مُوسِیقی تو رُوح کی غذا ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اس آرٹیکل میں ہم موسقی پر مختلف ریسرچ مشہور ڈاکٹر الیکسیس کارل، ڈبلیو ایچ او WHO، یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات، میل آن لائن کی رپورٹ، اور ڈاکٹرناﺅمی زیف کی رپورٹ بھی بیان کریں گے۔
جو ناسُور ہمارے مُعاشَرے(Society) کو دِیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، ان میں سے ایک ناسُور ساز و آواز پر مُشتمل مُوسِیقی (Music) بھی ہے جو اکثر مسلمانوں کی روٹین میں اس طرح شامل ہوگئی ہے کہ کیا مرد! کیا عورت! کیا بچّہ! کیا بوڑھا! گھر ہو یا ہوٹل، شادی ہو یا دعوت، کار، ٹرک، بس کا سفر ہو یا ہوائی جہاز کا، اسکول ہو یا کالج، فیکٹری ہو یا باربَر (حَجّام) کی دُکان، پان کا کَیبن ہو یا کوئی گودام! مُوسِیقی کی دُھنیں (Tunes) جگہ جگہ سُنی جاتی ہیں۔ موبائل، آئی پیڈ، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ مُوسِیقی کے اِسٹوریج (گودام) بنے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو سمجھایا جائے تو بعض اَوقات عقل سے پَیدل جواب ملتا ہے:”مُوسِیقی تو رُوح کی غذا ہے۔“
موسیقی کو روح کی غذا کہنے والے میت کے سراہنے گانے بجانے سے پرہیز کیوں کرتے ہیں؟
ایک وہی تو وقت ہوتا ہے جب روح کو سکون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے،
*موسیقی روح کی غذا نہیں روح کی سزا ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی،*
ابھی رب کائنات نے ہم کو اختیار دیا ہے اگر ہم خود سے پیار کرتے ہیں تو اپنی رُوح کو اِس دُنیا کی زندگی میں اور اُس آخرت کی زندگی میں دردناک عذاب سے بچانے کے لیے آج ہی سے میوزک اور گانوں سے توبہ کر لیں،
یوں تو آج کے اس پر آشوب دور میں وہ کونسی برائی ہے کہ جس سے ہمارا معاشرہ محفوظ ہے۔ طرح طرح کی اجتماعی و انفرادی منکرات سے ہمارا معاشرہ لبریز ہے۔ اس تفاوت کے ساتھ کہ کچھ برائیاں ہمارے معاشرے میں عام ہیں اور بہت ساری برائیوں کے لوگ مخفی اور پوشیدہ طور پر مرتکب ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے لوگ بعض منکرات کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ ان کا ارتکاب اب ایک عام و معمول کی عادت بن گیا ہے، ان کے نزدیک ان چیزوں کی قباحت ہی ختم ہوچکی ہے۔ جن میں سر فہرست موسیقی، غنا کی آواز کا سننا ہے۔ یہ برائی ہمارے معاشرے میں وبا کی طرح اس قدر پھیل چکی ہے کہ اگر کسی دکان، حمام اور عوامی ٹرانسپورٹ وغیرہ میں کسی بھی وجہ سے موسیقی سنائی نہ دے تو لوگ تعجب کرتے ہیں۔
*اسلام نے شدت سے اس سے منع کیا ہے۔ جس گھر میں غنا کا استعمال ہوتا ہے، وہ آفات سے محفوظ نہیں ہے اور وہاں دعا قبول نہیں ہوتی۔ وہ گھر مرض سے محفوظ نہیں رہتا۔ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے*
*مشہور ڈاکٹر الیکسیس کارل*
مشہور ڈاکٹر الیکسیس کارل کے بیان کے مطابق انسانی شحصیت کی بنیاد شعور ہے اور شعور خون، غدود، اعصاب اور قلب و دماغ وغیرہ سے وابستہ ہے۔ پس موسیقی اعصاب و اعضائے جسم انسانی کی دشمن ٹھہری، تو یقیناً شعور انسانی کے لئے بھی مہلک ثابت ہوگی۔ جس سے شاید کوئی بے شعور ہی انکار کرسکتا ہے۔
آج جدید ترین آلاتِ مُوسِیقی (Musical Instruments)، نت نئے گلوکاروں (Singers) اور طرح طرح کی دُھنوں(Tunes) کی وجہ سے گانے باجے کا جادو سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ کہیں اس کو تَفریح (Entertainment) کا نام دیا جاتا ہے اور کہیں ثَقافت (Culture) کے نام پر تَحفُّظ دیا جاتا ہے۔ اس شیطانی کام کو اپنانے والے گُزرے وقتوں میں عِزّت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے تھے، ان کو بھانڈ، گَوَیّااور ڈوم کہہ کر پُکارا جاتا تھا لیکن زمانے نے رنگ بدلا اور ان کو فنکار، ایکٹر، سِنگر، میوزِک ڈائریکٹر کے نام سے عِزّت دی جانے لگی۔
اس کی تازہ مثال Coke Studio اور Pepsi Battle of the Bands وغیرہ کو ہی دیکھ لیں، حمد، نعت کو حرام میوزک سے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ اس سے موسیقی نہ سسنے والے بھی حمد اور نعت کی محبت میں ہی سنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
*موسیقی اور صحت*
موسیقی جذبات اور ہیجان برپا کرکے غدود کے فعل کو اتنا خراب کر دیتی ہے کہ جس سے عتاہت تبادری کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ نظام عصبی میں فتور پیدا کر دیتی ہے۔ اعصابی کمزوری واقع ہونے سے شیخوخی، رعشہ، کوریا کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ موسیقی اور غنا سے خیالات فاسد ہوجاتے ہیں۔ دماغ میں ہر کام کی مناسبت سے ایک حصہ ہوتا ہے، جیسے عدالت، نیکی، برائی، دیکھنے، سننے، ذائقہ کا حصہ وغیرہ ۔۔ ہوتا ہے۔ انسان جب موسیقی سنتا ہے، تو اس وقت اس کے دماغ کے اچھی خصوصیات والے حصے دب جاتے ہیں اور اس وقت وہ کوئی نیکی کا کام انجام نہیں دے سکتے۔ موسیقی اور غنا کی مسحورکن اور سیکسی آوازیں انسان میں شہوت رانی کا ولولہ پیدا کرتی ہے اور پاکدامنی و اخلاقی اقدار سے دور کر دیتی ہے۔ موسیقی و غنا کی لہروں میں ڈوبے ہوئے انسان کا ذھن اور فکری صلاحیتیں موسیقی کے اثرات کے تابع ہوجاتی ہیں
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک ارب دس کروڑ سے زائد نوجوان اور نو عمر بچے بہت بلند آواز اور زیادہ دیر تک موسیقی سن کر اپنی قوتِ سماعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کر رہے ہیں۔
ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق 12 سے 35 سال کی عمر کے درمیان چار کروڑ 30 لاکھ ایسے افراد ہیں جو سننے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اس تعداد میں نصف وہ افراد ہیں جو امیر اور متوسط آمدن رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور موسیقی سننے کے لیے ان کے پاس موجود آلات میں آواز کا درجہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کےنقصانات سے بچاؤ کے ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایٹائین کرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کوشاں ہیں کہ ایک ایسے معاملے پر آگاہی پھیلائی جائے جس پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی ہو سکی۔
امریکہ میں سنہ 1994 میں قوت سماعت متاثر ہونے والے نوجوانوں کی تعداد تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی تاہم سنہ 2006 میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ اعشاریہ تین فیصد تک جا پہنچی۔
موسیقی سے جسمانی صحّت داؤ پر لگ جاتی ہے، ڈھول ڈھمکوں، جھانجنوں اور باجوں کی آوازیں مسلسل سننے کی بِنا پر کانوں کو نقصان پہنچتا ہے، رہی سہی کسر ہینڈفری یا ہیڈ فون پوری کردیتا ہے
*جدید ریسرچ کیا کہتی ہے*
”موسیقی روح کی غذاءہے“ ماہرین نے مغرب کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے اور اسلام کی حقانیت کا ثبوت خود ہی فراہم کر دیا ہے۔اسرائیل کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موسیقی پر تشدد اور منفی جذبات کر پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اہرین نے 150طلبہ کو موسیقی کی مختلف اقسام سنا کر ان کی طبع اور حرکات و سکنات پر خاص ریسرچ کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ریپ اور میٹل جو کہ تیز موسیقی کی دو اقسام ہیں کے سننے والے لوگ متشدد رویہ جلد ی اپنا لیتے ہیں اور کسی کے اکسانے پر تشدد اور جارحیت کو بہت جلد اپنا لیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تیز موسیقی سننے والے لوگوں کو سیاستدان اور شدت پسند گروہ بڑی آسانی سے اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کر سکتے ہیں۔اس لئے موسیقی کو امن کی آواز یا روح کی غذا سمجھنا خود کو اندھیرے میں رکھنے اور دھوکا دینے کے مترادف ہی ہوگا۔
*موسیقی سے ہپنا ٹائز*
امریکی گلوکار جمی ہینڈرک کے مطابق، تم لوگوں کو موسیقی سے ہپنا ٹائز کرسکتے و اور موسیقی کی مدد سے جب تم انہین ذہنی طور پر کمزور کر دو تو اب ان کے لاشعور میں ہر وہ بات پہنچا سکتے ہو جو تم چاہو۔ (حوالہ: لائف میگزین امریکا 1999)
گویا سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں موسیقی کے اثر سے مفلوج ہوجاتی ہیں۔ اس سلسلے میں دو مختلف یونیورسٹیوں میں تجربات کیے گئے تو پتا چلا کہ لیبارٹری کی بھول بھلیوں (Maze) میں ان چوہوں کو راستہ پانے میں انتہائی دشواری پیش آئی، جہاں باپ میوزک چل رہا تھا۔
*نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کی تحقیق*
ٹینی ریاست امریکا کی نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن نے اپنی تحقیق سے نتیجہ نکالا ہے کہ ہر سال امریکا میں 6,000 نوجوان گانے بجانے کے اثرات سے متاثر ہوکر خودکشی کرتے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں کہ نوجوانوں نے گانوں کی البم سننے کے بعد اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کرلیا۔ معروف امریکی پاپ سنگر Ozzy Osboume کے گانے Solution کو سن کر خودکشی کی گئی، اس کے ایک گانے کا عنوان ہی موت کی حدود سے پیار ہے۔
گانوں سے حواس کا کھو جانا اور ایسے میں انتہائی غلط قدم اٹھا بیٹھنا عام ہے۔
*پال کنگ کی تحقیق*
ایک امریکی محقّق پال کنگ کے مطابق، بلوغت کے وقت نوجوان لڑکوں میں صرف مردانہ ہارمونز کی وافر مقدار ہوتی ہے، جس سے دماغی فیصلہ کرنے کا نظام متحرک ہوجاتا ہے۔ سائنسی تجربات بتاتے ہیں کہ موسیقی سننے سے بھی دماغ کا یہی حصہ متحرک ہوجاتا ہے اور اس سے جذبات میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ عموماً نوجوان تشدد پر اتر آتے ہیں‘ ضبط نفس متاثر ہوتا ہے‘ خصوصیت سے پاپ میوزک ان جذبات کو بھڑکانے میں بہت اہم ہے۔ موسیقی کے اثرات سے نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے
*موسیقی کے اشعار*
مُوسِیقی جن اَشعار پر مُشتمل ہوتی ہے وہ بھی اپنا اثر جماتے ہیں اور انسان منفی سوچ (Negative Mentality)کا شکار ہوسکتا ہے ، اُداس رہنے لگتا ہے، نشے میں مُبتلا ہوسکتا ہے، بعض گانے خودکُشی (Suicide) پر اُبھارتے ہیں جن کو سُن کر خودکشی کرنے والوں کے بھی کئی واقعات ہیں
*نام نہاد عاشق*
عشقِ مَجازی کی تباہ کاریوں میں مُوسِیقی اور گانوں کا بہت بڑا کردار ہے، ہجرووِصال، مَحبوب کے حُسن وجمال پر مُشتمل عِشقیہ گانوں کے بول موسیقی کے ساتھ سُن سُن کر نام نہاد عاشق کسی کام کے نہیں رہتے اور اپنی زندگی تباہ کربیٹھتے ہیں
*موسیقی اور اخلاق*
مُوسِیقی اَخلاق کو بھی نقصان دیتی ہے چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:گانا اور لَہو دل میں اس طرح ”نِفاق “اگاتے ہیں، جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے۔ قسم ہے اس ”ذات ِمُقدَّسَہ“ کی جس کے قبضہ ِقدرت میں میری جان ہے! بے شک قراٰن اور ذِکرُ اللہ ضرور دل میں اس طرح ایمان اُگاتے ہیں، جس طرح پانی سبز گھاس اگاتاہے۔
گانوں باجوں کے اُخروی نقصانات میں سے ایک نقصان ملاحظہ کیجئے،فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو گانے والی کے پاس بیٹھے، کان لگا کر دھیان سے سنے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قِیامَت اُس کے کانوں میں سِیسَہ(ایک دھات) اُنڈیلے گا۔ (تاریخ مدینہ دمشق،ج51،ص263)
بعضوں کا سفر میوزِک سنے بغیر نہیں گزرتا ایسوں کو سوچنا چاہئے کہ اسی حالت میں موت آگئی تو کیا گزرے گی! ٭کھانے کے وقت میوزک سننے کے شوقین کو اِحساس تک نہیں ہوتا کہ وہ جس رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں کھارہا ہے اُسی کی نافرمانی کررہا ہے٭شادی ہال میں میوزِک کی دھنیں بجانے پر اصرار کرنے والا دولہاغور تو کرے کہ اس کی زندگی کا نیا سفرشُروع اور نسل بڑھنے کا سامان ہورہا ہے، ایسے میں اُسے نیکیاں کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حُضور خیروسلامتی کی دُعائیں مانگنی چاہئے لیکن یہ اس کی نافرمانی پر کمر باندھ رہا ہے
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
ایک تبصرہ شائع کریں