توبہ
حضرتِ موسیٰ کے زمانے میں دوران قحط قوم نے کہا بارش کی دعا کریں۔
دعا ہوئی
مگر دھوپ بڑھ گئی۔
حیران موسیٰ نے سبب پوچھا تو اللہ نے کہا تم میں اک نافرمان ہے، اسے نکالو۔
اعلان کیا گیا۔
نافرمان نے زلت کے ڈر سے دل میں توبہ کی اور اللہ سے کہا:
عزت رکھنے والے آج بھی لاج رکھ۔
بارش ہو گئی
حضرتِ موسیٰ نے اللہ سے پوچھا یہ بارش کیسے ہو گئی کیونکہ “گنہگار” تو مجمع سے نکلا ہی نہ تھا۔
اللہ نے کہا جسکی وجہ سے بارش رکی، اسکی بدولت بارش برسا رہا ہوں۔
جب موسیٰ نے “گنہگار” سے ملنا چاہا تو اللہ نے کہا جب وہ نافرمان تھا تو رسوا نہ کیا، اب فرمانبردار ہو چکا، کیسے شرمندہ کر دوں؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے آمین ثم آمین...
ایک تبصرہ شائع کریں