اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اگست 2018


*قرآن کس لیے نازل کیا گیا؟*

 ❓ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺭﺧﺼﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟
❓ﺟﻨّﺎﺕ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟
❓ﺗﻌﻮﯾﺰ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟
❓ﺗﺒﺮﮎ ﯾﺎ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟
❓ﻣﯿّﺖ ﮐﮯ ﺍﯾﺼﺎﻝ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟
❓ﺑﻨﺎ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ؟؟ 
❓نئی دکان ، مکان کے افتتاح کے لیے ؟
❓ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ؟
❓ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ؟
🍀 ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﮧ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔
🍀 ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ . 
🍀 ﺍﻟﻠﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺟﺎﮨﻞ ﻋﺮﺏ ﺩﯾﮩﺎﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻭَﻟَﻘَﺪْ ﯾَﺴَّﺮْﻧَﺎ ﺍﻟْﻘُﺮْﺍٰﻥَ ﻟِﻠﺬِّﮐْﺮِ ﻓَﮭَﻞْ ﻣِﻦْ ﻣُّﺪَّﮐِﺮٍ
( ﺍﻟﻘﻤﺮ 40:54 )
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺳﺎﻥ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ، ﭘﺲ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ؟
🍀 ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ، ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﮯ ﺁﺳﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ .
🍀 ﮨﻢ ﺳﺐ رسول ﷺ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻣﺘﻤﻨﯽ ﮨﯿﮟ 
🍀 مگر ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻥ رسول ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻥ ﺍﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ؟
ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﺮَّﺳُﻮﻝُ ﻳَﺎ ﺭَﺏِّ ﺇِﻥَّ ﻗَﻮْﻣِﻲ ﺍﺗَّﺨَﺬُﻭﺍ ﻫَﺬَﺍ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥَ
ﻣَﻬْﺠُﻮﺭًﺍ ﴿۳۰ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ﴾
ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ !
 ﺑﮯﺷﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﺭﺣﻤﺖﺍﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ، ﺭﺏﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ ؟
🍀 ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﺠﯿﻨﯿﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﻗﺮﺍﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﮯ ؟
🍀 ﮐﯿﺎ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﺳﭩﺮﺯ ﺍﻭﺭ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺗﻮ ﻟﮯ ﻟﯽ ، 
ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﺪﺍﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﺮﻟﯿﮟ ، 
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ؟
🍀 ﮐﯿﺎ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﻮﮔﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯽ ، 
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯽ ، 
ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯿﮟ ، 
سائنس تو سیکھی ،
🍀 ﻣﮕﺮ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ؟
     ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔۔۔!
🍀 ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، 
ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﮯ . 
🍀 ﮨﻢ ﻻﮈﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ . 
    ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ،
🍀 ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔ 
ﺟﺎﮒ ﺟﺎﻮ ، 
ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺗﺮﺍﺷﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ کرو......
     اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو گا... 

                   *...........ان شاءاللہ..........*


پاکستان


جو سامنے ہے وہ تو دے دو
وسعت اللہ خان
انتخاب سٹڈی گروپ ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان ملتان

پاکستان ان چند ممالک میں ہے جہاں کے باشندے اپنے ہی ملک کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں یا یوں کہئے کہ انھیں وہ بتایا ہی نہیں جاتا جسے جاننا ان کا بنیادی حق ہے۔اس نہ بتانے کے پیچھے یہ سوچ ہے کہ اگر ہر کس و ناکس جان گیا کہ پاکستان یہ کچھ ہے تو پھر یہ سوال اٹھے گا ہم کون ہیں۔تم کون ہو اور یہ سب ایسا کیوں ہے ویسا کیوں نہیں۔چنانچہ پچھلے ستر برس سے کوشش یہی ہے کہ پاکستانیوں کو ایک مخصوص معلوماتی ڈائٹ پلان پر ہی رکھا جائے۔اور انھیں یہی بتایا جائے کہ آسمان بس اتنا ہی بڑا ہے جتنا کنوئیں کے اندر سے دکھائی دیتا ہے۔

دنیا میں پاکستان رقبے کے اعتبار سے چونتیسواں، آبادی کے اعتبار سے چھٹا بڑا ملک اور آٹھویں علانیہ جوہری طاقت ہے۔ پاکستان سمیت صرف پینتیس ممالک کے ہاں گلیشئیر کی شکل میں پانی محفوظ ہے۔دس بڑے گلیشئیروں میں سے ایک ( بیافو ) پاکستان میں ہے۔دنیا کے بیالیس ممالک کے پاس ساحل ہی نہیں جب کہ پاکستان کے پاس لگ بھگ سوا آٹھ سو کلومیٹر کی بحری پٹی ہے۔

دنیا کے سترہ ممالک میں دریا ہی نہیں اور پاکستان میں دنیا کے بائیسویں طویل دریا ( انڈس ) ایک سو تین ویں ( ستلج ) اور ایک سو باون ویں بڑے دریا ( چناب ) سمیت کوئی ایسا صوبہ یا زیرِ انتظام علاقہ نہیں جو دریا سے محروم ہو۔جنوبی ایشیا جہاں دنیا کی پچیس فیصد آبادی رہتی ہے وہاں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ( منچھر ) سمیت پاکستان کے پاس انتالیس قدرتی اور آٹھ انسانی جھیلیں ہیں۔ سب سے بڑا مصنوعی آبپاشی کا نہری نظام پاکستان میں ہے۔
اس کرہِ ارض کے بائیس ممالک کے باسیوں نے پہاڑ اگر دیکھا بھی ہوگا تو تصاویر میں دیکھا ہوگا مگر پاکستان میں نہ صرف دوسری (کے ٹو) اور نویں بلند چوٹی (نانگا پربت) ہے بلکہ یہ اکیلا ملک ہے جہاں دس عظیم پہاڑی سلسلوں میں سے تین پہاڑی سلسلے ( ہمالیہ ، قراقرم ، ہندوکش ) ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔یورپ صحراؤں سے خالی براعظم ہے اور دنیا کا بیسواں بڑا صحرا ( تھر تا چولستان ) پاکستان میں ہے۔ سترہ ممالک کے باشندوں نے ریل ہی نہیں دیکھی اور پاکستان کے ہاں ستائیسواں بڑا عالمی ریلوے نیٹ ورک ہے۔

اب آئیے مٹی کی زرخیزی کی جانب۔ پاکستان گنے کی پیداوار کے لحاظ سے پانچواں اور چینی کی برآمد کے حساب سے نواں بڑا ملک ہے۔گندم کی پیداوار میں پاکستان دنیا میں آٹھویں درجے پے ہے۔ چاول کی برآمد کے اعتبار سے تھائی لینڈ اور ویتنام کے بعد تیسرے نمبر پر اور باسمتی کی پیداوار کے حساب سے پہلے نمبر پر ہے (بھارت دوسرے نمبر پر ہے )۔پیاز کی فصل کے اعتبار سے چین، بھارت اور امریکا کے بعد پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔گرم مصالحوں کی برآمدی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔چنے کی پیداوار میں پاکستان بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔دالوں کی پیداوار کے حساب سے پاکستان کی عالمی رینکنگ بیسویں ہے۔ کھجوروں کی پیداواری فہرست میں پاکستان چھٹا اور آم کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے۔

دریائی و زرعی ملک ہونے کے سبب یہاں مویشی بھی باافراط ہیں۔اس کا اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ پاکستان میں سالانہ چونتیس ملین ٹن دودھ کی پیداوار ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان بھارت ، امریکا اور چین کے بعد چوتھے نمبر پر ہے۔البتہ ڈیری مصنوعات بنانے والے بیس بڑے ممالک میں پاکستان شامل نہیں۔بکریوں کی تعداد کے اعتبار سے چین اور بھارت کے بعد پاکستان تیسرا اور مٹن برآمد کرنے والے ممالک میں بارہویں نمبر پر ہے۔ اونٹوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ چھٹا بڑا ملک ہے۔

مگر یہ سب بتانے کا مقصد کیا ہے جب ان نعمتوں سے سب سے کم فائدہ اگر کسی کو پہنچ رہا ہے تو وہ عام پاکستانی ہے۔ایک عالمی ادارے ووکس نے بائیس ممالک میں خوراک پر فی کس اخراجات کا جو عالمی جدول جاری کیا اس کے مطابق ایک عام جنوبی افریقی خاندان ہر روز اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے پر سو روپے کی آمدنی میں سے بیس روپے ، ایک بھارتی خاندان پچیس روپے ، ایک نائجیریائی خاندان ساڑھے انتالیس روپے خرچ کرتا ہے مگر پاکستان میں ایک خاندان اگر سو روپے روز کماتا ہے تو اس میں سے لگ بھگ سینتالیس روپے خوراک پر خرچ ہوجاتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک سابق ڈائریکٹر برائے پاکستان ولف گینگ ہاربنگر کے بقول پاکستان میں گندم کی سب سے بڑی خریدار حکومت ہے۔گندم کی پیداوار اس قدر ہے کہ ملکی ضروریات کے لیے ذخیرہ کرنے کے بعد بھی بیرونِ ملک برآمد ہوتی ہے۔لیکن پاکستانیوں کو پانچ برس پہلے کے مقابلے میں آٹا تگنی قیمت پر مل رہا ہے۔اس عرصے میں ملک کو سب سے زیادہ ریونیو فراہم کرنے والے صوبہ سندھ میں ناکافی غذائیت کم تو خیر کیا ہوتی اکیس سے بڑھ کے تئیس فیصد ہوگئی۔یہ انہونی بھی ہو رہی ہے کہ کئی خاندانوں کو خوراک خریدنے کے لیے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔

مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ملاح کا حقہ سوکھا کیوں ہے ، چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے۔میں یہ بھی نہیں جانتا کہ الزام حکومت کی ترجیحات پر منڈھا جائے یا یہ کہہ کے جان چھڑا لی جائے کہ یہ سب تو ہمیں ورثے میں ملا ہے۔کوئی الہ دین کا چراغ تو ہے نہیں کہ راتوں رات سب کا پیٹ بھر دیں۔

مگر اے میرے منشور بازو اور مقدس گائیو ! تعلیم گئی بھاڑ میں ، صحت گئی جہنم میں ، روزگار کی بکواس رکھو اپنے پاس۔جو پاکستان کی زمین بفضلِ خدا پیدا کررہی ہے اگر وہی پیدا کاروں میں تقسیم کرنے کا نظام نہیں تو باقی کا کیا کروں؟ اسلحہ برائے امن کی نمائشیں سرآنکھوں پے۔ خوراک برائے امن کی نمائش کب ہوگی ؟؟؟

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم

تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

چبا لیں خود ہی کیوں نہ اپنا ڈھانچہ

تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
منقول...                                   


*اپنے بیٹے کو والد صاحب کی انوکھی نصیحت* 

1- سگریٹ نوشی سے بچو.  
2- بیوی کے انتخاب ميں بہت دور اندیشی سے کام لو کیونکہ تمہاری خوشی یا غمی کا دارو مدار 90% اسی پر ہوتا ہے.
3- بہت سستی چیزیں مت خریدو.
4- بچوں کو اپنے مزاج اور پسند کے مطابق جینے دو، انهیں بالکل اپنے جیسا بنانے کی کوشش مت کرو.
5- تنقید کرنے والوں کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت برباد مت کرو
6- کسی سیاست دان پر کبھی اعتماد مت کرو.
7- جب کسی سے گاڑی ادھار لو تو پورا تیل بھر کر ہی واپس کرو.
8-   موبائل کہیں تمہاری زندگی کے خوبصورت لمحات ميں خلل انداز نہ ہو کیونکہ
                      موبائل تمہاری اپنی راحت و سکون کےلئے ہے نہ کہ دوسرے کی
9- کام مکمل کرنے سے پہلے مزدوری نہ دو
10- جو تم سے زيادہ مالدار یا غریب ہو اس کے سامنے اپنی دولت کا تذکرہ نہ کرو
11- دوستوں کو قرض دینے ميں محتاط رہو کیونکہ ممکن ہے قرض اور دوستی دونوں سے ہاتهہ دھو بیٹھو
12- مخاطب سے اس کی تنخواہ کے متعلق مت پوچھو
13- ہرچیز لکھ لیا کرو. اپنے دماغ پر ہمیشہ بھروسہ مت کرو
14- بچے کو سزا اس کے جرم کے مطابق دو
15- قرض اسے دو جو بغیر مانگے واپس کر دے
16- ہر کوئی تعریف پسند ہوتا ہے اس لئے کسی کی تعریف کرنے ميں بخیلی نہ کرو
17- کسی سے اختلاف یا بحث و مباحثے کے وقت اپنے اخلاق اور سلیقہ مندی کا دامن نہ چهوڑو
18- اپنے علم کو پھیلاؤ اور لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچاو کیونکہ ہمیشہ زندہ رہنے کا یہی واحد راستہ ہے
19- اپنی ذاتی یا مالی تفصیلات کا اظہار بقدر ضرورت ہی کرو
20- اگر کوئی تمہارے دوست کی تعریف کرے تو اپنے دوست سے ضرور اس کا ذکر کرو
21- اگر کوئی تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تو تم اس کے بچے کے ساتھ احسان کر کے اسے سبق سکھاؤ
22- شادی اس سے کرو جو مال و دولت میں تمہارے برابر یا تم سے کمتر ہو
23- کوئی چیز جب تمہیں دو بار ادھار لینے کی ضرورت پڑے تو وہ چیز بازار سے خرید لو
24- روزانہ آدھا گهنٹہ چہل قدمی کرو
25- تمہاری گهڑی وقت سے پانچ منٹ آگے رہنی چاہیے
26- تصنع اور بناوٹ سے دور رہو
27- معمولی چیزوں میں بحث و تکرار مت کرو
28- کسی کے ساتھ احسان کرو تو بھول جاؤ بدلے میں حسن سلوک کی امید مت رکھو
29- جہاں بھی رہو وہاں اپنا اچھا اثر چهوڑنے کی کوشش کرو

*عربی سے منقول*


The Story of Dirty Laundry

A young couple moved into a new neighborhood.

The next morning, while they are eating breakfast, the young woman watches her neighbour hang the washed laundry outside.

"That laundry is not very clean", she said, "she doesn't know how to wash correctly. Perhaps she needs better laundry soap."

Her husband looked on, but remained silent.

Every time her neighbour would hang her washed clothes to dry, the young woman would make the same comments.

About one month later, the woman was surprised to see a nice clean wash on the line and said to her husband:

"Look! She has learnt how to wash correctly. I wonder who taught her this."

The husband said: "I got up early this morning and cleaned our windows!"

And so it is with life:

What we see when we are watching others, depends on the purity of the window through which we look.

Our life is a creation of our mind !!!

So  let us remember this Story of 'Dirty Laundry' and clean our windows before commenting or concluding on others and Your Life will surely give a better view!


*درد بھری تحریر*
بابا بابا ! تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والیعید میں۔ ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟
بابا : ہاں ہاں کیوں نہی بِالکُل ملے گا۔۔
,لیکن بابا پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیںگوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیاہے گوشت دیکھے ہوئے بھی،
نہیں شازیہ :اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھامیری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ 
ڈاکٹر صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیںاور ماسٹر جی بھی تو بکرا لے کر آئےہیں۔ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے۔امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں۔
آج عیدالضحٰی پے مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیںکہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔
خیرعید کا دن بھی آگیا، شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کےگھر پھنچ گیا گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی۔۔ 
بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا۔
بڑی بہن رافیہ بولی۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔
وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا۔۔
کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔ 
سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا کہیں بھول تو نہیں گۓ ہماری طرف گوشت بجھوانا۔
آپ خود جا کر مانگ لائیں۔
شازیہ کی ماں تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں،اللہ کوئ نہ کوئ سبب پیدا کرے گا۔
دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے اسرار پر پہلے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے اور بولے ڈاکٹر صاحب۔ میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟ 
یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگااور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے۔
تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔
توہین کے احساس سے اسکی آنکھوں میں آنسو گئے۔۔
اور بھوجل قدموں سے چل پڑا راستےمیں ماسٹر جیکے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔ 
ماسٹر جی نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلےگئے۔ 
تھوڑی دیر بعدد باہر آۓ تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلے گئے۔
جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔
گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔۔
خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔
بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔
میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔
تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئیاور بولی بابا، 
ہمیں گوشت نہیں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی۔
یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔۔
دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہے تھے۔۔
اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی۔۔
جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔
انور بھائی۔۔۔دروازہ کھولو 
دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیااور بولا
گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔ 
اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔یہ تم بھی کھا لینا۔
خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گئے ۔
اور اکرم کے لیے دل سے دعا نکلنے لگی۔
گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔
بارش شروع ہو گئی۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔
دوسرے دن بھی بجلی نہیں آئی۔ 
پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔
تیسرے دن شازیہ کو لے کرباہر آئے تو دیکھا کہماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔ 
جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ 
اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ بولی۔۔۔
بابا۔ 
کیا کُتوں کے لیے قربانی کی تھی؟ 
وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے ۔ 
اور ماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔ 
خدرا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا۔
یہ صِرف تحریر ھی نہیں۔
اپنے آس پاس خود دار مساکین کی‎
ضرورتوں سے ہمہ وقت آگاہ رہنے کی درخواست بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget