2 گدھ
اور ھمارہ معاشرہ۔۔😥
اس تصویر کو کون بھول سکتا ھے۔۔۔۔
اس تصویر میں صاف پتہ چل رھا ھے۔۔۔کہ ایک بچہ بھوک سے بے حال ھے ۔۔
اور اس بھوک پیاس سے مرتے اس انسان کے بچے کا مرنے کا انتظار ایک بھوکا گدھ کر رھا ھے۔۔۔۔
یہ تصویر سائوتھ افریقہ کے علاقےسوڈان کی 1993۔کے قحط
زادہ علاقے کی ھے۔۔۔
اور تصویر لینے والا ۔ایک فوٹو گرافر۔ جرنلیسٹ۔ .kevin.caeretr....شدید۔قحط کے متاثر علاقے میں یہ تصویر لی ۔۔۔۔
یہ تصویر اتنی مشہور ھوئی۔۔۔
کہ اس کیمرا مین یا جرنلیسٹ۔صحافی ۔کو
دنیائے جرنلیسٹ۔یا صحافت کا سب سے بڑا ۔ ایوارڈ صحافت سے نوازہ گیا.........
Pulitzer.prize..
لیکن کارٹر زیادہ دن اس ایوارڈ کے ملنے کے مزے نہ لے سکا۔۔۔۔کیونکہ کچھ دن باد کارٹر کیمرا مین نے خودکشی کر لی۔۔۔۔۔
اب دنیا پھر کے نیوز چینل اور اخبار کی برکینگ نیوز۔تھی ۔۔۔کارٹر نے خودکشی کر لی ۔۔عالمی ایوارڈ یافتہ جرنلسٹ نے خودکشی کر لی۔۔۔
اور ساتھ میں ایک سوال تھا کے کارٹر نے خودکشی کیوں کی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کارٹر جب اس سب سے بڑے ایواڑ ملنے کی خوشی میں جشن منا رھا تھا۔۔۔تو ایک با ضمیر انسان نے کارٹر سے سوال کیا۔۔؟؟
تم نے بہت زبردست تصویر بنائی۔۔۔مگر میرا سوال ھے کہ اس بچے کا کچھ پتہ ھے اس کے ساتھ گدھ نے کیا حشر کیا ۔۔۔؟؟؟
کارٹر ایک لمحہ کے لیے پریشان ھو کر خاموش ھوگیا۔۔
پھر کچھ وقفے کے باد جواب دیا نہیں مجھے نہیں پتہ میں جلدی میں تھا تصویر لیکر میں یہ سب کچھ دیکھنے کو وھاں نہیں رک سکا۔۔۔۔کیونکہ میری واپسی کی فلائٹ تھی۔۔۔۔
اس با ضمیر انسان نے کارٹر سے کہا دراصل اس دن وھاں دو گدھ تھے ۔۔۔۔۔
ایک کے ھاتھ میں کیمرا تھا اور شہرت کا بھوکا تھا۔۔۔
اور دوسرے کی آنکھ میں میں بھوک تھی ۔۔اور وہ اس معصوم بھوکے پیاسے بچے کے مرنے کا انتظار کر رہا تھا کہ اس کے مرنے پر اس بچے کو کوچ نوچ کر کھا جاؤں۔۔۔۔😥😥
باضمیر انسان نے کارٹر سے کہا کہ تم اگر اس بچے کو تصویر بنانے سے پہلے یا بعد میں کسی قریب UNO.فوڈ کیمپ پر پہنچا دیتے تو شاید وہ بچہ وہ انسان ۔گدھ کے نوچنے سے اور مرنے سے بچ جاتا۔۔۔۔بس یہ بات سن کر کارٹر وہاں سے اٹھا۔۔ اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔
اور اس جملے نے کارٹر کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ۔۔کارٹر نے اسی رات خودکشی کر لی۔۔۔۔۔۔
۔یہ تو تھا کارٹر ۔۔
کا قصہ ۔۔
آج ھمارے معاشرے میں بھی ھم اکثر جگہ اس گدھ کا کردار ادا کرتے ہیں جس کے ھاتھ میں کیمرا تھا۔۔۔
اور کسی انسان کی کسی مظلوم کی مدد کرنے کے بجائے ہم اکثر کمیرے والے گدھ بن جاتے ھیں اور اپنے موبائل سے تصویر ویڈیو بنانے کو اچھا سمجھتے ھیں اور اس مظلوم کی یا پریشان انسان کی مدد نہیں کرتے ۔۔
یا ظالم کا ھاتھ نہیں روکتے ۔۔۔اور کسی بھی طرح کا کسی مظلوم کی بھوک پیاس ۔ایکسیڈنٹ کی صورت میں جب کسی کو ہمارے کمیرے سے زیادہ ھماری مدد کی ضرورت ھوتی ھے۔۔۔۔
میرا مجھ سمیت تمام صحافی جرنلسٹ ۔عوام اور دستوں کو پیغام ھے کہ ۔۔کیمرے والے گدھ بننے سے بہتر ھے
۔۔مظلوم کی مدد کرنے والے انسان بنو ۔۔۔۔۔۔تاکہ اللہ کو اور ضمیر کو جواب دینے میں آسانی رہے۔۔۔۔
ایک تبصرہ شائع کریں