اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اگست 2019

٭یکم محرم الحرام٭
٭یوم شہادت سیدنا عمر بن خطاب عمر رضی اللہ عنہ٭

اِنَّ اللہَ ضَرَبَالْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَ قَلبِہ وَفِیْہِ لَوْکَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْلَکَانَ عُمَرُ۔
اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل کو حق سے معمور کر دیا ہے اور اسی میں یہ بھی ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر رضی اللہ عنہ ہوتا۔
ترمذی کتاب المناقب باب مناقب عمر بن الخطاب، رقم: ۳۶۸۲،۳۶۸۶۔حدیث حسن

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے ہم اس امر کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے سکینت برس رہی ہے۔

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے جب کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ میری رائے یہ ہے تو ایسا ہی ہوتا تھا جیسا کہ وہ کہتے تھے۔
مسند احمد۱۰۶/۱) شرح السنہ البغوی برقم:
۳۸۷۷۔) یہ قول ان سے امام شعبی کی روایت سے ثابت ہے)۔

(ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمررضی اللہ عنہ حدیث (۳۶۸۲))
قیس رضی اللہ عنہ بن طارق سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں ہم کہا کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے فرشتہ باتیں کرتا ہے۔

#وہ_امہ_والا_چورن_چٹنی :

"پاکستان نے زین جینگ کے مسلمانوں اور ہانگ کانگ کے انسانوں پر ظلم و بربریت کی وجہ سے چائنا سے سی پیک کا اگریمنٹ ختم کردیا---- کہ  "ایک ہیں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے "

"پاکستان نے افغان جنگ میں  امریکا کو ہوائی اڈے اور رسد کی سپلائی  دینے سے صاف انکار کردیا اور اور مشرف نے بش کو فون کیا  کہ "نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر ——"

"پاکستان نے  یمن میں انسانی خون کو تیل سے زیادہ بہانے کی وجہ سے سعودی  شہزادے شاہ سلمان سے اپنا سول ایوارڈ واپس لے لیا اور اس کو اقبال کا یہ شعر سنایا  کہ
"عشق قاتل سے بھی مقتول سے بھی ہمدردی --
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا - ----؟

اگر آپ کو کسی فیس بک پر یا تاریخ کی کتاب میں ایسی خبریں نظر آییں تو پھر اسی فیسبک پر جا کر عرب امارات کے مودی کو ایوارڈ دینے کے بارے میں ضرور شور مچایں کہ " سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی !--حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا ؟ ----- اور اگر تاریخ کے اوراق میں ایسی کوئی تحریر نہیں نظر آرہی تو اپنے اندر کے مورخ کو نیل کے ساحل سے واپس لاکر ویسے ہی تھپکی دی کر سلا دیں جیسے وہ ہمیشہ سے سویا رہا ہے -

مودی کو عرب امارت میں سول ایوارڈ ملنے کی اتنی تشہیر کسی انڈین چینل نہی کی جتنی ہم پاکستانیوں نے فیسبک پر کر ڈالی- کسی نے اس کو عربوں کی بے حسی سے جوڑا تو کسی کو آج علامہ اقبال کے اشعار یاد آتے رہے - کسی نے اس کو کربلا سے جوڑا -  عربوں کی اس حرکت پر ان کو "یزید"  قرار دیکر اپنی اندر کی "فرقہ ورانہ ٹھرک" کی تسکین کی اور کسی کوجس کو کبھی اپنی سگی اما یاد نہیں آی تھی آج "ملسم امہ" بہت یاد آتی رہی - ہم پاکستانی شاید ناشتے میں "جذبات" اور ڈنر میں "احساس" کھاتے ہیں اس لئے ہمیشہ ان کا راگ الاپتے رہتے ہیں - وہ الگ بات ہے اکثر ہمارے ایسے "خالی جذبات " کسی چوراہے میں ریحان جیسے کسی بچے کی چند ہزار چوری پر اس کو برہنہ کرکہ "انصاف کی فوری فراہمی " پر امڈتے  نظر آتے ہیں ----  "امہ" کا خیال ہمیں آج ہی کیوں آیا ؟ " کبھی سوچا ہے ؟ جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس کو چکلالہ ائیر بیس دیتے ہویے "امہ " "کوما " میں کیوں چلی گیی تھی - جب یمن میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی تب "امہ" کو بگھی پر گھما کر ایوارڈز کیوں دیے جارہے تھے ؟ یہ اکسویں صدی ہے بھائی صاحب!  آج  ملک مذہبی عقاید کی بنیاد پر نہیں بلکہ معیشت اور باہمی مفاد کی بنیاد پر اپنے تعلقات اور خارجہ پالیسی  بناتے ہیں - آج اگر پاکستان کشمیر کے مسلہ پر سب سے پیش پیش ہے تو ہر گز نہ سمجھیے کہ اس کی وجہ "امہ'  اسلام '  مسلمان یا انسان ہے ؟ اس کی وجہ بس اتنی ہے کہ پاکستان کا بارڈر لگتا ہے اس خطے سے اور یہ پانی کی جنگ ہے - ایسا نہ ہوتا تو آج پاکستان کا کشمیر میں انٹرسٹ بس اتنا ہی ہوتا جنا پاکستان کا " چیچنیا" " بوسنیا " رنگونیا" اور "فلسطین " کے مسایل میں انٹرسٹ ہے جہاں کے مسلمان بھی "امہ" کی ڈیفینشن میں آتے ہیں  - دنیا جنگ و جدل اور جذبات سے آگے بڑھ کر تجارت اور سفارت تک جا چکی ہے اور ہم آج بھی "نیل کے ساحل " پر کھڑے " تا بخا ک کاشغر " کا راگ الاپ رہے ہیں - عرب امارات کا بھارت سے کتنا گہرا تعلق ہے اس کو جاننے کیلئے اپ کو کبھی دوبیی یا ابو ظہبی جانا چاہیے- جہاں نوے لاکھ کی آبادی میں بیس لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں - دونوں ملکوں میں بس گزشتہ ایک سال میں 59 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی ہے جو پاکستان کی کل تجارت سے بھی زیادہ ہے - ایسے میں ہم تل ملا رہے ہیں کہ عرب امارات نے مودی کو ایوارڈ کیوں دے ڈالا ؟ کیوں بھیی ؟ کیا پاکستان چائنا سے سی پیک کا اگریمنٹ اس بنیاد پر ختم کریگا کے چائنا زن جینگ کے "مسلمانوں" اور ہانگ کانگ کے "انسانوں" پر ویسا ہی ظلم ڈھا رہا ہے جیسا بھارت کشمیر میں ؟ عرب امارات کی بھارت دوستی پر ماتم کدہ دوست شائد بھول گئے ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کو اپنا سول ایوارڈ اس وقت نواز تھا جب وہ  یمن میں بےقصور مسلمانوں کے خون سے اپنے تیل کے کنویں بھر رہا تھا اور جب اس پر تازہ تازہ "جمال خشوگی " قتل کا دھبہ لگا تھا جو اسی " امہ " کا فرد تھا -- حقیقت کی دنیا میں جیئیں- جذبات کا  نہیں بلکہ "انڈا بریڈ" کا ناشتہ اوراحساس کی جگہ روٹی سبزی کا ڈنر کیجیے -   آج اقوام عالم اس ملک کی ہاں میں ہان ملاتی ہیں جو خالی " بھائی چارہ " کا چورن نہیں بیچتا بلکہ اقتصادیات اور تجارت کا " چارہ " بھی ڈالتا ہے - اسلئے یہ"  امہ والا چورن" بیچنے سے پہلے "حقایق والی وہ چٹنی "بھی ذرا چکھ لیں جو پاکستان اپنے وقت میں چاٹتے ہویے اپنی انگلیاں تک کھا چکا ہے - اور اب انگلیوں کے بغیر والے اس ہاتھ کو کوئی بھی قوم تھامنے سے گریزاں نظر آتی ہے — - - - آج اگر ہم   کریں اپنی اکانومی مظبوط ؛ اپنے تجارتی روابط مستحکم - اور دیکھیں پھر کیا مسلم کیا عیسائی کیا یہودی :دنیا کیسے ہاں میں ہاں ملاتی ہے -ورنہ یاد رکھیں غریب رشتہ داروں کو کوئی  گھر بلا کر راضی نہیں ہوتا کہ ادھار نہ مانگ لیں -ان کی خاطر شہر کے سیٹھ سے قطع تعلقی تو بہت دور کی بات ہے -

اقبال کے اوپر والے اشعار ہمیں یاد ہیں لیکن یہ والا بھول گیے ہیں : انہی اقبال نے یہ بھی کہا تھا :

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

کچھ ذہنوں کو یہ تحریر ترش لگی ہوگی لیکن میرے رس ڈالنے سے “تقدیر کے قاضی کا فتویٰ  نہیں بدلے گا-

قلم لکھے سچ تو ٹھہرا بیکار بلکہ غدار و بیوپار
جو لکھے تری منشاء تو کہلواے انگار ، حقدار مہا وفادار

ڈیئر والدین!
اپنى اولاد سے غافل نہ رہو۔۔۔
ہمارى اولاد جسمانى لحاظ سے بڑھ رہى ہے اور دينى لحاظ سے كم ہو رہى ہے۔۔
وہ كھانا تو كھا رہے ہيں، ليكن شہوات ميں بھوكے ہورہے ہيں۔۔۔
ياد ركھيے! زمانہ پہلے كى طرح نہيں رہا۔۔۔
اس زمانے ميں اگر ايك دن آپ اپنے بچے سے غافل ہوں گے تو اس دن بچے كے ذہن پر ہزاروں غلط سوچوں كى بھيڑ ہو گى، اس كى آنكھيں بیسيوں غلط ويڈيوكلپس ديكھيں گى۔۔
تو كيا حالت ہوگى ان بچوں كى جن كو سالوں، مہينوں بغير نصيحت اور تربيت كے چھوڑ ديا جائے؟؟؟؟
ڈیئر والدين!
آپ كے بچوں كو اس وقت نئے كپڑوں كى ضرورت نہيں، نہ ہى لمبے چوڑے جيب خرچ كى ضرورت ہے، نہ ہى پلاٹس اور پراپرٹى كى ضرورت ہے، ان چیزوں كى جگہ اگر آپ اپنے بچوں كو اچھى تربیت دے ديں تو بچے خود بخود يہ چيزيں حاصل كر ليں گے۔
ڈيئر والدين!
وقت كى تنگى اور كمى كا عذر نہ بناؤ، وگرنہ كل سوائے پچھتاوے كے كچھ ہاتھ نہ آئے گا۔۔۔ صحابہ كرام دنيا كو فتح كرتے تھے اور پھر لوٹ كر اپنى اولاد كے دلوں كو فتح كرتے، ان كى اچھى تربیت ميں جُت جاتے تھے، اور اپنى اولاد كو دين اور اچھے اخلاق كا وارث بناتے تھے۔۔۔۔
ڈیئر والدين!
رزق كى تلاش اور كسب ِمعاش كا بہانہ نہ بناؤ، بہترين رزق جو آپ اپنے بچوں كو ديں گے وہ اچھا اخلاق اور قرآن كى غذا ہے۔
ڈيئر والدين!
لوٹ آؤ اپنے گھروں كى طرف اپنى اولاد سے قربت اختیار كرو، بچوں كى خاطر گھر ميں موبائل فونز كا استعمال کم كرديں، ان معصوم نفوس كے ليے اپنے مشاغل كو كم كر ديں، ان جگر كے ٹكڑوں كى خاطر حرام كمانا اور ان كو حرام كھلانے سے رك جاؤ، اللہ كى قسم! آپ كے رخصت ہوجانے كے بعد اگر آپ كا بچہ آپ كے ليے دعا ميں كہے:
’’رب اغفرلي والوالدي‘‘ اے اللہ! مجھے اور ميرے والدين كو بخش دے۔
یہ دعا آپ کی ان تمام مشغوليات سے بہتر ہے جن ميں اب آپ مصروف ہيں۔ شب بخیر

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget