اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اکتوبر 2019

گناہوں ہر آسانی

ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ
کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے،  اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔ 
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ سخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو، 
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔ 
تو بادشاہ نے  فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔

ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔

میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔

کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟ 
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔ کتنے ہی مرد و خواتین کتنی ہی بار گھٹیا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور مرد اسے اپنی جیت اور عورت اپنی جیت کا نام دیتی ہے۔
اور اگلی بار ایک نیا شکار ہوتا ہے۔۔
پہلی بار گناہ ہر دل زور زور سے دھڑکے گا آپکا، دماغ غیر شعوری سگنل دے گا۔ ایک ٹیس اٹھے گی ذہن میں۔ جسم لاغر ہونے لگے گا ، کانپنے لگے گا

 یہ وہ وقت ہوگا جس ایمان جھنجھوڑ رہا ہوتا ہے، چلا رہا ہوتا ہے کہ دور ہٹو، باز رہو۔
مگر دوسری بار یہ شدت کم ہو جائے گی۔ اور پھر ختم۔

پھر انسان مست رہتا ہے۔ اور خوش بھی۔ مگر افسوس کہ اوپر والا اس سے اپنا تعلق قطع کر لیتا ہے۔۔
گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا اور آسان بھی، مگر یاد رکھیے سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
کسی زمین میں گندم خود بخود نہیں اگ آتی۔ آگائی جاتی ہے۔ محنت کی جاتی ہے،  خیال کیا جاتا ہے، حفاظت کی جاتی ہے تب جا کے پھل ملتا ہے مگر کسی زمین میں جھاڑیاں، غیر ضروری گھاس پھوس ، کانٹے دار پودے خود ہی اگتے ہیں۔ ان پہ کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی، وہ خود ہی اگتی ہیں اور کچھ ہی دنوں میں پوری زمین کو لپیٹ میں لیکر اسے ناکارہ بنا دیتی ہے۔۔

اسی طرح بالکل آپکے دل کی زمین ہے جہاں گناہوں کا تصور از خود پیدا ہوگا۔ اور بڑھے گا۔ مگر نیکیوں کے لیے گناہوں سے بچنے کے لیے محنت کرنی پڑے گی۔۔ دشواریوں سے گذرنا ہوگا۔۔

خدارا اس لعنت سے بچیں ۔ اس میں ملوث ہونا کوئی کمال نہیں،
 بچنا کمال ہے۔۔ باز رہنا کمال ہے۔  سوچیے ، نکلیے اس گناہ سے
 کیوں حیا کا اٹھ جانا۔ ایمان اٹھ جانے کی نشانی ہے۔ نشانی ہے اس بات کی کہ اندھیری قبر میں بہت برا ہونے والا  ہے۔

خدا ہم سب کو ہدایت دے۔۔
آمین۔

آپ کی جیب میں موجود کرنسی نوٹ پر لکھی تحریر 
"حامل ہزا کو مطالبے پر ادا کرے گا" 
کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مطالبے پر اس نوٹ کے برابر سونا ادا کرنے کی پابند ہے.

 اگر آج ہی پاکستان کی کل آبادی سٹیٹ بنک کو نوٹ واپس کر کے سونا لینا شروع کر دے تو صرف بیس فیصد نوٹ قابلِ استعمال ہونگے. باقی اسی فیصد نوٹوں کی قیمت تیرہ روپے فی کلو ہے. کیوں کہ باقی نوٹوں کا سونا موجود ہی نہیں اس لیئے ان کی قیمت وہی ہے جو ردی کوڑے کی ہوتی ہے.
 دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لوگ لکڑی کی جگہ کرنسی نوٹ جلاتے تھے. کیوں کہ لکڑی کی قیمت کرنسی سے زیادہ ہو گئی تھی.
 مہنگائی بڑھنے کی شرح جسے انفلیشن یا افراط زر کہتے ہیں کا کانسیپٹ صرف سو سال پرانا ہے. 

 ایک مرغی کی قیمت فرعون کے دور میں دو درہم تھی جو کی انیسویں صدی کہ آخر تک دو درہم ہی رہی. اگر ہم غور کریں تو آج بھی اس کی قیمت دو درہم ہی بنتی ہے. مطلب صفر فیصد انفلیشن. 

 پچھلے صرف 100 سالوں کے دوران کاغزی کرنسی کی قیمت کئی سو گناہ گر چکی ہے.
 انفلیشن دراصل ایک ٹیکس ہے جو امیر اور غریب بغیر کسی تفریق کے برابر ادا کرتے ہیں.
 آج غربت اور افلاس کی سب سے بڑی وجہ ہی پیپر کرنسی اور اس پر دیا جانے والا سود ہے.

 جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں تو اصل میں ڈالرز ہمارے پاس منتقل نہیں ہوتے. بلکہ امریکہ میں ہی کسی بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ میں صرف کمپیوٹر کے زریعے ٹرانزیکشن ہوتی ہے. اس اکاؤنٹ میں بھی ڈالرز منتقل نہیں ہوتے.

آج تک دنیا میں موجود ڈالرز کا صرف تین فیصد چھاپا گیا ہے. باقی ستانوے فیصد ڈالرز صرف کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں محفوظ ہیں.

 آئی ایم ایف کے چارٹر میں یہ بات تحریر ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے سکے جاری نہیں کر سکتا. اگر کرے گا تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ایسے ملک کو قرضہ نہیں دیں گے.
 امریکہ سمیت دنیا میں کئی سربراہ مملکت اس بات پر قتل ہو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کرنسی یا سونے اور چاندی کے سکے جاری کرنے کی کوشش کی۔۔
 اس ملک کی حکومت وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری فائیننس آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکتی.
 آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے سب سے پہلی شرط پرائیویٹائیزیشن کی رکھتا ہے اور اس کے بعد قرض دیا جاتا ہے. کبھی غور کیجئیے گا کہ ایسا کیوں ہے.

 سعودی عرب اور ایران سمیت تمام پٹرول برآمد کرنے والے ملک اس بات کے پابند ہیں کہ پٹرول صرف ڈالرز کے بدلے بیچا جائے گا نہ کہ بیچنے یا خریدنے والے ملک کی کرنسی میں۔۔
 انسانی تاریخ میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکا. یہ انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے.

*درودِ پاک*                                                                                             

*﴿1﴾شبِ جُمعہ کادُرُود*
 *اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ*
*الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِالْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ*
بُزرگوں نے فرمایا کہ جو شَخْص ہر شبِ جُمعہ (جُمعہ اور جُمعرات کی دَرمِیانی رات) اِس دُرُود شریف کو پابندی سے کم از کم ایک مرتبہ پڑھے گا مَوْت کے وَقْت سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زِیارت کرے گا اورقَبْر میں داخل ہوتے وَقْت بھی،یہاں تک کہ وہ دیکھے گا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُسے قَبْر میں اپنے رَحْمت بھرے ہاتھوں سے اُتار رہے ہیں۔

*﴿2﴾تمام گُناہ مُعاف*
  *اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ*
حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو شَخْص یہ دُرُودِ پاک پڑھے اگر کھڑا تھا تو بیٹھنے سے پہلے اور بیٹھا تھا تو کھڑے ہونے سے پہلے اُسکے گُناہ مُعاف کردیئے جائیں گے ۔

*﴿3﴾رَحْمت کے ستّر دروازے*
*صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد*
جویہ دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اُس پر رَحْمت کے 70 دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔

*﴿4﴾چھ لاکھ دُرُودشریف کاثواب*
 *اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍعَدَدَمَافِیْ عِلْمِ اللّٰہِ صَلَاۃً دَآئِمَۃً ۢبِدَوَامِ مُلْکِ اللّٰہ*
حضرت اَحْمدصاوِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بَعْض بُزرگوں سے نَقْل کرتے ہیں: اِس دُرُود شریف کو ایک بارپڑھنے سے چھ لاکھ دُرُودشریف پڑھنے کاثواب حاصِل ہوتا ہے

*﴿5﴾قُربِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
 *اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ*
ایک دن ایک شَخْص آیا تو حُضُورِ اَنْور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اُسے اپنے اور صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے درمِیان بِٹھا لِیا۔ اِس سے صَحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو تَعَجُّب ہوا کہ یہ کون ذِی مَرتبہ ہے! جب وہ چلا گیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: یہ جب مُجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے تو یوں پڑھتا ہے ۔

(6) *دُرُودِ شَفاعت*
 *اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنۡزِلۡہُ الۡمَقۡعَدَ الۡمُقَرَّبَ عِنۡدَکَ یَوۡمَ الۡقِیَامَۃِ*
شافِعِ اُمَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ مُعَظَّم ہے:جو شَخْص یوں دُرودِ پاک پڑھے،اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
 
 *(7)ایک ہزار د ن کی نیکیاں*
  *جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہٗ*
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےفرمایا :اس کوپڑھنے والے کے لئے ستّر فِرِشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں۔

گویا شبِ قدرحاصل کر لی
 *لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ الْحَلِیْمُ الْـکَرِیْمُ ،سُبحٰنَ اللہ ِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم*
(خُدائے حَلیم وکریم کے سِوا کوئی عِبادت کے لائِق نہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کاپَروردگارہے۔)

فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ :جس نے اس دُعا کو 3 مرتبہ پڑھا تو گویا اُس نے شَبِ قَدْر حاصِل کرلی۔

*صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد*
  
*فیضانِ درود و ایصالِ ثواب جاری رہے گا .ان شاء اللہ عزوجل*


یہ بارشیں


یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
جو برس گئیں تو بہار ہیں
جو ٹہر گئیں تو قرار ہیں
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں 
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کے بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کہیں بوند بوند میں گم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں..

القرآن الكريم

سورة النساء آیت 127


وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَك فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡھنَّ ۙ وَ مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَاتُؤۡ تُوۡنَھُنَّ مَا کُتِبَ لَھُنَّ وَ تَرۡغَبُوۡنَ  اَنۡ تَنۡکِحُوۡھنَّ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡیَتٰمٰی بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا
اور اے پیغمبر لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں  کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ھے اور اس کتاب یعنی قرآن کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں شرعی حکم بتاتی ہیں جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے  اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو نیز کمزور بچوں کے بارے میں بھی حکم بتاتی ہیں اور یہ تاکید کرتی ہیں کہ تم یتیموں کی خاطر انصاف قائم کرو اور تم جو بھلائی کا کام کرو گے اللہ کو اس کا پورا پورا علم ھے
صحیح بخاری  ( 5188 ) جلدنمبر 5
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ 
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 
تم میں سے ہر ایک نگران ھے اور پر ایک سے باز پرس ہو گی حاکم وقت نگہبان ھے اس سے بھی پوچھا جائے گا مرد اپنے اہل خانہ کا نگران ھے اس سے بھی سوال جواب ہوگا عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ھے اس سے بھی پوچھا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ھے اس سے بھی پوچھا جائے گا الغرض تم میں سے پر ایک نگران ھے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہوگا

مریدکی قسمیں

مرید_کی_تین_قسمیں_ہیں

#1مرید_رسمی
     وہ جو فقط رسمی بیعت کرتا ہے اگر کسی نے پوچھ لیا کہ کس کے مرید ہو تو کچھ دیر سوچنے کے بعد بتا دیا کہ فلاں پیر
2 #مرید_مطلبی
وہ مرید جب حالات درست ہوں تو پیر کی خبر تک نہ ہو اور جب مصیبت آئے تو پیر کی طرف وا ویلہ کرتے ہوئے آتا ہے اور مطلب نکلنے کے بعد پھر پیر کو خیر آباد کہہ دیتا ہے
#3_مرید_حقی
وہ کہ دنیا اور دنیا والوں میں رہے رزقِ حلال کمائے مزدوری کرے محنت مشقت کرے لیکن ایک لمحہ بھی یار کا خیال دل و دماغ سے نہ جائے دکھ ہو یا سکھ خوشی ہو یا غمی فارغ ہو یا مصروف نماز ہو یا ورد و وظائف محبوب کے تصور میں ڈوبا رہتا ہے مرشد سے کیے ہوئے وعدوں کو سوز و گداز محبت و اخلاص کے ساتھ پورے کرتا ہے، جب یار کا تذکرہ ہو آنکھ بھر آتی ہے، ہر وقت یاد میں سرد آہیں بھرتا ہے یہی وہ مرید ہے جو مراد کو پہنچتا ہے
   اے درویش_کان لگا کے سن مرشد کی محبت میں جب تک دیوانہ نہ ہو گا عقلمند نہیں کہلائے گا،جب تک  یار کے خیالوں میں بےگانہ نہیں ہو گا دانا نہیں بنے گا_ بک جا اور اپنا آپ شیخ کے آگے وقف کردے، #نہ_رسمی_بن_نہ_ہی_مطلبی، #عاشق_بن_تاکہ_درجہ_محبوبِیت کو پہنچے مرید ِ حقی بن تاکہ مراد کو پہنچے راہِ سلوک کےدرویشوں کی نصیحت یاد رکھ

موبائِل کے کیمرے کے کچھ حیران کُن فنکشز

آپ میں سے تقریباً سبھی کے پاس انڈرائیڈ فون ہونگے۔۔ کچھ  کے پاس جدید اور مہنگے سمارٹ فون ہونگے اور کچھ کے پاس میرے موبائل جیسے پرانے اور سستے ماڈل ہونگے۔۔ آپ سب ہی لوگ سمارٹ فون کے کیمرہ فنکشن سے واقف ہونگے ہی ۔۔ زیادہ تر لوگ کیمرہ کے دوتین فنکشنز جانتے ہیں جیسے اگلے اور پچھلے کیمرے سے تصاویر بنانا یا ویڈیوز بنانا۔۔ لیکن انڈرائید فون کے کیمرے سئ کئ دوسرے زبردست اور مفید کام بھی لیئے جاتے ہیں۔۔ جن میں سے پانچ کا ذکر یہاں کررہا ہوں۔ آپ انہیں پلے سٹور سے اپنے سمارٹ فون پر انسٹال کرسکتے ہیں۔
❶ ۔ Google Translator اس سافٹ وئیر سے تو سبھی لوگ واقف ہونگے۔۔ آپ اسے انسٹال کریں۔ زبان کی سیٹنگ کریں۔ اسکے اندر کیمرہ کے نشان کو کلک کریں۔۔ پھر اس کیمرہ کو گھر میں کہین بھی لکھی ہوئ انگریزی یا اردو پر لے جائیں وہ آپکو اردو یا انگلش میں ترجمہ کرکے دکھا دے گا۔۔
❷ ۔ PhotoMath ۔۔۔اسے انسٹال کریں ، اسکے اندر جاکر کیمرہ آن کریں۔۔ کاغذ پر پن سے ریاضی کا کوئ بھی مشکل یا آسان سوال لکھیں۔۔ کیمرہ اس لائین کے اوپر لے جائیں یہ اسے فوکس اور سکین کرکے آپ کو سیکنڈوں میں جواب دکھا دے گا
❸ ۔ IP Webcam۔۔۔ اس ایپ کی مدد سے آپ اپنے موبائل کو خفیہ یا سیکورٹی کیمرہ میں تبدیل کرسکتے ہیں۔اگرچہ میں نے اسے خود یوز نہیں کیا لیکن اسکی ڈسکرپشن دیکھی ہے۔ اس ایپ کو اوپن کریں اسکے اندر سے ایپ کا آئ پی ایڈریس نوٹ کریں۔۔ اس آئ پی ایڈریس کو اپنے کمپیوٹر یا دوسرے موبائل کے براؤزرز میں ڈالیں ۔۔اب جو مناظر اپ کا پہلا کیمرہ دکھائے گا وہی آپ کا ڈسک ٹاپ یا دوسرا موبائل دکھائے گا۔۔
❹ ۔ CrookCatcher - Anti Theft۔۔۔یہ سب سے زبردست ایپ ہے۔۔ اگر آپ کا موبائل کہیں گم یا چوری ہوجائے اور چور جب اسے یوز کرنے کے لیئے موبائل کا سیکورٹی پن یا پیٹرن غلط لگائے گا تو یہ سافٹ وئیر اپنا کام شروع کردے گا،، یہ موبائل کے فرنٹ کیمرے سے اس چور کی تصویر بنالے گا۔۔ پھر اس تصویر اور لوکیشن کو آپ کے دیئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیج دے گا۔۔
❺ ۔CamScanner - Phone PDF Creator ۔۔۔ اس ایپ کی مدد سے آپ اپنی لائیبریری میں موجود کسی بھی چھوٹی یا بڑی کتاب کو منٹوں میں پی ڈی ایف فارمٹ میں تبدیل کرسکتے ہو۔۔ اس ایپ کی مدد سے کیمرہ آن کریں۔۔ جس پیج کو کنورٹ کرنا ہے اسے فوکس کرکے تصویر لیں اور کنورٹ ...

ھنسنا منع ھے  

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے ۔مضمون پر چلا جاتا ہے
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا 
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ 
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے 
استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا
جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔ استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا 
کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں ان کو تو کمپیوٹر کا الف سے با نہیں پتہ۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ، طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھامیں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔
جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی 
جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ، جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویے پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔ اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں 

نظم
(کشمیری بہن کی پکار )
آزاد وطن کی آزاد فضاؤں میں رہنے والو!
تمہیں کیا پتا؟
بندوقوں کے سائے تلے
زندگی کیسے بسر ہوتی ہے؟
زندگی موت جیسے برابر ہوتی ہے
میں تمہیں بتاتی ہوں
دکھ درد کی کہانی سناتی ہوں
گلی میں جب بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے
موت رقص کرتے دکھائی دیتی ہے
شام جب ڈھلتی ہے
رات ہوتی ہے
اندھیرا جب لپٹتا ہے
بدن سارا خوف میں ڈھلتا ہے
دستک ہوتی ہےجب دروازے پر
آہنی ہتھوڑا سا لگتا ہے سینے پر
رات کو بھلا کب سوتی ہوں
موتی پروتی ہوں
ستارے گنتی رہتی ہوں
اپنے پیاروں کی خیر کی مالا جپتی رہتی ہوں
صبح جب
اپنوں کو سلامت دیکھتی ہوں
خدا کا شکر ادا کرتی ہوں
سکول کے لیے
بچے کو جب تیار کرتی ہوں
ہائے!تم کیا جانو
میں تمہیں بتاتی ہوں
رغبت ہے اسے پلاو سے
بناتی ہوں بڑے چاو سے
پھر کچھ سوچ کے
ٹفن سے اس کے
بوٹیاں نکال لیتی ہوں
کتنی اذیت سے گزرتی ہوں
کتنی بار مرتی ہوں جیتی ہوں
بیٹی جب کالج جاتی ہے
سانس آتی ہے نہ جاتی ہے
آنکھیں پتھرائی پتھرائی سی رہتی ہیں
سانسیں اکھڑی اکھڑی سی رہتی ہیں
سہاگ میرا جب کام پر جاتا ہے
سہمے سہمے سے
دکھ بھرے لہجے سے
الوداع کہتا ہے
مڑ مڑ کر دیکھتا ہے
ہائے!تم کیا جانو
میں تمہیں بتاتی ہوں
گھر میں اکیلی ہوتی ہوں
ہنستی ہوں نہ روتی ہوں
دروازے کے پاس کھڑی رہتی ہوں
انجانے خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں
خونی درندے ڈراتے رہتے ہیں
ایسے میں
زندگی بھلا کب مسکراتی ہے
تمہیں کیا پتا ہے
تم نے بھلا کب دیکھا ہے
ہاں!میں نے دیکھا ہے
ٹپکتا ہوا خون ،سسکتی آہیں
تار تار ہوتی ہوئی مقدس قبائیں
جلتی بستیاں اور شعلے اگلتی آگ
پھنکارتے ہوئے پاگل ناگ
اجڑتے بہنوں کے سہاگ
لہولہان ہوتی گلیاں
خون کی بہتی ندیاں
چیختی سسکتی بیٹیاں
مسلی ہوئی معصوم کلیاں
بین کرتی مائیں
سینوں کو چیر دینے والی صدائیں
ننگا رقص دیکھا ہے
وحشت و بربریت کا
خونی کھیل کھیلتے دیکھا ہے
ظلم و سفاکیت کا
تم نے کبھی سنا ہے؟
ہاں!میں نے سنا ہے
عید قربان پر قربانی نہ دی جائے
سنت ابراہیمی ادا نہ کی جائے
بے گوروکفن ہی رہنے دیا جائے
خبر دار!گھروں سے باہر نکل کر
اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھایا نہ جائے 
دفنایا نہ جائے
سنو!
انسانیت پر جب عہد خزاں ہو
جہاں ہر شام،شام غریباں ہو
ہر صبح،صبح قیامت ہو
کسی کو کچھ بھی نہ ندامت ہو
ایسے میں بتاو
زندگی بھلا کب مسکراتی ہے
زندگی کیسے بسر ہوتی ہے
زندگی موت جیسے برابر ہوتی ہے

موت کا وقت و مقام مقرر ہے

میرے ایک دوست کو ان کے والد مرحوم کے کاغذات میں ایک تحریر ملی، جس میں ایک واقعہ کا بیان تھا، اسے پڑھ کر مجھے یاد آیا کہ ہمارے علاقے میں اس واقعہ کا بہت چرچا ہوا تھا۔

" ہمارے گاؤں سے قریب ایک نہر کی کھدائی ہو رہی ہے، سیکڑوں مزدور دن رات مٹی کی کھدائی میں مصروف رہتے ہیں، ایک دن ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔۔۔

ہوا یوں کہ ایک دن ایک لڑکا چیخنے لگا :-"سانپ۔۔۔۔سانپ۔۔۔"

مزدور دوڑے، مگر وہاں کچھ نہ تھا، جب اس لڑکے نے ایسا کئی بار کیا تو ٹھیکیدار نے سوچا کہ شاید یہ ناٹک کر رہا ہے، اسے بھوک لگ رہی ہے، یہ گھر جانا چاہتا ہے، اس کی حرکت سے کام کا بھی حرج ہو رہا ہے، چنانچہ اس نے لڑکے کو چھٹی دے کر گھر بھیج دیا اور دوسرے مزدور کام کرنے لگے، کچھ حصے کی کھدائی کے بعد مزدوروں کو ایک سوراخ نظر آیا، انھیں یقین ہو گیا کہ اس بل میں ضرور سانپ موجود ہے، تھوڑا کھودنے پر واقعی ایک سانپ نکلا، مزدوروں کے پاس وہاں پھاوڑے کے علاوہ کچھ نہ تھا، ایک مزدور نے پھاوڑا مارا اور سانپ کے دو ٹکڑے ہو گئے، ٹھیک اسی وقت ایک چیل آئی اور سانپ کے اگلے ٹکڑے کو لے اڑی۔

وہ لڑکا خوشی خوشی اپنے گھر جا رہا تھا، ابھی وہ گھر سے قریب پہنچا ہی تھا کہ آسمان سے ایک ادھ کٹا زندہ سانپ اس کے اوپر آ گرا، جس نے اسے ڈس لیا اور وہ فوراً اسی جگہ مر گیا، یہ وہی سانپ تھا، مزدوروں نے جس کے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور جس کے اگلے حصے کو چیل لے اڑی تھی۔۔۔

اس لڑکے کو سانپ وہاں بھی کاٹ سکتا تھا جہاں وہ نہر کی کھدائی کر رہا تھا، لیکن اللہ تعالی نے اس کی موت اس کے *کچھ منٹ بعد* اور اس کے *گھر کے قریب* لکھ دی تھی، پھر چند منٹ پہلے اور گھر سے دور کیسے آتی۔۔۔؟؟؟

یہ واقعہ پڑھ کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آگئی :
فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً‌ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏ ۞
(سورۃ النحل آیت:61)

*ترجمہ :-"جب ان کی موت کا وقت آجائے گا تو انہیں موت نہ ایک لمحہ بعد میں آئے گی نہ ایک لمحہ پہلے"*

ڈینگی وائرس
آجکل ڈینگی وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے
سوچا اس متعلق فیس بک کے دوستوں کو مطلع کردوں کہ جس شخص کو ڈینگی وائرس تشخیص ہو جائے وہ
صرف و صرف پیراسیٹامول ٹیبلیٹ دو گولی صبح دو گولی دوپہر اور دو گولی رات میں کھائے تا کہ بخار کا زور ٹوٹتا رہے.. ڈینگی ایک وائرس ہے یہ اپنی مدت 7 سے 14 دن کے اندر ہی جاتا ہے.
تب تک آپ نے اس وائرس کو بس کنٹرول کرنا ہے تاکہ یہ قوت مدافعت کو کمزور نہ کردے...
اس وائرس کو کنٹرول کرنے یا ختم کرنے کی کوئی دوا آج تک دریافت نہ ہوسکی.... اکثر دو نمبر ڈاکٹرز ڈینگی کے مریض کو اینٹی ملیریا ادویات لکھ دیتے ہیں جو اور بھی نقصان دہ ثابت ہوجاتی ہیں....
آپ نے ڈینگی کے متاثرہ شخص کو بس ہلکی پھلکی غذاء دینی ہے... جیسے کے ڈبل روٹی، یا صرف روٹی چائے یا دودھ کیساتھ... سخت غذاء سالن وغیرہ نہیں دینا تا کہ انٹرنل بلیڈنگ وغیرہ نہ ہو... یاد رہے کہ انٹرنل بلیڈنگ ہونا ؤائرس کے بگڑ جانے کی علامت میں سے ہے...
ایسے میں دانت برش کرنا بھی منع ہے... کیوں کے وائرس آپکا خون کا پلیٹلیس گرا رہا ہوتا ہے جس سے آپکا کہیں سے بھی خون کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے...
پلیٹلیس بڑھانے کیلئے پپیتے کا جوس اور سیب کا جوس فائدے مند ہے...
ایک نارمل انسان میں پلیٹلیس کی تعداد 150000 سے 450000 یونٹ ہوا کرتی ہے... جب کے ڈینگی سے متاثرہ شخص میں یہ یونٹ 10000 تک چلے جاتے ہیں جس سے جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے...
یہ تمام معلومات انسانیت کے ناطے لکھی گئی ہیں..
اس پوسٹ کو شئیر کریں.. تاکہ عوام الناس کو افادیت حاصل ہو۔

شادی کی تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے  والے آدمی کے پاس جاتے ھیں اور پوچھتے ھیں۔۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟"

انہوں نے غور سے دیکھا اور کہا "ھاں آپ میرے پرائمری سکول کے شاگرد ھو۔ کیا کر رھے ھو آج کل؟"
شاگرد نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کی طرح  سکول ٹیچر ھوں۔اور ٹیچر بننے کی یہ خواہش مجھ میں  آپ ھی کی وجہ سے  پیدا ھوئی۔"

استاد نے پوچھا "وہ کیسے؟"
شاگرد نے جواب دیا، "آپ کو یاد ھے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ھو گئی تھی اور وہ گھڑی  میں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ھے واپس کر دے۔ میں گھڑی واپس کرنا چاھتا تھا لیکن شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جرات نہ کر سکا۔
آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منہ کر کے ، آنکھیں بند کر کے کھڑے ھونے کا حکم دیا اور سب کی جیبوں  کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لئے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ میں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیئہ کر لیا تھا۔"

استاد نے کہا کہ "کہانی کچھ یوں ھے کہ تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور مجھے بھی آج ھی پتہ چلا ھے کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔"
کیا ھم ایسے استاد بن سکتے ھیں جو اپنے اعمال سے بچوں کو استاد بننے کی ترغیب دے سکیں نہ کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بچوں کو پوری کلاس کے سامنے شرمندہ کریں۔

حاکم نے کہا کوئی بھی کشمیر  نہ جائے
اِس پار سے  اُس پار  کوئی تِیر  نہ جائے

پلوامہ کی  تاریخ  نہ دھرائے کوئی بھی
لڑنے  کو  کوئی  صاحبِ تدبیر  نہ  جائے

کشمیریوں کےساتھ کھڑےہونےکی باتیں
حاکم!  تیری  یہ عادتِ  تشہیر  نہ جائے

مغرب  نے  جامِ بزدلی  حکامِ  دیس  کو
کچھ ایسی پلائی ہے  کہ تاثیر نہ  جائے

اقبال کو  بتائیے   شہ رگ  کی  مدد  کو
اقبال  تیرے  خواب  کی تعبیر  نہ جائے

تکبیرِ  اُولی  ملنا  سعادت   تو   ہے  مگر
میداں  میں  تیرا  نعرہِ  تکبیر  نہ  جائے

گدی  نشین  لڑتے  نہیں  اِس خیال  سے
کشمیر کےچکر میں کہیں کِھیر نہ جائے

واعظ!  سناؤ   درد  بھری  داستاں  مگر
کیسے  مرید  جائیں  اگر   پِیر  نہ  جائے

غیرت کا سبق کس کو پڑھاؤں کہ یہاں ہر
رانجھے کے دل  سے آرزوءِ  ہِیر  نہ جائے

کل رات ستمگر کی جودیکھی ستمگری
ہُدہُدمیری آنکھوں سےوہ تصویر نہ جائے

وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا،
کھلاڑی نے سنچری مکمل کی اور میدان میں ہزاروں شائقین کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،
اس کے انگ انگ میں خوشی جھومنے لگی،
رونگٹے کھڑے ہوگئے،
اس کو اپنے مسلمان ہونے پر بہت فخر محسوس ہورہا تھا،
اس کو خوشی تھی کہ اسکے ملک کے کھلاڑی نے سنچری مکمل کرکے اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوکر،
اپنے "پکے" مسلمان ہونے کا ثبوت دیا تھا۔

مغرب کی اذان ہونے لگی
میچ اتنے دلچسپ موڑ پر تھا کہ اسے اذان کا احساس نہ ہوا،
یا ہوا بھی تو اس نے سوچا اس وقت میچ کو چھوڑنا مشکل ہوگا،
نماز تو قضا بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

میچ ہاتھ سے نکلا جارہا تھا،
اچانک ایک کھلاڑی کی آمد اور دھواں دار اننگ نے میچ کا پانسا پلٹ ڈالا،
اور اسکی ٹیم میچ جیت گئی۔

لیکن اس دوران مغرب تو دور، عشاء کی جماعت کا وقت بھی نکل چکا تھا۔

وہ بھاگتا ہوا مسجد گیا
تاکہ شکرانے کے نفل ادا کرسکے،

وہاں امام صاحب نماز کے بعد مختصر درس قران دے رہے تھے:
فرما رہے تھے:

قران کی سورۃ لقمان کی آیۃ نمبر 6 ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ۔

ترجمہ:

"اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو کھیل کود کی باتوں میں جی لگاتے ہیں تاکہ (وہ باتیں) گمراہ کردیں (انہیں) اللہ کے راستے سے بغیر جانے بوجھے، اور ان باتوں کو تفریح کی چیز بناتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کیلیئے ذلت ناک عذاب ہے۔"

اُسے ایسا لگا کہ جیسے یہ آیۃ آج ہی اُتری ہو
اور اُسی کیلیئے اُتری ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کُفر ہمیں عملی میدانوں میں شکست دینے کی ترکیبیں کر رہا ہے،
اور ہماری معصومیت ہے کہ ہم اسے کھیل کے میدانوں میں شکست دے کر پٹاخے اور فائرنگ کرکے خوشیاں منارہے ہوتے ہیں۔

اقبالؒ نے خوب کہا تھا:

وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

نظم
(یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے  جنت )
یاران جہاں کہتے ہیں
کشمیر ہے جنت
تم ہی بتاو !
ایسی ہوتی ہے جنت جہاں
ہر کوئی پابند سلاسل ہو
دندناتا پھرتا قاتل ہو
بلا کا جبر ہو قہر ہو
اپنی ہی جنت سے بے گھر ہو
وحشت ہو درندگی ہو
اپنی ہی جنت میں تشنگی ہو
ناکہ بندیاں ہوں
پابندیاں ہوں
باغات تباہ حال ہوں
خوشیاں پامال ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جسے درندوں نے گھیر رکھا ہو
ندیوں میں بہتے خون کے دھارے ہوں
عقوبت خانوں میں چاند تارے ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جہاں خار ہی خار ہوں
اور اتنے بے باک ہوں
گلوں کے دامن صد چاک ہوں
سروسمن ،دشت و دمن 
گلزار و باغ
ہیں داغ داغ
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
شبنم کی جگہ شعلے ہی شعلے ہیں
بہاروں کے تبسم کی جگہ
آہیں ہیں چیخیں ہیں
نوحے ہیں نالے ہیں
زندگی کی دھوپ کی بجائے
ہیں ہر طرف پھیلے موت کے سائے
چاند تارا سورج
یہاں جو بھی نکلتا ہے
جبر میں جکڑا جاتا ہے
قبر میں اتارا جاتا ہے
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
ہر جگہ فسادوشر ہے
سلامت کہاں کوئی سر ہے
جہاں آگ کے بادل گرجتے ہیں
شعلے سے لپکتے ہیں
خون برستا ہو
دل سلگتا ہو
ہائے!کتنی تلخ روداد ہے
میری جنت کی
شامیں جس کی خون سے رنگیں ہوں
حبس بے جا میں مکیں ہوں
صبحیں جس کی ماتم کناں ہوں
سامنے  جلے کٹے انساں ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جس کا ہر باسی
مجبور ہے مظلوم ہے
اپنی ہی جنت سے محروم ہے
اس جنت میں رہنے والوں کے  چہروں پر
پڑھو اداسی سے لکھی تحریر کو
پڑھو  لہو لہو ہوتی جنت نظیر کشمیر کو
پھیلا ہوا ہے دست قاتل ہر سو
لہو ہی لہو ہے چار سو
سنو
میری اس جنت پر
منڈلاتی ہوئی بھارت کی فسطائی ریاست ہے
اور
شعلوں کی زد میں
میری سلگتی ہوئی جنت ہے

نظم
(یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے  جنت )
یاران جہاں کہتے ہیں
کشمیر ہے جنت
تم ہی بتاو !
ایسی ہوتی ہے جنت جہاں
ہر کوئی پابند سلاسل ہو
دندناتا پھرتا قاتل ہو
بلا کا جبر ہو قہر ہو
اپنی ہی جنت سے بے گھر ہو
وحشت ہو درندگی ہو
اپنی ہی جنت میں تشنگی ہو
ناکہ بندیاں ہوں
پابندیاں ہوں
باغات تباہ حال ہوں
خوشیاں پامال ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جسے درندوں نے گھیر رکھا ہو
ندیوں میں بہتے خون کے دھارے ہوں
عقوبت خانوں میں چاند تارے ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جہاں خار ہی خار ہوں
اور اتنے بے باک ہوں
گلوں کے دامن صد چاک ہوں
سروسمن ،دشت و دمن 
گلزار و باغ
ہیں داغ داغ
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
شبنم کی جگہ شعلے ہی شعلے ہیں
بہاروں کے تبسم کی جگہ
آہیں ہیں چیخیں ہیں
نوحے ہیں نالے ہیں
زندگی کی دھوپ کی بجائے
ہیں ہر طرف پھیلے موت کے سائے
چاند تارا سورج
یہاں جو بھی نکلتا ہے
جبر میں جکڑا جاتا ہے
قبر میں اتارا جاتا ہے
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
ہر جگہ فسادوشر ہے
سلامت کہاں کوئی سر ہے
جہاں آگ کے بادل گرجتے ہیں
شعلے سے لپکتے ہیں
خون برستا ہو
دل سلگتا ہو
ہائے!کتنی تلخ روداد ہے
میری جنت کی
شامیں جس کی خون سے رنگیں ہوں
حبس بے جا میں مکیں ہوں
صبحیں جس کی ماتم کناں ہوں
سامنے  جلے کٹے انساں ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جس کا ہر باسی
مجبور ہے مظلوم ہے
اپنی ہی جنت سے محروم ہے
اس جنت میں رہنے والوں کے  چہروں پر
پڑھو اداسی سے لکھی تحریر کو
پڑھو  لہو لہو ہوتی جنت نظیر کشمیر کو
پھیلا ہوا ہے دست قاتل ہر سو
لہو ہی لہو ہے چار سو
سنو
میری اس جنت پر
منڈلاتی ہوئی بھارت کی فسطائی ریاست ہے
اور
شعلوں کی زد میں
میری سلگتی ہوئی جنت ہے

نظم
(کشمیری مجاہد کی للکار اور عزم )
میں کوہ گراں بن کر
کھڑا رہوں گا
ڈٹا رہوں گا
میری غیرت ابھی مری نہیں
آتش چنار ابھی بجھی نہیں
جتنے
لاشے اٹھائے ہیں میں نے
پیارے گنوائے ہیں میں نے
ان سب کا حساب لینا ہے
تجھے ہر صورت دینا ہے
اب
رات تمھارے مقدر میں ہو گی
روشنی میرے گھر گھر میں ہو گی
جتنے تو نے
بم گرائے انسانوں کی آبادی پر
گہرے گھاو لگائے روح آزادی پر
ظلم ڈھائے اس وادی پر
برق بن کر تجھ پر
کڑکوں گا،گرجوں گا
کوندوں گا،گروں گا
اجل بن کر جھپٹوں گا
قہر کا بادل بن کر برسوں گا
تو نے جتنے
گھر برباد کیے
استبداد کیے
چھینے ماوں کے لخت جگر
کیے گھروں سے بے گھر
اجاڑے سہاگ
لگائی جہاں جہاں آگ
گن گن کر بدلا لوں گا
چن چن کر ماروں گا
تمہیں بھاگنے نہیں دوں گا
آسانی سے جینے نہیں دوں گا
تیرے مقدر میں
رسوائی لکھ دوں گا
تباہی لکھ دوں گا
جتنے
کٹے ہوئے سر دیکھے ہیں
پیوست ان میں خنجر دیکھے ہیں
سولیوں پر چڑھے دیکھے ہیں
بلکتے سسکتےبچے دیکھے ہیں
تیغ بے نیام بن کر
تیرے اوپر منڈلاوں گا
سروں کی فصل کاٹوں گا
اے وقت کے یزیدو!
عورتوں کو بے ردا کرنے والو!
آوں گا میں بن کر برہنہ شمشیر
کچھ بھی نہ چلنے دوں گا تمہاری تدبیر
ٹوٹے گی غلامی کی زنجیر
اتروں گا تیرے سینے میں مانند تیر
اب
مجھے اندیشہ جاں نہیں
اجل سے پریشاں نہیں
ہو کر سر بکف
بڑھ رہا ہوں تیری طرف
اس وادی میں
جب تک ظلم کا اندھیرا رہے گا
غلامی کا ڈیرا رہے گا
اپنے لہو سے چراغ جلاتا رہوں گا
تجھ سے ٹکراتا رہوں گا
اب تو ہر رن کانپے گا
تیرا ہر فوجی بھاگے گا
گونج ہو گی تکبیروں کی
خیر نہیں اب زنجیروں کی
اپنے رستے کے
ہر سنگ و آہن کو توڑوں گا
ظلمت و وحشت کے منہ موڑوں  گا
کتنے سر کاٹو گے
کتنے لاشے گراو گے
ہر سر میں سر فروشی کی تمنا ہے
جب مرنا ہی ٹھہرا ہے
تو پھر حق ادا کرکے مرنا ہے
تیرے اس دستور کو بدلنا ہے
تجھ سے ہر صورت لڑنا ہے
اب میں
لہروں سے الجھوں گا
بھنوروں سے لڑوں گا
طوفانوں سے ٹکراوں گا
آگے ہی آگے بڑھوں گا
کناروں تک آوں گا
اس وادی کو میں
نکھاروں گا خون جگر سے
سنواروں گا دست ہنر سے
اپنے وجود کی
روشنی سے
ضرب کلیمی سے
زور حیدری سے
رسم شبیری سے
زندگی ہو گی ہر آنگن میں
روشنی ہو گی کاشانہ چمن میں
آزاد ہو گا ہر اک میرے وطن میں
تیرا سینہ چاک کروں گا
تجھے خاک کروں گا
یہ دھرتی تجھ سے پاک کروں گا
مجھے اب یقیں ہے
سیاہ رات زیادہ دیر نہیں ہے
اب راستا نکلے گا
اسی سنگ راہ سے آزادی کا چشمہ پھوٹے گا
تیرے حوصلے ٹوٹیں گے
منہ کے بل گریں گے
غلامی کی گھٹاؤں سے
آزادی کا چاند نکلے گا
سورج چمکے گا
اب تو لاکھ
بجلیاں گرا
طوفان لا
آندھیاں اٹھا
آزادی کے پھول کھلیں گے
چاک گریباں سلیں گے
اس وادی میں اب
اندھیرا نہیں رہے گا
درد کا ڈیرا نہیں رہے گا
بھارتی درندوں کا بسیرا نہیں رہے گا

نظم
میں غریب شہر ہوں
مجھے کیا حق ہے جینے کا
میری سانسوں کو
میری دھڑکنوں کو
میری دیکھتی آنکھوں کو
میری سماعتوں کو
لرزتے کانپتے ہونٹوں کو
بڑھتے قدموں کو
میرے زندہ رہنے کی
زندگی گزارنے کی
سزا دیجئے
مجھے اٹھا دیجئے
کفن پہنا دیجئے
منوں مٹی تلے دبا دیجئے

نظم
کشمیر آزاد ہو گا
ختم یہ استبداد ہو گا
غاصب برباد ہو گا
مودی سرکار!سن
تو چاہے
خون کی ندیاں بہا دے
قہر قیامت ڈھا دے
بھلے آئین بھی بدلا دے
اس کشمیر کو
جنت نظیر کو
درد کی تصویر بنادے
غلامی کی زنجیر پہنا دے
ہندووں کی جاگیر بنادے
آگ لگا دے چناروں کو
اجاڑ دے گلزاروں کو
روند دے لالہ زاروں کو
وادی وادی لہولہان کر دے
ختم ہر بوڑھا جوان کر دے
برباد کھیت کھلیان کر دے
تو اجاڑ دے سہاگ
لگا دے ہر جگہ آگ
بنا دے ہر فوجی ناگ
مگر مودی سرکار
یاد رکھ
کشمیریوں کا کشمیر ہے
خون سے یہ تحریر ہے
بدلنے والی ان کی تقدیر ہے

ظلم کی رات ڈھل کے رہے گی
کشمیر کی قسمت بدل کے رہے گی
نوید سحر مل کے رہے گی
مودی سرکار
یاد رکھ
کشمیر آزاد ہو گا
ختم یہ استبداد ہو گا
غاصب برباد ہو گا

*5 علمی سوال / جواب :*

*سوال1 :* غسل میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* 3 فرض ہیں۔

1. کلی کرنا
2. ناک میں پانی چڑھانا
3. تمام ظاہری جسم پر پانی بہانا۔
*سوال 2 :* وضوء میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* 4 فرض ہیں۔

1. مکمل چہرہ دھونا
2. دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔
3. چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
4۔ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
*سوال 3 :* نماز میں کتنے فرض ہیں؟

*جواب :* نماز میں 6 شرائط اور 7 فرائض ہیں۔

*6 شرائط*

1. طھارت،
2. کپڑے کا پاک ہونا،
3۔ ستر کا چھپا ہونا،
4۔ قبلہ رخ ہونا،
5۔ نیت باندھنا،
6۔ وقت،

*7 فرائض*

1. تکبیر تحریمہ
2. قیام
3. قرآت
4. رکوع
5. دونوں سجدے
6۔ قعدہ اخیرہ (آخری التحیات کے لئے بیٹھنا).
7۔ خروج بِصُنعِہٖ (نماز سے باہر آنے کا عمل کرنا، جیسے سلام پھیرنا)۔
*سوال 4 :* ایک دن میں کتنی نمازیں فرض ہیں؟

*جواب :* 5 نمازیں فرض ہیں اور ایک نماز واجب ہے۔

*5 نمازیں*

1. فجر
2. ظہر
3۔ عصر
4۔ مغرب
5۔ عشاء

*ایک واجب نماز*

1. وتر
*سوال 5 :* کیا وتر ایک الگ نماز ہے؟

*جواب :* وتر واجب نماز ہے۔ اور یہ عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ اور اس کی نیت میں عشاء کی نہیں بلکہ وتر کی نیت کریں گے-
*ثواب کی نیت آگے شیئر ضرورکریں*
_*جزاک اللہ*

*قران کی 100 باتیں*

1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
2 غصے کو قابو میں رکھو
3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4 تکبر نہ کرو‘
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9 والدین کی خدمت کیا کرو‘
10 منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12 حساب لکھ لیا کرو‘
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15 سود نہ کھاؤ‘
16 رشوت نہ لو‘
17 وعدہ نہ توڑو‘
18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25یتیموں کی حفاظت کرو‘
26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
28 بدگمانی سے بچو‘
29 غیبت نہ کرو‘
30 جاسوسی نہ کرو‘
31 خیرات کیا کرو‘
32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
47 جنسی بدکاری سے بچو‘
48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50 نفاق سے بچو‘
51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55 بخیل نہ بنو‘
56 حسد نہ کرو,
57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62 صحیح راستے پر رہو‘
63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67 جواء نہ کھیلو‘
68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
69 چغلی نہ کھاؤ،
70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73 طہارت قائم رکھو‘
74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99 اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔

اللہ جل جلالہ  عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget