اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جنوری 2025

یأجوج و مأجوج کون ہیں؟

‏یأجوج و مأجوج دو قبائل کے نام ہیں جو ایک ساتھ رہتی ہیں۔

‏ان کا نسب:

‏یہ دونوں قبائل حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ساتھ ہی حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں، یعنی یہ عام انسان ہیں۔
‏یہ نہ تو جنات ہیں، نہ خلائی مخلوق اور نہ ہی کوئی افسانوی مخلوق، جیسا کہ بعض کہانیاں بیان کرتی ہیں۔

‏ان کا ماضی:

‏یأجوج و مأجوج طویل عرصے تک باقی انسانوں سے الگ تھلگ رہے، جس کی وجہ سے وہ تہذیب و تمدن میں باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے۔
‏ذوالقرنین کے زمانے میں یہ لوگ دو پہاڑوں کے درمیان رہتے تھے اور لوگوں کو لوٹ مار، قتل و غارت اور فساد سے تنگ کرتے تھے۔
ایک مومن بادشاہ جو زمین پر سفر کرتا اور لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔
‏- اس کے پاس ایک بہت بڑی اور طاقتور فوج تھی۔
‏- وہ اپنے فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کرتا تھا۔
‏- اللہ نے اسے حکمت، علم، قوت، اور ایمان عطا کیا تھا۔
‏ذو القرنین اپنی عظیم فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کر رہا تھا، لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔
‏یہاں تک کہ وہ ایک ایسی قوم سے ملا جو دو پہاڑوں کے قریب رہتے تھے۔
‏لیکن وہ ان کی زبان نہیں سمجھتا تھا، اس نے ان کے درمیان ایک مترجم رکھا... 
ابن کثیر اپنے تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس نے ان کے درمیان درجنوں مترجمین رکھے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
‏وہ لوگ ذو القرنین سے کہنے لگے: اے ذو القرنین، ہمیں یأجوج و مأجوج سے بچاؤ۔
‏ذو القرنین نے پوچھا: یأجوج و مأجوج کون ہیں؟
‏انہوں نے جواب دیا: وہ مفسد ہیں، کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں، ہمارے کھیتوں اور نسلوں کو تباہ کرتے ہیں۔
‏ذوالقرنین نے اللہ کے حکم سے ان کے لیے ایک مضبوط دیوار بنا دی تاکہ یہ باقی دنیا سے الگ ہو جائیں۔ 
ان کی کثرت:
‏یأجوج و مأجوج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ قیامت کے دن، اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائیں گے:
‏"اے آدم! اپنی اولاد میں سے جہنم کے لیے افراد نکالو"
‏آدم علیہ السلام پوچھیں گے:
‏"کتنے؟"
‏اللہ فرمائیں گے:
‏"ہر ہزار میں سے 999 جہنم میں اور 1 جنت میں"
‏یہ سن کر صحابہ کرام خوفزدہ ہو گئے اور پوچھا:
‏"یا رسول اللہ! وہ ایک کون ہوگا؟"
‏رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
‏"وہ ایک تم میں سے ہوگا، اور 999 یأجوج و مأجوج میں سے ہوں گے۔" 

یأجوج و مأجوج کے کفریہ عقائد:

‏یأجوج و مأجوج کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔
‏جب وہ دیوار سے باہر نکلیں گے تو زمین پر فساد مچائیں گے۔
‏ان کی کفر کی شدت کا یہ حال ہوگا کہ وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، اور جب وہ تیر خون سے واپس آئیں گے تو وہ دعویٰ کریں گے:
‏"ہم نے زمین والوں کو زیر کر لیا اور آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے۔"

ان کا انجام:

‏یأجوج و مأجوج کو اللہ تعالیٰ ایک خاص کیڑے (النغف) کے ذریعے ہلاک کرے گا، جو ان کی گردنوں پر حملہ کرے گا۔
‏ان کی لاشیں زمین کو بھر دیں گی اور بدبو پھیل جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعا کریں گے، تو اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا جو ان لاشوں کو اٹھا کر لے جائیں گے اور زمین کو پاک کرے گا۔

‏ان کا موجودہ مقام:

‏یأجوج و مأجوج کہاں ہیں؟ یہ ایک ایسا راز ہے جو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
‏ان کا مقام یا تو زمین کے نیچے کسی گہرائی میں ہے یا کسی ایسی جگہ پر جہاں انسانوں کی رسائی ممکن نہیں۔
‏رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، اور جب سورج کی روشنی قریب آتی ہے تو ان کا سردار کہتا ہے:
‏"کل دوبارہ آئیں گے، ان شاء اللہ۔"
‏یہی "ان شاء اللہ" کہنا ان کے آخری دن میں فیصلہ کن ہوگا جب وہ دیوار کو مکمل کھود کر باہر نکلیں گے۔اور یہ دنیا میں فساد برپا کریں گے۔

مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی ؑ اور تمام مسلمان مل کر اللہ سے دعا کریں گے ۔ یہ ان سے جان چھڑا دیں۔ 
‏پھر ا للہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسا کیڑ اپیدا کرے گا جو ان کی موت کا باعث بنے گا۔ پوری زمین ان کی لاشوں سے بھر جائے گی ۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی جو زمین کو ان تمام لاشوں سے پاک کردے گی۔
‏ یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ظہور مہدی ؑ پھر خروج دجال کے بعد ہوگا۔
‏اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوکر دجال کو قتل کرچکیں ہوں گے۔ 
‏ان کے نکلنے کی ایک علامت بحریہ طبریہ کے پانی کا تیزی سے کم ہونا بیان کیا جاتا ہے، جس کا حدیث مبارکہ میں بھی ذکر ہے ۔ اور یہی وہ وقت ہو گا جب قیامت قریب ہو گی ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔

ہماری ذمہ داری:

‏یأجوج و مأجوج کے بارے میں ایمان رکھنا ایمان بالغیب کا حصہ ہے۔
‏اللہ نے ان کا ذکر ہمیں اس لیے کیا تاکہ ہم جان سکیں کہ آزمائشوں سے بچنے کے لیے ہمیں سدی بندش کی ضرورت ہے۔۔

‏جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی رضا کے لیے ہر آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔
‏"جو اللہ کے لیے کسی چیز کو ترک کرتا ہے، اللہ اسے بہتر سے نوازتا ہے۔۔۔

‏اللہ_ہمیں_محفوظ_رکھے

باولا پن ۔ rabies  

بے شک اسکا کوئی علاج نہیں اور انجام موت ہے بلکہ ڈاکٹر حضرات لواحقین سے دستخط لے کے خود مریض کو زہر کا انجیکشن لگا دیتے ہیں کیونکہ مریض ہر کسی کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور جسکو کاٹ لے اس میں بھی Rabies virus منتقل ہو جاتا ہے. اگر آپ کے علم میں کوئی ایسا مریض آئے تو برائے مہربانی اس کے گھر والوں کو بولیں کہ جو علاج میں ابھی بتانے لگا ہوں یہ ضرور آزما کے دیکھ لیں انشااللہ ضرور شفاء نصیب ہو گی.

 عللاج نمبر 1 اگیوامریکانہ Agave Americana یہ قبرستانوں میں عام پایا جاتا ہے ..
پنجابی میں اس کو لپھڑا کیتے ھیں..کشمیر میں اس کو ,, کمال گندل ,, بولتے ہیں اس لیے کہ یہ کمال کی چیز ہے اور بہت سی بیماریوں میں استمال ہوتی ہے ۔۔اسے کیوڑہ بھی کہتے ہیں ۔

 پہچان کیلیے اسکی تصویر لگا دی ہے. اس پودے کا ایک پتا مریض کے آگے پھینک دیں وہ خود ہی اسکو کھانا شروع کر دے گا. جوں جوں کھاتا جائے گا اسکا پاگل پن اور Rabies جاتا جائے گا.

 عللاج نمبر 2: ہومیوپیتھی کی ایک دوائی ہے Lysin 1M اس کے 5 قطرے مریض کے منہ میں ڈال دیں اور ہر 3 گھنٹے بعد دہراتے رہیں جب تک مریض کے حواس نہ بحال ہو جائیں. آپ اس میسج کو اپنی وال پر بھی post کر دیں کسی ایک کی بھی جان بچ جائے تو سمجھیں ساری انسانیت کو بچا لیا.

🌹جس کو کوئی شک ہو وہ خود تحقیق کر لے ۔۔۔۔
 ڈاکٹر شیخ متین 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

پنجابی / دیسی مہینوں کا تعارف اور وجہ تسمیہ :
1- چیت/چیتر (بہار کا موسم)
2- بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، ملا جلا) 
3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ) 
4- ہاڑ/اساڑھ/آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز) 
5- ساون/ساؤن/وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون) 
6۔ بھادوں/بھادروں/بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں) 
7- اسُو/اسوج/آسی (معتدل) 
8- کاتک/کَتا/کاتئے (ہلکی سردی) 
9۔ مگھر/منگر (سرد) 
10۔ پوہ (سخت سردی) 
11- ماگھ/مانہہ/کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند) 
12- پھاگن/پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا آغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کو پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

1: 14 جنوری۔۔۔۔۔۔۔ یکم ماگھ
2: 13 فروری۔۔۔۔۔۔۔ یکم پھاگن
3: 14 مارچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم چیت
4: 14 اپریل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم بیساکھ
5: 14 مئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم جیٹھ
6: 15 جون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم ہاڑ
7: 17 جولائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم ساون
8: 16 اگست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم بھادروں
9 : 16 ستمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم اسوج
10: 17 اکتوبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم کاتک
11: 16 نومبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم مگھر
12: 16 دسمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکم پوہ

پنجابی دیسی کیلنڈر میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے. ان پہروں کے نام درج ذیل ہیں ۔
1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

6۔ کفتاں ویلا:
رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

7۔ ادھ رات ویلا:
رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

8۔ سرگی/اسور ویلا:
صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت ۔۔۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget