اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

2025

ایک سچی کہانی
"آج جب میں نے پاس ہونے والوں کی لسٹ دیکھی، تو پہلی بار اپنی سانس کا بوجھ محسوس ہوا… میرے ساتھ پڑھنے والے سب کے نام تھے، سوائے میرے۔"
یہ جملہ نہیں تھا، یہ ایک ایسا ہتھوڑا تھا جو میرے شیشے جیسے خوابوں پر برسا اور انہیں کرچی کرچی کر گیا۔ پی ڈی ایف (PDF) فائل میں موجود ہزاروں ناموں میں، میں نے اپنی آنکھیں پھاڑ کر اپنا رول نمبر تلاش کیا۔ ایک بار، دو بار، تین بار… مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ اسکرین پر نظر آنے والے دوستوں کے نام مبارکباد کے پیغامات کی طرح چمک رہے تھے، اور میرا نام نہ ہونا ایک خاموش تھپڑ کی طرح میرے وجود پر لگا تھا۔
موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پر گر گیا۔ کمرے میں وہی پرانی خاموشی تھی، مگر آج یہ خاموشی مجھے کاٹ رہی تھی۔
باہر دسمبر کی دھند اپنے عروج پر تھی۔ کھڑکی کے شیشے دھندلے ہو چکے تھے، بالکل میرے مستقبل کی طرح۔ گلی میں سناٹا تھا، صرف کبھی کبھار کسی گزرنے والی موٹر سائیکل کی آواز یا دور بھونکتے کتے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ کمرے کے اندر ہیٹر بند تھا کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری تھی، اور میرے ہاتھ ٹھنڈ سے نیلے پڑ رہے تھے—یا شاید یہ وہ سردی تھی جو ناکامی میرے خون میں انڈیل دی تھی۔
میں اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے میز پر کتابوں کا ایک پہاڑ تھا۔ "ورلڈ افیئرز"، "انٹرنیشنل لاء"، "تاریخ پاکستان"… یہ کتابیں جو کل تک مجھے علم کا سمندر لگتی تھیں، آج مجھے کاغذ کا ردّی ڈھیر محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے ایک کتاب اٹھائی اور دیوار پر دے ماری۔
"کیوں؟" میرے حلق سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔ "آخر کمی کہاں رہ گئی؟ میں نے تو اپنی نیندیں، اپنی خوشیاں، اپنی جوانی سب کچھ اس امتحان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ کیا میں کبھی کامیاب ہو سکوں گا؟ یا میرا مقدر صرف کوشش کرنا ہے، جیتنا نہیں؟"
دروازہ ہلکا سا کھلا۔ امی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھیں۔ ماں کو بتانا نہیں پڑتا کہ اولاد کا دل ٹوٹا ہے۔ وہ خاموشی سے اندر آئیں، چائے میز پر رکھی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ کچھ نہیں بولیں، شاید اس لیے کہ ان کی آواز بھرا گئی تھی۔ وہ باہر تو سب کے سامنے مسکراتی تھیں، کہتی تھیں میرا بیٹا محنت کر رہا ہے، اللہ صلہ دے گا… مگر میں جانتا تھا کہ وہ تہجد میں جب سجدے میں گرتی ہیں تو ان کی ہچکیاں رکتی نہیں ہیں۔ ان کا وہ کانپتا ہوا ہاتھ میرے بالوں میں پھر رہا تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی بجائے ان کے کندھوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔
شام کو بابا گھر آئے۔ تھکے ہوئے، گرد آلود چہرے کے ساتھ۔ وہ سارا دن لوگوں کی باتیں سنتے ہیں، دفتر میں افسروں کی جھڑکیاں سہتے ہیں، صرف اس امید پر کہ ایک دن ان کا بیٹا افسر بنے گا۔ وہ میرے کمرے میں نہیں آئے۔ وہ صحن میں ہی بیٹھ گئے۔ میں نے پردے کی اوٹ سے دیکھا، وہ اپنی عینک صاف کر رہے تھے اور بار بار اپنی آنکھیں رگڑ رہے تھے۔ وہ رو نہیں رہے تھے، مرد روتے نہیں ہیں، وہ بس اندر سے گر رہے تھے۔ ان کی وہ خاموش شکستگی میرے لیے میری اپنی ناکامی سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
میں نے دوبارہ اپنی میز کی طرف دیکھا۔ ان نوٹس کی طرف جو میں نے سال بھر بنائے تھے۔ دل کیا کہ سب کچھ آگ لگا دوں۔ یہ سفر بہت ظالم تھا۔ یہ صرف کتابوں کا امتحان نہیں تھا، یہ اعصاب کا امتحان تھا۔ یہ یہ دیکھنے کا امتحان تھا کہ آپ کتنی بار گر کر اٹھ سکتے ہیں۔
اسی بے بسی کے عالم میں، میں نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ اسکرین پر بے مقصد کلک کرتے ہوئے میری نظر ایک پرانی ای میل یا شاید ایک نوٹیفکیشن پر پڑی۔ یہ MOCC-Online Competitive Exams Academy کی طرف سے بھیجی گئی ایک گائیڈ لائن تھی۔ اس میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں تھی، بس ایک جملہ نمایاں تھا جس نے مجھے روک لیا:
"ناکامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ نااہل ہیں، بلکہ یہ اشارہ ہے کہ آپ کی تیاری میں کوئی ایسا خلا ہے جسے صرف آپ پُر کر سکتے ہیں۔ جذبات سے نہیں، حکمت عملی سے لڑیں۔"
یہ جملہ میرے ذہن میں روشنی کی ایک لکیر بن گیا۔ میں جذباتی ہو رہا تھا۔ میں خود کو کوس رہا تھا۔ لیکن میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ "غلطی" کہاں ہوئی ہے۔
میں نے آنسو پونچھے۔ ایک لمبی، گہری سانس لی۔ میز پر بکھری ہوئی کتابوں کو سمیٹا۔ میں نے اپنے پچھلے پیپرز کے رف (Rough) ڈرافٹس نکالے۔ میں نے اپنی ہی لکھی ہوئی تحریروں کو ایک نقاد (Critic) کی نظر سے پڑھنا شروع کیا۔
اور تب مجھے نظر آیا۔
میری تحریر میں علم تو تھا، مگر ربط نہیں تھا۔ میرے دلائل میں جوش تو تھا، مگر ٹھوس شواہد نہیں تھے۔ میں نے اپنی کمزوریاں تسلیم کرنا شروع کیں۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ خود کو یہ ماننا کہ "میں غلط تھا"۔
میں نے ایک ڈائری اٹھائی اور لکھنا شروع کیا:
— انگلش ایسے (Essay) میں میرا ڈھانچہ کمزور تھا۔
— کرنٹ افیئرز میں میرا تجزیہ سطحی تھا۔
— میں نے سوال کو سمجھنے کی بجائے وہ لکھا جو میں نے رٹا ہوا تھا۔
یہ رات میری زندگی کی سب سے لمبی رات تھی، مگر یہ وہ رات تھی جب میں نے ماتم کرنا چھوڑ دیا اور جنگ کی تیاری شروع کی۔
پھر وقت بدلنے لگا۔ دسمبر کی دھند چھٹنے لگی، مارچ کی ہوائیں چلیں، اور پھر جولائی کی تپتی ہوئی دوپہریں آئیں۔
میرا کمرہ اب قید خانہ نہیں، تربیت گاہ بن چکا تھا۔ میرے دوست کرکٹ کھیلنے جاتے، میں لائبریری کے کونے میں بیٹھا رہتا۔ رشتے داروں کی شادیوں کے کارڈ آتے، میں معذرت کر لیتا۔ لوگ کہتے "یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے"، "نفسیاتی ہو گیا ہے"۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ جس عمارت کی بنیاد گہری کھودی جا رہی ہو، اسے بننے میں وقت لگتا ہے۔
اب میں پڑھ نہیں رہا تھا، میں سیکھ رہا تھا۔ میں نے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ جب گرمی میں پسینہ کتابوں پر ٹپکتا، تو میں اسے اپنی محنت کی سیاہی سمجھتا۔ جب تھک کر آنکھیں بند ہونے لگتیں، تو مجھے بابا کا جھکا ہوا سر اور ماں کا لرزتا ہوا ہاتھ یاد آ جاتا، اور میں منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر دوبارہ بیٹھ جاتا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ دنیا میرے ساتھ نہیں ہے، کوئی میرے حق میں نعرے نہیں لگا رہا، مگر میرا ایمان اور میری محنت میرا سب سے بڑا لشکر ہے۔
یہ سفر تنہائی کا تھا، اور میں نے اس تنہائی سے محبت کر لی تھی۔
پھر… ایک اور سال گزر گیا۔
پھر سے رزلٹ کا دن آیا۔
موسم پھر بدل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اسی کمرے میں تھا، اسی میز کے سامنے۔ لیکن اس بار خوف نہیں تھا، ایک عجیب سا سکون تھا۔ جیسے سمندر طوفان کے بعد پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں نے لیپ ٹاپ کھولا۔ ویب سائٹ لوڈ ہونے میں وقت لگا رہی تھی۔ دل کی دھڑکن پسلیوں سے ٹکرا رہی تھی، مگر ہاتھوں میں وہ پرانی کپکپاہٹ نہیں تھی۔
فائل کھلی۔
میں نے سرچ بار میں اپنا رول نمبر لکھا۔
"Enter" کا بٹن دبایا۔
ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ… اور پھر اسکرین پر میرا نام ابھرا۔
اس بار میرا نام پاس ہونے والوں کی لسٹ میں نہیں تھا…
میرا نام "Allocated Candidates" (منتخب شدہ امیدواروں) کی لسٹ میں چمک رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کمرے کی فضا ساکت ہو گئی۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے دوبارہ دیکھا۔ ہاں، وہ میرا ہی نام تھا۔ وہ میرا ہی رول نمبر تھا۔
میں کرسی سے اٹھا۔ میرے پاؤں میں جان نہیں تھی۔ میں لڑکھڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔
صحن میں امی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھیں۔ بابا چارپائی پر بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے، مگر ان کا دھیان کہیں اور تھا۔
میں ان کے قریب گیا۔ میرا گلا رندھا ہوا تھا۔ میں کچھ بولنا چاہتا تھا مگر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ میں نے بس اتنا کیا کہ اپنا موبائل بابا کے ہاتھ میں دے دیا۔
بابا نے عینک درست کی، اسکرین پر دیکھا۔ ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا، پھر موبائل دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے انہیں سمجھ نہیں آیا۔ پھر ان کے ہونٹ کپکپائے۔
"بیٹا…؟" ان کی آواز میں سوال بھی تھا اور یقین کی انتہا بھی۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
بابا نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ وہ مضبوط باپ، جو کبھی نہیں رویا تھا، آج میرے کندھے پر سر رکھ کر بچے کی طرح رو پڑا۔ ان کے آنسو میری قمیض بھگو رہے تھے اور وہ آنسو میرے لیے دنیا کے کسی بھی میڈل سے زیادہ قیمتی تھے۔
امی نے یہ منظر دیکھا تو وہ جائے نماز پر ہی سجدے میں گر گئیں۔ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا، بس "الحمداللہ" کی سسکیاں تھیں۔
اس لمحے، گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر، میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دسمبر کی سرد ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر اب یہ ہوا مجھے کاٹ نہیں رہی تھی، مجھے تھپکی دے رہی تھی۔ وہ تمام راتیں، وہ تمام طعنے، وہ بھوک، وہ پیاس، وہ تنہائی… سب وصول ہو گیا تھا۔
میں نے اپنی مٹھی بند کی، اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور خود کو وہ بات کہی جو اب میری زندگی کا حاصل تھی:
"میرے خواب بکھرے تھے… مگر میں نہیں بکھرا۔"

تحریر: پروفیسر رانا مبشر رضا

پریشان اور نا امید ہیں ؟ گھبرائیں نہیں اٹھیں اپنی کرچیاں سمیٹیں۔ اگلی لسٹ میں ایک نام آپ کا انتظار کر رہا ہے، بشرطیکہ آپ میدان نہ چھوڑیں۔

یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں!!!
"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)✍️

"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)✍️

"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)✍️

"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)✍️

"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)✍️

"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)✍️

"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)✍️

"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)✍️

"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)✍️

"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)✍️

"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)✍️

"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)✍️

"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)✍️

"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)✍️

"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)✍️

"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)✍️

"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)✍️

"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)✍️

"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)✍️

"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)✍️

"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)✍️

"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)✍️

"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)✍️

"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)✍️

"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)✍️

"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)✍️

"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)✍️

گائے دودھ نہیں دیتی
ایک باپ اپنے چھوٹے بچوں سے کہا کرتا تھا:
"جب تم میں سے ہر کوئی بارہ سال کا ہو جائے گا، تو میں اُسے زندگی کا راز بتاؤں گا۔"
ایک دن، جب سب سے بڑا بیٹا آخر کار بارہ سال کا ہوا، تو اُس نے گھبراہٹ میں اپنے والد سے پوچھا، "تو وہ راز کیا ہے؟"
اس کے والد اُس کے قریب جھکے اور کہا، "میں تمہیں بتاؤں گا، لیکن تم ابھی اسے اپنے بھائیوں کے ساتھ شیئر (بانٹ) نہیں کر سکتے۔ تیار ہو؟ راز یہ ہے: گائے دودھ نہیں دیتی۔"
لڑکا الجھن میں بولا، "آپ کا کیا مطلب ہے؟"
"تم نے صحیح سنا۔ ایک گائے تمہیں یونہی دودھ نہیں دے دیتی—تمہیں یہ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں صبح چار بجے اُٹھنا پڑتا ہے، باڑے (اصطبل) سے گزرنا پڑتا ہے، گوبر پر قدم رکھنا پڑتا ہے، گائے کی دُم باندھنی پڑتی ہے، اُس کی ٹانگیں محفوظ کرنی پڑتی ہیں، اسٹول پر بیٹھنا پڑتا ہے، بالٹی نیچے رکھنی پڑتی ہے… اور یہ سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ راز یہی ہے: گائے دودھ نہیں دیتی۔ یا تو تم اُسے دوہو گے (Milk کرو گے)—یا پھر اس کے بغیر گزارا کرو گے۔"
والد نے رُک کر بات جاری رکھی:
"دیکھو، ایک پوری نسل ہے جو سمجھتی ہے کہ گائے دودھ دیتی ہے۔ کہ چیزیں اُنہیں خود بخود، مفت میں مِل جائیں گی۔ اُن کی سوچ یہ ہے کہ، میں چاہتا ہوں، میں مانگتا ہوں، اور مجھے مِل جاتا ہے۔ انہیں ہر چیز آسان طریقے سے پانے کی عادت ہے۔ لیکن زندگی ایسے کام نہیں کرتی۔ زندگی خواہش کرنے، مانگنے اور وصول کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ کوشش کرنے کا نام ہے۔ جو کچھ تمہیں زندگی میں ملتا ہے وہ براہِ راست اُس محنت سے آتا ہے جو تم کرتے ہو۔ خوشی محنت کا نتیجہ ہے۔ اور جب تم محنت کو نظرانداز کرتے ہو، تو تمہارے ہاتھ صرف مایوسی آتی ہے۔"
لہٰذا اُس نے اپنے بچوں سے کہا:
"اِس راز کو کم عمری سے یاد رکھنا، تاکہ تم یہ سوچ کر بڑے نہ ہو کہ حکومت، تمہارے والدین، یا تمہاری مسکراہٹ تمہیں ہر وہ چیز تھما دے گی جس کی تمہیں ضرورت ہے۔ زندگی اِس طرح نہیں چلتی۔
کبھی نہ بھولنا: گائے دودھ نہیں دیتی۔ اسے پانے کے لیے—تمہیں کام کرنا پڑتا ہے۔

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“ میں نے پوچھا ”سر غصے کی کیمسٹری کیا ہے؟“
وہ مسکرا کر بولے ”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ میں نے پوچھا ”مثلا“۔۔۔؟ وہ بولے ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
میں نے عرض کیا ”کیا یہ نسخہ صرف غصے تک محدود ہے“ وہ مسکرا کر بولے ”جی نہیں‘ ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ میں نے عرض کیا ”لیکن میں اکثر لوگوں کو سارا سارا دن غصے‘ اداسی‘ نفرت اور خوف کے عالم میں دیکھتا ہوں‘ یہ سارا دن نارمل نہیں ہوتے“ وہ مسکرا کر بولے ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“ وہ رکے اور پھر بولے ”آپ نے کبھی غور کیا ہم میں سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر ہر وقت حیرت‘ ہنسی‘ نفرت‘ خوف‘ اداسی یا پھر غصہ کیوں نظر آتا ہے؟
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ میں نے عرض کیا ”اور کیا محبت جذبہ نہیں ہوتا“ فوراً جواب دیا ”محبت اور شہوت دراصل لطف کے والدین ہیں‘ یہ جذبہ بھی صرف بارہ منٹ کاہوتا ہے‘
آپ اگر اس کی بھٹی میں نئی لکڑیاں نہ ڈالیں تو یہ بھی بارہ منٹ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہم بے وقوف لوگ اسے زلف یار میں باندھ کر گلے میں لٹکا لیتے ہیں اور یوں مجنوں بن کر ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم انسان اگر اسی طرح شہوت کے بارہ منٹ بھی گزار لیں تو ہم گناہ‘ جرم اور ذلت سے بچ جائیں لیکن ہم یہ نہیں کر پاتے اور یوں ہم سنگسار ہوتے ہیں‘ قتل ہوتے ہیں‘ جیلیں بھگتتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں‘ ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
میں نے ان سے عرض کیا ”آپ یہ بارہ منٹ کیسے مینیج کرتے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے ”میں نے ابھی آپ کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا‘ وہ صاحب غصے میں اندر داخل ہوئے‘ مجھ سے اپنی فائل مانگی‘ میں نے انہیں بتایا میں آپ کی فائل پر دستخط کر کے واپس بھجوا چکا ہوں لیکن یہ نہیں مانے‘ انہوں نے مجھ پر جھوٹ اور غلط بیانی کا الزام بھی لگایا اور مجھے ماں بہن کی گالیاں بھی دیں‘ میرے تن من میں آگ لگ گئی لیکن میں کیونکہ جانتا تھا میری یہ صورتحال صرف 12 منٹ رہے گی چنانچہ میں چپ چاپ اٹھا‘
وضو کیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی‘ میرے اس عمل پر 20 منٹ خرچ ہوئے‘ ان 20 منٹوں میں میرا غصہ بھی ختم ہو گیا اور وہ صاحب بھی حقیقت پر پہنچ گئے‘ میں اگر نماز نہ پڑھتا تو میں انہیں جواب دیتا‘ ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی‘ لوگ کام چھوڑ کر اکٹھے ہو جاتے‘ہمارے درمیان ہاتھا پائی ہو جاتی‘ میں اس کا سر پھاڑ دیتا یا یہ مجھے نقصان پہنچا دیتا لیکن اس سارے فساد کا آخر میں کیا نتیجہ نکلتا؟ پتہ چلتا ہم دونوں بے وقوف تھے‘ ہم سارا دن اپنا کان چیک کئے بغیر کتے کے پیچھے بھاگتے رہے چنانچہ میں نے جائے نماز پر بیٹھ کر وہ بارہ منٹ گزار لئے اور یوں میں‘ وہ اور یہ سارا دفتر ڈیزاسٹر سے بچ گیا‘ ہم سب کا دن اور عزت محفوظ ہو گئی“
میں نے پوچھا ”کیا آپ غصے میں ہر بار نماز پڑھتے ہیں“ وہ بولے ”ہرگز نہیں‘ میں جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آتا ہوں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیتا ہوں‘ میں زبان سے ایک لفظ نہیں بولتا‘ میں قہقہہ لگاتے ہوئے بھی بات نہیں کرتا‘ میں صرف ہنستا ہوں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیتا ہوں‘ میں خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلا جاتا ہوں‘ غسل کرلیتا ہوں‘ وضو کرتا ہوں‘ 20 منٹ کیلئے چپ کا روزہ رکھ لیتا ہوں‘ استغفار کی تسبیح کرتا ہوں‘
اپنی والدہ یا اپنے بچوں کو فون.کرتا ہوں‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیتا ہوں‘ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جاتا ہوں یا پھر اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہوں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ میری عقل ٹھکانے پر آ جاتی ہے اور میں فیصلے کے قابل ہو جاتا ہوں“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور اگر آپ کو یہ تمام سہولتیں حاصل نہ ہوں تو آپ کیا کرتے ہیں“ وہ رکے‘ چند لمحے سوچا اور بولے ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ میں منہ نہیں کھولتا‘
میں خاموش رہتا ہوں اور آپ یقین کیجئے سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ میری خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

روم و فارس کے بادشاہوں کے نام
خالد بن ولید
کا دو ٹوک الفاظ کا خط۔۔۔
''ہتھیار ڈال دو سڑنڈر کر دو ورنہ میں ایسی فوج لیکر آؤں گا کہ جتنا تمہیں اور تمہاری فوج کو اپنی زندگی سے پیار ہے، اتنا مجھے اور میری فوج کو اپنی موت سے پیار ہے''
پھر سرنڈر کے بجائے لڑنے کا نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔! 
دنیا کی دو سپر پاورز کو عرب کے ایک کمانڈر نے نیست و نابوت کر دیا۔
دنیا کی تاریح میں ایسا کوئی جنگی کمانڈر نہیں گزرا جس نے سینکڑوں لڑائیاں لڑی ہوں مگر کبھی ہارا نہ ہو حتی کہ سکندر اعظم، چنگیز خان، جولیس سیزر، نپولین بونا پارٹ بھی کئی مقامات پر لڑائیاں ہارے ہوئے ہیں مگر واحد انسانی تاریح میں خالد ہی ایسا جنرل کمانڈر معلوم پڑتا ھے جو کبھی کوئی لڑائی ہارا نہ ہو۔ 
خالد بن ولید کے بارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا و اجمعین فرماتے تھے۔۔۔ 
مائیں ایسے بچے روز روز جنا (پیدا) نہیں کرتی۔ 
خالد ابن الولید کا قول تھا۔۔۔!

''اگر موت میدانِ جنگ میں لکھی ہوتی تو خالد کبھی بستر پر نہ مرتا''
 کیونکہ انکی اپنی ساری زندگی میدان جنگ میں موت کا سامنا کرتے گزر گئی مگر موت آخر کار انہیں بستر پر آئی میدان جنگ میں نہیں۔ 
خالد ابن الولید کا ایک اور قول تھا۔۔۔! 
''بزدلوں کو کبھی نیند نہ آۓ''

مطلب بزدل ہونا اور حالات کا سامنا کرنے سے گھبرا جانا تو انسان ہونے کا بھی ایک نیچ ترین درجہ ہے۔
سلام ہو سیف اللہ سیدنا خالد ابن الولید رضی اللہ عنہا واجمعین پر۔

ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅
مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے* 
*This is Kamran, how can I help you ?* 

*ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے  باوجود یہ انگریزی ؟
فرمانے لگے "جی بولیے ؟"
ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"
جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،"
 ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “
 اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“
*ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت  اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"
 اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت  بتائیں"
 ہم نے کہا," سر نہیں، جناب,  اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے"
شکایت سننے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"
ہم نے کہا، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے، 
ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے  اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."
ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے" 
کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!*“ 
ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!!
کہنے لگے," میرے باپ کی بھی توبہ....!!
😅😅😅 
_______________________________

*‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*

 "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..

آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. 

بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .

اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. 

شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.

 مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.

شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..

 عورت نے جواب دیا..

 "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."

شیوانا نے مسکرا کر کہا.. 

"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟

 اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. 

تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..

 یہ بُت احمق نہیں ھے..

وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی 

مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. 

کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..

دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے.. 

جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!

مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔

سائیکالوجسٹ: کیسے ہو؟
میں: ٹھیک ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: ذہنی طور پہ کیسے ہو؟
میں: ٹھیک نہیں ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: معلوم ہوتا تو کیا یہاں بیٹھ کے آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا؟

سائیکالوجسٹ: کیا محبت کا مسئلہ ہے؟
میں: نہیں، محبتوں کا ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: کتنی بار محبت کی ہے؟
میں: معلوم نہیں ، ابھی بیٹھے بیٹھے آپ کی گفتگو سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: پہلی محبت کب ہوئی تھی؟
میں: جب پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔۔

سائیکالوجسٹ: آخری محبت کب ہوئی؟
میں: جب کالج میں تھا۔۔
 

سائیکالوجسٹ: تو پھر دوبارہ محبت کیوں نہیں کی؟
میں: کیونکہ آخری محبت بھلائی نہیں جا رہی ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: وہ آخری کیوں تھی؟
میں: کیونکہ اس کے بعد محبت کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔۔

سائیکالوجسٹ: ابھی تو کہہ رہے تھے آپ کی گفتگو سے محبت کر رہا ہوں۔ پھر؟
میں: وقتی ہے دل بہلانے کے لیے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی محبت یہیں چھوڑ جاؤں گا۔

سائیکالوجسٹ: اس کی محبت کو اتنا سوار کیوں کر رکھا ہے؟ ایسا کیا ہے، اس کی محبت میں جو تم کسی اور میں تلاش نہیں کر پا رہے؟
میں: اس کی غزالی آنکھوں کی نمی اور اس کی مہک کے حصار نے کبھی گھیرے سے باہر نکلنے نہیں دیا

سائیکالوجسٹ: آخری بار کب ملے تھے؟
میں: یہاں آنے سے پہلے ہی ملا تھا۔

سائیکالوجسٹ: کہاں؟
میں: آئینے کے سامنے جب بال سنوار رہا تھا۔

سائیکالوجسٹ: وہ ساتھ تھی؟
میں: وہ الگ کب ہوئی؟

سائیکالوجسٹ: الگ کرو گے تو کسی اور سے محبت ہوگی۔۔
میں: آخری محبت ہے کیسے بھولوں؟

سائیکالوجسٹ: تم نے آخری بنا رکھا ہے۔ 
میں: وہ سوار ہے بھلائی نہیں جاتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: کیا چیز بھولنے نہیں دیتی؟
میں: یہ چائے کا کپ جو سامنے پڑا ہے۔ 

سائیکالوجسٹ: ہم اس کی جگہ کافی بھی رکھ سکتے ہیں۔
میں: میڈم یہ آپشن محبت میں نہیں ملا کرتے۔

سائیکالوجسٹ: خوش کب ہوتے ہو؟
میں: جب اکیلا ہوں۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: کیونکہ تنہائی میں ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: دن میں کتنی بار ملاقات ہوتی ہے؟
میں: دن میں اتفاق سے ہوجاتی ہے ورنہ رات میں لازم۔

سائیکالوجسٹ: اور رات میں کب تک؟
میں: جب تک نیند نا آئے۔

سائیکولوجسٹ: نیند کب تک آ جاتی ہے؟
میں: جب تک ملاقات میں ناراضگی نا آ جائے۔۔

سائیکولوجسٹ: ناراضگی سے نیند کا کیا تعلق؟
میں: جب وہ ناراض ہوتی ہے پھر میں اداس ہو کر روتا ہوں اور روتا روتا کب سو جاؤں معلوم نہیں پڑتا۔۔

سائیکالوجسٹ: تو پھر اگلے دن ملاقات کیسے ہوتی جب ناراضگی ہو؟
میں: صبح اٹھتے ہی ہم اک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔

سائیکالوجسٹ: کیا وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے؟
میں: یقیناً ورنہ آج بھی ساتھ نا ہوتی۔۔

سائیکالوجسٹ: تم پاگل ہو۔۔
میں: اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔
میں: پاگل ٹھیک ہوتے ہیں؟

سائیکالوجسٹ: بالکل ہوتے ہیں۔۔
میں: کیا آپ لوگ پاگل نہیں ہوئے کبھی؟

سائیکالوجسٹ: مطلب؟؟
میں: کیا آپ لوگ محبت نہیں کرتے؟

سائیکالوجسٹ: کرتے ہیں۔۔
میں: پھر جب جدائی ملے تب پاگل نہیں ہوتے؟

سائیکالوجسٹ: ہوتے ہیں۔۔
میں: پھر آپ لوگ جب خود پاگل ہو تو ہمارا علاج کیسے کر رہے؟

سائیکالوجسٹ: زوردار قہقہ مار کر ہنسنے لگی 
میں: اب میں جاؤں؟

سائیکالوجسٹ: ہاں جاؤ 

میں اٹھا اور وہ ہنستے ہنستے میز پہ رکھے ٹشو سے آنسو پوچھنے لگی۔

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة 
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
 امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
 " امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

  (ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
 جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

 ( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
 ( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

 ( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں 

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
 جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

 كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا

اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے 

اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا

‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )

 "وأزواجنا"

 زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو

ایک فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے دست سوال دراز کیا اور ساتھ ہی دعا دی اللہ تعالیٰ تمہیں بادشاہ بنائے‘ بزرگ نے اس سے پوچھا ’’ کیا تم بادشاہ بننا چاہتے ہو‘‘ فقیر نے حیران ہو کر جواب دیا ’’ جناب میں نسلوں کا فقیر‘ میں کیسے بادشاہ بن سکتا ہوں‘‘ بزرگ نے کہا ’’ چلو ہم ایک تجربہ کرتے ہیں‘ میں تمہیں بادشاہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو تم مجھے حج کرواؤ گئے اور میں اگر ناکام ہو گیا تو میں پوری زندگی تمہاری کفالت کروں گا‘‘ فقیر مان گیا‘ بزرگ نے اس سے کہا ’’ تمہاری جیب میں کتنے پیسے ہیں‘‘ فقیر نے پیسے گنے‘ وہ تیس روپے تھے‘ بزرگ نے اسے مٹھائی کی دکان پر بھیجا‘ تیس روپے کی جلیبیاں منگوائیں‘ سامنے بے روزگار مزدور بیٹھے تھے‘ بزرگ نے اسے حکم دیا ’’ تم یہ جلیبیاں ان مزدوروں میں تقسیم کر دو‘‘ فقیر گیا اور جلیبیاں مزدوروں میں بانٹ آیا‘ بزرگ نے اسے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا اور حکم دیا ’’ تم گھر چلے جاؤ‘ تیس دن انتظار کرو اور دیکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘فقیر چلا گیا‘ وہ تیسرے دن دوڑتا ہوا بزرگ کے پاس آیا‘ وہ خوشی سے چھلانگیں لگا رہا تھا‘ بزرگ نے وجہ پوچھی‘فقیر نے بتایا ’’ مجھے پچھلے مہینے ایک کلرک نے بھیک میں پرائز بانڈ دیا تھا‘ میں نے وہ بانڈ سنبھال لیا‘ آج وہ بانڈ نکل آیا‘ میں بیٹھے بٹھائے تین لاکھ روپے کا مالک بن گیا‘‘ بزرگ مسکرائے اور اس سے کہا ’’یہ بانڈ تمہارا نہیں‘ اس کا مالک وہ ہے جس نے تمہیں یہ بانڈ دیا تھا‘ تم بانڈ کے مالک کو تلاش کرو‘ یہ رقم اسے واپس کر دو اورانتظار کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام آتا ہے‘‘ فقیر کو یہ آئیڈیا بہت برا لگا لیکن اس کے باوجود اس نے کلرک کو تلاش کیا اور بانڈ لے کر اس کے پاس پہنچ گیا‘ کلرک فقیر کی ایمانداری پر حیران رہ گیا‘ وہ فقیر کے ساتھ دفتر سے نکلا‘ ڈی سی آفس گیا‘ وہاں کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کرائی‘ فقیر کو پچاس فیصد کا حصہ دار بنایا اور سرکاری ٹھیکے لینا شروع کر دیئے‘ وہ دونوں مل کر کام کرتے تھے‘ کلرک ٹھیکہ لیتا تھا اور فقیر کام کرواتا تھا‘ یہ کمپنی مزدوروں کو تین وقت کا کھانا دیتی تھی‘ کمپنی چل پڑی‘ کلرک اور فقیر دونوں امیر ہو گئے‘ یہ دونوں بزرگ کو ہر سال حج پر بھجواتے تھے اور شام کے وقت فقیروں کو روک کر انہیں بادشاہ بننے کا نسخہ بتاتے تھے‘ یہ کمپنی آج بھی قائم ہے‘ اس میں اب کلرک اور فقیر کے بچے کام کرتے ہیں‘یہ کمپنی تیس روپے کے صدقے سے شروع ہوئی‘ یہ اب تک درجنوں لوگوں کو بادشاہوں جیسی زندگی دے چکی ہے‘ میں ذاتی طورپر ایسے بیسیوں لوگوں سے واقف ہوں جو جاہل بھی ہیں‘ نالائق بھی اور غیر محتاط بھی لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کا کرم برستا رہتا ہے‘ میں نے جب بھی تحقیق کی‘ مجھے اس کرم کے پیچھے ہمیشہ صدقہ اور خیرات ملی‘ یہ دل کے سخی اور ہاتھ کے کھلے ہیں‘ میں نے ایک اور چیز بھی مشاہدہ کی‘ انسان اگر صدقہ کرے اور ساتھ ہی عاجزی اختیار کر لے تو دولت بھی ملتی ہے اور عزت بھی کیونکہ جس طرح خوش حالی کا تعلق صدقے سے ہے بالکل اسی طرح عزت عاجزی سے وابستہ ہے‘ آپ جتنا جھکتے جاتے ہیں آپ کی عزت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ آپ اس معاملے میں اولیاء کرام کی مثال لے لیجئے‘ اولیاء کرام میں عاجزی ہوتی ہے چنانچہ ان کے مزارات ہزار ہزار سال تک آباد رہتے ہیں‘ یہ کھلے دل اور فراخ ہاتھ بھی ہوتے ہیں چنانچہ ان کے درباروں پر ان کے انتقال کے بعد بھی لنگر چلتے ہیں اور بادشاہ مال و متاع لے کر ان کی درگاہ پر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔

قرآن کی سب سے خوفناک کہانیوں میں سے ایک !!! 

یہ اصحابِ سبت کی کہانی ہے۔ اگر آپ اس کہانی کو آج کے دور کی ذہنیت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں، تو آپ کو شاید لگے کہ انہوں نے کوئی بڑا جرم نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں، جو دن اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے مخصوص کیا تھا۔

لیکن ہوا یہ کہ ہفتے کے دوران مچھلیاں غائب ہو جاتی تھیں اور صرف ہفتے کے دن ہی پانی کی سطح پر نظر آتی تھیں۔ 

جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے ہفتے کے دن شکار نہیں کیا، جو ان پر حرام تھا، بلکہ وہ صرف جمعہ کی رات کو اپنے جال پانی میں ڈالتے تھے اور اتوار کی صبح ان کو نکال لیتے تھے۔

یقیناً ان کے پاس کچھ علماء ہوں گے جنہوں نے انہیں کہا ہوگا کہ جب تک تم ہفتے کے دن جال نہیں ڈال رہے اور نہ ہی اس دن نکال رہے ہو، تو یہ جائز ہے۔

اگر آپ آج کے دور کی عقل سے سوچیں، تو آپ کو شاید لگے کہ انہوں نے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوا، ان پر لعنت بھیجی، انہیں اپنی رحمت سے خارج کر دیا، اور انہیں بندر بنا دیا۔

"(وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ)"

یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دھوکہ دیا اور اس کے حکم سے بچنے کی کوشش کی۔

آج ہم میں سے کتنے لوگ اللہ کے واضح اور صریح احکامات کے ساتھ چالاکی اور حیلہ بازی کی ذہنیت رکھتے ہیں؟

● سود کو نفع کہہ دیا گیا ہے
● رشوت کو اکرامیہ بنا دیا گیا ہے
● زنا کو باہمی رضامندی کا تعلق قرار دیا گیا ہے
● شراب کو روحانی مشروب کہہ دیا گیا ہے
● بے پردہ خواتین کہتی ہیں کہ ایمان دل میں ہے
● اور جو نماز نہیں پڑھتا وہ کہتا ہے کہ دین تو معاملہ داری کا نام ہے

بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہو یا ہم اس کی رحمت سے باہر ہوں اور ہمیں اس کا شعور نہ ہو، بلکہ ہم تو خود کو اللہ کے نیک بندے سمجھتے ہوں۔

 کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنے رب کے ساتھ ایسے معاملہ کریں جیسے وہ عظیم رب ہے، جو حکم دیتا ہے تو اس کی اطاعت کی جاتی ہے؟  
اللہ فرماتا ہے: "تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا احترام نہیں کرتے؟"  
اور فرماتا ہے: "اور انہوں نے اللہ کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی۔"

اللہ فرماتا ہے: "اور اگر وہ کرتے جو انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔"

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں خوبصورت انداز میں اپنی طرف لوٹا دے اور ہمیں حسنِ انجام عطا فرمائے۔

ایک ہی عورت بیک وقت مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی محبوبہ تھی.... عطیہ فیضی.... وہ ان میں سے کسی کے بھی ہاتھ نہ آئی. دونوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتی رہی اور جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو  ایک یہودی نژاد (بعد میں مسلمان ہوجانے کا بھی ذکر ملتا ہے) کے ساتھ شادی کر کے بیرون ملک جا بسی..شبلی اس کے غم میں نڈھال ہو گئے اور اقبال اس کی بے وفائی پر شکوہ کناں رہے..شبلی محقق تھے اور اقبال مفکر تھے... اس کے باوجود وہ دونوں ہی ایک عورت کو اپنا نہ بنا سکے. عطیہ فیضی کو محبت کرنے والا لائف پارٹنر مطلوب ہی نہیں تھا بلکہ اس کو جدید اور پر آسائش لائف سٹائل کی چاہت تھی. اس سے معلوم ہوا کہ خالی جیب والے مفکرین اور محققین عموما محبت کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہی ہار ان کے علمی اور فکری عروج کی مہمیز بن جاتی ہے.محبت کی اس ناکامی کے سبب نہ تو علمی حلقوں میں شبلی کا قد چھوٹا ہوا اور نہ ہی اقبال کے نام پر کوئی داغ لگا. تاریخ ایسی عورتوں کے نام یاد رکھتی ہے، کردار یاد رکھتی ہے.اور آنے والی نسل کو سکھاتی ہے کہلیلیٰ حاصل کرنی ہے تو مجنوں بننے کی بجائے CSS کا امتحان پاس کرلو لیلیٰ قدموں میں ہوگی.

سائنس کہتی ہے کہ ایک بالغ صحت مند آدمی کے ایک بار جنسی تعلقات کے بعد جتنی منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز ہوتے ہیں۔ منطقی طور پر، اگر ایک عورت کے رحم میں سپرم کی اتنی مقدار مل جائے تو 400 ملین بچے پیدا ہوں گے! یہ 400 ملین سپرمز ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح دوڑتے رہتے ہیں، صرف 300-500 سپرمز زندہ رہ پاتے ہیں۔ اور باقی؟ وہ راستے میں تھک جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ ان 300-500 سپرموں میں سے جو انڈے تک پہنچنے کا انتظام کرتے ہیں، صرف ایک انتہائی طاقتور سپرم انڈے کو کھاد دیتا ہے یا انڈے میں بیٹھ جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت سپرم آپ یا میں یا ہم سب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
❒ جب آپ بھاگے - آپ کی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں تھا، دماغ نہیں تھا، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی تعلیم نہیں تھی، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی، پھر بھی آپ جیت گئے۔

❒ جب آپ بھاگے - آپ کی ایک منزل تھی اور آپ نے اپنا مقصد اس منزل کی طرف متعین رکھا اور آخر تک ایک دماغ کے ساتھ بھاگا اور آپ جیت گئے۔

❒ بہت سے بچے اپنی ماؤں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں لیکن آپ کی موت نہیں ہوئی، آپ پورے 10 مہینے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے دوران مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔

❒ بہت سے بچے پیدائش کے پہلے 5 سال میں مر جاتے ہیں لیکن آپ ابھی تک زندہ ہیں۔

❒ بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں لیکن آپ کو کچھ نہیں ہوا۔

❒ بہت سے لوگ بڑے ہونے کے راستے میں اس دنیا کو چھوڑ چکے ہیں لیکن آپ ابھی تک یہیں ہیں۔

اور آج جب بھی کچھ ہوتا ہے، آپ گھبرا جاتے ہیں، مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بھائی بہن، سرٹیفکیٹ، سب کچھ ہے۔ آپ کے پاس بازو اور ٹانگیں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کے لیے دماغ ہے، مدد کے لیے لوگ ہیں، پھر بھی آپ نے امید کھو دی ہے۔ جب آپ نے اپنی زندگی کے پہلے دن ہمت نہیں ہاری۔ آپ 400 ملین سپرمز کے ساتھ موت سے لڑے اور کسی کی مدد کے بغیر اکیلے ہی مقابلہ جیت گئے۔ پھر مایوسی کیوں؟

❒ جب کوئی آپ کی زندگی سے چلا جائے تو آپ قبول کیوں نہیں کرتے؟

❒ جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟

❒ تم کیوں کہتے ہو کہ میں اب جینا نہیں چاہتا؟

❒ تم کیوں کہتے ہو کہ میں ہار گیا ہوں؟

ایسی ہزاروں باتوں کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے لیکن مایوس کیوں ہوتے ہو؟ کیوں ہارتے ہو؟ تم کیوں ہار مانتے ہو؟ آپ شروع میں جیت گئے، آپ آخر میں جیت گئے، آپ بیچ میں بھی جیتیں گے۔ اپنے آپ کو وقت دیں، اپنے دماغ سے پوچھیں - آپ کے پاس کیا ٹیلنٹ ہے؟ ہمیشہ اپنے دل کی خواہشات کی قدر کریں، اللہ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ جیت جائیں گے، بس اپنے دماغ کی طاقت سے لڑتے رہیں، آپ خود ہی جیت جائیں گے♥️💯✅

لڑکیوں کی ذمہ داری ۔۔۔۔ یہ تحریر ضرور پڑھیں ۔۔۔۔
لڑکیاں سوچتی ھیں ہیں کہ شادی ہوگی، اپنا گھر ہوگا، شوہر پیار کرے گا، بچے مسکرائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خوبصورت خواب تبھی حقیقت بنتے ہیں جب ہم اور ہمارے والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ زندگی کسی جادو کی چھڑی کا نام نہیں، یہ محنت، برداشت اور سلیقے سے چلتی ہے۔

میں ایک بیٹی ہوں اور مجھے پتا ہے کہ میرا آج میرے کل کی بنیاد ہے۔ اسی لیئے یہ تحریر صرف لڑکیوں کے لیئے نہیں والدین کے لیئے بھی ہے، کیونکہ ایک بیٹی کی زندگی دونوں کے رویے اور تربیت پر کھڑی ہوتی ہے۔

 میں چاہتی ہوں کہ ہم سب بہتر بنیں تاکہ کل کو کوئی بیٹی اپنی زندگی سے شکوہ نہ کرے۔
---
میری ذمہ داریاں (10 نکات)

1. گھر کو اپنا سمجھنا
یہ سوچنا بند کرنا ہوگا کہ یہ امی کا گھر ہے میں مہمان ہوں۔ گھر میرا ہے، میری پہچان ہے۔ اگر کچن گندا ہے تو مجھے برا لگے اگر کمرہ بکھرا ہے تو میں اسے سنبھالوں۔ جو لڑکی اپنے گھر کی عزت نہیں کرے گی وہ سسرال میں کیا کرے گی؟

2. صبح جلدی اٹھنے کی عادت
یہ عادت مجھے آج سے ڈالنی ہوگی۔ کیونکہ کل اگر شوہر نے کام پر جانا ہے، بچوں کو اسکول جانا ہے تو میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ "مجھے نیند آ رہی تھی"۔ سچ یہ ہے کہ کامیاب عورت وہی ہے جو وقت کی پابند ہو۔

3. کچن اور کھانا پکانا سیکھنا
یہ میرا فرض ہے کیونکہ پیار اور عزت کا آدھا کھیل کچن میں جیتا جاتا ہے۔ شوہر تھکا ہوا آئے اور میں گرم کھانے کے ساتھ مسکرا کر سامنے آؤں، یہ لمحہ میری عزت بڑھا دیتا ہے۔

4. ضد نہیں، خودداری
میں یہ سیکھوں کہ ہر بات پر اپنی ضد منوانا ضروری نہیں۔ زندگی سمجھوتوں سے چلتی ہے لیکن یہ سمجھوتا خودداری بیچ کر نہیں، محبت بانٹ کر ہونا چاہئیے۔

5. بات کرنے کا سلیقہ
میں یہ جان لوں کہ سخت لہجہ سب سے بڑا زہر ہے۔ میٹھی زبان سب سے بڑی جادوگر ہے۔ کل کو جب سسرال میں مسائل آئیں گے تو زبان ہی رشتے بچائے گی یا توڑے گی۔

6. پردہ اور حیا
یہ صرف دوپٹے کا نام نہیں، یہ نظریں نیچی رکھنے، زبان پر قابو رکھنے اور عزت بچانے کا نام ہے۔ دنیا لڑکی کی عزت پر انگلی اٹھانے کے لیے تیار کھڑی ہے، اس لیئے اپنی حفاظت میرا فرض ہے۔

7. پیسوں کی اہمیت سمجھنا
شوہر لاکھ کمائے اگر میں بچت نہیں جانتی تو گھر کبھی خوشحال نہیں ہوگا۔ آج سے سیکھوں کہ ضرورت اور خواہش میں فرق کیسے کرنا ہے۔

8. رشتوں کی اہمیت
ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ سیکھوں۔ اگر میں اپنے والدین کو جواب دیتی ہوں تو یاد رکھیں کل میری اولاد مجھے یہی واپس کرے گی۔

9. صبر اور برداشت
زندگی میں آسانی کم، مشکلات زیادہ آتی ہیں۔ چیخ چیخ کر دنیا کو بتانا کمزوری ہے۔ صبر سے، خاموشی سے، اللہ سے مدد مانگنا اصل طاقت ہے۔

10. دین سے تعلق
نماز، قرآن، دعا۔ یہ صرف رسم نہیں یہ میری زندگی کا سہارا ہے۔ جب سب چھوڑ جائیں گے تو یہ میرا ہاتھ پکڑے گا۔
---

ایک لڑکی کی تربیت صرف شادی کے لیئے نہیں پوری زندگی کے لیئے ہوتی ہے۔ والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں، اور ہم بیٹیاں اپنی۔ کیونکہ کامیاب شادی قسمت سے نہیں، محنت اور تربیت سے بنتی ہے

قحط  الرجال کیا ہوتا ہے؟
صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی  ایک بھی سائینسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی  طریقہ دریافت کیا ہو ؟
کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی  نیا طریقہ بتایا ہو ؟ 
کوئی  ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟ 1/2
کوئی ایک بھی انجینیئر  ہے جس نے تعمیراتی طبی یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی  ایجاد کی ہو ؟ 
کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی  طریقہ بتایا ہو؟
 جب صرف گلوکار ، بھانڈ ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابل فخر قرار پائیں !
 یہی تو قحط الرجال ہے🇵🇰👍

وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے 
انشاءاللہ تعالیٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
*آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

❷- *بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں. تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.*

❸ - *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے نہ بیٹھنے دیں*.
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

❹ *بچوں کو فارغ نہ رکھیں فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے* اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے. اس لئے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
*ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
❺ - *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لئے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.

❻ - *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر گہری نظر رکھیں*
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*

❼ - *بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.*

❽ -*اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں.
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
❾- *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو حالتوں میں لیٹنے سے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*

🔟 *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.* اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

❶❶ - *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں.* یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے
❷❶- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*

❹❶- *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.*

❺❶- *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں.*
آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
*اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔

*یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہاہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہئے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.*

❻❶- *بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں۔
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* . 
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی باحیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
❽❶-*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے۔
*_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو * 
انشاءاللہ تعالیٰ* آخرت میں * اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے___!!! آمین___!!!!

🌸 پاکستانی والدین کے لیے بہترین مشورہ 🌸
(براہِ کرم یہ پیغام ہر ماں باپ تک پہنچائیں 👨‍👩‍👧‍👦)

1️⃣ اپنے بیٹے یا بیٹی کو خبردار کریں کہ کسی کی گود میں نہ بیٹھیں — چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ 🚫🪑
2️⃣ دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے سامنے کبھی بھی کپڑے نہ بدلیں۔ 🧥👀
3️⃣ اپنے بچے کو کسی کے گھر اکیلا مت بھیجیں۔ 🚷🏠
4️⃣ پہلے خود کارٹونز دیکھیں، کیونکہ آج کل کی کئی سیریز میں نامناسب مواد شامل ہوتا ہے۔ 📺⚠️
5️⃣ اپنے بچوں کو کبھی بھی کسی کو مذاق میں “بیوی” یا “شوہر” کہنے کی اجازت نہ دیں۔ ❌👰🤵
6️⃣ جب بچے اپنے دوستوں کے ساتھ باہر ہوں، تو جانیں وہ کس قسم کے کھیل کھیلتے ہیں۔ 🕵️‍♂️🎮 (آپ جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے!)
7️⃣ بچوں کو صحیح جنسی تعلیم دینا ضروری ہے، ورنہ وہ غلط ذرائع سے خطرناک معلومات حاصل کریں گے۔ 📚🚫
8️⃣ والدین کے کنٹرول 🔒 ہمیشہ اس نیٹ ورک پر سیٹ کریں جس تک بچے کی رسائی ہو۔ 🌐📱
9️⃣ وقتاً فوقتاً اپنے بچے کی براؤزنگ ہسٹری چیک کریں۔ 🧑‍💻🧐

📢 یاد رکھیں: تربیت صرف دعاؤں سے نہیں، شعور اور احتیاط سے ہوتی ہے۔ 💡

آخر بروس لی میں ایسی کیا خوبی تھی کہ دنیا آج بھی انہیں یاد رکھتی ہے؟
چین اور ہانگ کانگ کے مارشل آڑٹسٹ کو لی کیوں ناپسند تھا؟

نومبر 1940 ء کو امریکہ میں پیدا ہونے والے بروس کا بچپن مشکلات والا تھا۔
جب 6 سال کی عمر میں والدین اسے ہانگ کانگ لے گے۔
تو وہاں گلی محلہ کے بدمعاشوں سے سامنا رہا۔

پہلے تو بروس لی چپ رہا۔
پھر وہ بھی جوابا لڑنے لگا۔
اور اک مقام یہ ٰآیا کہ اس نے اپنا گینگ بھی بنا دیا۔
اس نے شاندار فٹ ورک کی بدولت صرف 18 سال کی عمر میں ہانگ کانگ چیمپئین شپ جیتی۔

والدین نے بروس لی کو ڈسپلن بچے کی بجائے بدمعاش بنتے دیکھا تو فکر مند ہوئے۔ یوں چند سال بعد ہی وہ سی ایٹل چلے گے۔

یہاں جب 1964ء میں اپنا ادارہ کھول کر مارشل آرٹ سکھانا شروع کیا۔
تب ہانگ کانگ اور چینی کراٹوں کے ماہرین اس سے خفہ ہونے لگے۔
کیوں کہ لی چینیوں سمیت ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو سکھا رہا تھا۔

اسی دوران ایکشن کے راجہ کو ایک جاپانی نژاد لڑکی ایمی سے محبت ہوئی۔
دونوں کی دوستی بھی ہوئی۔
 اور رشتہ بھی چلا مگر شادی میں کنورٹ نہ ہوسکا۔
مختلف فیملی بیک گرائونڈز سمیت بروس کے شرمیلے پن کو بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔

ایمی کے بقول:
“وہ اپنی ایک شناخت قائم کرنے میں ناکام ہوتا تھا۔”

حالاں کہ ایمی نے اقرار کیا کہ وہ بھی لی سے محبت کرتی تھی۔

پھر لیندا کی انٹری ہوتی ہے۔ 
جو بروس لی کی شاگردہ تھی۔
لیندا کا کہنا تھا:

“لی ناصرف جسمانی طور پی مضبوط تھا۔
 بلکہ ذہنی طور پہ بھی انسپائرنگ تھا۔
اپنے چینی کے برتنوں میں وہ خود چائے/کافی پیش کیا کرتے تھے۔”

ایک دفعہ چاپ سٹک کا طریقہ سکھاتے ہوئے اس نے اپنی شاگردہ کو بتایا:

“جس میں صبر ہو۔
وہی چاپ سٹک کا فن سیکھ سکتا ہے۔"

دھیرے دھیرے دونوں کو محبت ہونے لگی ۔ 
بروس لی نے اپنی تصویر کے پیچھے یہ جملے لکھ کر لیندا کو دیے:

"لیندا! سادہ وسائل میں خوش رہنا سیکھنا۔ 
عیش و عشرت کے بجائے وقار کو تلاش کرنا۔ 
اور فیشن کی بجائے نفاست کو اپنانا۔  ہر چیز کو خوش دلی سے سہناہے۔ 
تم نے موقع کا انتظار کرنا مگر کبھی جلدبازی نہ کرنا۔ 
یعنی یہ کہ روحانی غیر شعوری طور پر جو کچھ عام زندگی سے اُگتا ہے۔
اُسے پنپنے دینا۔"

بلآخر گوری رنگت والی لیندا کی چینی نسل کے آرٹسٹ سے شادی ہوگی۔
سن 1966ء کو انہوں نے The Green Hornet میں اداکاری کی۔
مگر اگلے پانچ برس انہیں خاص رول نہیں ملے۔

اس میں اہم وجہ امریکی فلم و ڈرامہ انڈسٹری میں رنگت کا ایشو تھا۔

پھر 1971ء کو "The Big Boss" نے ایشیا میں ریکارڈ بزنس کیا۔
اور یہاں سے لی کے ستارے جگمگانے لگے۔

اگلے ہی سال Fist of the Fury نے لی کو دنیا بھر میں شہرت کی نئی بلندیوں سے روشناس کیا۔

مارشل آرٹ میں ان کے کچھ ریکارڈز آج بھی ناقابل یقین لگتے ہیں:
★اک ہاتھ سے 400 دفعہ پش اپس کرنا۔
★دو انگلیوں پہ 200 پش اپس کرنا۔
★اک انگوٹھے سے سو پش اپس کرنا۔
★اک سیکنڈ میں ناقابل یقین رفتار سے 9 پنچ ماردینا۔

مگر ان کا سب سے خطرناک "ون انچ پنچ" تھا۔ 
(جس کی ویڈیو آپ کو یوٹیوب پہ بھی مل جائے گی۔)

وہ 1 انچ کی دوری سے75 KG کے وزنی انسان کو 6 میٹرز دور پھینک سکتا تھا۔

سب سے مشہور فلم کی ریلیز ہونے سے پہلے ہی لی کے دماغ میں سوجن ہوئی۔

وہ ہانگ کانگ میں کومے میں رہنے کے بعد 32 سال کی عمر میں فوت ہوا۔

ان کی مشہور فلمیں درج ذیل ہیں:
★The Orphan
★Marlowe
★Orphan in the Spring Rain
★The Big Boss
★Fist of Fury
★The Way of the Dragon
★The Game of Death
★Fist of Unicorn

اپنے ڈسپلن اور غیریقینی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے ناصرف عوام میں پسند کیا جاتا ہے۔ بلکہ جیٹ لی سے لے کر جیکی چن اور دیگرایکشن ہیروز بھی انسپائرڈ رہے ہیں۔


مسجد سے ایک انوکھا اعلان ہوا اور سننے والا ہر بندہ دنگ رہ گیا.
اعلان یوں تھا کہ مسجد کے قریب ہی ایک ریڑھی پہ مختلف ریسٹورنٹ کے گاہکوں کا بچا ہوا سالن دستیاب ہے. وہ غریب اور نادار لوگ جو سالن پکانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے برتن لے آئیں اور سالن فی سبیل اللہ لے جائیں.
مارے تجسس کے میں بھی مسجد کی طرف چل دیا کہ دیکھوں آخر ماجرا کیا ہے. میں جیسے ہی وہاں پہنچا تو مرد و زن کا ایک ہجوم برتن لے کر پہنچا ہوا تھا.کوئی سالن لے کے گھر کو جا رہا تھا تو کوئی حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا.
ریڑھی پہ تین پتیلے پڑے ہوۓ تھے.ایک پتیلے میں دال دوسرے میں قورمہ اور تیسرے میں مختلف اقسام کی مکس سبزیوں کا سالن رکھا ہوا تھا.
تھوڑی ہی دیر میں اس کے تینوں پتیلے خالی ہو گئے .
سالن لے جانے والوں کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی اور وہ سب دعائیں دیتے ہوۓ جا رہے تھے.
میں سالن بانٹنے والے کے پاس کھڑا ہو گیا اور اس سے استفسار کیا کہ یہ آئیڈیا اس نے کہاں سے لیا تو اس نے کہا کہ
”بس جی ایک دن ہوٹل میں کھانا کھایا تو آدھے سے زیادہ سالن بچ گیا. میں نے سوچا کہ انہوں نے ویسے ہی ضائع کر دینا ہے.
چنانچہ ایک ویٹر کو بلا کر سالن شاپر میں ڈلوایا اور کسی ضرورتمند کے گھر دے آیا.
اس کام سے دل کو بہت خوشگوار راحت حاصل ہوئی اور یقین کریں سالوں سے نیند کی گولی کھا کر سونے کا عادی تھا لیکن حیرت انگیز طور پر اس رات بغیر گولی کھاۓ بہت پرسکون ہو کر سویا.
بس پھر اس سلسلے کو بڑھانے کا تہیہ کر لیا. پانچ بڑے ریسٹورنٹ مالکان سے رابطہ کیا تو بہت مثبت جواب ملا اور پھر ہر ریسٹورنٹ پر تین تین برتن رکھوا دیے.
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری وجہ سے بہت سے غریب گھروں میں بہترین کھانا پہنچتا ہے“وہ بتاتے ہوۓ ایسے خوش ہو رہا تھا جیسے اس کی لاکھوں کی کمیٹی نکل آئی ہو.
لیکن میں سوچ رہا تھا کہ واقعی اس کی لاکھوں کی کمیٹی تو نکل چکی تھی اور وہ کمیٹی تھی بے پناہ اجر وثواب کی.
اللہ کے ہاں مقرب ہونے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ کروڑوں روپے خرچ کریں یا سالوں سال مراقبے کریں.
بعض اوقات ایک چھوٹی سی نیکی بھی بڑی بن جاتی ہے، آپ بھی اللہ کی مخلوق کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر کوئی چھوٹی سی نیکی کر کے دیکھیں شاید یہی نیکی آپ کا جنت کا پلڑہ بھاری کر دے...❤️🌷🌼🌼🌷❤️

آخر لیڈی ڈیانا میں ایسا کیا تھا؟
 جو آج بھی اس پہ فلمیں اور کتابیں بنائی،لکھی جارہی ہیں؟

اک نرسری سکول ٹیچر کیسے برطانیہ کی شہزادی بنی؟

لیڈی ڈیانا کی پیدائش یکم جولائی 1961 کو برطانوی میں ہوئی۔
جب وہ 17 سال کی تھی۔
  تو اپنی بہن کے ساتھ شہزادہ چارلس سے دعوت پہ ملی۔
 سادگی، نرم دلی اور بچوں سے محبت کرنے والی ڈیانا پہ چارلس کا دل آگیا۔

چند سالوں میں یہ رشتہ مزید قربت اختیار کرتا گیا۔

صرف 20 سال کی عمر میں جب دنیا بھر میں شادی کی کوریج کی گی۔
ہر کسی نے اسے "ڈریم شادی" کہا۔
اتنے رچ رچائو اور بہترین انداز میں ہوئی تھی۔

پچیس فٹ لمبا گائون کروڑوں لوگوں نے دنیا بھر سے دیکھا اور پسند کیا۔

لوگوں کی شہزادی کہلائی جانے والی کو پہلے دن سے چند تکالیف کا سامنا ہوا۔

جس کا اظہار انہوں نے 1992ء کے بی بی سی کے انٹرویو میں بھی کیا:
"ہماری شادی میں دو نہیں تین لوگ تھے۔"

ہاں اسے رشتے کے درمیان "کسی تیسرے" کی موجودگی نے دکھ دیا تھا۔

دراصل شہزادہ شادی والے دن بھی اپنی ایکس کامیلا سے رابطہ میں تھا۔
★شادی والے دن بھی خفیہ کالز ہورہی تھیں۔
★گھڑ سواری کے بہانے کامیلا نے ملنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
★دونوں ایک دوسرے کو گفٹس بھی دیتے تھے۔
(جن پہ خاص کوڈز ہوتے تھے)

؀ تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
(داغؔ دہلوی)

ایک دفعہ ڈیانا کا کامیلا سے سامنا ہوا۔
تو وہ کہنے لگی:
"مجھے علم ہے کہ آپ شہزادے سے محبت کرتی ہیں۔
 اور وہ بھی آپ سے محبت کرتا ہے۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آخر یہ رشتہ کب تک چلے گا؟"

کہا جاتا ہے کہ شہزادی اپنی سادگی کی بدولت دنیا بھر میں پسند کی جاتی تھی۔
★کبھی وہ اپنے بچوں کو خود سکول سے پک کرنے جاتی۔
★کبھی وہ سکول میں کھیلوں کے مقابلے میں خود بھی بھاگتی تھی۔

لوگوں کی بے پناہ محبت نے اس کی پرائیوسی کو کافی خراب کیا۔
بالی ووڈ کے پیڈ پاپارازی کی بجائے اصل فوٹوگرافر اس کو تلاش کرتے رہتے۔

اک جھلک اگر کہیں سے مل جائے۔
 تو وہ میگزین دھڑا دھڑسولڈ آئوٹ ہوجاتا تھا۔

پھر 1989ء کی ایک ٹیپ کال پبلک ہوئی۔
جس میں شہزادہ اپنی ایکس کے ساتھ رومانوی باتیں کرتا ہوا پایاگیا۔

؀ جس طرح ترک تعلق پہ ہے اصرار اب کے
ایسی شدت تو مرے عہدِ وفا میں بھی نہ تھی

اور یہ کال ہی ڈیانا اور شہزادے کے درمیان علیحدگی کی وجہ بنی۔
اور بعد میں طلاق بھی ہوگی۔

اپنے 1995ء کے انٹرویو میں اک جملہ جو بعد میں کافی مشہور بھی ہوا:
There were three of us in this marriage, so it was a bit crowded.”

ڈیانا کا دل کرچی کرچی ہوچکا تھا۔
 اور وہ زیادہ کھانا کھانے کی بیماری کا شکار ہوچکی تھی۔
وہ تنہائی پسند بنتی گی۔
مگر پاپارازیوں نے اسے آخر دم تک تنگ کیے رکھا۔

پھر ایک پاکستانی کی انٹری ہوئی۔
لندن کے ایک ہسپتال میں شہزادی کے ملاقات ڈاکٹر حسنات خان سے ہوئی۔

اسے یہ انسان کافی پسند آیا۔
اور وہ پیار سے Mr. Wonderful کہتی تھی۔
وہ پاکستان بھی گی۔
اور حسنات خان کی فیملی سے مل کر شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔
مگر قسمت کی دیوی نے شہزادی کا دل ادھورا ہی رکھا ہوا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ ڈیانا نے یہاں تک کہا تھا:

"میں حسنات کی خاطر پاکستان بھی رہ سکتی ہوں۔
اگر وہ ہاں کہے تو میں سب کچھ چھوڑ دوں گی۔"

ممکنہ طور پہ غیر مسلم تھی۔
وہیں شاہی وقار اور فیملی سٹائل میں فرق کی وجہ سے یہ رشتہ نہ بن سکا۔

اگست 1997ء کو اک سرنگ کے اندر شہزادی کو حادثہ پیش آیا۔
اور دنیا بھر سے فینز نے دکھ کا اظہار کیا۔

میں نے جتنا ڈاکٹر حسنات پہ ریسرچ کی ہے۔
یہ بندہ فقید المثال عاشق ثابت ہوا ہے۔
(آئی وش محبت کے معاملہ میں سبھی کو ڈاکٹر حسنات سے سیکھنا چاہیے۔)

جہاں ڈیانا کا ایک ایک فوٹو لاکھوں میں بکتا تھا۔
وہیں حسنات خان نے اپنے ریلیشن شپ پہ اک لفظ بھی نہیں کہا۔

وہ خاموشی سے اپنی زندگی گزارنے کو پسندکرتے ہیں۔

اک طرف شہزادی کہا کرتی تھی:
He is too honorable to put me through that life. I respect him even more for it

دوسری طرف ڈاکٹر حسنات نے کہا تھا:
“Out of respect for her, I will not discuss our relationship in details.

؀ خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم
م
رئیس امروہوی

ڈیانا کی زندگی پہ بننے والی چند مشہور فلمیں درج ذیل ہیں:
Spencer. 2021
Diana. 2021
The Princess. 2022
Becoming Princess Diana
Princess Diana's Death: Mystery Solved
Princess Diana: A Life After Death
Princess Diana: Tragedy or Treason
The Crown
Diana (2013)
Spenser

آپ کے خیال میں ڈیانا، جو حسن، شہرت اور دولت میں مالا مال تھی۔
انسانیت سے بھرپور روح محبت کے معاملہ میں کیوں ادھوری رہی؟



طعنہ دینے اور مذاق اڑانے والوں کو شکست دیں۔۔۔.
جھانوی پرور پانی پت کے گائوں شہرا ماپور میں پیدا ہوئی‘ رنگ بھی کالا تھا‘ قد بھی چھوٹا تھا اور قدرت نے اسے نین نقش بھی واجبی دیے تھے چناں چہ یہ ہر لحاظ سے خوش حالی‘ تہذیب‘ تعلیم اور جسمانی خوب صورتی سے محروم تھی لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک چھوٹا سا طعنہ آیا اور اس طعنے نے اس کا مقدر بدل دیا‘ جھانوی میں نقل اتارنے کا قدرتی ٹیلنٹ تھا۔
یہ مامی‘ چچی‘ پھوپھو‘ گلی کے پھیرے بازوں اور ریڈیو ٹی وی کے اناؤنسرز کی ہو بہو نقل اتار لیتی تھی اور یہ کام سارا دن جی بھر کر کرتی تھی‘ اس نے ایک دن چلتے پھرتے ٹیلی ویژن پر انگریزی کا کوئی شو دیکھا‘ اسے اینکر کا لہجہ پسند آگیا اور اس نے اسکی نقالی شروع کردی‘ یہ اس کے لہجے میں انگریزی بولنے لگی‘ اسے لفظ نہیں آتے تھے لیکن یہ پکا سا منہ بنا کر انگریزی لہجے میں باتیں کرتی رہتی تھی۔۔
گھر ہو‘ محلہ ہو یا اسکول ہو یہ ہر جگہ اس انگریز کے لہجے میں بات کرتی تھی‘ یہ ایک دن گلی سے گزر رہی تھی‘گزرتے گزرتے انگریز بن کر بات کرتی جا رہی تھی‘ محلے دار اسے دیکھ رہے تھے اور کھی کھی کر کے ہنس رہے تھے‘ اس کے ایک رشتے دار کو یہ مذاق برا لگا‘ وہ اس کے پاس گیا اور غصے سے بولا ’’اے چھوری تو بڑی انگریج بن کر پھر رہی ہے‘ بس کر‘ بند کر یہ ناٹک‘‘ رشتے دار کے طعنے میں کچھ ایسا تھا جس نے جھانوی پرور کو نئی راہ دکھا دی اور اس نے سوچا ،
’’مجھے انگریج کی نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
میں انگریج بن جاتی ہوں‘‘ یہ سیدھی گھر گئی‘والد کا ٹیپ ریکارڈ لیا‘ بی بی سی لگایا‘ خبریں ریکارڈ کیں اور برٹش لہجے میں انگریزی سیکھنا شروع کردی‘ قدرت نے اسے شاندار یادداشت سے نواز رکھاتھا‘ یہ جو لفظ سنتی تھی‘ وہ اسکے ذہن میں چپک جاتا تھا‘ جھانوی تین ماہ میں برطانوی لہجے میں فرفر انگریزی بولنے لگی‘ 
یہ انگریزی کے تقریری مقابلوں میں شریک ہونے لگی اور ہر بار جیت کر واپس آتی‘ والد نے اس کا ٹیلنٹ دیکھ کر اسے سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘ جھانوی کو چند ماہ بعد پتا چلا کہ انگریزی زبان ایک ہے لیکن دنیا میں انگریزی کے 9 بڑے لہجے ہیں‘ اس نے یہ سارے لہجے سیکھنا شروع کردیے‘ والد اسے مختلف لہجوں کے کورس اور کیسٹ لا کر دیتا اور یہ ان لہجوں کی پریکٹس کرتی رہتی تھی‘ 
اس نے مقابلے جیت جیت کر رقم جمع کی اور کمپیوٹر خرید لیا‘ کمپیوٹر نے اس کی کیسٹس اور ٹیپ ریکارڈر سے جان چھڑا دی‘ آپ یہ جان کر حیران ہونگے یہ لڑکی 10 سال کی عمر میں برٹش‘ امریکن‘ کینیڈین‘ اسکاٹش‘ نارفوک‘ کوکنی‘ پوش اور آسٹریلین لہجے میں انگریزی بولنا سیکھ گئی‘ اس کا لہجہ اس قدر پختہ تھا کہ بڑے سے بڑے استاد بھی چکرا جاتے تھے۔ یہ حیران کن صلاحیت تھی ، چنانچہ یہ بڑی تیزی سے پورے بھارت میں مشہور ہوتی چلی گئی‘ حکومت نے 2015 میں اسے ممبئی انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں سرکاری افسروں سے خطاب کی دعوت دی‘ اس کی عمر اس وقت صرف 12 سال تھی اور یہ انسٹیٹیوٹ کی ہسٹری میں افسروں سے خطاب کرنے والی پہلی بچی تھی‘جھانوی نے مختلف لہجوں میں تقریر کر کے تمام بیورکریٹس کو حیران کر دیا‘ حکومت نے اس کے بعد اسے انسٹیٹیوٹ کا مستقل اسپیکر بنا دیا‘ یہ سال میں درجن مرتبہ انسٹیٹیوٹ جاتی ہے اور نئے اور پرانے بیوروکریٹس کو اچھی انگریزی بولنے اور سمجھنے کی ٹریننگ دیتی ہے۔
یہ صرف یہاں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے انگریزی کے بعد فرنچ‘ اسپینش اور جاپانی زبان بھی سیکھ لی‘ یہ تینوں زبانیں بھی روانی سے بول لیتی ہے‘ اس کی عمر اس وقت 25سال ہے اور یہ بھارت میں ’’ونڈر گرل آف انڈیا‘‘ کہلاتی ہے‘ اسے ٹیلیویژن شوز میں بلایا جاتا ہے‘ یہ اکیڈمیز‘ انسٹی ٹیوٹس اور ڈبیٹنگ پلیٹ فارمز پر تقریریں کرتی ہے اور یہ بچپن ہی میں خوش حال ہو چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ طعنے مارنے والے لوگوں کو میں اپنا محسن قرار دیتی ہوں‘ یہ تمام لوگ میرے ہیلپر تھے‘ یہ لوگ اگر میری زندگی میں نہ آتے تو میں ہریانہ میں گم نام زندگی گزار رہی ہوتی‘ یہ وہ لوگ تھے جو مجھے طعنے مارتے رہے اور میں ان کے طعنوں کے کندھوں پر چڑھ کر آگے بڑھتی رہی‘ مجھے لوگ شروع میں کہتے تھے ’’تم بڑی انگریج بن رہی ہو‘‘ اور میں نے یہ طعنہ سن کر انگریز بننے کا فیصلہ کر لیا‘ پھر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ’’یہ کیا بڑی بات ہے‘ انگریزوں کی نقل ہی تو اتارتی ہے‘‘ میں نے یہ طعنہ سنا تو میں نے انگریزی سیکھ لی۔
پھر کسی نے کہا’’یہ برٹش ایکسنٹ ہے‘امریکی لہجے میں انگریزی بولے تو پھر دیکھیں گے‘‘ اور میں نے نو کے نو لہجے سیکھ لیے‘ پھر کسی نے کہا ’’یہ صرف انگریزی بول سکتی ہے‘‘ تو میں نے یہ سن کر فرنچ‘ اسپینش اور جیپنیز بھی سیکھ لی‘ 
پھر کسی نے کہا ’’لفظ کچھ نہیں ہوتے‘ یہ تو طوطے بھی سیکھ لیتے ہیں‘ اصل چیز وزڈم ہوتی ہے‘ یہ لڑکی وہ کہاں سے لائے گی‘‘ اور میں نے وزڈم بھی حاصل کر لی‘ میں موٹیویشنل اسپیکر بن گئی اور پانچ پانچ سو لوگوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگی چناں چہ لوگ طعنے مارتے رہے اور میں آگے سے آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ میں سوا ارب آبادی کے ملک میں ونڈر گرل بن گئی‘‘۔
جھانوی کا کہنا تھا ’’طعنے دینے والےلوگ‘ آپ کا مذاق اڑانے والے منفی رشتے دار بنیادی طور پر آپ کے ہیلپر ہوتے ہیں‘ آپ اگر ان لوگوں کو پازیٹو لیں‘ آپ اگر ان کی باتوں کو اپنے لیے چیلنج بنا لیں تو پھر آپ زندگی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
الله نے اپ کو جو بھی ٹیلنٹ دیا ہے اس پر کام کریں۔ لوگ طعنہ دیں تو اپنے کام کو اور بڑھا دیں۔ آپ آگے نکل جائیں گے اور طعنہ مارنے والے پیچھے رہ جائیں گے۔

*یونورسٹی کی لڑکی کا بس ڈرائیور کے ساتھ نکاح*
اسکے ماں باپ نے بڑے لاڈ و پیار سے پرورش کی ، جوان ہوئی تو والدین کی رضا مندی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا ، باپ کو جب پتہ چلا تو بیٹی نے جواب دیا۔

میرا نکاح بو چکا ھے ، بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاوں گی؟

باپ نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حتمی فیصلہ ہے تو آپ نے گھر سے جو کچھ لینا ھے لے لیں اور خود ہی اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ ، لیکن یہ یاد رکھنا ، اب آپ کا ہم سے اور ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ آپ ہمارے لیئے مر گئیں اور ہم آپ کیلئے وہ خوشی خوشی سامان پیک کرکے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ تقریبا آٹھ سال بعد اسکی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آیا.

خیر خیریت دریافت کرنے کے دوران اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ وہ سمجھا کہ شاید گھر کے حالات صحیح نہیں ہوں گے۔ والدین کی نافرمانی اور جدائی کا پچھتاوا اسے لائے جا رہا ہو گا۔ تمام گھر والے اسے دلاسے دینے لگے اور رونے کیوجہ دریافت کرنے لگے۔ بہت اصرار کے بعد اس نے رونے کی وجہ بتائی وہ کچھ یوں گویا

ہوئی۔

میں نے والدین کی نافرمانی کی ، ان سے تمام تعلقات ختم ہو گئے۔ اسکا پچھتاوا تو مجھے ساری زندگی رھے گا ۔ مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ھے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ھے۔

لیکن میرے لیے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ھے وہ

کچھ

اور ھے میری صرف ایک ہی بیٹی ھے میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے چپکے سے کئی بار انکی
 دعا سنی  ھے وہ روتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک سے صرف
ایک ہی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔

يا الله !!!!! میری بیٹی ماں پہ نہ جائے .

یا اللہ !!!! میری بیٹی ماں پہ نہ جائے

یا اللہ !!! یہ اپنی ماں کیطرح گھر سے بھاگ کے کبھی شادی نہ کرے۔ یہ اپنی ماں کیطرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا
نہ کرے۔۔۔۔

یہ دعا تمام لڑکوں اور لڑکیوں کیلیئے ایک پیغام ، ایک .
.... نصیحت اور ایک اعلان ھے ، اگر کوئی سمجھے تو۔۔

اللہ پاک کسی بھی ماں باپ کو اپنی اولاد  کی رسوائی سے ‏ بچائے ، آمین 🤲🏻🤲🏻🤲🏻🤲🏻

"بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔" ہاں، یہ بات درست ہے، لیکن آئیے ایمانداری سے بات کریں...

انہیں واقعی جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ایک صحت مند، مستقل، اور محبت کرنے والی مثال ہے کہ ایک باپ کیسا ہونا چاہیے۔

ایسا مرد جو صرف جسمانی طور پر موجود نہ ہو، بلکہ جذباتی طور پر بھی شریک ہو۔ ایسا شخص جو صرف "باپ" کا لقب نہ رکھے، بلکہ اپنے عمل سے اس رشتے کا حق ادا کرے۔

کیونکہ بچے انتشار سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ وہ غفلت، جذباتی غیر موجودگی، یا اپنی ماں کو روز بے عزتی کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھ کر پروان نہیں چڑھتے۔

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں باپ جیسا کردار کوئی ایسا شخص ہے جو جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، چیختا چلاتا ہے، یا زندگی میں آتا جاتا رہتا ہے جیسے دروازہ ہو... تو یہ باپ ہونا نہیں، یہ dysfunction (خرابی) کا سبق ہے۔

بچوں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک مرد اپنی بیوی سے عزت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ انہیں ایسا شخص دیکھنے کی ضرورت ہے جو ذمے داری لیتا ہے، جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ نہیں دیتا، اور جو جذباتی طور پر غیر حاضر رہنے کے لیے بہانے نہیں بناتا۔

انہیں ایک ایسے باپ کی ضرورت ہے جو عمل سے سکھائے... کہ کیسے معافی مانگی جاتی ہے، کیسے بات کی جاتی ہے، دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے، اور کیسے ایک انسان دوسروں کے لیے پُرامن جائے پناہ بنتا ہے، طوفان نہیں۔

تو نہیں، بات صرف یہ نہیں کہ "بچوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہے"۔ اصل بات یہ ہے کہ "بچوں کو ایسے باپ کی ضرورت ہے جو واقعی باپ ہونے کا کردار ادا کرے"۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا، تو بہتر ہے کہ بچہ اپنی ماں کو ایک پُرامن زندگی بناتے ہوئے دیکھے... بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھ کر بڑا ہو کہ خرابی اور بدسلوکی ہی محبت کی پہچان ہے۔


"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"

بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔

نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔

یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔

قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"

نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔

اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔

وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔

سو وہ چل پڑا۔

پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔

"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"

دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"

"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔

"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"

وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔

راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"

"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"

"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"

"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"

"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"

وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔

آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔

وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔

کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"

وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔

اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔

جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔

کئی گھنٹے گزر گئے۔

اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...

تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔

"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"

اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"

"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"

اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔

گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔

تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:

"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔

تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔

اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"

اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔

تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:

"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"

اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔

اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔

کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔

جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔

اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

خطیبِ مسجد رو پڑا
 زندگی کو محسوس کرنے کی کہانی
درگاہ کے پانچویں روز نماز ظہر کے بعد کا وقت تھا، جب ڈاکٹر آمنہ مجھے مسجد میں بلانے آئیں۔ خطیب صاحب نے انہیں اندر آنے سے روک دیا اور کہا کہ عورتیں مسجد میں نہیں جا سکتیں۔ آج ہماری درگاہ پر گیارہواں دن تھا اور پوری درگاہ میں سو سے زائد ملازمین تھے۔ شروع میں تو ہم دونوں کو، یعنی میں اور آمنہ، سب نے شک کی نظروں سے دیکھا۔ خطیب صاحب سے لے کر عام ملازمین تک، ہر کوئی حیران تھا کہ یہ لڑکا اس لڑکی کو لے کر ہر جگہ کیوں موجود ہے – مسجد میں، کار میں، ڈائننگ ایریا میں، اور لیکچر ہال کے اندر بھی۔
جب ہم میں سے دو چار کو پتا چلا کہ ہم دونوں میاں بیوی ہیں، تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ دونوں صبح اتنی جلدی اٹھ جاتے ہیں؟ اس کی بیوی فجر کی نماز کے فوراً بعد جوگرز پہن کر اسے مسجد میں لینے آ جاتی ہے، پھر یہ دونوں مل کر ایک گھنٹہ واک کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، پسینہ بہاتے ہیں۔ نہانے اور اپنے کپڑے خود دھونے کے بعد یہ اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں، اکٹھے اپنے برتن دھوتے ہیں، اکٹھے دانت برش کرتے ہیں، اکٹھے اپنے جوتے صاف کرتے ہیں، اکٹھے بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں، اکٹھے دوپہر اور شام کا کھانا کھاتے ہیں۔ شام کو پھر ایک گھنٹہ واک کرتے ہوئے باتیں کرتے ہیں اور اکٹھے سوتے ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا: یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو اتنی عزت اور اتنا وقت دے سکتا ہے؟ اور یہ دونوں میاں بیوی تقریباً 24 گھنٹے ایک دوسرے سے جُڑے رہتے ہیں۔
خطیب صاحب کا اعتراف
خیر، آج صبح جب میں گاڑی سے اپنے کپڑے نکال رہا تھا، خطیبِ مسجد نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور آہستہ سے پوچھا، "آپ کہاں سے ہیں؟" پھر وہ مجھے الگ لے جا کر خود ہی بتانے لگے کہ میں کشمیر سے ہوں، اور ایک ماہ کے بعد جب میں اپنے گھر جاتا ہوں تو میری بیوی بہت گلے شکوے کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ایک ماہ بعد آتے ہو اور مجھے وقت نہیں دیتے، اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کی طرف بھاگتے رہتے ہو۔ میری بیوی کو شوگر بھی ہے۔
انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، "لیکن میں نے دیکھا ہے، آپ کو اللہ نے اچھی اور نیک بیوی دی ہے۔ میں نے آپ کا آپس میں بہت پیار دیکھا ہے، پچھلے گیارہ دنوں سے۔ مجھے 65 سال ہو گئے ہیں پاکستان کی مختلف مسجدوں میں دین پڑھاتے ہوئے، لیکن میں نے ایسے میاں بیوی آج تک نہیں دیکھے۔ آپ دونوں نے آپس میں اتنا اکٹھا رہنا، پیار کرنا، اور باتیں کرنا کہاں سے سیکھا؟"
میں نے مسکرا کر عرض کیا، "استاد جی، ہم نے 'دین' سے سیکھا ہے۔" وہ حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے۔ میں نے مزید عرض کیا کہ حدیث ہے: ”آپ میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو۔“
فوراً بولے، "اللہ اکبر!" وہ بڑے حیران ہوئے اور پھر ایک گھنٹے تک اپنی بیوی کے ساتھ تعلق کو بہتر بنانے کے لیے مجھ سے پوچھتے رہے۔
آپ کی زندگی کی طرف
خیر، یہ تو میری باتیں تھیں، اب آتے ہیں آپ کی زندگی کی طرف۔ کیا آپ میاں بیوی بھی اکٹھے اتنا وقت گزار سکتے ہیں؟ کیا آپ بھی آپس میں 10 دن مسلسل 24 گھنٹے (کرونا کے علاوہ) جڑے رہ سکتے ہیں؟ ارے نہیں نہیں، میرا مطلب ہے آپ اپنے آپ سے کیسے جڑے رہ سکتے ہیں؟ بڑی بڑی کامیابیوں سے یا چھوٹی چھوٹی چیزوں سے؟
چلو، آج آپ کو ہوم ورک دیتے ہیں۔ آپ نے کل صبح جلدی اٹھنا ہے۔ نماز فجر کے بعد، اندھیرے سے روشنی کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ اپنی بیوی یا خاوند کے ساتھ، یا پھر اکیلے، ایک کرسی پر بیٹھ جانا ہے۔ باہر کھلی جگہ پر، یا کھڑکی کھول کر باہر دیکھتے رہنا ہے۔ آپ کے پاس موبائل نہیں ہونا چاہیے، ٹی وی بھی بند ہونا چاہیے۔ آپ نے کل صرف ایک دن سورج نکلنے کا منظر دیکھنا ہے۔
حواسِ خمسہ سے زندگی کو محسوس کریں
ہاں یاد رکھیں! جب یہ منظر دیکھ رہے ہوں تو آپ نے وہ سب سننا ہے جو آپ کے کانوں میں پڑے، آپ نے وہ سب دیکھنا ہے گردن گھما گھما کر جہاں تک آپ کی آنکھیں دیکھ سکیں، وہ سب کچھ سونگھنا ہے جو ناک سونگھ سکے۔
اور جب ناشتہ کرنے لگیں تو اپنے ناشتے کو اچھی طرح سجانا ہے۔ چاہے آپ صرف چائے پیتے ہیں، اس کے ساتھ کوئی ڈبل روٹی، بریڈ، بسکٹ یا پھل کھاتے ہیں تو آپ نے کوشش کرنی ہے کہ چائے کو کسی مختلف کپ کے اندر ڈالنا ہے۔ اپنے، بیوی یا اماں جی کے جہیز کے برتنوں کو ہوا لگوانی ہے، یعنی اچھی سی پلیٹ نکالنی ہے، اور ناشتے کی جو بھی چیزیں ہیں، وہ سجانی ہیں، اور کسی کی بھی مداخلت کے بغیر تنہائی میں بیٹھ کر (دونوں میاں بیوی یا اکیلے) کانوں میں پڑنے والی آوازوں کو سنتے ہوئے، آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اور ناک سے سونگھتے ہوئے آپ نے آہستہ آہستہ کھانا ہے، چبا چبا کر، اور آہستہ آہستہ چائے یا کافی پینی ہے۔
اور کھانے کے بعد آپ نے اپنے برتن خود دھونے ہیں، چاہے آپ کے گھر میں ملازم ہوں۔ (جیسے آج کل ہم دونوں میاں بیوی اپنے برتن اور کپڑے خود دھو رہے ہیں) آپ نے بھی آہستہ آہستہ دھونے ہیں، پانی ضائع کیے بغیر اور نظریں بہتے پانی پر رکھنی ہیں، اور اپنے برتنوں کا ایک ایک کونا رگڑ رگڑ کر صاف کرنا ہے۔ یقین کریں، ”برتن دھونا اور کپڑے دھونا ایک تھیراپی ہے۔“
زندگی کی حقیقت
یاد رکھیں! ہمارے سامنے ہر روز ایک نیا سورج نکلتا ہے، ہر روز نئے رنگوں سے بھرا ہوا دن طلوع ہوتا ہے۔ آج کا سورج کل نہیں نکلے گا۔ کل کا سورج مختلف ہوگا، موسم مختلف ہوگا، تاریخ مختلف ہوگی، اور ہم بھی وہ نہیں ہوں گے جو ہم آج ہیں۔ ہم ہر پل بدل رہے ہیں۔
ہم بھی چند دن یا چند سال مزید اس نکلتے سورج کو دیکھ پائیں گے، اور پھر اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے۔ ہم اس دنیا میں تھوڑے دنوں کے لیے ہیں۔ کیوں نہ خود کو اس دنیا میں گُم کرنے کی بجائے اس کی چھوٹی اور بڑی چیزوں کو غور سے دیکھنا شروع کر دیں؟ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دینا شروع کر دیں؟ اپنے پیاروں، ماں باپ اور بچوں کو وقت دینا شروع کر دیں؟ کیوں نہ اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے سے پہلے، ہم اس کو محسوس کرنا شروع کر دیں؟
مجھے یہاں پر مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کی بات یاد آ رہی ہے، وہ کہا کرتے تھے:
”میں نے یہ سیکھا ہے اس دنیا سے کہ یہاں ہر کوئی چکھے گا موت کا مزہ، لیکن بہت کم ہوں گے جو چکھ پائیں گے زندگی کو!“
کیا آپ اس ہوم ورک کو کرنے کے لیے تیار ہیں اور زندگی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کو محسوس کرنے کا آغاز کریں گے؟

فیصل آباد،کلاک ٹاور کی تاریخ اور تعمیر:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تعمیر کا دور:
کلاک ٹاور کی تعمیر 1903 میں مکمل ہوئی۔ اس کا سنگ بنیاد 1897 میں رکھا گیا، یعنی اس کی تعمیر میں تقریباً 6 سال لگے۔
تعمیر کروانے والا:
اس کی تعمیر برطانوی حکومت کے تحت ہوئی، اور اسے سر جیمز لائل کے دور میں تعمیر کیا گیا، جو کہ اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے۔ لائلپور کا نام بھی انہی کے نام پر رکھا گیا تھا۔
ڈیزائن:
ڈیزائن کی منصوبہ بندی برطانوی ماہرین نے کی، اور یہ مشہور ہے کہ اس کا نقشہ یونین جیک (برطانوی پرچم) کی طرز پر بنایا گیا۔ کلاک ٹاور کے اردگرد آٹھ بازار (کچہری، چنیوٹ، جھنگ، کارخانہ، منٹگمری، بھوانہ، امین پور،  بازار) اس انداز میں ترتیب دیے گئے کہ وہ یونین جیک کی لکیروں کی مانند لگتے ہیں۔
فنڈنگ:
گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لیے مقامی لوگوں نے چندہ دیا تھا، اور کچھ رقم ریاستی فنڈز سے آئی۔
ۤگھڑیاں، کلر اسکیم اور ساخت:
گھڑیاں کس نے بنائیں؟
اس میں نصب شدہ گھڑیاں انگلینڈ سے منگوائی گئیں۔ ممکنہ طور پر گھڑیاں Smith of Derby جیسی کسی برطانوی گھڑی ساز کمپنی کی بنی ہوئی تھیں (جیسے کئی دیگر برٹش دور کے گھڑیالوں میں دیکھنے کو ملتا ہے)، مگر اس کی تصدیق شدہ تفصیل تاریخ میں مبہم ہے۔
کلر اسکیم:
اصل میں کلاک ٹاور سرخ اینٹوں (لال اینٹوں) سے بنایا گیا تھا، جس میں سفید اور ہلکے خاکی پتھروں کی جھلک شامل تھی۔ وقت کے ساتھ اس پر کئی بار رنگ و روغن اور مرمت ہوئی، مگر اصل کلر اسکیم برٹش آرکیٹیکچر کے اصولوں پر تھی۔ حالیہ رنگ اسکیم کو شہری حکومت نے جدید ذوق کے مطابق کئی بار بدلا۔
 ساخت (Dimensions):
اونچائی (Height): تقریباً 100 فٹ (30 میٹر)

چوڑائی (Base Width): تقریباً 20 فٹ (6 میٹر)
یہ ایک چوکور مینار ہے جس کی ہر سمت ایک بازار کو جاتا ہے۔

 آئندہ مستقبل:
کب تک قائم رہے گا؟
کلاک ٹاور کو اب ایک تاریخی یادگار اور ثقافتی ورثہ کے طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اگر اس کی دیکھ بھال جاری رہی، تو یہ آنے والی کئی دہائیوں تک اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے۔ فیصل آباد میونسپل کارپوریشن اور پنجاب حکومت نے اسے "پریزرویشن زون" قرار دیا ہے تاکہ یہ تاریخی ورثہ محفوظ رہے۔
 مزید دلچسپ معلومات:
کلاک ٹاور کے اردگرد موجود آٹھ بازار آج بھی فیصل آباد کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کہلاتے ہیں۔ یہ شہر کا قدیم ترین تجارتی مرکز ہے۔

برطانوی راج کے دور میں لائلپور کو "گریڈڈ شہر" کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا — یعنی زرعی زمینوں کے درمیان ایک منصوبہ بند شہر۔

گھنٹہ گھر کے گرد برطانوی دور کی واٹر سپلائی لائنز اور ڈرینج سسٹم بھی موجود تھا، جو اُس وقت کے جدید ترین نظاموں میں سے ایک تھا۔

کچھ حوالوں کے مطابق گھنٹہ گھر کی اوپری منزل میں کبھی برطانوی حکام کی نگرانی کے لیے ایک چبوترہ بھی تھا، جہاں سے شہر کے بازاروں کی نگرانی کی جاتی تھی۔

بیوی کے سوالات کا ترجمہ دل سے ہونا چاہیے دماغ سے نہیں
بیوی: کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟
منطقی جواب: اگر محبت نہ ہوتی تو شادی کیوں کرتا
صحیح جواب میں کسی سے اتنی محبت نہیں کرتا جتنی تم سے ہے اگر وقت پیچھے بھی چلا جائے تو میں پھر بھی تمہیں ہی چنوں گا

بیوی: مجھے بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے کمر بھی درد کر رہی ہے
منطقی جواب: شاید پنکھے یا اے سی کے نیچے سونے کی وجہ سے ہوگا
صحیح جواب: اللہ تمہیں صحت دے آؤ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں مجھے تمہاری فکر ہے

بیوی: میں نے نیا لباس خریدا ہے
منطقی جواب: مبارک ہو
صحیح جواب: مجھے معلوم تھا ہر چیز تم پر جچتی ہے چلو دیکھوں کیسا لگ رہا ہے تم پر

بیوی: ابھی تنہا رہنا چاہتی ہوں
منطقی جواب: ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی
صحیح جواب: جب تک میں ہوں تم کبھی اکیلی نہیں ہو سکتی

بیوی: میں اپنی بہنا کے ساتھ باہر جا رہی ہوں
منطقی جواب: دیر نہ کرنا
صحیح جواب: مزے کرو اپنا خیال رکھنا اور کوشش کرنا جلدی آ جانا

بیوی: کچھ نہیں ہوا
منطقی جواب: اچھا ٹھیک ہے
صحیح جواب: مجھے تمہارا مزاج معلوم ہے بتاؤ کیا پریشان کر رہا ہے

بیوی: تم یاد آ رہے ہو
منطقی جواب: تم بھی
صحیح جواب: تم بہت زیادہ یاد آ رہی ہو میری جان

بیوی: کیا تم مصروف ہو؟
منطقی جواب: ہاں تھوڑا کام ہے
صحیح جواب: تم سے بڑھ کر کچھ نہیں بس تھوڑا کام ختم کرلوں تو مکمل تمہارے ساتھ ہوں

بیوی: مجھے نہیں پتہ اس مسئلے کو کیسے حل کروں
منطقی جواب: ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے
صحیح جواب: ہم مل کر حل نکال لیں گے جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں فکر نہ کرو

خواتین واقعی اتنی پیچیدہ نہیں ہوتیں جتنا ہم سمجھتے ہیں
انہیں کوئی راکٹ سائنس نہیں چاہیے صرف ایک مرد چاہیے جو دل سے سنے دل سے سمجھے
جو عقل کی بجائے کبھی کبھی کبھار صرف دل سے جواب دے
کیونکہ کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب مسئلہ دلیل سے نہیں صرف ایک نرم اور سچی بات سے حل ہو جاتا ہے

عورت منطق نہیں محبت چاہتی ہے
اور جو مرد یہ بات سمجھ لے وہ سب کچھ جیت لیتا ہے.

اگر آپ شہد کی مکھی کو زمین پر پڑا ہوا یا بغیر اڑان کے دیکھیں، اور وہ کسی پھول دار پودے پر نہ ہو، تو سمجھ لیں کہ وہ بھوکی ہے، آپ اس کی مدد کر سکتے ہیں۔

اس وقت ہم 'جون گیپ' کے عرصے میں ہیں یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بہار کے پھول ختم ہو چکے ہوتے ہیں اور خزاں کے پھول ابھی شہد اور زردانہ پیدا نہیں کر رہے ہوتے۔

مدد کا طریقہ: آپ دو حصے چینی اور ایک حصہ پانی ملا کر ایک شربت تیار کریں اور شہد کی مکھی کو پیش کریں۔
یہ زیادہ تر مکھیاں مادہ ہوتی ہیں، چمچ سے خوشی سے پیئے گی۔
آپ اس کی ننھی سی کالی زبان بھی دیکھ سکیں گے جب وہ شربت پی رہی ہوگی۔
اسے توانائی میں بدلنے میں تقریباً 10 منٹ لگتے ہیں اور وہ یہ شربت پی کر اڑ جائے گی۔
اس لمحے کو دیکھنے کا احساس قابلِ قدر ہوتا ہے۔

براہِ کرم نوٹ کریں یہ صرف ایک عارضی اقدام اور "فرسٹ ایڈ" ہے۔
مکھیاں اپنی خوراک میں تنوع کی ضرورت رکھتی ہیں اور انہیں مختلف پودوں سے زردانہ جمع کرنا ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم مکھیوں کو روزانہ چینی کا شربت دیں۔

ایک اور اہم بات براہِ کرم انہیں شہد ہرگز نہ دیں اس سے کالونی سے کالونی تک بیماری آسانی سے پھیل سکتی ہے اور آپ نیکی کرنے کی بجائے نقصان کا سبب بنیں گے۔
صرف سفید چینی اور پانی استعمال کریں۔

یہ مکھیاں منہ سے تو آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتیں، اس لیے میں ان کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں 💕
لاکھوں بار شکریہ ☺️
الفاظ بھی مکھیوں کی طرح ہوتے ہیں!!!
کچھ شہد بناتے ہیں اور کچھ ڈنک مار جاتے ہیں 🤍

دریاؤں کے ناموں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت
پاکستان کے دریاؤں کا جال صرف جغرافیائی ہی نہیں بلکہ تہذیبی، لسانی اور تاریخی لحاظ سے بھی بے حد اہم ہے۔ ان دریاؤں کے نام نہ صرف قدرتی حسن اور زندگی کے تسلسل کی علامت ہیں بلکہ یہ نام قدیم زبانوں، تہذیبوں، اور مذہبی اثرات کا آئینہ بھی ہیں۔ ان ناموں کی گہرائی میں جھانکیں تو تاریخ، اساطیر اور ثقافت کے خزانے ملتے ہیں۔

1. سندھ (Indus) — نام کا ارتقا اور تہذیبی مرکز
"سندھ" پاکستان کے سب سے بڑے دریا کا نام ہے جس سے نہ صرف "سندھ" خطے کا نام پڑا بلکہ پورے "انڈیا" (Indus) کو بھی۔ قدیم سنسکرت میں اسے "سندھو" کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے "بہتا پانی" یا "سمندر کی مانند دریا"۔
یونانیوں نے اسے "Indos" کہا، جو بعد میں "Indus" بن گیا، اور یوں ہندوستان (India) کا نام بھی اسی دریا سے نکلا۔

2. جہلم — قدیم ہائیڈیسپس (Hydaspes)
جہلم دریا کو سکندرِ اعظم کے حملے کے وقت "Hydaspes" کہا جاتا تھا۔ یہ نام یونانیوں نے دیا تھا، جبکہ مقامی طور پر اسے "Vitasta" بھی کہا جاتا تھا۔
آج کا "جہلم" شاید فارسی لفظ "جیحون" سے مشابہت رکھتا ہے، جو وسط ایشیا کے دریاؤں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ نام فارسی و عربی اثرات کی نمائندگی کرتا ہے۔

3. چناب — چدر + آب کا امتزاج؟
چناب کا قدیم نام "Asikni" (سیاہ پانی) تھا، جو ویدوں میں ملتا ہے۔ بعد میں اسے "چندر بھاگا" کہا گیا — "چندر" (چاند) اور "بھاگا" (عطیہ یا ندی)۔
چندر بھاگا سے "چناب" تک کا سفر زبانوں کی آسانی، مقامی تلفظ، اور وقت کے ساتھ ارتقا کی خوبصورت مثال ہے۔

4. راوی — نرم و نازک دریا
راوی کو ویدوں میں "ایراوتی" (Iravati) کہا جاتا تھا، جو ایک دیوی کا نام بھی ہے۔ فارسی اور ہندی کے امتزاج سے "راوی" کا نام سامنے آیا۔ یہ دریا قدیم لاہور (لوہاور) کے قریب بہتا تھا اور یہاں کی تہذیب کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔

5. ستلج — شتلہ سے ستلج
یہ دریا قدیم سنسکرت میں "Shutudri" کہلاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ نام "شتلہ" بنا، اور فارسی اثرات سے "ستلج" میں تبدیل ہوا۔ یہ دریا قدیم ہڑپہ تہذیب کا اہم جزو رہا ہے۔

6. کابل — پہاڑوں کا پیغامبر
کابل دریا کا نام قدیم ایرانی زبان سے جڑا ہوا ہے۔ فارسی، پشتو اور دری زبانوں میں "کابل" کا مطلب اونچی زمین یا پتھریلا علاقہ ہو سکتا ہے۔
یہ دریا وسطی ایشیا کی تہذیبوں کو برصغیر سے ملانے والا ایک اہم راستہ تھا
ثقافتی جھلکیاں اور لوک داستانیں
پاکستان کے کئی دریاؤں سے لوک کہانیاں جڑی ہوئی ہیں — جیسے ہیر رانجھا کی داستان میں چناب، سوہنی مہیوال کے قصے میں دریائے سندھ یا راوی، جن میں دریا صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت، ہجرت، وصال اور فراق کا استعارہ بھی بنتے ہیں 

بیوی ہی نہیں خاوند کو بھی خوبصورت لگنا چاہئیے۔ لیکن۔۔ ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ
 مرد حضرات چالیس یا آس پاس کے پھیر میں ہوں تو خود سے کافی حد تک لاپروا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ خود کو بوجھ ڈھونے والا گدھا تصور کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بوجھ ضرور ڈھوئیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو زندگی کا ارتقا اور تسلسل سمجھ کر ۔۔۔

مرد عموماً نوجوانی میں یا جوانی میں پھر بھی اپنا خیال رکھ لیتے ہیں، لیکن بعد کی ذمہ داریوں میں پھنس کر سب کچھ ترک کر دیتے ہیں۔۔۔ جسمانی مشقت کرنے والے اپنے لباس اور حلیے سے یکسر لاپروا ہوجاتے ہیں۔ رنگ اڑے بکھرے بال اور بغیر استری کے گندے کف کالر والے کپڑے، گندے جوتے ان کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں۔ آ فس میں جاب کرنے والوں کا حلیہ بھی موٹی توند کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہی لگتا ہے۔

جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی "مرتب" حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں۔ لیبر ورک ہے، جاب یا کاروباری سلسلہ۔

 
آئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں adopt کرنے سے personality building اور personal grooming میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار ہیئر کٹ لازماً کروائیں۔۔۔ داڑھی ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے۔ گال پر آئے بے ترتیب موٹے بال تھریڈنگ سے نکلوالیجیے۔ اس طرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے۔۔

 
2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونل پرابلمز اور چینجز کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں دھاگے سے نکلوا دیجیے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے۔

 
3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہوجاتے ہیں، قینچی سے برابر کروا لیجیے۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں، ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجیے۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد ڈیڈ اسکن (چنڈیاں اور مردہ کھال) کٹر سے کاٹ لیجیے۔۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں اضافہ کا باعث ہے۔

 
5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کر لیجیے۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں اسفنج یا انگلیاں اچھی طرح گھما لیجیے۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ہے۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے۔۔۔ بازار میں لمبے ہینڈل والے باتھنگ برش عام ملتے ہیں، پشت پر صابن لگانے کے لیے استعمال کیجیے۔

6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھا کر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدید بدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد کاٹن بڈ سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے۔۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالیے۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے۔

 
8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلوؤں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے۔ سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی۔

 
9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنیے۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں۔

10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے گدھے کے انداز میں کبھی مت چلیے۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ بھائی یا شوہر کا یہ انداز پسند نہیں کرتی۔۔۔ کوشش کر کے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے، بھلے گھر میں بیڈ پر آرام کا وقت بڑھا دیجیے۔۔۔

11 ۔۔۔۔۔۔ ہاف پینٹ اور شاٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجیے۔ کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آپ کو دوپٹے کی پابندی سے آزاد رکھا ہے، لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے۔

12 ۔۔۔۔۔ پینٹ کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کردیجیے۔ یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی۔ ناف کے عین نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہیے۔

13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے، موزے، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے۔۔۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں آرائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں۔

14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگار، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے۔ ( اگرچہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔)

 
15 ۔۔۔۔۔ آفس یا ورکنگ پلیس پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجیے۔۔۔ اور کوشش کیجیے کہ آپ کی آمد کا سندیسہ یا پہچان آپ کا برانڈ دے۔ ہم اپنے ابا اور بھائیوں کی کسی جگہ موجودگی ان کی خوشبو سے کر لیتے تھے۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے۔

16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکاکر تو گفتگو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کر کے لہجہ قابو میں لے آئیے۔۔۔

17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبیرتا اور ٹھہراؤ سے کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تیز تیز بول کر اسے تباہ مت کیجیے۔

18 ۔۔۔۔۔۔ پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔

19 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے۔۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجیے۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جا سکتا ہے۔

 
20 ۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجیے۔ آپ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اور خواتین آپ کی موجودگی میں انکمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں۔

21۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔ کئی طرح کے بھرم رہ جاتے ہیں۔

22 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آئینہ دیکھیے اب ایک گریس فل شخصیت نظر آ رہی ہے۔ ورنہ جہاں جہاں کمی ہے، دور کرلیجیے

جنگ کو مذاق سمجھنے والے دوستوں کی اطلاع کیلٸے عرض ھے  (مطلع - آصف قریشی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ )
----------------------------
1945 میں جونہی ایٹم بم پھٹا تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں شہر کا درجہ حرارت 4000 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا
یہ درجہ حرارت رھا تو چند لمحوں کے لیے تھا لیکن پورا ھیروشیما شہر اور مُضافات میں تمام جاندار جل کر خاکسترھو گئے حتی کہ عمارتیں تک پِگھل گئیں 😢
بم پھٹنے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر تقریباً ایک لاکھ اِنسان بھاپ اور دُھواں بن کر ھوا میں تحلیل ھو گئے، کوئی جاندار زندہ نہیں بچا- ھیروشیما پر بسنے والے اِنسان صفحہ ھستی سے مٹ گئے- جو بچ گئے وہ مرنے کی خواہش کر رھے تھے 💔

پورے ملک سے رابطہ ختم ھو گیا تھا

جو ایٹم بم ھیروشیما پر پھینکا گیا تھا اُس سے 4000 ڈگری سیلسیس کی حرارت خارج ھوئی تھی لیکن
اِسوقت پاکستان اور بھارت کے پاس جو نیوکلیئر بم موجود ھیں وہ 25000 سے 40000 ڈگری سیلسیس کی گرمی خارج کرنے کی قوت رکھتے ھیں- 

یہ گیم محض چند سیکنڈز کی ھوگی اور کرہ ارض کے میدانوں میں صحراؤں میں جنگلوں میں پہاڑوں میں، سمندروں یا دریاوں کے پانی کی روانی میں کوئی جاندار زندہ نہیں بچے گا 😢😢

کُچھ دِکھانے کے لئے کوئی بریکنگ نیوز نہیں ھوگی اور نہ ھی کوئی دیکھنے والا.... لہذا جنگ پر میمز بنانے کی بجاٸے۔ اللہ پاک سے توبہ استغفار کیجئے اور جنگ کو دل سے برا جانیٸے اور اس سے نفرت کا برملاء اظہار کیجٸے

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget