اردو ورک سٹیشن

اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

Latest Post

ایک سچی کہانی
"آج جب میں نے پاس ہونے والوں کی لسٹ دیکھی، تو پہلی بار اپنی سانس کا بوجھ محسوس ہوا… میرے ساتھ پڑھنے والے سب کے نام تھے، سوائے میرے۔"
یہ جملہ نہیں تھا، یہ ایک ایسا ہتھوڑا تھا جو میرے شیشے جیسے خوابوں پر برسا اور انہیں کرچی کرچی کر گیا۔ پی ڈی ایف (PDF) فائل میں موجود ہزاروں ناموں میں، میں نے اپنی آنکھیں پھاڑ کر اپنا رول نمبر تلاش کیا۔ ایک بار، دو بار، تین بار… مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ اسکرین پر نظر آنے والے دوستوں کے نام مبارکباد کے پیغامات کی طرح چمک رہے تھے، اور میرا نام نہ ہونا ایک خاموش تھپڑ کی طرح میرے وجود پر لگا تھا۔
موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پر گر گیا۔ کمرے میں وہی پرانی خاموشی تھی، مگر آج یہ خاموشی مجھے کاٹ رہی تھی۔
باہر دسمبر کی دھند اپنے عروج پر تھی۔ کھڑکی کے شیشے دھندلے ہو چکے تھے، بالکل میرے مستقبل کی طرح۔ گلی میں سناٹا تھا، صرف کبھی کبھار کسی گزرنے والی موٹر سائیکل کی آواز یا دور بھونکتے کتے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ کمرے کے اندر ہیٹر بند تھا کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری تھی، اور میرے ہاتھ ٹھنڈ سے نیلے پڑ رہے تھے—یا شاید یہ وہ سردی تھی جو ناکامی میرے خون میں انڈیل دی تھی۔
میں اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے میز پر کتابوں کا ایک پہاڑ تھا۔ "ورلڈ افیئرز"، "انٹرنیشنل لاء"، "تاریخ پاکستان"… یہ کتابیں جو کل تک مجھے علم کا سمندر لگتی تھیں، آج مجھے کاغذ کا ردّی ڈھیر محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے ایک کتاب اٹھائی اور دیوار پر دے ماری۔
"کیوں؟" میرے حلق سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔ "آخر کمی کہاں رہ گئی؟ میں نے تو اپنی نیندیں، اپنی خوشیاں، اپنی جوانی سب کچھ اس امتحان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ کیا میں کبھی کامیاب ہو سکوں گا؟ یا میرا مقدر صرف کوشش کرنا ہے، جیتنا نہیں؟"
دروازہ ہلکا سا کھلا۔ امی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھیں۔ ماں کو بتانا نہیں پڑتا کہ اولاد کا دل ٹوٹا ہے۔ وہ خاموشی سے اندر آئیں، چائے میز پر رکھی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ کچھ نہیں بولیں، شاید اس لیے کہ ان کی آواز بھرا گئی تھی۔ وہ باہر تو سب کے سامنے مسکراتی تھیں، کہتی تھیں میرا بیٹا محنت کر رہا ہے، اللہ صلہ دے گا… مگر میں جانتا تھا کہ وہ تہجد میں جب سجدے میں گرتی ہیں تو ان کی ہچکیاں رکتی نہیں ہیں۔ ان کا وہ کانپتا ہوا ہاتھ میرے بالوں میں پھر رہا تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی بجائے ان کے کندھوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔
شام کو بابا گھر آئے۔ تھکے ہوئے، گرد آلود چہرے کے ساتھ۔ وہ سارا دن لوگوں کی باتیں سنتے ہیں، دفتر میں افسروں کی جھڑکیاں سہتے ہیں، صرف اس امید پر کہ ایک دن ان کا بیٹا افسر بنے گا۔ وہ میرے کمرے میں نہیں آئے۔ وہ صحن میں ہی بیٹھ گئے۔ میں نے پردے کی اوٹ سے دیکھا، وہ اپنی عینک صاف کر رہے تھے اور بار بار اپنی آنکھیں رگڑ رہے تھے۔ وہ رو نہیں رہے تھے، مرد روتے نہیں ہیں، وہ بس اندر سے گر رہے تھے۔ ان کی وہ خاموش شکستگی میرے لیے میری اپنی ناکامی سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
میں نے دوبارہ اپنی میز کی طرف دیکھا۔ ان نوٹس کی طرف جو میں نے سال بھر بنائے تھے۔ دل کیا کہ سب کچھ آگ لگا دوں۔ یہ سفر بہت ظالم تھا۔ یہ صرف کتابوں کا امتحان نہیں تھا، یہ اعصاب کا امتحان تھا۔ یہ یہ دیکھنے کا امتحان تھا کہ آپ کتنی بار گر کر اٹھ سکتے ہیں۔
اسی بے بسی کے عالم میں، میں نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ اسکرین پر بے مقصد کلک کرتے ہوئے میری نظر ایک پرانی ای میل یا شاید ایک نوٹیفکیشن پر پڑی۔ یہ MOCC-Online Competitive Exams Academy کی طرف سے بھیجی گئی ایک گائیڈ لائن تھی۔ اس میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں تھی، بس ایک جملہ نمایاں تھا جس نے مجھے روک لیا:
"ناکامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ نااہل ہیں، بلکہ یہ اشارہ ہے کہ آپ کی تیاری میں کوئی ایسا خلا ہے جسے صرف آپ پُر کر سکتے ہیں۔ جذبات سے نہیں، حکمت عملی سے لڑیں۔"
یہ جملہ میرے ذہن میں روشنی کی ایک لکیر بن گیا۔ میں جذباتی ہو رہا تھا۔ میں خود کو کوس رہا تھا۔ لیکن میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ "غلطی" کہاں ہوئی ہے۔
میں نے آنسو پونچھے۔ ایک لمبی، گہری سانس لی۔ میز پر بکھری ہوئی کتابوں کو سمیٹا۔ میں نے اپنے پچھلے پیپرز کے رف (Rough) ڈرافٹس نکالے۔ میں نے اپنی ہی لکھی ہوئی تحریروں کو ایک نقاد (Critic) کی نظر سے پڑھنا شروع کیا۔
اور تب مجھے نظر آیا۔
میری تحریر میں علم تو تھا، مگر ربط نہیں تھا۔ میرے دلائل میں جوش تو تھا، مگر ٹھوس شواہد نہیں تھے۔ میں نے اپنی کمزوریاں تسلیم کرنا شروع کیں۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ خود کو یہ ماننا کہ "میں غلط تھا"۔
میں نے ایک ڈائری اٹھائی اور لکھنا شروع کیا:
— انگلش ایسے (Essay) میں میرا ڈھانچہ کمزور تھا۔
— کرنٹ افیئرز میں میرا تجزیہ سطحی تھا۔
— میں نے سوال کو سمجھنے کی بجائے وہ لکھا جو میں نے رٹا ہوا تھا۔
یہ رات میری زندگی کی سب سے لمبی رات تھی، مگر یہ وہ رات تھی جب میں نے ماتم کرنا چھوڑ دیا اور جنگ کی تیاری شروع کی۔
پھر وقت بدلنے لگا۔ دسمبر کی دھند چھٹنے لگی، مارچ کی ہوائیں چلیں، اور پھر جولائی کی تپتی ہوئی دوپہریں آئیں۔
میرا کمرہ اب قید خانہ نہیں، تربیت گاہ بن چکا تھا۔ میرے دوست کرکٹ کھیلنے جاتے، میں لائبریری کے کونے میں بیٹھا رہتا۔ رشتے داروں کی شادیوں کے کارڈ آتے، میں معذرت کر لیتا۔ لوگ کہتے "یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے"، "نفسیاتی ہو گیا ہے"۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ جس عمارت کی بنیاد گہری کھودی جا رہی ہو، اسے بننے میں وقت لگتا ہے۔
اب میں پڑھ نہیں رہا تھا، میں سیکھ رہا تھا۔ میں نے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ جب گرمی میں پسینہ کتابوں پر ٹپکتا، تو میں اسے اپنی محنت کی سیاہی سمجھتا۔ جب تھک کر آنکھیں بند ہونے لگتیں، تو مجھے بابا کا جھکا ہوا سر اور ماں کا لرزتا ہوا ہاتھ یاد آ جاتا، اور میں منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر دوبارہ بیٹھ جاتا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ دنیا میرے ساتھ نہیں ہے، کوئی میرے حق میں نعرے نہیں لگا رہا، مگر میرا ایمان اور میری محنت میرا سب سے بڑا لشکر ہے۔
یہ سفر تنہائی کا تھا، اور میں نے اس تنہائی سے محبت کر لی تھی۔
پھر… ایک اور سال گزر گیا۔
پھر سے رزلٹ کا دن آیا۔
موسم پھر بدل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اسی کمرے میں تھا، اسی میز کے سامنے۔ لیکن اس بار خوف نہیں تھا، ایک عجیب سا سکون تھا۔ جیسے سمندر طوفان کے بعد پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں نے لیپ ٹاپ کھولا۔ ویب سائٹ لوڈ ہونے میں وقت لگا رہی تھی۔ دل کی دھڑکن پسلیوں سے ٹکرا رہی تھی، مگر ہاتھوں میں وہ پرانی کپکپاہٹ نہیں تھی۔
فائل کھلی۔
میں نے سرچ بار میں اپنا رول نمبر لکھا۔
"Enter" کا بٹن دبایا۔
ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ… اور پھر اسکرین پر میرا نام ابھرا۔
اس بار میرا نام پاس ہونے والوں کی لسٹ میں نہیں تھا…
میرا نام "Allocated Candidates" (منتخب شدہ امیدواروں) کی لسٹ میں چمک رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کمرے کی فضا ساکت ہو گئی۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے دوبارہ دیکھا۔ ہاں، وہ میرا ہی نام تھا۔ وہ میرا ہی رول نمبر تھا۔
میں کرسی سے اٹھا۔ میرے پاؤں میں جان نہیں تھی۔ میں لڑکھڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔
صحن میں امی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھیں۔ بابا چارپائی پر بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے، مگر ان کا دھیان کہیں اور تھا۔
میں ان کے قریب گیا۔ میرا گلا رندھا ہوا تھا۔ میں کچھ بولنا چاہتا تھا مگر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ میں نے بس اتنا کیا کہ اپنا موبائل بابا کے ہاتھ میں دے دیا۔
بابا نے عینک درست کی، اسکرین پر دیکھا۔ ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا، پھر موبائل دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے انہیں سمجھ نہیں آیا۔ پھر ان کے ہونٹ کپکپائے۔
"بیٹا…؟" ان کی آواز میں سوال بھی تھا اور یقین کی انتہا بھی۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
بابا نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ وہ مضبوط باپ، جو کبھی نہیں رویا تھا، آج میرے کندھے پر سر رکھ کر بچے کی طرح رو پڑا۔ ان کے آنسو میری قمیض بھگو رہے تھے اور وہ آنسو میرے لیے دنیا کے کسی بھی میڈل سے زیادہ قیمتی تھے۔
امی نے یہ منظر دیکھا تو وہ جائے نماز پر ہی سجدے میں گر گئیں۔ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا، بس "الحمداللہ" کی سسکیاں تھیں۔
اس لمحے، گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر، میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دسمبر کی سرد ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر اب یہ ہوا مجھے کاٹ نہیں رہی تھی، مجھے تھپکی دے رہی تھی۔ وہ تمام راتیں، وہ تمام طعنے، وہ بھوک، وہ پیاس، وہ تنہائی… سب وصول ہو گیا تھا۔
میں نے اپنی مٹھی بند کی، اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور خود کو وہ بات کہی جو اب میری زندگی کا حاصل تھی:
"میرے خواب بکھرے تھے… مگر میں نہیں بکھرا۔"

تحریر: پروفیسر رانا مبشر رضا

پریشان اور نا امید ہیں ؟ گھبرائیں نہیں اٹھیں اپنی کرچیاں سمیٹیں۔ اگلی لسٹ میں ایک نام آپ کا انتظار کر رہا ہے، بشرطیکہ آپ میدان نہ چھوڑیں۔

یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں!!!
"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)✍️

"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)✍️

"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)✍️

"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)✍️

"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)✍️

"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)✍️

"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)✍️

"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)✍️

"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)✍️

"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)✍️

"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)✍️

"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)✍️

"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)✍️

"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)✍️

"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)✍️

"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)✍️

"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)✍️

"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)✍️

"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)✍️

"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)✍️

"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)✍️

"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)✍️

"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)✍️

"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)✍️

گائے دودھ نہیں دیتی
ایک باپ اپنے چھوٹے بچوں سے کہا کرتا تھا:
"جب تم میں سے ہر کوئی بارہ سال کا ہو جائے گا، تو میں اُسے زندگی کا راز بتاؤں گا۔"
ایک دن، جب سب سے بڑا بیٹا آخر کار بارہ سال کا ہوا، تو اُس نے گھبراہٹ میں اپنے والد سے پوچھا، "تو وہ راز کیا ہے؟"
اس کے والد اُس کے قریب جھکے اور کہا، "میں تمہیں بتاؤں گا، لیکن تم ابھی اسے اپنے بھائیوں کے ساتھ شیئر (بانٹ) نہیں کر سکتے۔ تیار ہو؟ راز یہ ہے: گائے دودھ نہیں دیتی۔"
لڑکا الجھن میں بولا، "آپ کا کیا مطلب ہے؟"
"تم نے صحیح سنا۔ ایک گائے تمہیں یونہی دودھ نہیں دے دیتی—تمہیں یہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں صبح چار بجے اُٹھنا پڑتا ہے، باڑے (اصطبل) سے گزرنا پڑتا ہے، گوبر پر قدم رکھنا پڑتا ہے، گائے کی دُم باندھنی پڑتی ہے، اُس کی ٹانگیں محفوظ کرنی پڑتی ہیں، اسٹول پر بیٹھنا پڑتا ہے، بالٹی نیچے رکھنی پڑتی ہے… اور یہ سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ راز یہی ہے: گائے دودھ نہیں دیتی۔ یا تو تم اُسے دوہو گے (Milk کرو گے)—یا پھر اس کے بغیر گزارا کرو گے۔"
والد نے رُک کر بات جاری رکھی:
"دیکھو، ایک پوری نسل ہے جو سمجھتی ہے کہ گائے دودھ دیتی ہے۔ کہ چیزیں اُنہیں خود بخود، مفت میں مِل جائیں گی۔ اُن کی سوچ یہ ہے کہ، میں چاہتا ہوں، میں مانگتا ہوں، اور مجھے مِل جاتا ہے۔ انہیں ہر چیز آسان طریقے سے پانے کی عادت ہے۔ لیکن زندگی ایسے کام نہیں کرتی۔ زندگی خواہش کرنے، مانگنے اور وصول کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ کوشش کرنے کا نام ہے۔ جو کچھ تمہیں زندگی میں ملتا ہے وہ براہِ راست اُس محنت سے آتا ہے جو تم کرتے ہو۔ خوشی محنت کا نتیجہ ہے۔ اور جب تم محنت کو نظرانداز کرتے ہو، تو تمہارے ہاتھ صرف مایوسی آتی ہے۔"
لہٰذا اُس نے اپنے بچوں سے کہا:
"اِس راز کو کم عمری سے یاد رکھنا، تاکہ تم یہ سوچ کر بڑے نہ ہو کہ حکومت، تمہارے والدین، یا تمہاری مسکراہٹ تمہیں ہر وہ چیز تھما دے گی جس کی تمہیں ضرورت ہے۔ زندگی اِس طرح نہیں چلتی۔
کبھی نہ بھولنا: گائے دودھ نہیں دیتی۔ اسے پانے کے لیے—تمہیں کام کرنا پڑتا ہے۔

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“ میں نے پوچھا ”سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟“
وہ مسکرا کر بولے ”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ میں نے پوچھا ”مثلا“۔۔۔؟ وہ بولے ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
میں نے عرض کیا ”کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ہے“ وہ مسکرا کر بولے ”جی نہیں‘ ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ میں نے عرض کیا ”لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے‘ اداسی‘ نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ہوں‘ یہ سارا دن نارمل نہیں ہوتے“ وہ مسکرا کر بولے ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“ وہ رکے اور پھر بولے ”آپ نے کبھی غور کیا ہم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ہر وقت حیرت‘ ہنسی‘ نفرت‘ خوف‘ اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ہے؟
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ میں نے عرض کیا ”اور کیا محبت جذبہ نہیں ہوتا“ فوراً جواب دیا ”محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ہیں‘ یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کاہوتا ہے‘
آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ہم گناہ‘ جرم اور ذلت سے بچ جائیں لیکن ہم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ہم سنگسار ہوتے ہیں‘ قتل ہوتے ہیں‘ جیلیں بھگتتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
میں نے ان سے عرض کیا ”آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا‘ وہ صاحب غصے میں اندر داخل ہوئے‘ مجھ سے اپنی فائل مانگی‘ میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ہوں لیکن یہ نہیں مانے‘ انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں‘ میرے تن من میں آگ لگ گئی لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رہے گی چنانچہ میں چپ چاپ اٹھا‘
وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی‘ میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ہوئے‘ ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ہو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے‘ میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا‘ ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی‘ لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ہو جاتے‘ہمارے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی‘ میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا؟ پتہ چلتا ہم دونوں بے وقوف تھے‘ ہم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رہے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں‘ وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا‘ ہم سب کا دن اور عزت محفوظ ہو گئی“
میں نے پوچھا ”کیا آپ غصے میں ہر بار نماز پڑھتے ہیں“ وہ بولے ”ہرگز نہیں‘ میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ہوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ہوں‘ میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا‘ میں قہقہہ لگاتے ہوئے بھی بات نہیں کرتا‘ میں صرف ہنستا ہوں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ہوں‘ میں خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ہوں‘ غسل کرلیتا ہوں‘ وضو کرتا ہوں‘ 20 منٹ کیلئے چپ کا روزہ رکھ لیتا ہوں‘ استغفار کی تسبیح کرتا ہوں‘
اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون.کرتا ہوں‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ہوں‘ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہوں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے اور میں فیصلے کے قابل ہو جاتا ہوں“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ہوں تو آپ کیا کرتے ہیں“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور بولے ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ میں منہ نہیں کھولتا‘
میں خاموش رہتا ہوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

روم و فارس کے بادشاہوں کے نام
خالد بن ولید
کا دو ٹوک الفاظ کا خط۔۔۔
''ہتھیار ڈال دو سڑنڈر کر دو ورنہ میں ایسی فوج لیکر آؤں گا کہ جتنا تمہیں اور تمہاری فوج کو اپنی زندگی سے پیار ہے، اتنا مجھے اور میری فوج کو اپنی موت سے پیار ہے''
پھر سرنڈر کے بجائے لڑنے کا نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔! 
دنیا کی دو سپر پاورز کو عرب کے ایک کمانڈر نے نیست و نابوت کر دیا۔
دنیا کی تاریح میں ایسا کوئی جنگی کمانڈر نہیں گزرا جس نے سینکڑوں لڑائیاں لڑی ہوں مگر کبھی ہارا نہ ہو حتی کہ سکندر اعظم، چنگیز خان، جولیس سیزر، نپولین بونا پارٹ بھی کئی مقامات پر لڑائیاں ہارے ہوئے ہیں مگر واحد انسانی تاریح میں خالد ہی ایسا جنرل کمانڈر معلوم پڑتا ھے جو کبھی کوئی لڑائی ہارا نہ ہو۔ 
خالد بن ولید کے بارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا و اجمعین فرماتے تھے۔۔۔ 
مائیں ایسے بچے روز روز جنا (پیدا) نہیں کرتی۔ 
خالد ابن الولید کا قول تھا۔۔۔!

''اگر موت میدانِ جنگ میں لکھی ہوتی تو خالد کبھی بستر پر نہ مرتا''
 کیونکہ انکی اپنی ساری زندگی میدان جنگ میں موت کا سامنا کرتے گزر گئی مگر موت آخر کار انہیں بستر پر آئی میدان جنگ میں نہیں۔ 
خالد ابن الولید کا ایک اور قول تھا۔۔۔! 
''بزدلوں کو کبھی نیند نہ آۓ''

مطلب بزدل ہونا اور حالات کا سامنا کرنے سے گھبرا جانا تو انسان ہونے کا بھی ایک نیچ ترین درجہ ہے۔
سلام ہو سیف اللہ سیدنا خالد ابن الولید رضی اللہ عنہا واجمعین پر۔

ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅
مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے* 
*This is Kamran, how can I help you ?* 

*ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے  باوجود یہ انگریزی ؟
فرمانے لگے "جی بولیے ؟"
ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"
جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،"
 ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “
 اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“
*ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت  اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"
 اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت  بتائیں"
 ہم نے کہا," سر نہیں، جناب,  اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے"
شکایت سننے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"
ہم نے کہا، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے، 
ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے  اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."
ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے" 
کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!*“ 
ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!!
کہنے لگے," میرے باپ کی بھی توبہ....!!
😅😅😅 
_______________________________

*‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*

 "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..

آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. 

بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .

اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. 

شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.

 مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.

شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..

 عورت نے جواب دیا..

 "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

شیوانا نے مسکرا کر کہا.. 

"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟

 اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. 

تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..

 یہ بُت احمق نہیں ھے..

وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی 

مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. 

کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے.. 

جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!

مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔

سائیکالوجسٹ: کیسے ہو؟
میں: ٹھیک ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: ذہنی طور پہ کیسے ہو؟
میں: ٹھیک نہیں ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: معلوم ہوتا تو کیا یہاں بیٹھ کے آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا؟

سائیکالوجسٹ: کیا محبت کا مسئلہ ہے؟
میں: نہیں، محبتوں کا ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: کتنی بار محبت کی ہے؟
میں: معلوم نہیں ، ابھی بیٹھے بیٹھے آپ کی گفتگو سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: پہلی محبت کب ہوئی تھی؟
میں: جب پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔۔

سائیکالوجسٹ: آخری محبت کب ہوئی؟
میں: جب کالج میں تھا۔۔
 

سائیکالوجسٹ: تو پھر دوبارہ محبت کیوں نہیں کی؟
میں: کیونکہ آخری محبت بھلائی نہیں جا رہی ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: وہ آخری کیوں تھی؟
میں: کیونکہ اس کے بعد محبت کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔۔

سائیکالوجسٹ: ابھی تو کہہ رہے تھے آپ کی گفتگو سے محبت کر رہا ہوں۔ پھر؟
میں: وقتی ہے دل بہلانے کے لیے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی محبت یہیں چھوڑ جاؤں گا۔

سائیکالوجسٹ: اس کی محبت کو اتنا سوار کیوں کر رکھا ہے؟ ایسا کیا ہے، اس کی محبت میں جو تم کسی اور میں تلاش نہیں کر پا رہے؟
میں: اس کی غزالی آنکھوں کی نمی اور اس کی مہک کے حصار نے کبھی گھیرے سے باہر نکلنے نہیں دیا

سائیکالوجسٹ: آخری بار کب ملے تھے؟
میں: یہاں آنے سے پہلے ہی ملا تھا۔

سائیکالوجسٹ: کہاں؟
میں: آئینے کے سامنے جب بال سنوار رہا تھا۔

سائیکالوجسٹ: وہ ساتھ تھی؟
میں: وہ الگ کب ہوئی؟

سائیکالوجسٹ: الگ کرو گے تو کسی اور سے محبت ہوگی۔۔
میں: آخری محبت ہے کیسے بھولوں؟

سائیکالوجسٹ: تم نے آخری بنا رکھا ہے۔ 
میں: وہ سوار ہے بھلائی نہیں جاتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: کیا چیز بھولنے نہیں دیتی؟
میں: یہ چائے کا کپ جو سامنے پڑا ہے۔ 

سائیکالوجسٹ: ہم اس کی جگہ کافی بھی رکھ سکتے ہیں۔
میں: میڈم یہ آپشن محبت میں نہیں ملا کرتے۔

سائیکالوجسٹ: خوش کب ہوتے ہو؟
میں: جب اکیلا ہوں۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: کیونکہ تنہائی میں ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: دن میں کتنی بار ملاقات ہوتی ہے؟
میں: دن میں اتفاق سے ہوجاتی ہے ورنہ رات میں لازم۔

سائیکالوجسٹ: اور رات میں کب تک؟
میں: جب تک نیند نا آئے۔

سائیکولوجسٹ: نیند کب تک آ جاتی ہے؟
میں: جب تک ملاقات میں ناراضگی نا آ جائے۔۔

سائیکولوجسٹ: ناراضگی سے نیند کا کیا تعلق؟
میں: جب وہ ناراض ہوتی ہے پھر میں اداس ہو کر روتا ہوں اور روتا روتا کب سو جاؤں معلوم نہیں پڑتا۔۔

سائیکالوجسٹ: تو پھر اگلے دن ملاقات کیسے ہوتی جب ناراضگی ہو؟
میں: صبح اٹھتے ہی ہم اک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔

سائیکالوجسٹ: کیا وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے؟
میں: یقیناً ورنہ آج بھی ساتھ نا ہوتی۔۔

سائیکالوجسٹ: تم پاگل ہو۔۔
میں: اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔
میں: پاگل ٹھیک ہوتے ہیں؟

سائیکالوجسٹ: بالکل ہوتے ہیں۔۔
میں: کیا آپ لوگ پاگل نہیں ہوئے کبھی؟

سائیکالوجسٹ: مطلب؟؟
میں: کیا آپ لوگ محبت نہیں کرتے؟

سائیکالوجسٹ: کرتے ہیں۔۔
میں: پھر جب جدائی ملے تب پاگل نہیں ہوتے؟

سائیکالوجسٹ: ہوتے ہیں۔۔
میں: پھر آپ لوگ جب خود پاگل ہو تو ہمارا علاج کیسے کر رہے؟

سائیکالوجسٹ: زوردار قہقہ مار کر ہنسنے لگی 
میں: اب میں جاؤں؟

سائیکالوجسٹ: ہاں جاؤ 

میں اٹھا اور وہ ہنستے ہنستے میز پہ رکھے ٹشو سے آنسو پوچھنے لگی۔

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة 
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
 امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
 " امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

  (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
 جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

 ( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
 ( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

 ( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں 

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
 جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

 كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے 

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

 "وأزواجنا"

 زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget