اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال 2

نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال 2

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نوزائیدہ بچے کی فوری طور پر پوری طرح جانچ کی جانی چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ پوری طرح سے صحت مند ہے۔ اگر ابتدائی جانچوں میں کسی پیدائشی نقص کا پتہ چل جائے تو فوری طبی امداد اور غیر معمولی دیکھ بھال کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں میں مندرجہ ذیل علامات ہوں تو والدین کو خصوصی توجہ دینی چاہیے اور مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔

سستی:
نوزائیدہ بچے زیادہ تر وقت سوتے رہتے ہیں۔ تاہم، بچے کو کچھ گھنٹے کے بعد جاگنا چاہیے اور اس کے بعد بھرپور غذا لینی چاہیے۔ غذا کے بعد اسے مطمئن اور چاک و چوبند نظر آنا چاہیے۔ اس تبدیلی پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر بچہ سست ہے، چوکس نہیں یا غنودگی جیسی حالت میں رہتا ہے تو یہ کسی بھی تشویشناک بیماری کی علامت ہوسکتی ہے۔ اگر وہ بہت زیادہ تھکا ہوا نظر آئے اور خوراک کے لیے نہ جاگے، تو آپ کو بچے کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سانس:
نوزائیدہ بچے کے سانس کو نارمل ہونا چاہیے اور اسے عام انداز میں سانس لینا چاہیے۔ عام طور پر سوتے وقت وہ زیادہ روانی کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ کبھی کبھار بچہ جاگنے کے بعد تیزی سے سانس لیتا ہے لیکن جلد ہی اس کا سانس معمول پر آ جاتا ہے۔ اگر آپ کو مندرجہ ذیل باتوں میں سے کچھ نظر آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے: ٭ وہ لگاتار تیز سانس لے رہا ہے۔ ٭ سانس لینے کے لیے اسے کوشش کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کے ساتھ اسے چوسنے میں بھی مشکل ہو رہی ہے۔ ٭ سانس لیتے وقت ناک کے نتھنے کھل جاتے ہیں۔

جلد اور ہونٹوں کا رنگ سیاہی مائل یا نیلا دکھائی دیتا ہے۔
نوزائیدہ بچے کو ٹھنڈے ماحول میں لے جانے پر کبھی کبھی اس کے ہاتھ اور پیر نیلے ہو سکتے ہیں لیکن گرم ماحول میں آنے پر انہیں پھر سے نارمل یا گلابی ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی زور زور سے روتے وقت بچے کا سانس ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے اور چہرہ، زبان اور ہونٹ تھوڑے نیلے ہو جاتے ہیں۔ لیکن رونا بند کرنے اور پُرسکون ہونے پر اس کی رنگت معمول پر آ جانی چاہیے۔ اگر بچہ اچانک اور لگا تار پیلا پڑ رہا ہے یا اس کا جسم نیلا ہوجاتا ہے، تو اسے دل یا پھیپھڑے سے متعلق کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں فوری طبی مدد دینا ضروری ہوتا ہے۔

پانی کی کمی:
بچوں میں آسانی سے اور جلد ہی پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ بچے کو مطلوبہ مقدار میں مائع کا استعمال کرنا چاہیے۔ قے اور اسہال جسم میں پانی کی کمی کی وجہ بنتے ہیں۔ نیز اگر آپ کو لگے کہ آپ کا بچہ مطلوبہ مقدار سے کم دودھ پی رہا ہے یا کم پیشاب کر رہا ہے یا پیشاب کی رنگت غیر معمولی ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ 
پیٹ:
بعض بچوں کا پیٹ بالخصوص زیادہ کھانے کے بعد پھول جاتا ہے، لیکن اسے دو کھانوں کے بیچ ملائم محسوس ہونا چاہیے، خصوصاً جب بچہ سو رہا ہو۔ اگر اس کا پیٹ مستقل طور پر پھولا ہوا اور ٹھوس محسوس ہو رہا ہے اور ساتھ ہی اس نے ایک دن یا اس سے زیادہ وقت سے پاخانہ نہیں کیا ہے یا پیٹ سے گیس نہیں نکلی ہے، یا وہ بار بار قے کر رہا ہے تو آپ کو اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے کیوں کہ اس کے پیٹ خاص طور پر آنتوں میں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

بخار:
اگر آپ کا بچہ خلاف معمول چڑچڑا یا گرم محسوس ہوتا ہے تو اس کا درجہ حرارت ناپیں۔ تھرمامیٹر سے بچوں کا درجہ حرارت بغل میں ناپنا چاہیے۔ یہ زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت100.4 فارن ہائٹ سے زیادہ ہے تو آپ کو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے کیوں کہ ہو سکتا ہے اسے کوئی انفیکشن ہو۔ چونکہ چھوٹے بچے نازک ہوتے ہیں اور بیماری کے حملے کو برداشت کرنے کی صلاحیت ان میں کم ہوتی ہے اس لیے ان کی طبیعت جلد خراب ہو سکتی ہے۔ لہٰذا بخار کی صورت میں طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget