اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

اگست 2024

اللہ پر ایمان

✍🏻شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا ہی بہتر تھا، چنانچہ میں نے ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا۔۔۔!
"ماڈل کالونی چلو گے۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "جی بالکل حضور۔۔۔!"
"کتنے پیسے لو گے۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "جو دل کرے دے دینا سرجی۔۔۔۔!"
"پھر بھی۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔ پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے، وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔۔۔!"
اس ٹیکسی والے کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔
خیر میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا، ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ مسجد دکھائی دی۔
ٹیکسی والا: "سر جی! نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کیا خیال ہے۔۔۔؟" اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی۔
ٹیکسی والا: "آپ نماز ادا کریں گے۔۔۔؟"
"کس مسلک کی مسجد ہے یہ۔۔۔؟"
میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا، "باؤ جی! مسلک سے کیا لینا دینا، اصل بات سجدے کی ہے، الله کے سامنے جھکنے کی ہے۔ یہ الله کا گھر سب کا ہے۔۔۔!"
میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔
"سر جی! آپ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔۔۔؟"
"کبھی پڑھ لیتا ہوں، کبھی غفلت ہو جاتی ہے۔۔۔!" یہی سچ تھا۔
ٹیکسی والا: "سر جی! جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چائیے تھی۔۔۔؟ معاف کرنا، میں آپکی ذات پر سوال نہیں کر رہا۔ لیکن اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا، اور اگر احساس نہیں ہوتا تو----!!"
اُس نے دانستہ طور پر جملہ ادھورا چھوڑ دی اور خاموش ہو گیا- اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی۔
"تو کیا۔۔۔؟" میرا لہجہ بدل گیا۔
ٹیکسی والا: "اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں۔۔۔؟"
"ہاں بولیں۔۔۔!ً"
ٹیکسی والا: "اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو آپ اپنی آمدن کے وسائل پر غور کریں، اور اپنے الله سے معافی مانگیں، کہیں نہ کہیں ضرور الله آپ سے ناراض ہے۔۔۔!"
ہم منزل پہ آ چکے تھے۔ میں نے اسکے توکل کا امتحان لینے کیلئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔ اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا۔
میں نے آواز دی، وہ رک گیا۔
ٹیکسی والا: "حکم سر جی۔۔۔؟"
"تم ان پیسوں میں خوش ہو۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "سر جی! مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا۔ الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا ہے۔۔۔!"
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا، " سر جی! دیکھا آپ نے، میرا حق پچاس روپے تھا، اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا۔۔۔!"
وہ ٹیکسی والا تو چلا گیا، لیکن جاتے جاتے اللہ پر میرے ایمان اور توکل کو جھنجھوڑ گیا.
#ابھی وقت ہے دوستو

‏جب بچے نوجوانی(11 سے 19 سال ) میں داخل ہوں تو انھیں
 کچھ باتیں خاص طور پر بتائیں 
1- وہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔
صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں، 

2:-ڈیڈورنٹ یا کوئی خوشبو ضرور لگایا کریں۔ آپ کے پاس سے کوئی بدبو نہیں آنی چاہیے، کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر آپ کے دوست، اسکول فیلو، ہمسفر، آفس کولیگز اور آس پاس کے لوگ اس سے سخت پریشان ہوں گے۔
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں۔۔۔!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے 

3:-اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھیں، منہ سے آنے والی بدبودار سانسیں آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہیں۔
مگر
لوگ کچھ کہیں گے نہیں۔۔۔!
ایسے معاملات میں آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔۔

4:-گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے، ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں، گردن بہت اچھی طرح مَل کر دھونی ہے، کہ کوئی میل نظر نہ آئے۔۔۔
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔۔۔
دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔
لیکن
نمبر کٹ جاتے ہیں۔۔۔!
پھر
ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک، چہرہ، سر نہیں کھجانا۔
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں، ٹشو، رومال یا الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔
سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں کیونکہ اس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھیں۔

گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار یا الجھے بکھرے روانہ مت ہونا، اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے جوتے پہن کر جائیں۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نہ لانا ہو۔

شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں

آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس اور ٹائیٹس سخت معیوب لگتی ہیں، خاص طور پر لڑکوں مسجد میں جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔

ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی بھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔

اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کابہت خیال رکھے۔
بغیراجازت کےکسی کی میز سےایک بال پن بھی نہ اٹھائےکیونکہ۔
یہ جرم کےزینےکاپہلاقدم ہے۔

بچوں کی اچھی تربیت ان کےلیے ہماراسب سے اچھاتحفہ ہے۔

*موت کے وقت کے کچھ چونکا دینے والے واقعات* 
ھﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻮﮌ ﺑﺨﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﺗﮭﯿﮟ.ﻋﻼﺝ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ, ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﺭﮈ ﮐﯽ ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﮐﻠﻤﮯ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ, ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺐ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ, ﯾﮧ ﻣﺮﺣﻮﻣﮧ ﻧﻤﺎﺯ, ﺭﻭﺯﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.اﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺮ ﻋﻼﺝ ﺗﮭﺎ.ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺮ ﮔﺎﻧﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺗﮭﺎ.ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﻻ ﻋﻼﺝ ﮬﮯ.ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﯼ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﻮﮞ.ﻗﺮﺁﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﻮﮞ.ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ? ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮔﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﯿﮟ.ﺟﺐ ﻣﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﻠﻤﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ. ﮐﯿﺴﯽ ﺑﺪ ﻧﺼﯿﺒﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﮐﻮ ﮔﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻤﺘﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﻠﻤﮧ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﮨﻮﺋﯽﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ'ﺭﯾﮉﺭ ﮈﺍﺋﺠﺴﭧ' ﻃﻠﺐ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺗﻠﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ.ﺟﺐ ﻭﮦ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﯾﮉﺭ ﮈﺍﺋﺠﺴﭧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻕ ﺗﮭﺎ, ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﭼﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﺗﮭﯽ.ﺍﯾﮏ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﯾﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﻮ ﭼﺎﺭﺍ ﮈﺍﻻ ﮬﮯ? ﯾﮧ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮏ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﮯ ﻣﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻭﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﻤﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ.ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺾ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﺗﮭﺎ.ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﯾﮑﺪﻡ ﺷﺪﯾﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ, ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺮﺱ ﮐﻮ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ, ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺪﯼ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ.ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭨﯿﮑﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﯼ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ. ﺗﺤﻘﯿﻖ ﭘﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﯿﮧ ﮐﻼﻡ ﺗﮭﺎ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯾﺘﺎ, ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺋﯽ.ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﺭﮈ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮔﺮﺩﮮ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍ.ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﺰﻉ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﯼ ﻣﻮﺕ ﻣﺮﺍ ﮐﮧ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﻮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ.میں ابھی بھی اسکا سوچوں تو مجھے خوف آجاتا ہے۔مرنے سے پہلے دو دن ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻧﯿﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺁﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﻼ ﺩﺑﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ.ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻗﺒﻞ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﺍﺭﮈ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ, اسکا باپ آیا اور ترلے منتیں کرنے لگ پڑا کہ اسکو زہر کا انجیکشن لگا دیں۔ لیکن میں مانا نہیں کیونکہ بحثیت ڈاکٹر یہ میرا پیشہ ہی نہیں۔ اس نوجوان کی حالت جب برداشت سے باہر ہوئ تو ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﻔﭧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ. جہاں ایک دن بعد وہ اسی کربناک حالت میں مرگیا۔بعد میں پوچھنے پر ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮯ اپنی ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺭﻭﮐﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ کہ بدبخت ایسا نا کر تیری ماں ہے۔ ڈاکٹر صیب ﯾﮧ ﺑﺮﯼ ﻣﻮﺕ ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ.ﺍﺳﺘﻐﻔﺮ اللہ *یاد رکھیں انسان مرتے وقت وہی کام کرتا ہے جسکو دنیا میں وہ زیادہ سے زیادہ کرتا ہے .**اپنے آپ سے پوچھیے کہ میں کونسا کام سب سے زیادہ کرتی ہوں/کرتا ہوں*اور وہی کام کرتے ہوئے موت آگئی تو کیا رب کو منہ دکھا سکونگی/سکونگا ۔شرمندگی ھوگی یا خوشی؟

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget