اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ستمبر 2018


لِسٹ میں نام

آج بابا جی سے ملاقات ہوئی تو خلاف توقع ان کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھا اور وہ واٹس ایپ پہ میسج لکھ رہے تھے۔ یہ صورتحال میرے لئے نہ صرف نئی تھی بلکہ حیران کن بھی۔ حیران ہوکر پوچھا کہ باباجی لگتا ہے تبدیلی واقعی آگئی ہے۔ اس فضول چیز سے ہم پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چھڑا نہیں پا رہے اور ایک آپ ہیں کہ اس عمر میں نیا شوق پال لیا۔ بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے “یہ اتنی بھی بری چیز نہیں۔ میں کافی شاکی تھا اس کے بارے میں لیکن آج اس نے وہ نکتہ بڑی آسانی سے سمجھا دیا جو میں برسوں نہیں سمجھ پایا تھا۔
میری حیرت میں اضافہ ہوگیا۔ ایسا بھلا کونسا نکتہ ہوسکتا ہے جو باباجی کو سمارٹ فون سے سمجھ آیا۔ درخواست کی کہ تفصیلات بیان فرمائیں تاکہ ہم بھی مستفید ہوسکیں۔ 
باباجی بولے کہ میں دس بارہ دن سے دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پہ رابطے میں ہوں۔ جو دوست ایک دو دن کیلئے رابطہ نہیں کرتے ان کے نام اور پیغامات بہت نیچے چلے جاتے ہیں اتنے نیچے کہ میرا ہاتھ تھک جاتا ہے سکرول کرتے کرتے۔ اور جو رابطے میں رہتا ہے وہ لسٹ میں سب سے اوپر رہتا ہے۔ عرض کیا کہ ایسا ہی ہوتا ہے اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ یہ تو ہمیں سالوں پہلے پتا تھا۔ 
بابا جی کہنے لگے، تم نے میری بات پہ غور نہیں کیا۔ ہم سب کا ایک رب ہے۔ جب ہم اسکے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اسکو یاد کرتے ہیں اس سے مانگتے رہتے ہیں تو اس کے پاس موجود لسٹ میں ہمارا نام اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس سے غافل ہوجاتے ہیں لسٹ میں ہمارا نام بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ بس میں یہی نکتہ سمجھا ہوں کہ اگر اس کی لسٹ میں نام اوپر رکھنا ہے تو وقتا” فوقتا” اسے کسی نہ کسی طرح یاد کرتے رہنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Use of Helmet
دو سال پہلے خاندان میں شادی کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجھے شادی کے لئے ایک خوبصورت لڑکی سے ملوایا گیا۔
ملنے کے بعد لڑکی نے میری پرائیویٹ نوکری کو لیکر نا پسند کرتے ہوئے مجھے انکار کر دیا۔
میں نے زچ ہو کر کہا تم غلطی کر رہی ہو، دیکھنا یہی نوکری محض دو سالوں میں مجھے کتنی بلندی تک پہنچائے گی۔
البتہ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی ہوگئی جو ہونی ہی تھی۔
دو سال بعد 
اسی خوبصورت لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ BRAND NEW AUDI کار میں ایک ٹریفک سگنل پر دیکھا۔
اس وقت میں اپنی بائک کو کک مار رہا تھا کیونکہ اس کی بیٹری کام نہیں کر رہی تھی۔
اس نے اپنی کار سے میری طرف دیکھا لیکن سر پر ہیلمیٹ ہونے کی وجہ سے وہ مجھے پہچان نہ سکی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔
اس وقت مجھے ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس ہوا، لہذا اپنی حفاظت کے لئے ہیلمیٹ ضرور پہنیں، جو آپ کو سر اٹھا کر جینے کی راہ دکھائے گا، کبھی شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیگا۔
اور ہاں صرف فلموں میں ہی عاشق دو تین سال میں کروڑ پتی بن جاتے ہیں، اصل زندگی میں دو تین سالوں میں بدلاؤ کچھ زیادہ نہیں ہوتا بس پرانی  70کی جگہ نئی 125 آ جاتی ہے ۔
براہ مہربانی ہیلمیٹ کا استعمال کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 ذرا اک بار سوچ لیں

باپ چار بچوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا، ایک سیٹ پرخاموشی سے بیٹھ گیااور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
بچے؟بچے نہیں آفت کے پرکالے تھے۔انہوں نے ٹرین چلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیاکوئی اوپر کی سیٹوں پر چڑھ رہا ہے ،تو کسی نے مسافروں کا سامان چھیڑنا شروع کر دیاکوئی چچا میاں کی ٹوپی اتار کر بھاگ رہا ہے تو کوئی زور زور سے چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہا ہے۔مسافر سخت غصے میں ہیں کہ کیسا باپ ہے ؟نہ انہیں منع کرتا ہے نہ کچھ کہتا ہے۔
کوئی اسے بے حس سمجھ رہا ہے تو کسی کے خیال میں وہ نہایت نکما ہےبلآخر جب برداشت کی حد ہو گئی تو ایک صاحب غصے سے اٹھ کر باپ کے پاس پہنچے اور ڈھاڑ کر بولے"آپ کے بچے ہیں یا مصیبت ؟
آخر آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں؟
باپ نے ان صاحب کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسووں سےلبریز تھیں اور بولا'آج صبح ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے میں ان کو وہیں لے کر جا رہا ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ ان کو کچھ کہہ سکوں۔ آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔۔۔
سارے مسافرایک دم سناٹے میں آ گئے۔۔۔ایک ہی لمحے میں منظر بالکل بدل چکا تھاوہ شرارتی بچے سب کو پیارے لگنے لگے تھے۔سب آبدیدہ تھےسب انہیں پیار کر رہے تھے،اپنے ساتھ چمٹا رہے تھے۔
زندگی میں ضروری نہیں کہ حقائق وہ ہی ہوں جو بس ہمیں نظرآرہے ہوں بلکہ وہ بھی ہوسکتے ہیں جو ہمیں نظر نہ آ رہے ہو ں۔
یاد رکھیئےرائے بنانے میں وقت لگائیں،بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں،فیصلے سے پہلے ذرا ایک بار اور سوچ لیں

بس ایک بار اور۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭


What's​ the Size of God?  

A boy asked the father: _

What’s the size of God? _ 

Then the father looked up to the sky and seeing an airplane asked the son: 

What’s the size of that airplane? 

The boy answered: It’s very small. I can barely see it. 

So the father took him to the airport and as they approached an airplane he asked: 

And now, what is the size of this one? 

The boy answered: Wow daddy, this is huge! 

Then the father told him: 

God, is like this, His size depends on the distance between you and Him. 

*The closer you are to Him, the greater He will be in your life!*

Loved the explanation....

********



Mother Know's Everything


"پانچ سالہ بچہ"
آئی لو یو ماما
ماں "آئی لو یو ٹو"
"سولہ سالہ بچہ"
آئی لو یو ماما
ماں "سوری، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔"
پچیس سالہ بچہ "آئی لو یو ماما"
ماں "کون ہے، کہاں رہتی ہے
پینتیس سالہ بچہ "آئی لو یو ماما"
ماں "بیٹا پہلے ہی بولا تھا اُس چڑیل سے شادی مت کر۔"
اور سب سے بڑھیا
پینتالیس سالہ بیٹا "آئی لو یو ماما"
ماں "بیٹا میں کسی کاغذ پر دستخط نہیں کروں گی۔"

مورال : ماں سب جانتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget