اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

مئی 2025

اگر آپ شہد کی مکھی کو زمین پر پڑا ہوا یا بغیر اڑان کے دیکھیں، اور وہ کسی پھول دار پودے پر نہ ہو، تو سمجھ لیں کہ وہ بھوکی ہے، آپ اس کی مدد کر سکتے ہیں۔

اس وقت ہم 'جون گیپ' کے عرصے میں ہیں یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بہار کے پھول ختم ہو چکے ہوتے ہیں اور خزاں کے پھول ابھی شہد اور زردانہ پیدا نہیں کر رہے ہوتے۔

مدد کا طریقہ: آپ دو حصے چینی اور ایک حصہ پانی ملا کر ایک شربت تیار کریں اور شہد کی مکھی کو پیش کریں۔
یہ زیادہ تر مکھیاں مادہ ہوتی ہیں، چمچ سے خوشی سے پیئے گی۔
آپ اس کی ننھی سی کالی زبان بھی دیکھ سکیں گے جب وہ شربت پی رہی ہوگی۔
اسے توانائی میں بدلنے میں تقریباً 10 منٹ لگتے ہیں اور وہ یہ شربت پی کر اڑ جائے گی۔
اس لمحے کو دیکھنے کا احساس قابلِ قدر ہوتا ہے۔

براہِ کرم نوٹ کریں یہ صرف ایک عارضی اقدام اور "فرسٹ ایڈ" ہے۔
مکھیاں اپنی خوراک میں تنوع کی ضرورت رکھتی ہیں اور انہیں مختلف پودوں سے زردانہ جمع کرنا ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم مکھیوں کو روزانہ چینی کا شربت دیں۔

ایک اور اہم بات براہِ کرم انہیں شہد ہرگز نہ دیں اس سے کالونی سے کالونی تک بیماری آسانی سے پھیل سکتی ہے اور آپ نیکی کرنے کی بجائے نقصان کا سبب بنیں گے۔
صرف سفید چینی اور پانی استعمال کریں۔

یہ مکھیاں منہ سے تو آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتیں، اس لیے میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں 💕
لاکھوں بار شکریہ ☺️
الفاظ بھی مکھیوں کی طرح ہوتے ہیں!!!
کچھ شہد بناتے ہیں اور کچھ ڈنک مار جاتے ہیں 🤍

دریاؤں کے ناموں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت
پاکستان کے دریاؤں کا جال صرف جغرافیائی ہی نہیں بلکہ تہذیبی، لسانی اور تاریخی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ ان دریاؤں کے نام نہ صرف قدرتی حسن اور زندگی کے تسلسل کی علامت ہیں بلکہ یہ نام قدیم زبانوں، تہذیبوں، اور مذہبی اثرات کا آئینہ بھی ہیں۔ ان ناموں کی گہرائی میں جھانکیں تو تاریخ، اساطیر اور ثقافت کے خزانے ملتے ہیں۔

1. سندھ (Indus) — نام کا ارتقا اور تہذیبی مرکز
"سندھ" پاکستان کے سب سے بڑے دریا کا نام ہے جس سے نہ صرف "سندھ" خطے کا نام پڑا بلکہ پورے "انڈیا" (Indus) کو بھی۔ قدیم سنسکرت میں اسے "سندھو" کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے "بہتا پانی" یا "سمندر کی مانند دریا"۔
یونانیوں نے اسے "Indos" کہا، جو بعد میں "Indus" بن گیا، اور یوں ہندوستان (India) کا نام بھی اسی دریا سے نکلا۔

2. جہلم — قدیم ہائیڈیسپس (Hydaspes)
جہلم دریا کو سکندرِ اعظم کے حملے کے وقت "Hydaspes" کہا جاتا تھا۔ یہ نام یونانیوں نے دیا تھا، جبکہ مقامی طور پر اسے "Vitasta" بھی کہا جاتا تھا۔
آج کا "جہلم" شاید فارسی لفظ "جیحون" سے مشابہت رکھتا ہے، جو وسط ایشیا کے دریاؤں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ نام فارسی و عربی اثرات کی نمائندگی کرتا ہے۔

3. چناب — چدر + آب کا امتزاج؟
چناب کا قدیم نام "Asikni" (سیاہ پانی) تھا، جو ویدوں میں ملتا ہے۔ بعد میں اسے "چندر بھاگا" کہا گیا — "چندر" (چاند) اور "بھاگا" (عطیہ یا ندی)۔
چندر بھاگا سے "چناب" تک کا سفر زبانوں کی آسانی، مقامی تلفظ، اور وقت کے ساتھ ارتقا کی خوبصورت مثال ہے۔

4. راوی — نرم و نازک دریا
راوی کو ویدوں میں "ایراوتی" (Iravati) کہا جاتا تھا، جو ایک دیوی کا نام بھی ہے۔ فارسی اور ہندی کے امتزاج سے "راوی" کا نام سامنے آیا۔ یہ دریا قدیم لاہور (لوہاور) کے قریب بہتا تھا اور یہاں کی تہذیب کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

5. ستلج — شتلہ سے ستلج
یہ دریا قدیم سنسکرت میں "Shutudri" کہلاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نام "شتلہ" بنا، اور فارسی اثرات سے "ستلج" میں تبدیل ہوا۔ یہ دریا قدیم ہڑپہ تہذیب کا اہم جزو رہا ہے۔

6. کابل — پہاڑوں کا پیغامبر
کابل دریا کا نام قدیم ایرانی زبان سے جڑا ہوا ہے۔ فارسی، پشتو اور دری زبانوں میں "کابل" کا مطلب اونچی زمین یا پتھریلا علاقہ ہو سکتا ہے۔
یہ دریا وسطی ایشیا کی تہذیبوں کو برصغیر سے ملانے والا ایک اہم راستہ تھا
ثقافتی جھلکیاں اور لوک داستانیں
پاکستان کے کئی دریاؤں سے لوک کہانیاں جڑی ہوئی ہیں — جیسے ہیر رانجھا کی داستان میں چناب، سوہنی مہیوال کے قصے میں دریائے سندھ یا راوی، جن میں دریا صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت، ہجرت، وصال اور فراق کا استعارہ بھی بنتے ہیں 

بیوی ہی نہیں خاوند کو بھی خوبصورت لگنا چاہئیے۔ لیکن۔۔ ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ
 مرد حضرات چالیس یا آس پاس کے پھیر میں ہوں تو خود سے کافی حد تک لاپروا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ خود کو بوجھ ڈھونے والا گدھا تصور کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بوجھ ضرور ڈھوئیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو زندگی کا ارتقا اور تسلسل سمجھ کر ۔۔۔

مرد عموماً نوجوانی میں یا جوانی میں پھر بھی اپنا خیال رکھ لیتے ہیں، لیکن بعد کی ذمہ داریوں میں پھنس کر سب کچھ ترک کر دیتے ہیں۔۔۔ جسمانی مشقت کرنے والے اپنے لباس اور حلیے سے یکسر لاپروا ہوجاتے ہیں۔ رنگ اڑے بکھرے بال اور بغیر استری کے گندے کف کالر والے کپڑے، گندے جوتے ان کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں۔ آ فس میں جاب کرنے والوں کا حلیہ بھی موٹی توند کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہی لگتا ہے۔

جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی "مرتب" حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں۔ لیبر ورک ہے، جاب یا کاروباری سلسلہ۔

 
آئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں adopt کرنے سے personality building اور personal grooming میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار ہیئر کٹ لازماً کروائیں۔۔۔ داڑھی ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے۔ گال پر آئے بے ترتیب موٹے بال تھریڈنگ سے نکلوالیجیے۔ اس طرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے۔۔

 
2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونل پرابلمز اور چینجز کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں دھاگے سے نکلوا دیجیے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے۔

 
3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہوجاتے ہیں، قینچی سے برابر کروا لیجیے۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں، ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجیے۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد ڈیڈ اسکن (چنڈیاں اور مردہ کھال) کٹر سے کاٹ لیجیے۔۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں اضافہ کا باعث ہے۔

 
5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کر لیجیے۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں اسفنج یا انگلیاں اچھی طرح گھما لیجیے۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ہے۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے۔۔۔ بازار میں لمبے ہینڈل والے باتھنگ برش عام ملتے ہیں، پشت پر صابن لگانے کے لیے استعمال کیجیے۔

6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھا کر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدید بدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد کاٹن بڈ سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے۔۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالیے۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے۔

 
8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلوؤں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے۔ سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی۔

 
9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنیے۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں۔

10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے گدھے کے انداز میں کبھی مت چلیے۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ بھائی یا شوہر کا یہ انداز پسند نہیں کرتی۔۔۔ کوشش کر کے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے، بھلے گھر میں بیڈ پر آرام کا وقت بڑھا دیجیے۔۔۔

11 ۔۔۔۔۔۔ ہاف پینٹ اور شاٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجیے۔ کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آپ کو دوپٹے کی پابندی سے آزاد رکھا ہے، لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے۔

12 ۔۔۔۔۔ پینٹ کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کردیجیے۔ یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی۔ ناف کے عین نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہیے۔

13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے، موزے، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے۔۔۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں آرائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں۔

14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگار، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے۔ ( اگرچہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔)

 
15 ۔۔۔۔۔ آفس یا ورکنگ پلیس پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجیے۔۔۔ اور کوشش کیجیے کہ آپ کی آمد کا سندیسہ یا پہچان آپ کا برانڈ دے۔ ہم اپنے ابا اور بھائیوں کی کسی جگہ موجودگی ان کی خوشبو سے کر لیتے تھے۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے۔

16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکاکر تو گفتگو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کر کے لہجہ قابو میں لے آئیے۔۔۔

17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبیرتا اور ٹھہراؤ سے کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تیز تیز بول کر اسے تباہ مت کیجیے۔

18 ۔۔۔۔۔۔ پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔

19 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے۔۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجیے۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جا سکتا ہے۔

 
20 ۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجیے۔ آپ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اور خواتین آپ کی موجودگی میں انکمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں۔

21۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔ کئی طرح کے بھرم رہ جاتے ہیں۔

22 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آئینہ دیکھیے اب ایک گریس فل شخصیت نظر آ رہی ہے۔ ورنہ جہاں جہاں کمی ہے، دور کرلیجیے

جنگ کو مذاق سمجھنے والے دوستوں کی اطلاع کیلٸے عرض ھے  (مطلع - آصف قریشی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ )
----------------------------
1945 میں جونہی ایٹم بم پھٹا تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں شہر کا درجہ حرارت 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا
یہ درجہ حرارت رھا تو چند لمحوں کے لیے تھا لیکن پورا ھیروشیما شہر اور مُضافات میں تمام جاندار جل کر خاکسترھو گئے حتی کہ عمارتیں تک پِگھل گئیں 😢
بم پھٹنے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر تقریباً ایک لاکھ اِنسان بھاپ اور دُھواں بن کر ھوا میں تحلیل ھو گئے، کوئی جاندار زندہ نہیں بچا- ھیروشیما پر بسنے والے اِنسان صفحہ ھستی سے مٹ گئے- جو بچ گئے وہ مرنے کی خواہش کر رھے تھے 💔

پورے ملک سے رابطہ ختم ھو گیا تھا

جو ایٹم بم ھیروشیما پر پھینکا گیا تھا اُس سے 4000 ڈگری سیلسیس کی حرارت خارج ھوئی تھی لیکن
اِسوقت پاکستان اور بھارت کے پاس جو نیوکلیئر بم موجود ھیں وہ 25000 سے 40000 ڈگری سیلسیس کی گرمی خارج کرنے کی قوت رکھتے ھیں- 

یہ گیم محض چند سیکنڈز کی ھوگی اور کرہ ارض کے میدانوں میں صحراؤں میں جنگلوں میں پہاڑوں میں، سمندروں یا دریاوں کے پانی کی روانی میں کوئی جاندار زندہ نہیں بچے گا 😢😢

کُچھ دِکھانے کے لئے کوئی بریکنگ نیوز نہیں ھوگی اور نہ ھی کوئی دیکھنے والا.... لہذا جنگ پر میمز بنانے کی بجاٸے۔ اللہ پاک سے توبہ استغفار کیجئے اور جنگ کو دل سے برا جانیٸے اور اس سے نفرت کا برملاء اظہار کیجٸے

انڈے کے چھلکے استعمال کے 15 عبقری طریقے۔
 جو آپ کے گھر اور باغ کو تبدیل کردیں گے

انڈے کے چھلکے اکثر بغیر سوچے سمجھے خارج کردیئے جاتے ہیں، لیکن ان کے بہت سے فوائد ہیں اور انہیں جدید طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انڈے کے چھلکے کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے 15 زبردست طریقے یہ ہیں جو آپ کو کوڑے دان میں پھینکنے سے پہلے دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیں گے:

1. باغ کے لیے قدرتی کھاد۔
زمینی انڈے کے چھلکے آپ کے باغ کی مٹی میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔ ان میں کیلشیم موجود ہے جو پودوں کو صحت مند طور پر بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ بس چھلکوں کو کچل دیں اور انہیں پودے کی بنیاد کے ارد گرد ڈال دیں۔

2. کیڑوں سے تحفظ۔
انڈے کے چھلکے کاکروچ، گھونسلوں اور یہاں تک کہ بلیوں جیسے کیڑوں کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپنے باغ کے ارد گرد کچلے ہوئے گولے بکھیر دیں تاکہ ان کیڑوں کو قریب نہ جانے دیں۔

3. نامیاتی کھاد کو فروغ دینا۔
کمپوسٹ ڈھیر میں انڈے کے چھلکے شامل کریں۔ یہ تیزی سے ختم ہوجاتے ہیں اور کمپوسٹ کے کیمیائی توازن کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں، جو اس کی غذائیت کی قدر کو بڑھاتا ہے۔

4. بیج لگانے کے لئے چھوٹے برتن کا متبادل
پودوں کی نشوونما شروع کرنے کے لئے انڈوں کے چھلکوں کو قدرتی برتنوں کے طور پر استعمال کریں۔ بیج اگنے کے بعد، آپ انہیں براہ راست مٹی میں لگا سکتے ہیں، اور گولوں کی فراہم کردہ کیلشیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

5. سطحوں کے لئے مؤثر کلینر۔  
کچلے گئے انڈے کے چھلکے صفائی کا ایک بہترین آلہ ہوسکتے ہیں۔ برتنوں، پینوں اور دیگر سطحوں کو خراش کے بغیر نرمی سے دھونے کے لئے اسے تھوڑا سا پانی اور صابن کے ساتھ مکس کریں۔

6. جلد کے لئے قدرتی ماسک۔
انڈے کے گولوں کو عمدہ پاؤڈر میں پیس کر اور انڈے کی سفیدی کے ساتھ ملا کر قدرتی جلد اتارنے والا ماسک بنائیں۔ اس مرکب کو اپنے چہرے پر لگائیں اور اسے خشک ہونے دیں تاکہ ہموار اور تازہ جلد حاصل ہو سکے۔

7. کپڑے دھونے کے لئے بلیچ۔
آپ اپنی واشنگ مشین میں کچلے ہوئے انڈے کے گولوں کا ایک چھوٹا بیگ شامل کرسکتے ہیں۔ یہ چھلکے داغ دور کرنے اور کپڑے سفید رکھنے میں مدد کریں گے۔

8. گٹر صاف کرنے والا۔
اگر آپ بند ٹیوبوں کا شکار ہیں تو کچلے ہوئے انڈے کے چھلکے ایک قدرتی علاج ہوسکتے ہیں۔ اسے گرم پانی اور ڈش صابن میں مکس کریں تاکہ پانی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جاسکے۔

9. پالتو جانوروں کے لئے غذائی ضمیمہ۔  
پالتو جانوروں کے لئے انڈے کے چھلکے کیلشیم کا ایک بہترین ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ گولوں کو پیس کر انہیں ان کی خوراک میں شامل کریں تاکہ ان کی ہڈیوں کو مضبوط کیا جا سکے۔

10.کافی کے ذائقے کو بہتر بنانا۔
تیار کرنے سے پہلے کافی کی دانوں میں کچلے ہوئے انڈے کے چھلکے شامل کریں۔ یہ تیزابیت کو کم کرنے میں مدد کریں گے اور آپ کو ایک ہموار ذائقہ والی کافی ملے گی۔

11. آرٹس اینڈ کرافٹس پروجیکٹ۔
آپ بہت سے دستکاری منصوبوں کے لئے انڈے کے چھلکے استعمال کرسکتے ہیں جیسے پینٹنگ، موزیک بنانا، یا ایسٹر کے انڈے سجانا۔

12. قدرتی انسانی غذائی ضمیمہ
انڈے کے گولوں کو سجا کر آپ انہیں ایک عمدہ پاؤڈر میں پیس سکتے ہیں اور انہیں قدرتی کیلشیم ضمیمہ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ جوسز، پکنے والی اشیاء میں شامل کریں یا اپنے کھانے پر چھڑکیں۔

13. ٹماٹروں کے لئے مٹی کو بہتر بنانا۔ 
ٹماٹر کے پودوں کو کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ تسبیح سڑنے سے بچ سکے۔ ٹماٹر لگاتے وقت مٹی میں کچلے ہوئے انڈے کے چھلکے شامل کریں تاکہ ان کی نشوونما کو بہتر بنایا جا سکے۔

14. پرندوں کے لئے اضافی خوراک۔
پرندوں کو انڈے کے چھلکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ انڈے کے چھلکوں کو سجا کر پیس سکتے ہیں، پھر انہیں پرندوں کے بیجوں میں ملا کر کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ فراہم کریں۔

15. قدرتی ایئر فریشنر۔  
خشک انڈے کے گولوں کو قدرتی طور پر بو کو جذب کرنے کے لئے فرج یا الماری میں پیالے یا کنٹینر میں رکھیں۔

انڈے کے چھلکے بہت سے لوگوں کے خیال سے کہیں زیادہ مفید ہوسکتے ہیں۔ اپنے باغ میں مٹی کو بہتر بنانے سے لے کر جلد کی دیکھ بھال اور دستکاری کے منصوبوں تک، یہ چھلکے بہت سے فوائد پیش کرتے ہیں۔ لہذا، اگلی بار جب آپ انڈے توڑیں، تو چھلکے کو مسترد کرنے سے پہلے غور کریں - یہ آپ کے خیال سے کہیں زیادہ کارآمد ہوسکتا ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget