اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اکتوبر 2018

وہ: چاند کتنا حسین ہے نا
میں: مجھے نہیں لگتا ۔۔۔
وہ: کچھ اچھا بھی لگتا ہے ؟
میں: ہاں
وہ: کیا ؟
میں: تم
وہ: اوہو جناب واہ آپکے اندر بھی رومینٹک ازم
میں: کبھی کبھی
وہ: اگر ایسا ہی ہے تو جب میں نے چاند کی بات کی تو آپ مجھے چاند کہہ سکتے تھے
میں: نہیں بلکل نہیں
وہ: کیوں ؟
میں: کیونکہ آپ زمین پر رہنے والی وہ خدا کی عظیم تخلیق ہو جس کی خدمات میں سورج دن میں روشنی لئے اور چاند رات میں چاندنی لئے پیش پیش رہتا ہے ۔۔۔
وہ: نہایت بیکار اور فضول بات تھی ویسے یہ
میں: خیر ہے
تین جگہ ہار جانا چاہیے اگر جیتنا چاھتے ہو تو
1:والدین سے
2:اپنے استاد سے
3:
اور اس سے جس سے آپ محبّت کرتے ہو 



کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔! سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔! میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر  مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔! وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔! حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔! صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!

 اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔! میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔! تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔! اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو بھر جاتی ہے۔۔۔! پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔!

          صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی۔۔۔! اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔! میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔!  صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔! آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔! اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔! وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے میں نے اُس کی منتیں کر کے اُسے کھانے میں شریک کر لیا۔۔۔! پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔! میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔!اس نے  پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔! اور پھراکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔! میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں شریک کرنے لگا۔۔۔!  وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔! اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔! خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟ میں سکول سے کار آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ  مچا دیتا۔۔۔! ایک  دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔! پُتر  تجھے ساتھ پراٹھا بنا کر دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔! اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں۔۔۔! آتے ساتھ بُھوک بُھوک  کی کھپ مچا دیتا ہے۔۔۔! جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔۔۔!

          میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔! پر اماں نے اُگلوا کر ہی دم لیا۔۔۔! ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک  پڑی اور کہنے لگی۔۔۔! کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔! میں نے  کہا اماں پراٹھے دو ہوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔!میں تو  کار آکر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔! صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔! کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟ 

          میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔! پانچویں جماعت میں پڑھنے والے پھیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔! بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔! اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔! ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔! اور بندہ  پھرکبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔! پھیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔! اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔! اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔!  مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔!

          صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے کار جانے لگی۔۔۔! “دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔! صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے کار کام پر لگوا دیا۔۔۔! تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔! اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔!  اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔! اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔

 کل وقار آیا تھا۔۔۔! ولایت میں رہتا ہے جی واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔!  پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بن گیاہے۔۔۔! اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے۔۔۔! صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔! یار لوگ اسکول بنواتے ہیں ہسپتال بنواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

 کہنے لگا۔۔۔! پھیکے بھوک بہت ظالم چیز ہے چور ڈاکو بنا دیا کرتی ہے۔۔۔! خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔! ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔!  تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے پھیکے۔۔۔! سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے۔۔۔! اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔! پھر  کہنے لگا۔۔۔! یار پھیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔! جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔! چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے بل بڑھ گئے تھے۔۔۔! اور مکھن بھی۔۔۔! آدھا پراٹھا کھا کر ہی میرا پیٹ بھرجایا کرتا۔۔۔! اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا  پھیکے۔۔۔!  وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔! اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔

 اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا پھیکے اور وقار کی۔۔۔! بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔

 پھیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔! اُس نے کہا تھا۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔! اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔! دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔! میں پاس ہی تو چونکی  پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔! روٹی بیلتے بیلتے نماز کا سبق پڑھاتی میرے ساتھ نکیاں نکیاں گلاں کرتی۔۔۔! آج بھی ویہڑے میں پھرتی نظر آتی ہے۔۔۔! پھیکا ماں کو یاد کر کے رو رہا تھا۔۔۔
 سورج کی پہلی کرن جیسا روشن چہرہ تھا اماں کا صاحب جی۔۔۔! باتیں کرتے کرتے پھیکا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اُس پل میں لے گیا اور ایک دم میرے سامنے کسی پُرانْی فلم کی طرح سارا منظر بلیک اینڈ وائٹ ہو گیا۔۔۔! زندگی کے کینوس پر صرف ایک ہی رنگ بکھرا تھا مامتا کا رنگ۔۔۔!

 سچ ہے ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔۔۔!  آج ملک کے حالات کرپشن اور مسائل کو دیکھتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا۔۔۔! کاش سب مائیں پھیکے کی اماں جیسی ہو جائیں۔۔۔! میں ہر بار پھیکے سے ملنے کے بعد وطن کی بند کھڑکیوں  سے چھن چھن کر آتی سنہری روشنی کو دیکھتا ہوں۔۔۔!  روشنی جو راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے۔۔۔!
لکھاری #مبشرہ_ناز



مجھے تم یاد آتے ہو
خیالوں میں
سوالوں میں

محبت کے حوالوں میں
تمہیں آواز دیتا ہوں
تمہیں واپس بلاتا ہوں

جب کوئی نظم کہتا ہوں
اسے عنوان دیتا ہوں
مجھے تم یاد آتے ہو

تمہاری یاد ہونے سے
کوئی سرگوشی کرتا ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں

دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں پلکوں کو جھکاتا ہوں
بظاہر__مسکراتا ہوں

فقط اتنا ہی کہتا ہوں

مجھے کتنا ستاتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


*کہیں آپ ناشتے میں یہ غلطیاں تو نہیں کرتے؟*
جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔
مگر چند عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے ناشتے کو کم صحت مند بلکہ نقصان دہ بنانے کا باعث بنتی ہیں۔
*کیا آپ ان عادات سے واقف ہیں؟*

*روزانہ مختلف ناشتہ کرنا*
ایک برطانوی تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتے میں مختلف چیزوں کا استعمال کرتے ہیں ان میں کمر بڑھنے یا موٹاپے کا امکان 90 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

*غذائیت بخش غذا سے دوری*
اگر تو آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو صبح کا ناشتہ تگڑا ہونا چاہیے کیونکہ بڑا اور غذائیت سے بھرپور ناشتے کا استعمال معمول بنالینا کچھ ہفتوں میں بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، کچھ عرصے پہلے کی ایک اسرائیلی تحقیق کے مطابق پروٹین سے بھرپور ناشتہ بھوک بڑھانے والے ہارمون کی سطح کم کرتا ہے۔

*ناشتہ دیر سے کرنا*
اگر آپ کو صبح اٹھنے کے بعد بھوک نہیں لگتی تو اپنی غذائی عادات کا جائزہ لیں، ممکنہ طور پر آپ رات کو بہت زیادہ کھاتے ہوں گے، تاہم اگر صبح بھوک نہ بھی لگے تو بہتر یہی ہے کہ اٹھتے ہی کچھ نہ کچھ کھالیں چاہے ایک سیب یا کیلا ہی تاکہ جسمانی میٹابولزم اپنا کام شروع کردیں۔

*جلد بازی*
اگر آپ کو دفتر یا کہیں جانے کی جلدی ہے اور کچھ بھی اٹھا کر کھالیتے ہیں تو یہ عادت آپ کا پیٹ بھرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں جلد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے اور بازار کی ناقص اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جو موٹاپے کا باعث بنتی ہیں جبکہ تیز چبا کر خوراک کو نگلنا بھی نظام ہاضمہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

*میٹھی اشیا کا استعمال*
ناشتے میں Cereal کا استعمال جسم میں چینی یا شکر کی مقدار میں اضافہ کردیتا ہے کیونکہ اس کی تیاری کے لیے چینی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس کے نیتجے میں اس کی تھوڑی مقدار ہی پیٹ بھر دیتی ہے جبکہ اس کی مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح بڑھاتی ہے اور بہت جلد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے جو جنک فوڈ کی جانب متوجہ کرتی ہے۔

*چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال*
چکنائی سے پاک دودھ کا استعمال وزن کم کرنے کے لیے اچھا انتخاب محسوس ہوتا ہے مگر جسم کو اس صورت میں کیا فائدہ ہوگا جب وہ اسے ہضم ہی نہیں کرسکے گا؟ عام دودھ ناشتے کے لیے زیادہ بہتر انتخاب ہے جبکہ چکنائی سے پاک دودھ دن کے کسی اور وقت استعمال کرنا چاہیے۔

*فلیور ملک کا استعمال*
اگر تو آپ فلیور ملک جیسے بادام، سویا یا ناریل کے دودھ کو عام دودھ کے صحت مند متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ اگر ان میں مٹھاس شامل ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لوگ ایسے فلیور ملک کی شکل میں زیادہ شکر جسم کا حصہ بنالیتے ہیں جس کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔

*پروٹین اور صحت مند چربی سے دوری*
پروٹین جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں جبکہ صحت مند چربی پیٹ بھرنے اور بے وقت کی بھوک کی روک تھام کرتی ہے۔ تو صحت مند چربی اور پروٹین سے بھرپور ناشتہ جیسے انڈے، گریاں، مکھن اور دہی جسم کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

*چائے یا کافی کا نہار منہ استعمال*
خالی پیٹ کافی یا چائے کا استعمال جسم کے لیے بہت زیادہ تیزابی ثابت ہوتا ہے اور ناشتہ کم کھانے پر مجبور کرکے دن بھر میں الم غلم اشیاء کے استعمال پر مجبور کرسکتا ہے۔ درحقیقت یہ عادت بھوک کی سطح، توانائی کی سطح اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

*چائے یا کافی کو کیلوریز فری سمجھنا*
چائے ہو یا کافی، دونوں میں کیلوریز، کاربوہائیڈریٹس اور چینی موجود ہوتی ہے ماسوائے اگر آپ بغیر دودھ یا چینی کی چائے یا کافی پینے کے عادی ہوں۔ دودھ، چینی وغیرہ کے اضافے کے بعد ان مشروبات میں کیلوریز کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ چینی کی جگہ دارچینی کا اضافہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

*فروٹ جوسز*
اگر تو آپ بازار میں ملنے والے ڈبہ بند فروٹ جوسز ناشتے میں پینے کے عادی ہیں تو ان کو پینے سے فوری طور پر تو توانائی کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود شکر ہوتی ہے مگر جلد ہی بلڈ شوگر لیول گرجاتا ہے اور سستی طاری ہونے لگتی ہے۔ جوس کے مقابلے میں پھل کو کھانا زیادہ بہتر متبادل ہے۔

*زردی کی بجائے صرف انڈے کی سفیدی کھانا*
انڈے کی سفیدی کم چربی اور کیلوریز والا پروٹین جسم کا حصہ بناتی ہے، اس کے مقابلے میں زردی آئرن، وٹامن بی اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے، صرف سفیدی کی بجائے پورا انڈہ کھانا پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتا ہے اور بے وقت کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ اگر آپ کولیسٹرول کو لے کر پریشان ہیں تو انڈوں کی تعداد ایک ہفتے میں پانچ سے آٹھ تک محدود کرسکتے ہیں، تاہم طبی سائنس کے مطابق انڈوں سے کولیسٹرول کی سطح بڑھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

*چائے یا کافی میں بہت زیادہ کریم یا ملائی ڈالنا*
کافی یا چائے اس وقت صحت بخش نہیں رہتے جب ان میں چکنائی سے بھرپور ملائی اور چینی کا اضافہ کردیا جائے، تو اس سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔

*بہت زیادہ نمک*
چینی کی طرح بہت زیادہ نمک کا ناشتے میں استعمال بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، نمک کے زیادہ استعمال سے جسم میں پانی ایک جگہ جمع ہوتا ہے جس سے پیٹ پھولتا ہے۔

*بہت زیادہ فائبر*
صبح بہت زیادہ فائبر غذا کا حصہ بنانا پیٹ میں گیس بڑھانے کا باعث بنتا ہے، اگر آپ ضرورت سے زیادہ فائبر استعمال کریں تو مناسب مقدار میں پانی پینا غذائی نالی کے افعال درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔



ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چل ا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ،لکھا تھا۔ 
برائے کرم ضرور پڑھیں 
اس راستے پر کل میرا 50 روپیہ کا نوٹ کھو گیا ھے ، مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے برائے کرم پہنچا دے نوازش ہوگی................ !!!
ایڈریس:- ۔۔۔۔******۔۔۔۔*****۔۔۔
۔۔۔۔****۔۔۔۔****۔۔۔۔****۔۔۔۔****
یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کہ پچاس کا نوٹ کسی کے لیے اتنا ضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا اور اس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی،
ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ھوئی باھر آئی ، پوچھنے پر معلوم ھوا بڑی بی اکیلے رھتی ھیں اور کم دکھائی دیتا ہے ، 
میں نے کہا " ماں جی آپ کا پچاس کا نوٹ مجھے ملا ہے..!
اسے دینے آیا ھوں؛ 
یہ سن کر بڑھیا رونے لگی !
بیٹا ......... !
ابھی تک قریب قریب50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ھیں !   
 میں ان پڑھ ھوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا ، پتا نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لئے لکھ کر چلا گیا.......!! !
بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لئے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ھے جاتے ہوئے اسے پھاڑ  کر پھنک دینا بیٹا !!
میں نے ہاں کہہ کر ٹال تو دیا؛ ؛؛
لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کے لئے کہا ھوگا مگر کسی نے نہیں پھاڑا ۔ 
زندگی میں ہم کتنے  صحیح ہیں کتنے غلط یہ صرف دو  ہی جانتے ہیں۔
ایک  " الله تعالیٰ "
دوسرا  ہمارا " ضمیر " ، 
میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ھوگیا کہ وہ شخص کتنا مخلص ہوگا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا ، ضرورت مندوں کی امداد کے کئی طریقے ہیں میں نےاس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ھیں صرف مدد کرنے کی نیت ہونی چاہیے راستہ اور رہنمائی اللہ سبحانہ کی طرف سے ہوجاتی ہے........... 

شعور اور احساس بیدار کرنے کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو ضرور شیر کریں،،، شکریہ



1981 میں لاہور باغبانپورہ تھانے کی حدود میں پپو نامی بچہ اغوا ہوا تھا۔ بعد میں اسکی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی تھی۔ ضیاءالحق کا مارشل لا تھا۔ قاتل گرفتار ہوئے۔ ٹکٹکی پر لٹکانے کا حکم فوجی عدالت سے جاری ہوا۔ تین دن بعد ٹکٹکی وہاں لگی جہاں آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے۔ پورے لاہور نے دیکھا پھانسی کیسے لگتی ہے۔ چاروں اغواکار اور قاتل پورا دن پھانسی پر جھولتے رہے۔ آرڈر تھا کہ لاشیں غروبِ آفتاب کے بعد اتاری جائیں گی۔
اسکے بعد دس سال کوئی بچہ اغوا اور قتل نہیں ہوا۔ پھر جمہوریت بحال ہو گئی اور عصمتوں کے لٹیرے، قاتل، اغواکار بردہ فروش اور چور ڈکیت سیاستدانوں کی چھتری کے نیچے آگئے۔ پولیس کی سرپرستی میں منظم جرائم ہونے لگے۔

جمہوریت زندہ باد۔

***************


پرانے زمانے میں فوج میں بھرتی کے لئے گاؤں میں کیمپ لگتا تھا ۔
اسی طرح ایک گاؤں میں کیمپ لگا ۔
اسی گاؤں میں ایک دوست نے دوسرے سے کہا یار فوج میں بھرتی آئی ہے چلیں ۔
تو دوست کہنے لگا نہیں یار مجھے شرم آتی ہے۔
پہلا دوست حیران ۔
بولا اس میں شرم کیسی۔
دوسرا دوست:یار ہم اگر بھرتی ہو گئے تو دو باتیں ہوں گی یا تو ہم دوڑ لگائیں گے یا پھرٹریننگ کریں گے ۔
اور اگر ہم نے دوڑ لگائی تو۔ٹھیک ہے۔
اور اگر ٹریننگ کی تو پھردو باتیں ہوں گی ۔
یا تو ہمیں یونٹ میں رکھیں گے یا پھر بارڈر پر بھیجیں گے۔
ایونٹ میں بھیجیں پھر تو ٹھیک ہے اور اگر بارڈر پر بھیجا تو پھردو باتیں ہوں گی۔
یا تو امن رہے گا یا جنگ ہوگی ۔
اگر امن رہا تو ٹھیک ہے اور اگر جنگ ہوئی تو پھر دو باتیں ہونگی۔
یا ہم انھیں ماریں گے یا وہ ہمیں ماریں گے۔
ہم انھیں ماریں پھر ٹھیک ہے اور اگر انہوں نے ہمیں مارا تو پھردو باتیں ہونگی۔
یا تو ہماری لاش ہماری فوج اٹھائےگی یا پھر دشمن لے جایں گے۔
اگر ہماری فوج لے آئی پھر تو ٹھیک ہے اور اگر دشمن لے گئے تو پھر دو باتیں ہونگی ۔
یا تو وہ اسے دفنائیں گے یا جنگل میں پھینک دیں گے۔
اگر دفنا دیں گے تو ٹھیک ہے۔اور اگر جنگل میں پھینک دی تو پھر دو باتیں ہونگی ۔
یا تو اسے جنگلی درندےکھائیں گے ۔یا پھر پرندے کھائیں گے۔
اگر در ندے کھائیں تو ٹھیک اور اگر پرندے کھائیں گے تو پھر دو باتیں ہونگی۔
یا ہماری ہڈیاں زمین میں دب جائیں گی یا پھر صابن بنانے والے لے جائے گے۔
اگر زمین میں دب گئیں تو ٹھیک اور اگر صابن والے لے گے تو پھر دو باتیں ہونگی ۔
یا تو وہ کپڑے دھونے کے کے بنائیں گے یا نہانے کے لئے۔
اگر تو کپڑے دھونے کے لئے بنائیں تو ٹھیک اور اگر نہانے کے لئے بنائیں تو پھر دو باتیں ہونگی۔۔
یا تو اس کے ساتھ لڑکے نہائیں گے یا لڑکیاں ۔
اگر لڑکے نہائیں تو ٹھیک ہے۔اور اگر لڑکیاں نہائیں تو مجھے اس سے بہت شرم آتی ہے۔



کہتے ہیں کہ افغانستان کے صدر سردار داؤد کو اطلاع ملی کہ کابل میں تانگے کا کرایہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
سردار داؤد نے فوراً عام لباس پہنا اور بھیس بدل کر ایک کوچوان کے پاس پہنچ کر پوچھا کہ " محترم، پُل چرخی( افغانستان کے ایک مشہور علاقے کا نام) تک کا کتنا کرایہ لو گے؟"
کوچوان نے سردار داؤد کو پہچانے بغیر جواب دیا کہ، "میں سرکاری نرخ پر کام نہیں کرتا۔"
داؤد خان: 20؟
کوچوان : اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: 25؟
کوچوان : اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: 30؟
کوچوان: اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: 35؟
کوچوان : مارو تالی۔
داؤد خان تانگے پر سوار ہوگیا۔ تانگے والے نے داؤد خان کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ فوجی ہو؟
داؤد خان: اوپر جاؤ۔
کوچوان: اشتہاری ہو؟
داؤد خان: اوراوپر جاؤ۔
کوچوان: جنرل ہو؟
داؤد خان: اور اوپر جاؤ۔
کوچوان: مارشل  ہو؟
داؤد خان: اور اوپر جاؤ۔
کوچوان: کہیں داؤد خان تو نہیں ہو؟
داؤد خان:    مارو تالی۔
کوچوان کا رنگ اڑگیا۔
داؤد خان نے اس سے پوچھا کہ ڈر گئے؟
کوچوان: اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: کانپ گئے؟
کوچوان: اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: کانپ گئے؟
کوچوان: اور اوپر جاؤ۔
داؤد خان: شلوار گیلی ہوگئی؟
کوچوان : مارو تالی۔
کوچوان نے داؤد خان سے کہا کہ مجھے جیل بھیجو گے؟
داؤد خان: اور اوپر جاؤ۔
کوچوان: جلاوطن کرو گے؟
داؤد خان: اور اوپر جاؤ۔
کوچوان :پھانسی پر چڑھاؤ گے؟
داؤد خان: مارو تالی۔

 اگر دو چار تالیاں ہمارے ملک میں بھی بج جائیں تو نظام میں بہتری آ سکتی ہے۔


آج بازار میں عجب ہی منظر دیکھا چکن کی شاپ کھلی تھی تعجب ہوا، فوری رکا  اور سوچنے لگا کہ "آج تو غریب کے گھر بھی قربانی کا گوشت پکے گا پھر یہ شاپ آج کھلنے کی منطق سمجھ نہیں آئی"؟اپنے ہی سوال کا جواب جاننا ضروری سمجھا۔ ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کے لوگوں کوچکن خریدتے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور حیرانگی میری توجیسے اپنے عروج پر تھی معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھر قربانی کے گوشت کی ایک "بوٹی" بھی نہیں آتی اور یہ ایسے سفید پوش لوگ  ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے  اپنے بچوں کو چکن  عید کے روز اس لیے کھلاتے ہیں تاکہ انکو محسوس نہ ہو کہ ہم نے سال بعد عید کے روز بھی گوشت نہیں کھایااسکے علاوہ یہ بھی چکن شاپ والے نے انکشاف کیا کہ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو  سارا سال چکن  کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا ۔خدا کی قسم مجھے اس وقت رونا آگیا یہ منظر دیکھ کر جب میں نے ماں اور بیٹی کو نظریں چرا کر مرغی کے پنجے ایک  درجن بعوض 20روپے لیتے دیکھا حالانکہ نظریں تو ہمیں ان سے چرانی چاہیے تھی۔یقین کیجیے مجھ میں اتنی  ہمت نہی ہوئی کہ میں انکی فوٹو بنا لوں آخر انکے چہرے دکھا کر انکی عزت نفس کے ساتھ کھیلنے کے سوا اور کیا ہونا تھا ؟ آج کے اس واقعہ نے میرے دل میں ہزاروں سوال چھوڑے ہیں عجیب سوچ میں گم ہوگیا ہوں کہ ہم پھر یہ کیسی قربانی کرتے ہیں ؟
کیا صرف دکھاوا ہے؟  اور گوشت ایک دوسرے کو ایکسچینج کرنے کا نام ہی قربانی ہے؟
 یہ تو  No profit No lossوالی بات ہوئی مطلب جتنا گوشت آپ دیتے ہیں اتنا ہی آپ کو وہاں سے واپس مل جاتا ہے اور سارا سال فریج۔۔۔۔۔
اور ہم یہ بھی بڑا یاد رکھتے ہیں کہ "پچھلے سال فلاں کے گھر سے گوشت نہیں آیا تھا ہم نے بھی اس دفعہ نہیں دینااور یہ بھی ان کانوں نے اکثر سنا ہے کہ "نکڑ والا گھر ہاں وہی "بڑے گھر،" والے کو پوری ران ہی دے آنا پچھلی دفعہ ہمیں انہوں نے کافی گوشت دیا تھا"ہاں اگر کبھی ہمیں کسی غریب کا خیال آہی جائے تو گوشت دیتے وقت اپنا ساراتعارف ضرور کرواتے ہیں نکر والا گھر فلا ںنام ادھر سے آیا ہے وغیرہ وغیرہ تاکہ وہ سارا سال آپ کا احسان مند رہے اور آپکو دیکھتے ساتھ اپنا سر جھکا لے۔ کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ کہاں سے گوشت آیا کس نے بھجوایا؟ دروازے  پر اگر کوئی بچہ آئے تو کہا جاتا ہے ابو  کو بھیجو تاکہ انکو پتہ چلے کہ کون گوشت دینے آیا ہے۔
 کہا جاتا ہےقربانی خدا کےلیے کی جاتی ہے تو پھر خدا کے بندوں کو بتانا ضروری ہے؟ 
 یا وہ خدا جسے بتانا بھی نہیں پڑتا وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور دلوں کے حال خوب جانتا ہے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget