اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

2018

حرام کی کمائی
ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد ( شیخ ) ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ان سے ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ، ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:  ”
ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ ۔ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ “
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ ۔
ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ  ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎئی۔
ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ : ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ۔ ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ: ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ شیخ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎیا : ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ،
ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ،
ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﯽ،
ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ
ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ؟
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ “
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ :
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ریاضت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ، ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ ، ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ” ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ “
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ: ” ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ، ﺳﻨﻨﮯ ، ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ۔
ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ،
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ،
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ ، تباہ کردیگا ، ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ، بے قیمت کردیگا آپنے گھر میں آپنے پڑوس میں اور پورے دنیا میں پھر معاشرے میں آپ کی کوئی اہمیت ہی نہ رہیگی۔ اور آپ کے چہرے کی رونق ختم ہوجائیگی ۔۔۔۔

*صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے*

01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔

02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔

03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔

04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔

05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔

06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔

07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔

08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔

09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔

10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔

11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔

12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔

13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔

14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔

15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔

16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔

17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔

18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔

19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔

20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔

21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔

22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔

23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔

24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔

25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے

صدقہ احادیث کی روشنی میں

1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

4.  سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

5.  الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7.  استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

8.  راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10.  بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

20. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]

32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]

33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم:  1553]

34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]

35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]

36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]

اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بن جائیں...


*حیرت انگیز معلومات*
کیا آپ جانتے ہیں؟
v   اللہ کے حروف 4 ہیں  
v   محمد کے حروف 4 ہیں
v   رسول کے حروف 4 ہیں
v   کتاب کے حروف 4 ہیں
v   قرآن کے حروف 4 ہیں
v   مسجد کے حروف 4 ہیں
v   کلمہ کے حروف 4 ہیں
v   نماز کے حروف 4 ہیں
v   روزہ کے حروف 4 ہیں
v   زکوٰۃ کے حروف 4 ہیں
v   سورج کے حروف 4 ہیں
v   چاند کے حروف 4 ہیں
v   جہاد کے حروف 4 ہیں
v   زمین کے حروف 4 ہیں
v   نکاح کے حروف 4 ہیں
v   طلاق کے حروف 4 ہیں
v   دنیا کے حروف 4 ہیں
v   آخرت کے حروف 4 ہیں
v   سوال کے حروف 4 ہیں
v   جواب کے حروف 4 ہیں
v   ثواب کے حروف 4 ہیں
v   عذاب کے حروف 4 ہیں
v   بہشت کے حروف 4 ہیں(جنَّت)
v   دوزخ کے حروف 4 ہیں (جہنم)
v   حضور اکرم  کے دوست 4 ہیں
v   بڑے فرشتے 4 ہیں
v   آسمانی کتابیں 4 ہیں
v   خلفائے راشدین 4 ہیں
v   مشہور صوفی سلاسل 4 ہیں
v   اِمام مجتھدِ مطلق 4 ہیں





ایک اُبلا انڈہ کتنے کا ہے؟ '' گاڑی روک کر خاتون نے بوڑھے غریب سے پوُچھا''
15 روپے کا ایک بیٹی۔۔۔ بزرگ نے سردی سے ٹھٹھرتی آواز میں کہا۔
50 روپے کے 4 دیتے ہو تو بولو۔ ''خاتون بولی''
لے لو بیٹی، بزرگ نے یہ سوچ کر کہا کہ کوئی گاہک تو ملا۔
اگلے دن خاتون اپنے بچوں کو لےکر ایک مہنگے ریسٹورنٹ گئی اور سب بچوں کا من پسند کھانا آرڈر کیا، کھانا کھانے کے بعد جب بل 1900 روپے آیا تو پرس سے 2000 روپے نکال کر دیئے اور "Keep The Change" کہ کر چلی گئی۔
تو گویا اِس خاتون نے اپنی فتح اِس میں سمجھی کہ جس بوڑھے انڈے بیچنے والے کو زیادہ پیسے دینے چاہیئے تھے تو اِس کا حق مار لیا، اور جو پہلے ہی بڑے ناموں کے ریسٹورنٹس بنا کر عوام کو لوٹ رہے ہیں اُن کو 100 روپے زیادہ دے دیئے۔
کبھی اِن غریبوں سے یہ سوچ کر ہی خریداری کر لیا کریں کہ شاید ہم کسی کی مدد کا سبب بن جائیں۔ سوچیئےگا ضرور....

وہ: چاند کتنا حسین ہے نا
میں: مجھے نہیں لگتا ۔۔۔
وہ: کچھ اچھا بھی لگتا ہے ؟
میں: ہاں
وہ: کیا ؟
میں: تم
وہ: اوہو جناب واہ آپکے اندر بھی رومینٹک ازم
میں: کبھی کبھی
وہ: اگر ایسا ہی ہے تو جب میں نے چاند کی بات کی تو آپ مجھے چاند کہہ سکتے تھے
میں: نہیں بلکل نہیں
وہ: کیوں ؟
میں: کیونکہ آپ زمین پر رہنے والی وہ خدا کی عظیم تخلیق ہو جس کی خدمات میں سورج دن میں روشنی لئے اور چاند رات میں چاندنی لئے پیش پیش رہتا ہے ۔۔۔
وہ: نہایت بیکار اور فضول بات تھی ویسے یہ
میں: خیر ہے
تین جگہ ہار جانا چاہیے اگر جیتنا چاھتے ہو تو
1:والدین سے
2:اپنے استاد سے
3:
اور اس سے جس سے آپ محبّت کرتے ہو 



کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔! سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔! میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر  مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔! وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔! حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔! صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!

 اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔! میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔! تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔! اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو بھر جاتی ہے۔۔۔! پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔!

          صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی۔۔۔! اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔! میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔!  صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔! آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔! اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔! وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے میں نے اُس کی منتیں کر کے اُسے کھانے میں شریک کر لیا۔۔۔! پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔! میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔!اس نے  پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔! اور پھراکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔! میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں شریک کرنے لگا۔۔۔!  وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔! اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔! خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟ میں سکول سے کار آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ  مچا دیتا۔۔۔! ایک  دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔! پُتر  تجھے ساتھ پراٹھا بنا کر دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔! اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں۔۔۔! آتے ساتھ بُھوک بُھوک  کی کھپ مچا دیتا ہے۔۔۔! جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔۔۔!

          میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔! پر اماں نے اُگلوا کر ہی دم لیا۔۔۔! ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک  پڑی اور کہنے لگی۔۔۔! کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔! میں نے  کہا اماں پراٹھے دو ہوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔!میں تو  کار آکر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔! صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔! کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟ 

          میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔! پانچویں جماعت میں پڑھنے والے پھیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔! بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔! اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔! ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔! اور بندہ  پھرکبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔! پھیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔! اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔! اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔!  مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔!

          صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے کار جانے لگی۔۔۔! “دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔! صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے کار کام پر لگوا دیا۔۔۔! تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔! اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔!  اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔! اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔

 کل وقار آیا تھا۔۔۔! ولایت میں رہتا ہے جی واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔!  پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بن گیاہے۔۔۔! اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے۔۔۔! صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔! یار لوگ اسکول بنواتے ہیں ہسپتال بنواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

 کہنے لگا۔۔۔! پھیکے بھوک بہت ظالم چیز ہے چور ڈاکو بنا دیا کرتی ہے۔۔۔! خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔! ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔!  تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے پھیکے۔۔۔! سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے۔۔۔! اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔! پھر  کہنے لگا۔۔۔! یار پھیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔! جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔! چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے بل بڑھ گئے تھے۔۔۔! اور مکھن بھی۔۔۔! آدھا پراٹھا کھا کر ہی میرا پیٹ بھرجایا کرتا۔۔۔! اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا  پھیکے۔۔۔!  وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔! اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔

 اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا پھیکے اور وقار کی۔۔۔! بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔

 پھیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔! اُس نے کہا تھا۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔! اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔! دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔! میں پاس ہی تو چونکی  پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔! روٹی بیلتے بیلتے نماز کا سبق پڑھاتی میرے ساتھ نکیاں نکیاں گلاں کرتی۔۔۔! آج بھی ویہڑے میں پھرتی نظر آتی ہے۔۔۔! پھیکا ماں کو یاد کر کے رو رہا تھا۔۔۔
 سورج کی پہلی کرن جیسا روشن چہرہ تھا اماں کا صاحب جی۔۔۔! باتیں کرتے کرتے پھیکا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اُس پل میں لے گیا اور ایک دم میرے سامنے کسی پُرانْی فلم کی طرح سارا منظر بلیک اینڈ وائٹ ہو گیا۔۔۔! زندگی کے کینوس پر صرف ایک ہی رنگ بکھرا تھا مامتا کا رنگ۔۔۔!

 سچ ہے ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔۔۔!  آج ملک کے حالات کرپشن اور مسائل کو دیکھتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا۔۔۔! کاش سب مائیں پھیکے کی اماں جیسی ہو جائیں۔۔۔! میں ہر بار پھیکے سے ملنے کے بعد وطن کی بند کھڑکیوں  سے چھن چھن کر آتی سنہری روشنی کو دیکھتا ہوں۔۔۔!  روشنی جو راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے۔۔۔!
لکھاری #مبشرہ_ناز



مجھے تم یاد آتے ہو
خیالوں میں
سوالوں میں

محبت کے حوالوں میں
تمہیں آواز دیتا ہوں
تمہیں واپس بلاتا ہوں

جب کوئی نظم کہتا ہوں
اسے عنوان دیتا ہوں
مجھے تم یاد آتے ہو

تمہاری یاد ہونے سے
کوئی سرگوشی کرتا ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں

دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں پلکوں کو جھکاتا ہوں
بظاہر__مسکراتا ہوں

فقط اتنا ہی کہتا ہوں

مجھے کتنا ستاتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


*کہیں آپ ناشتے میں یہ غلطیاں تو نہیں کرتے؟*
جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔
مگر چند عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے ناشتے کو کم صحت مند بلکہ نقصان دہ بنانے کا باعث بنتی ہیں۔
*کیا آپ ان عادات سے واقف ہیں؟*

*روزانہ مختلف ناشتہ کرنا*
ایک برطانوی تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتے میں مختلف چیزوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں کمر بڑھنے یا موٹاپے کا امکان 90 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

*غذائیت بخش غذا سے دوری*
اگر تو آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو صبح کا ناشتہ تگڑا ہونا چاہیے کیونکہ بڑا اور غذائیت سے بھرپور ناشتے کا استعمال معمول بنالینا کچھ ہفتوں میں بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، کچھ عرصے پہلے کی ایک اسرائیلی تحقیق کے مطابق پروٹین سے بھرپور ناشتہ بھوک بڑھانے والے ہارمون کی سطح کم کرتا ہے۔

*ناشتہ دیر سے کرنا*
اگر آپ کو صبح اٹھنے کے بعد بھوک نہیں لگتی تو اپنی غذائی عادات کا جائزہ لیں، ممکنہ طور پر آپ رات کو بہت زیادہ کھاتے ہوں گے، تاہم اگر صبح بھوک نہ بھی لگے تو بہتر یہی ہے کہ اٹھتے ہی کچھ نہ کچھ کھالیں چاہے ایک سیب یا کیلا ہی تاکہ جسمانی میٹابولزم اپنا کام شروع کردیں۔

*جلد بازی*
اگر آپ کو دفتر یا کہیں جانے کی جلدی ہے اور کچھ بھی اٹھا کر کھالیتے ہیں تو یہ عادت آپ کا پیٹ بھرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جلد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے اور بازار کی ناقص اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جو موٹاپے کا باعث بنتی ہیں جبکہ تیز چبا کر خوراک کو نگلنا بھی نظام ہاضمہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

*میٹھی اشیا کا استعمال*
ناشتے میں Cereal کا استعمال جسم میں چینی یا شکر کی مقدار میں اضافہ کردیتا ہے کیونکہ اس کی تیاری کے لیے چینی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس کے نیتجے میں اس کی تھوڑی مقدار ہی پیٹ بھر دیتی ہے جبکہ اس کی مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح بڑھاتی ہے اور بہت جلد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے جو جنک فوڈ کی جانب متوجہ کرتی ہے۔

*چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال*
چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال وزن کم کرنے کے لیے اچھا انتخاب محسوس ہوتا ہے مگر جسم کو اس صورت میں کیا فائدہ ہوگا جب وہ اسے ہضم ہی نہیں کرسکے گا؟ عام دودھ ناشتے کے لیے زیادہ بہتر انتخاب ہے جبکہ چکنائی سے پاک دودھ دن کے کسی اور وقت استعمال کرنا چاہیے۔

*فلیور ملک کا استعمال*
اگر تو آپ فلیور ملک جیسے بادام، سویا یا ناریل کے دودھ کو عام دودھ کے صحت مند متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ اگر ان میں مٹھاس شامل ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لوگ ایسے فلیور ملک کی شکل میں زیادہ شکر جسم کا حصہ بنالیتے ہیں جس کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔

*پروٹین اور صحت مند چربی سے دوری*
پروٹین جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں جبکہ صحت مند چربی پیٹ بھرنے اور بے وقت کی بھوک کی روک تھام کرتی ہے۔ تو صحت مند چربی اور پروٹین سے بھرپور ناشتہ جیسے انڈے، گریاں، مکھن اور دہی جسم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

*چائے یا کافی کا نہار منہ استعمال*
خالی پیٹ کافی یا چائے کا استعمال جسم کے لیے بہت زیادہ تیزابی ثابت ہوتا ہے اور ناشتہ کم کھانے پر مجبور کرکے دن بھر میں الم غلم اشیاء کے استعمال پر مجبور کرسکتا ہے۔ درحقیقت یہ عادت بھوک کی سطح، توانائی کی سطح اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

*چائے یا کافی کو کیلوریز فری سمجھنا*
چائے ہو یا کافی، دونوں میں کیلوریز، کاربوہائیڈریٹس اور چینی موجود ہوتی ہے ماسوائے اگر آپ بغیر دودھ یا چینی کی چائے یا کافی پینے کے عادی ہوں۔ دودھ، چینی وغیرہ کے اضافے کے بعد ان مشروبات میں کیلوریز کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ چینی کی جگہ دارچینی کا اضافہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

*فروٹ جوسز*
اگر تو آپ بازار میں ملنے والے ڈبہ بند فروٹ جوسز ناشتے میں پینے کے عادی ہیں تو ان کو پینے سے فوری طور پر تو توانائی کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود شکر ہوتی ہے مگر جلد ہی بلڈ شوگر لیول گرجاتا ہے اور سستی طاری ہونے لگتی ہے۔ جوس کے مقابلے میں پھل کو کھانا زیادہ بہتر متبادل ہے۔

*زردی کی بجائے صرف انڈے کی سفیدی کھانا*
انڈے کی سفیدی کم چربی اور کیلوریز والا پروٹین جسم کا حصہ بناتی ہے، اس کے مقابلے میں زردی آئرن، وٹامن بی اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے، صرف سفیدی کی بجائے پورا انڈہ کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتا ہے اور بے وقت کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ اگر آپ کولیسٹرول کو لے کر پریشان ہیں تو انڈوں کی تعداد ایک ہفتے میں پانچ سے آٹھ تک محدود کرسکتے ہیں، تاہم طبی سائنس کے مطابق انڈوں سے کولیسٹرول کی سطح بڑھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

*چائے یا کافی میں بہت زیادہ کریم یا ملائی ڈالنا*
کافی یا چائے اس وقت صحت بخش نہیں رہتے جب ان میں چکنائی سے بھرپور ملائی اور چینی کا اضافہ کردیا جائے، تو اس سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔

*بہت زیادہ نمک*
چینی کی طرح بہت زیادہ نمک کا ناشتے میں استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، نمک کے زیادہ استعمال سے جسم میں پانی ایک جگہ جمع ہوتا ہے جس سے پیٹ پھولتا ہے۔

*بہت زیادہ فائبر*
صبح بہت زیادہ فائبر غذا کا حصہ بنانا پیٹ میں گیس بڑھانے کا باعث بنتا ہے، اگر آپ ضرورت سے زیادہ فائبر استعمال کریں تو مناسب مقدار میں پانی پینا غذائی نالی کے افعال درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔


MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget