اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اپریل 2018



سنو اندھو  سنو بہرو
بغاوت فرض ہوتی ہے
اپاہج ،مردہ دل لوگو
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں حاکم نہ ہو اللہ 
جہاں قانون ناں قرآں
وہاں حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے


جہاں بھٹکے اجالے ہوں
جہاں اندھے سویرے ہوں
جہاں روشن دیا کرنا
بغاوت کے برابر ہے

تو اِن اندھوں کی بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں سانسیں خریدیں ہم 
کبھی بک کر کبھی مر کر
جہاں ہم پیٹ بھرنے پر
منائیں جشن گھر گھر پر


تو اس مسکین بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے


جہاں حقدار کہتا ہے
وہاں اوپر میں پوچھوں گا
یہاں پر تو خدا ہے تو
خدا اپنے سے پوچھوں گا


یوں جب برپا  قیامت ہو
بغاوت فرض ہوتی ہے

یہ سر گلیوں میں کٹوانا
جہاں پہ رِیت بن جائے
غریبی کا مداوا جب 
فقط یہ موت رہ جائے


جہاں بھیگے دوپٹہ جب
تو ماں کا خون سے بھیگے
جہاں یہ عمر بے چاری
سدا ماتم میں بس گزرے

وہاں مرنے سے پہلے تو

بغاوت فرض ہوتی ہے

جہاں وجہِ حکومت کی
رگوں میں دوڑتا خوں ہو
جہاں عقل و خرد ساری
فقط دولت کی مرہوں ہو

جہاں انصاف کرسی ہو
جہاں قانون کرسی ہو
جہاں عالم بھی کرسی ہو
جہاں مذہب بھی کرسی ہو

تو ایسی بے کسی میں ہی
بغاوت فرض ہوتی ہے

سنو اندھو سنو بہرو
اپاہج مردہ دل لوگو
سنو حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے



بلڈ پریشر

ہائی بلڈ پریشر کیا ہے؟
کیوں ہوتا ہے؟
علاج کیا ہے؟



بلند فشار خون جسے انگریزی میں ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے، دل کے دورے اور اسٹروک کا ایک بڑا سبب ہے، مگر بہت سے لوگ اس کے بارے میں کئی حقائق سے واقف نہیں۔
1۔بلڈ پریشر زندہ رکھتا ہے
ہمارا دل ایک چھوٹا مگر طاقتور پمپ ہے جو باقاعدگی سے دھڑکتا ہے او ہر ایک منٹ میں جسم میں پھیلی ہوئی ان گنت رگوں میں پانچ لیٹر خون پمپ کرتا ہے۔ اس عمل یعنی خون کی گردش کو برقرار رکھنے کے لیے نظام دوران خون میں دباؤ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ دباؤ بلڈ پریشر کہلاتاہے۔بلڈ پریشر دو قسم کے ہوتے ہیں: انقباضی اور انبساطی۔ جب ہمارا دل سکڑتا ہے تو اس وقت بلڈپریشر انقباضی فشار خون یا سسٹولک پریشر کہلاتا ہے اور جب دل نارمل حالت میں آتا ہے تو اسے انبساطی یا ڈائسٹولک پریشر کہتے ہیں۔ اگر بلڈپریشر کی ریڈنگ140/80ہوتو اس کا مطلب ہوگا کہ سسٹولک پریشر 140اور ڈائسٹولک پریشر80ہے۔
2۔دن بھر بلڈ پریشر بدلتا رہتا ہے
دن بھر کے دوران بلڈ پریشر کی سطح میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ جب آپ ورزش کررہے ہوں یا دباؤ میں ہوں تو بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ جسم جب آرام دہ حالت میں ہویا آپ سورہے ہوں تو پھر اس کی سطح کر جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر یا نرس سے چیک کرواتے ہوئے بلڈ پریشر خود بہ خود بڑھ جاتا ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے "وائٹ کوٹ بلڈ پریشر" کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ گھر پر بلڈپریشر مانیٹر رکھیں اور ریڈنگز لیتے رہیں تو بلڈ پریشر کی بالکل درست صورت حال آپ کے سامنے آجائے گی۔
روزانہ یا ہر ہفتے بلڈپریشر چیک کرنے کی ضرورت نہیں؛ اگر آپ ہائی بلڈپریشر کی دوا لے رہے ہیں اور یہ کنٹرول میں ہے توپھر ہر چند ماہ کے بعد چیک کروا لینا کافی ہے، بصورت دیگر ہر چند ہفتے بعد چیک کروا لینا چاہیے۔ اگر بلڈ پریشر نارمل ہے توپھر سال میں دو سے زیادہ بار چیک کروانے کی ضرورت نہیں۔ بیشتر ڈاکٹر یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ130/80 بلڈ پریشر یا اس سے کم قابل قبول ہے۔ اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں یا دل کے عارضے میں مبتلا ہیں تو پھر ریڈنگ اس سے کم ہونا زیادہ بہتر ہے۔
3۔ہائی بلڈپریشر۔۔۔۔۔بس ہوجاتا ہے!
ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون جسے ہائپر ٹینشن بھی کہا جاتا ہے، بہت سے لوگ اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں میں خون پہنچانے والی رگوں کی لچک کم ہوجاتی ہے، بہ الفاظ دیگر قدرے سخت ہوجاتی ہیں۔ مگر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ بائی بلڈپریشر لاحق ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی، بس یہ ہوجاتا ہے۔ اسے بنیادی یا ابتدائی ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔ ہائپر ٹینشن لاحق ہونے کی طبی وجوہات میں گردے کے امراض، گردوں کو خون کی رسد میں رکاوٹ، حد سے زیادہ شراب نوشی اور کچھ ہارمون کے مسائل ہوتے ہیں جو گردوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یعنی ہائپر ٹینشن کا بلاواسطہ بالواسطہ طور پر گردوں سے اہم تعلق ہوتا ہے۔
4۔کئی عوامل ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بن سکتے ہیں، ان میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں:
٭ یہ موروثی بھی ہوتا ہے
٭ موٹاپا
٭ سگریٹ نوشی
٭ خوراک میں نمک کی زائد مقدار
٭ ورزش کی کمی
٭ ذیابیطس
٭ گردوں کے امراض
5۔ ہائی پریشر سے بے خبری
بیشتر لوگوں میں ہائپر ٹینشن کی کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لہٰذا وہ اس مرض سے بے خبر رہ کر زندگی گزارتے رہتے ہیں۔ بہ ظاہر ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دینے والے افراد بھی ہائی بلڈپریشر کا شکار ہوسکتے ہیں، مگر وہ اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں۔ بہرحال شدید صورت میں ہائی بلڈپریشر کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ان علامات میں ناک سے خون آنا، سردرد، بے خوابی، ذہنی پریشانی اور الجھن اور سانس کے مسائل شامل ہیں۔
اگر ہائپر ٹینشن کا علاج نہ کیا جائے تو دل کے دورے اور اسٹروک کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ہائپر ٹینشن کا علاج کروا کر کئی بڑے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ علاج نہ کروانے کی صورت میں دل کے دورے اور اسٹروک کے علاوہ دل کا فیل ہوجانا یعنی خون پمپ کرنے کی صلاحیت کا بہ تدریج کمزور پڑجانا، گردوں کا فیل ہوجانا، ضعیف بصارت اور آنکھوں کے امراض سے واسطہ پڑسکتا ہے۔ ہائپر ٹینشن کا علاج نہ کروانے کی وجہ سے پیٹ اور سینے سے گزرنے والی مرکزی شریان پھیل کر پھٹ سکتی ہے اور اسکے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
6۔ ہائی بلڈپریشر پر قابو پانے کے لیے کیا کِیا جاسکتا ہے؟
 اگر ڈاکٹر نے آپ کو ہائپر ٹینشن تشخیص کی ہے تو گھبرئیے نہیں، اچھی بات یہ ہے کہ آپ ادویہ کے بغیر، بہ ذات خود بھی اس کا علاج کرسکتے ہیں۔ ہائپر ٹینشن کا شکار ایک چوتھائی افراد محض اپنے طرز زندگی میں بدلاؤ لاکر بلڈپریشر کو نارمل سطح پر لے آتے ہیں۔ ذیل میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو ہائی بلڈپریشر پر قابو پانے میں معاون ہوسکتی ہیں۔
سگریٹ نوشی سے توبہ:
 سب سے پہلے تو آپ سگریٹ نوشی سے توبہ کرلیں۔ بلڈپریشر کو کنٹرول میں لانے اور عمومی صحت بہتر بنانے کے لیے جو سب سے بڑا کام آپ کرسکتے ہیں وہ یہی ہے، یعنی سگریٹ نوشی سے پرہیز۔ سگریٹ نوشی کی وجہ سے دل کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ دگنا اور زندگی مختصر ہوجاتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والا انسان عام طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر کو نہیں پہنچ پاتا اور دل کی بیماریوں سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اگر سگریٹ سے ناتا توڑنا دشوار محسوس ہورہا ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وزن میں کمی :
وزن میں ہر ایک کلوگرام کی کمی ہائی بلڈپریشر کی سطح نیچے لانے میں معاون ہوگی۔ وزن کم کرنے کے لیے روغنی غذاؤں سے پرہیز کریں۔ مرغ اور مچھلی کا گوشت، تازہ پھل، سبزیاں اور ریشے دار غذائیں استعمال کریں۔
شراب نوشی سے پرہیز:
زیادہ شراپ نوشی بلڈپریشر میں اضافے کا سبب بنتی ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کریں۔
باقاعدگی سے ورزش:
 اس مقصد کے لیے آپ جم بھی جوائن کرسکتے ہیں، اگر وقت نہ ہوتو پھر ہفتے میں تین چار بار 20 سے 30منٹ کی تیز قدمی یعنی واک  وزن گھٹانے میں معاون ہوگی۔
نمک سے پرہیز:
 کھانوں اور مشروبات وغیرہ میں نمک نہ ڈالیں۔ فاسٹ فوڈز اور پروس یسڈ فوڈز سے گریز کریں کیوں کہ ان میں نمک بڑی مقدار میں ہوتا ہے۔
اگر درج بالا تمام اقدامات سے آپ کا ہائی بلڈپریشر مکمل طور پر کنٹرول میں آئے تب بھی ان کی وجہ سے ، جو دوائیں آپ استعمال کریں گے ان کی تعداد ضرور کم ہوجائے گی۔



دنیا گول ہے

ایک دن کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ دنیا کیسی ہے تو میرے اس جواب پر کہ دنیا گول ہے وہ نہ مانا آخر مانتا بھی کیسے؟ میں کون سا کوئی مؤتبر انسان تھا جو میں نے ایک بار کوئی بات کہہ دی تو وہ مان جائے آخر کوئی تو ثبوت ہو۔ خیر ثبوت تونہیں تھا میرے پاس لیکن جب وہ میرے بتانے پر نہ مانا کہ دنیا گول ہے تو میں نے اسے ایک اور طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی امید ہے کہ اگر آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال ہو تو یہ تحریر پڑھ کر آپ بھی مان جائیں گے کہ دنیا گول ہے تو شروع کرتے ہیں ایک کہانی سے

ایک ‏باس نے اپنی سیکرٹری کو دفتر بلا کر ہدایت کی 

‏ 10 تاریخ کو ہم ایک ہفتے کے لیے کاروباری دورے پر ہانگ کانگ جا رہے ہیں 

‏تم ضروری انتظامات کر لو 

‏سیکرٹری نے اپنے شوہر کو بتایا 

‏ 10 تاریخ کو میں اپنے باس کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے کاروباری دورے پر ہانگ کانگ جا رہی ہوں
تم اپنا اور گھر کا خیال رکھنا 

‏شوہر نے اپنی خفیہ ⁧‫#محبوبہ‬⁩ ‌کو فوراً پیغام بھیجا 

‏10تاریخ کو میری بیوی اپنے باس کے ساتھ ایک ہفتے کے لیے کاروباری دورے پر ہانگ کانگ جا رہی ہے 

‏ تم میرے پاس آجانا

‏مل کر انجوائے کریں گے

‏خفیہ محبوبہ جو کہ ایک پرائیویٹ ٹیوٹر تھی 

‏اس نے سٹوڈنٹ بچے کو اطلاع دی 

‏ 10 تاریخ سے میں ایک ہفتے کے لیے شہر میں نہیں‌ہوں 

‏ اس لیے تمھیں پڑھانے ایک ہفتے تک نہیں آسکوں گی 

‏ننھے سٹوڈنٹ نے فوراً اپنے دادا کو فون ملایا 

‏دادا  10 تاریخ کو میری ⁧‫#ٹیچر‬⁩ ایک ہفتے کے لیے شہر سے باہر ہے
‏آپ میرے پاس ایک ہفتے کے لیے آجاؤ 

‏خوب انجوائے کریں گے

‏دادا نے فوراً اپنی سیکرٹری کو بلایا
‏ اور کہا 
‏سنو  10 تاریخ سے میں ایک ہفتے کے لیے اپنے پوتے سے ملنے جا رہا ہوں 
‏ ہانگ کانگ کا دورہ کینسل کردو 

‏سیکرٹری نے اپنے شوہر سے کہا
‏ہنی ۔ میرے باس کا 10 تاریخ سے ہانگ کانگ کا دورہ کینسل ہوگیا ہے 

‏ اب میں گھر پر ہی ہوں گی 

‏شوہر نے فوراً اپنی خفیہ محبوبہ کو اطلاع دی

‏میری بیوی کا ٹرپ کینسل ہوگیا 

‏اب وہ گھر پر ہوگی 

‏ ہم مل نہیں سکتی 

‏ تم مت آنا 
‏خفیہ محبوبہ نے بطور ٹیوٹر اپنے سٹوڈنٹ کو فون ملایا 

‏ سنو منے ۔ میرا ⁧‫#شہر‬⁩ سے باہر جانے کا ⁧‫#پروگرام‬⁩ منسوخ ہوگیا ہے 

‏اب ہم معمول کے مطابق پڑھائی جاری رکھیں گے 

‏ننھے سٹوڈنٹ نے اپنے دادا کو فون کیا 
‏اور
‏ غمگین لہجے میں کہا 
‏دادا میری ٹیچر کا شہر سے باہر جانے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے

‏اب وہ مجھے پڑھانے آیا کرے گی 

‏ آپ مت آنا 

‏باس نے فوراً اپنی سیکرٹری کو بلایا 

‏اگلے ہفتے پوتے کے پاس جانے کا پروگرام کینسل 

‏ہم لوگ 10 تاریخ سے ہانگ کانگ جائیں گے 

‏تم ضروری انتظامات کر لو

‏سیکرٹری نے شوہر کو اطلاع دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏اب یقین آیا کہ دنیا گول ہے 


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget