social Work*: Jane Addams
38. *Father of Modern Linguistics*: Ferdinand de Saussure
39. *Father of Cryptography*: Leon Battista Alberti
40. *Father of American Literature*: Mark Twain
41. *Father of the Green Revolution*: Norman Borlaug
42. *Father of Western Philosophy*: Socrates
43. *Father of the Scientific Method*: Galileo Galilei
44. *Father of Genetics and Eugenics*: Francis Galton
45. *Father of Blood Groups*: Karl Landsteiner
46. *Father of Modern Physics*: Richard Feynman
47. *Father of Modern Chemistry*: Robert Boyle
48. *Father of Behavioral Psychology*: B.F. Skinner
49. *Father of Cognitive Psychology*: Ulric Neisser
50. *Father of Immunology*: Louis Pasteur
51. *Father of Biochemistry*: Frederick Gowland Hopkins
52. *Father of Nuclear Physics*: Ernest Rutherford
53. *Father of Mathematical Logic*: Bertrand Russell
54. *Father of Theoretical Computer Science*: Alan Turing
55. *Father of Modern Surgery*: Ambroise Paré
56. *Father of Modern Dentistry*: Pierre Fauchard
57. *Father of Modern Architecture*: Louis Sullivan
58. *Father of Modern Music Theory*: Heinrich Schenker
59. *Father of Modern Art*: Paul Cézanne
60. *Father of Modern Literature*: Johann Wolfgang von Goethe
61. *Father of Modern Journalism*: Joseph Pulitzer
62. *Father of Environmentalism*: John Muir
63. *Father of Social Psychology*: Kurt Lewin
64. *Father of Developmental Psychology*: Jean Piaget
65. *Father of Public Health*: John Snow
66. *Father of Modern Management*: Peter Drucker
67. *Father of Human Anatomy*: Andreas Vesalius
68. *Father of Geology*: Charles Lyell
69. *Father of Modern Education*: Johann Heinrich Pestalozzi
70. *Father of Modern Marketing*: Philip Kotler
71. *Father of Operations Research*: George Dantzig
72. *Father of Organizational Behavior*: Elton Mayo
73. *Father of Information Theory*: Claude Shannon
74. *Father of Quantum Physics*: Niels Bohr
75. *Father of Nanotechnology*: Richard Feynman
76. *Father of Evolutionary Psychology*: Leda Cosmides
77. *Father of Modern Economics*: Milton Friedman
78. *Father of Forensic Science*: Edmond Locard
79. *Father of Modern Social Work*: Mary Ellen Richmond
80. *Father of Cognitive Science*: Jerry Fodor
81. *Father of the Theory of Relativity*: Albert Einstein
82. *Father of Modern Astronomy*: Edwin Hubble
83. *Father of Modern Statistics*: Ronald A. Fisher
84. *Father of Comparative Politics*: Aristotle
85. *Father of Clinical Psychology*: Lightner Witmer
86. *Father of Child Development*: Lev Vygotsky

فحاشی مردوں کے خلاف ایک خاموش جنگ ہے
اور بدقسمتی سے بہت سے مرد یہ جنگ ہار رہے ہیں
بغیر اس کے کہ انہیں اس کا احساس ہو

جب فحاشی جیتتی ہے
تو مرد اندر سے ہار جاتا ہے

آج کے دور میں فحش مواد ایک خطرناک حقیقت بن چکا ہے
یہ ایک ایسا جال ہے جو مرد کو بے خبری میں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے
یہ مفت میں دستیاب ہوتا ہے
اور یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی نارمل اور صحت مند چیز ہو
جبکہ حقیقت میں یہ غیر فطری اور نقصان دہ ہے

1 خود پر کنٹرول اور مردانگی کا زوال
جس دور میں اصل مردانگی کم ہوتی جا رہی ہے
اس دور میں مرد کو محافظ اور رہنما ہونا چاہیے
لیکن فحاشی مرد کی توجہ اصل ذمہ داریوں سے ہٹا دیتی ہے
یہ عورتوں بلکہ بعض اوقات بچوں کی تذلیل اور استحصال پر مبنی ہوتی ہے
جس سے مرد کا دماغ متاثر ہوتا ہے اور وہ خود غرض بننے لگتا ہے

جو مرد اپنی خواہشات کا غلام ہو
وہ لیڈر نہیں ہو سکتا
اپنے نفس پر قابو ہی اصل مردانگی ہے

2 ذہنی غلامی اور قابو میں آنا
فحش مواد مرد کو ایک مصنوعی خوشی کا احساس دیتا ہے
ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ٹھیک ہے
مگر درحقیقت یہ اسے اندر سے کمزور کر دیتا ہے
وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی بجائے بس تماشائی بن جاتا ہے
اور یہی کمزوری معاشرے میں منفی طاقتوں کو اوپر لاتی ہے

3 تعلقات اور محبت پر اثر
فحاشی دیکھنے والا مرد حقیقی محبت سے محروم ہو جاتا ہے
اس کی خواہشیں غیر فطری ہو جاتی ہیں
اور وہ عورت اور ازدواجی رشتے کو صرف ایک جسمانی تعلق سمجھنے لگتا ہے
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ کسی رشتے میں سچائی لا پاتا ہے
نہ گھر بسا پاتا ہے نہ دل سے محبت کر پاتا ہے

4 دماغ پر تباہ کن اثرات
فحش مواد دماغ میں کیمیکل کی خرابی پیدا کرتا ہے
جس سے انسان کے احساسات غیر متوازن ہو جاتے ہیں
پھر انسان بے وجہ بے چینی ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے
اور اسے لگتا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتا
یوں وہ بار بار اسی دلدل میں واپس چلا جاتا ہے

5 ایک تماشائی بن جانا
فحاشی مرد کو ایک بے عمل انسان بنا دیتی ہے
وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی بجائے صرف دوسروں کو دیکھنے لگتا ہے
نہ خود کچھ حاصل کرتا ہے نہ کچھ بننے کی کوشش
یوں وقت کے ساتھ وہ اپنی زندگی کا تماشائی بن جاتا ہے

اس بے بسی کی کیفیت مرد کو خود سے نفرت کی طرف لے جاتی ہے
اور جب وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے کچھ نہیں کرتا
تو زندگی ایک حقیقت بن جاتی ہے جس میں وہ صرف ہارتا ہے

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فحاشی ان کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی
مگر یہ صرف ایک دھوکہ ہے
جو لوگ اس کی تباہ کاریوں کو پہچان چکے ہیں
وہی آج بھی بچی ہوئی عزت نفس اور طاقت کے قلعوں میں کھڑے ہیں

اگر آپ چاہیں تو ایک نیکی میں شریک ہوں
صرف ایک بار اس پیغام کو آگے بڑھائیں
اور کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنیں
کیونکہ جو نیکی کی رہنمائی کرتا ہے
اسے ویسا ہی اجر ملتا ہے جیسے کرنے والے کو

1972 میں، ایک فرانسیسی سائنسدان نے خود کو 440 فٹ زیر زمین، ایک گھپ اندھیرے غار میں 180 دن کے لیے بند کر لیا۔
کوئی روشنی نہیں۔
کوئی وقت نہیں۔
کوئی انسانی رابطہ نہیں۔

اس نے انسانی ذہن کے راز جاننے کی کوشش کی— اور جو کچھ اس نے دریافت کیا، وہ واقعی وقت کو موڑ دینے والا تھا۔

میشل سیفر ایک جیولوجسٹ اور محقق تھے، جو انتہائی حالات میں انسانی حیاتیات کو سمجھنے کے لیے جنون کی حد تک متجسس تھے۔

وہ یقین رکھتے تھے کہ انسانی ذہن کو سمجھنے کی کنجی وقت سے اس کے تعلق میں پوشیدہ ہے۔

اس نظریے کو جانچنے کے لیے، انہوں نے ایک حیران کن تجربہ کیا۔

سیفر نے مکمل تنہائی میں، ایک غار میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

کوئی گھڑی نہیں

کوئی سورج کی روشنی نہیں

وقت کا کوئی اندازہ نہیں

وہ یہ جاننا چاہتے تھے:
• مکمل تنہائی میں انسانی دماغ کی کیا حالت ہوتی ہے؟
• جب کوئی فطری وقت کے چکر سے کٹ جائے تو کیا ہوتا ہے؟

دنیا نے انہیں پاگل قرار دیا۔

1972 میں، سیفر 440 فٹ زیر زمین ایک غار میں اُتر گئے۔

باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں

دن اور رات کا کوئی پتہ نہیں

بس وہ، ایک سلیپنگ بیگ، اور زندہ رہنے کے چند اوزار

اندھیرا مکمل تھا۔
خاموشی بہرا کر دینے والی تھی۔

شروع میں، سیفر نے اپنی روٹین برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بھوک اور تھکن کو سونے اور کھانے کے اوقات کا تعین کرنے دیا۔

لیکن وقت کی کوئی رہنمائی نہ ہونے کے باعث…
ان کا وقت کا احساس بگڑنے لگا۔

گھنٹے منٹوں جیسے لگنے لگے

دن آپس میں گڈمڈ ہو گئے

ان کی ذہنی حالت تیزی سے بگڑنے لگی:

• وہ سائے اور آوازوں کے ہیلوسینیشن (فریب نظر) کا شکار ہو گئے
• انہیں یقین ہونے لگا کہ غار میں ان کے علاوہ بھی کوئی موجود ہے
• ان کے خیالات افراتفری کا شکار ہو گئے

تنہائی ان کے ذہن کو توڑ رہی تھی۔

اوپر زمین پر، ان کی ٹیم ہر چیز کا مشاہدہ کر رہی تھی۔

انہوں نے سیفر کی سرگرمیوں کو اصل وقت سے موازنہ کیا۔

اور نتائج چونکا دینے والے تھے:
سیفر حقیقت سے مکمل کٹ چکے تھے۔

2 ماہ بعد، جب انہیں لگتا کہ 24 گھنٹے گزر چکے ہیں،
حقیقت میں تقریباً 48 گھنٹے گزر چکے ہوتے۔

ان کا اندرونی وقت کا نظام شدید متاثر ہو چکا تھا۔

ان کے جسم نے نئے وقت کے چکر بنا لیے:
• 36 گھنٹے جاگنا
• 12 گھنٹے سونا

یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے حیران کن تھی۔

انسانی جسم قدرتی طور پر 24 گھنٹے کی سرکیڈین رِدم (circadian rhythm) پر چلتا ہے، جو سورج کی روشنی کے زیر اثر ہوتی ہے۔
لیکن جب روشنی ہی نہ ہو…
تو انسانی دماغ اپنا وقت خود تخلیق کرنے لگتا ہے۔

یہ تجربہ اس بات کا ثبوت تھا کہ
وقت صرف بیرونی چیز نہیں—
یہ انسانی دماغ کے اندر بھی موجود ہے۔

لیکن اس دریافت کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔

ہفتے مہینوں میں بدلے، اور سیفر کی ذہنی حالت مزید بگڑ گئی:

• وہ جملوں کے بیچ میں الفاظ بھولنے لگے
• وہ عام حقائق یاد رکھنے میں ناکام ہو گئے
• ان کے جذبات شدید جھول کھانے لگے—کبھی خوشی، کبھی شدید اداسی

تنہائی ان کا دماغ بدل رہی تھی۔

سیفر نے بعد میں اس تجربے کو
"آہستہ آہستہ پاگل پن کی طرف جانے" سے تشبیہ دی۔

• وہ کیڑوں سے باتیں کرنے لگے
• انہیں اپنی ہی آواز میں سکون محسوس ہوتا
• لیکن خاموشی ہمیشہ واپس آ جاتی، ظالمانہ اور بے رحم

180 دن بعد، سیفر کو غار سے نکالا گیا۔

ان کے مطابق 151 دن گزرے تھے۔
انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے اتنا وقت کھو دیا۔

یہ ثابت ہو چکا تھا:
• وقت صرف ایک بیرونی حقیقت نہیں، یہ کچھ ایسا بھی ہے جو دماغ خود بناتا ہے۔
• تنہائی اور حسی محرومی (sensory deprivation) اس صلاحیت کو بگاڑ دیتی ہے، اور ذہنی بے ترتیبی پیدا کرتی ہے۔

یہ تجربہ سائنسی دنیا میں انقلاب لے آیا۔

سیفر کی تحقیق نے کئی شعبوں کو متاثر کیا:

✅ سرکیڈین رِدم (Circadian Rhythm) کی سائنس
✅ خلائی سفر (خلا میں تنہائی کے اثرات)
✅ قیدِ تنہائی کے ذہنی اثرات

لیکن اس تجربے کی قیمت بہت بھاری تھی۔

• سیفر کو ہمیشہ کے لیے یادداشت کے مسائل لاحق ہو گئے
• ان کی ذہنی صحت کو برسوں لگے بحال ہونے میں
• انہوں نے کہا کہ وہ غار "ایک نہ ختم ہونے والی رات" کی مانند تھا، جو عمر بھر ان کا پیچھا کرتی رہی

لیکن…

انہوں نے ہار نہیں مانی۔

سیفر نے بعد میں دوبارہ تنہائی میں جانے کا تجربہ کیا تاکہ اپنے نتائج کو دوبارہ پرکھ سکیں۔
ان کی تحقیق نے نیند، دماغی وقت، اور انسانی نفسیات کے مطالعے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

لیکن انہوں نے ایسے سوالات چھوڑے، جن کے جوابات آج بھی تلاش کیے جا رہے ہیں:

وقت کیا ہے؟
کیا یہ صرف بیرونی دنیا کی حقیقت ہے—
یا کچھ ایسا، جو انسانی دماغ خود تخلیق کرتا ہے؟

سیفر کے تجربات نے ثابت کیا:
وقت بیک وقت دونوں چیزیں ہے۔
اور دماغ کے پاس اسے قابو میں رکھنے کی طاقت ہے۔

> "دماغ اپنی ہی ایک کائنات ہے۔" – میشل سیفر

سیفر کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے:
انسانی دماغ کبھی نہ جھکنے والی طاقت بھی رکھتا ہے…
اور ناقابلِ یقین حد تک نازک بھی ہو سکتا ہے۔

اور بعض اوقات، تنہائی ہی ہمیں اپنے اندرونی جہان کی گہرائیاں دکھاتی ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget