تربیت کا انداز
تربیت کا انداز
ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ سڑک پر جا رہی تھی کہ سامنے ایک شکستہ حال بھکاری آگیا.
اس نے بچے کو کہا دیکھو اس بھکاری کو. اگر تم پڑھو گے نہیں تو اس بھکاری کی طرح بن جاو گے.ایک اور خاتون بھی اسی سڑک پر اپنے بچے کے ساتھ جا رہی تھی. اس نے بھی اپنے بچے کو کہا دیکھو اس بھکاری کو، اگر تم پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن گئے تو ان کی زندگی بدل سکو گے.
دونوں مائیں *تربیت* کر رہی ہیں. لیکن دونوں کے *نتائج* بلکل الگ نکلیں گے.
ایک نے بچے کو *خوف* دیا اور
دوسری نے *عزم* اور ایک *خواب* .
*تربیت* بہت نازک کام ہے. کیونکہ یہ آج کی کونپل کی وہ تراش خراش ہے جو کل ایک تناور درخت کی شکل لے گا. علماء کا منبر ہو یا استاد، ماں کی گود ہو یا والد کی دیکھ بھال یہ سب اسی تربیت کے گہوارے ہیں.لہذا تربیت کو مثبت انداز دیں۔