اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جون 2019

#ایک_مستری_کی_عقلمندی_کا_واقعہ
ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺻﻔﮩﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻦ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﺎﻡ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻭﮬﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮬﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮐﮭﮍﯼ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ۔
ﮐﺎﺭﯾﮕﺮ ﮬﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﮮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : " ﺧﺎﻣﻮﺵ ! ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻟﮑﮍﯼ ﻻﺅ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮐﺮﻭ "!
ﺟﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻟﮑﮍﯼ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﻭ۔ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺍُﺱ ﺿﻌﯿﻒ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﻣﻨﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔
ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﺮﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﭨﯿﮍﮬﮯ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ؟
ﻣﺴﺘﺮﯼ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ " : ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﻭﮐﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﺑﻨﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﮬﯽ ﺭﮬﺘﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮬﮯ۔ "
ﺍﻓﻮﺍﮦ ﺳﮯ ﮈﺭﯾﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﻭﻗﺖ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﺳﺪِّﺑﺎﺏ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ۔
اسلامی حکایات سے منسلک

قصہ ہابیل قابیل
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب روئے زمین پر انسانی زندگی ابتدائی حالت میں تھی اور حضرت حواء کے بطن سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ ایک ساتھ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسری مرتبہ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کے ساتھ کر دیا جاتا تھا۔ ہابیل اور قابیل یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔جب یہ جوان ہوئے تو دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح غازہ کے ساتھ جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا تو قابیل اس بات پر رضامند نہیں ہوا کیونکہ اقلیما ، غازہ کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت تھی۔جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کو سمجھایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے لہٰذا تم یہ بات مان لو۔ اقلیما تمہارے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لئے وہ تیری بہن ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح نہیں ہوسکتا۔ مگر قابیل اپنی بات پر اڑا رہا ۔ با لآخر حضرت آدم علیہ السلام نے ان دونوں بھائیوں کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانی اللہ کے حضور میں پیش کرو۔ جس کی قربانی مقبول ہوگی وہی اقلیما سے نکاح کا حق دار ہوگا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی علامت یہ تھی کہ لوگ اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھ دیتے تھے اور آسمان سے آگ آکر انھیں کھا جاتی تھی۔
قابیل کھیتی باڑی کرتا تھا اور ہابیل جانور پالتا تھا ۔ چنانچہ قابیل نے گندم کی بالیاں اور ہابیل نے ایک خوبصورت ، موٹا تازہ مینڈھا قربانی کے لئے ایک پہاڑ پر رکھ دیا اور اللہ سے دعا مانگی یا الٰہی ہماری قربانی کو قبول فرما ۔ آسمان سے آگ آئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو کھا لیا اور قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔جس سے قابیل کے دل میں ہابیل کے لئے غصہ ،حسد اور بغض پیدا ہوگیا اور وہ ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوگئی ہے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا ۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میرے قتل کے لئے مجھ پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
قربانی دے کر دونوں بھائی حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، آدم علیہ السلام نے فرمایا اے قابیل تیری بہن اقلیما اب ہابیل پر حلال ہوئی اور تجھ پر حرام۔ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اقلیما اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اس لئے وہ ہابیل کو مارنے کی تدبیر میں رہنے لگا۔ اس دوران آدم علیہ السلام جب مکہ چلے گئے ، تو ایک دن قابیل نے دیکھا کہ ہابیل سورہا ہے تو سوچنے لگا کہ اسے کس طرح سے ماروں کیونکہ اس زمانے تک کسی نے کسی کو نہیں مارا تھا۔جب شیطان نے دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا طریقہ نہیں آتا تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر دوسرا پتھر زور سے اس کے سر پر دے مارا جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ ترکیب دیکھ کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے ساتھ یہ ہی کیا اور زمین پر سے ایک پتھر اٹھا کر ہابیل کے سر پر دے مارا ،اور اپنے بے گناہ بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔
ہابیل کے قتل کے بعد قابیل یہ سوچ کر بے حد پریشان ہوا کہ اب اس لاش کا کیا کرے۔یہ روئے زمین پر کسی انسان کا یہ پہلا قتل تھا، کیونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا۔ اس لئے قابیل حیران و پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں، چنانچہ وہ کئی روز تک بھائی کی لاش کو اپنی پیٹھ پر لاد کر پھرتا رہا۔اللہ تعالیٰ کو اپنے اس نیک بندے کی لاش کی بے حرمتی منظور نہ تھی چنانچہ اس جگہ پر دو کوّے آئے اور وہاں آکر آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا ۔ پھر زندہ کوّے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین میں گڑھا کھود ا اور اس میں اس مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبادیا۔ کوّے کو دیکھ قابیل اپنے اوپر ملامت کرنے لگا کہ میں اس کوّ ے سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اتنا بھی نہ کرسکا۔ اس طرح قابیل کو معلوم ہوا، کہ ہابیل کی لاش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کردینا چاہیئے۔ چنانچہ اس نے ایک گڑھا کھود کر اس میں اپنے بھائی ہابیل کی لاش کو دفن کردیا۔
جب حضرت آدم علیہ السلام مکّہ سے واپس آئے اور ہابیل کو نہ پایا تو اس کو بہت تلاش کیا، مگر وہ نہ ملا، لوگوں سے پوچھنے لگے ، کسی نے جواب دیا کہ ہابیل کچھ دنوں سے نہ معلوم کہاں گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل صدمے میں کھانا پینا اور سونا سب ترک کردیا اور شب و روز ہابیل کے غم میں رہنے لگے۔ ایک روز آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا کہ ہابیل الغیاث الغیاث ، اے پدر، اے پدر، پکار رہا ہے،حضرت آدم علیہ السلام نیند سے چونک کر اٹھے اور زار زار رونے لگے۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو ہابیل کی قبر پر لے گئے ۔
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا نے قبر کھود کر ہابیل کو دیکھا کہ اس کا مغز نکلا ہوا ہے اوروہ خون سے آلودہ ہورہا ہے ۔ یہ حال دیکھ کر آپ ؑ دونوں بہت روئے۔
اور ہابیل کی لاش کو ایک تابوت میں بند کرکے اپنے مکان میں لاکر دفن کردیا ۔ اس وقت آپ ؑ کے ایک سو بیس بیٹے تھے جن میں سے سوائے ہابیل کے کوئی نہیں مرا تھا۔
روایت ہے کہ جب ہابیل قتل ہوگئے تو سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا ۔ قابیل جو بہت خوبصورت تھا بھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل سیاہ اور بدصورت ہوگیا۔ آدم علیہ السلام نے قابیل کو اپنے دربار سے نکال دیا اور وہ یمن کی سر زمین عدن میں چلا گیا ، وہاں ابلیس اس کے پاس آکر کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھالیا تھا کہ وہ آگ کی پوجا کرتا تھا لہٰذا تو بھی آگ کی پرستش کیا کر۔ چنانچہ قابیل پہلا شخص ہے جس نے آگ کی پرستش کی اورزمین پریہ پہلا شخص ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور زمین پر خون ناحق کیا۔ یہ وہ پہلا مجرم ہے جو جہنم میں ڈالا جائے گا۔حدیث میں ہے کہ زمین پر قیامت تک جو بھی خونِ ناحق ہوگا۔اس کے عذاب کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ قابیل پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ قابیل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا۔ اس کو پتھر مار کر قتل کردیا۔ اور یہ بدبخت آگ کی پرستش کرتے ہوئے کفر و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ مارا گیا۔ (ماخوذ : تفسیر ابن کثیرجلد دوم صفحہ۶۵ تا ۰۶ ۔ روح البیان جلد دوم، صفحہ۱۸۳)
کسی بے گناہ کو قتل کرنا (خون ناحق) بہت بڑا جرم ہے قابیل نے غصہ، حسد اور بغض میں گرفتار ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا اس سے معلوم ہو ا کہ حسد، غصہ اور بغض انسان کے لئے کتنی بری اور خطرناک قلبی بیماری ہے.
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا :” جو شخص کسی کو بلا وجہ مار ڈالے ، جبکہ اس نے نہ کسی کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ اور جو شخص کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہے گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی دی “(پارہ ۶،سورة مائدہ )
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غصہ  حسد بغض اور تکبر سے بچائے اور ان سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین)

پانچ چیزوں سے پانچ چیزوں کی پہچان ہوتی ہے:

۱- درخت کی پہچان پھل سے،
۲- بیوی کی پہچان شوہر کی تنگ دستی میں،
۳- شوہر کی پہچان بیوی کی بیماری میں،
۴- دوست کی پہچان مصیبت میں،
۵- مؤمن کی پہچان آزمائش میں۔

پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں ترقی عطا کرتی ہیں:

۱- تواضع علماء کو ترقی عطا کرتا ہے،
۲- مال کمینوں کو بڑھاوا دیتا ہے،
۳- خاموشی لغزش کو دور کرتی ہے،
۴- حیاء اخلاق کو بلندی عطا کرتی ہے،
۵- دل لگی تکلف کو دور کرتی ہے۔

پانچ چیزوں سے پانچ چیزیں حاصل ہوتی ہیں:

۱- استغفار سے رزق،
۲- پست نگاہ سے فراست ایمان،
۳- حیاء سے بھلائی،
۴- نرم گفتگو سے مسئلہ کا حل،
۵- غصہ سے شرمندگی۔

پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں دور کردیتی ہیں:

۱- نرم گفتگو غصہ کو
۲- طلب آغوش خداوندی، شیطان کو،
۳- غور و فکر شرمندگی کو،
۴- زبان پر ضبط غلطی کو،
۵- دعا بری تقدیر کو۔

نیک بختی پانچ لوگوں سے قریب رہتی ہے:

۱- فرمانبردار لڑکا،
۲- نیک بیوی،
۳-وفادار دوست،
۴- مؤمن پڑوسی،
۵-فقیہ عالم۔

پانچ چیزیں پانچ چیزوں سے خوش گوار ہوجاتی ہیں:
۱- تندرستی آسودہ حالی سے،
۲- سفر بہترین ہم نشینی سے،
۳- خوبصورتی عمدہ اخلاق سے،
۴- نیند سکون دل سے
۵- رات ذکر خداوندی سے۔

رفتار بقدر ہدف ہو؛
چنانچہ طلب رزق کے لیے فرمان باری تعالیٰ ہے: "فامشوا‌" (چلو) اور نماز کے لیے "فاسعوا" (جلدی کرو) اور جنت کے لیے "وسارعوا" (لپکو) اور خود اپنے لیے "ففروا إلى الله" (اللہ کی جانب دوڑ لگاؤ)۔

نوٹ: یہ انتہائی خوبصورت اور انوکھا کلام ہے جسے آپ اپنے ہی تک محدود نہ رہنے دیں (دوسروں کو فائدہ پہنچا کر عنداللہ ماجور ہوں)

پارس پتھر

ایک آدمی کافی عرصہ تک ایک درویش کی خدمت میں رہا۔ایک دفعہ درویش نے اس سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہو تو بتا دے۔ اس آدمی نے کہا کہ ؛ سرکار مجھے پارس پتھر عنائت فرما دیں ۔
وہ درویش اسے ایک سمندر کے کنارے لےگیا ۔ جہاں کنکریوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ اس درویش نے اسے لوہے کی ایک انگوٹھی پہنا دی اور کہا کہ اس کنکریوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ جا , ایک ایک کنکری کو اپنی انگوٹھی سے مس کرکے دیکھ جس کنکر کے لگنے سے انگوٹھی سونا بن جائے وہی پارس پتھر ہے۔ پارس پتھر کی یہ تاثیر ہوتی ہے کہ لوہے کے ساتھ لگنے سے وہ لوہے کو سونا بنا دیتا ہے،
پس پھر کیا ہوا کہ وہ آدمی ان کنکریوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ گیا۔ شروع شروع میں اس کی عادت ایسی تھی کہ ایک کنکری اٹھاتا۔ اسے انگوٹھی کے ساتھ لگاتا، دیکھتا کہ انگوتھی سونا بنی کہ نہیں پھر اس کنکری کو سمندر میں پھینک دیتا اور دوسری کنکری اٹھا لیتا۔
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا اور یہ عمل اس کی عادت بن گیا وہ جلدی جلدی کنکری انگوٹھی سے لگاتا اور سمندر میں پھینک دیتا۔
کنکری اٹھاتا۔ انگوٹھی سے لگاتا اور سمندر میں پھینکتا رہا اور انگوٹھی کی طرف سے توجہ ہٹا لی۔ جب ساری کنکریاں سمندر میں پھینک چکا تو اپنی انگوٹھی کو دیکھا تو وہ سونے کی بن چکی تھی۔۔۔۔ بہت ہی پشیمان ہوا کہ میں نے بے خیالی میں پارس پتھر اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینک دیا۔۔۔۔۔ !!  اکثر اوقات ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں کہ نماز کو اپنی عادت تو بنا لیتے ہیں۔ لیکن بے خیالی میں پارس پتھر کے خالق کو اپنے قریب ہوتے ہوئے بھی فراموش کر دیتے ہیں۔
نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ''الصلوۃ معراج المومنین '' نماز مومن کی معراج ہے۔ یعنی الله پاک سے ملاقات ہے۔۔۔۔۔ ایک دوسرے موقع پہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ ''صلو لما رائیتمونی صلیٰ ''نماز ایسے پڑھ جیسے مجھے نماز پڑھتا ہوا دیکھتا ہے۔ الله پاک فرماتا ہے کہ میرے اور نمازی کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا ۔۔۔۔
کتنی خاص عبادت ہے الله سوہنا بھی بغیر حجاب کے پاس ہوتا ہے اور سوہنا نبی ﷺ بھی قریب جاں۔۔۔۔۔ اور ہمارا خیال کہاں کہاں بھٹکتا رہتا ہے۔ حقیقت ہے نماز شروع کرتے ہی ہم خیالی اڑان لیتے ہیں اور دنیا جہان کے سیر سپاٹے کر کے نماز ختم ہونے پہ ہی واپس لوٹتے ہیں۔ اور اس طرح ہم روز اپنے ہاتھوں سے پارس پتھر سمندر میں پھینکتے جاتے ہیں۔ احساس ِ قربت تو سوچوں کو یکسوئی عطا کرتا ہے۔ قران پاک میں الله پاک کا اٹل فیصلہ ہے کہ "ان الصلوۃ تنہا عن الفحشاء والمنکر '' ترجمہ ۔ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے بچاتی ہے ۔ ۔ ۔ اب ہم دیکھیں تو نماز بھی جاری ہے اور بے حیائی بھی ۔ نمازی ۔ بے حیائی، برائی، جھوٹ، دھوکہ ۔ تک کرتے نظر آئیں گے ۔۔  یہی وجہ ہے کہ ہم نے نماز کو اپنی عادت تو بنا لیا لیکن شوق ختم کر لیا ۔ اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ عبادت کو اپنی عادت نہ بناؤ بلکہ اپنی عادتوں کو عبادت بنا لو ۔خیال یار کے بغیر عبادت شوق سے محروم کر دیتی ہے ۔
نماز مومن کی معراج ہے اور اس معراج کو سرسری طور پہ نہ لیں۔۔۔۔۔پس اس معراج میں انگوٹھی (خیال یار) کی طرف دھیان رہے گا پارس پتھر حاصل ہو جائے گا اور پھر وہ پارس پتھر آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خیال یار میں مستغرق کر دے گا۔۔۔۔۔ !!!

انسانی زندگی کے چار مراحل

پہلا مرحلہ: ماں کا پیٹ ہوتا ہے جس میں وہ نو مہینے گزارتا ہے۔ باہر کی دنیا سے بے خبر جس میں نہ کوئی محنت ہوتی ہے نہ مشقت، جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ الزمر آیت نمبر5  میں یوں بیان فرمایا ہے :

’’وہی اللہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا رہتا ہے تین اندھیروں میں ‘‘

(رحم کی اندھیری، اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری، پیٹ کی اندھیری )

دوسرا مرحلہ: جب انسان ماں کے پیٹ سے باہر کی دنیا میں آتا ہے تو ہر چیز اس کو نئی اور عجیب لگتی ہے، پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوانی کی عمر کو پہنچتا ہے، پھر اللہ اس کو طاقت و قوت دیتا ہے، محنت کرنے لگتا ہے، انسانی زندگی کا یہ دوسرا مرحلہ امتحان کا مرحلہ ہے۔ اگرانسان نیک اور متقی ہو تو جنت کا راستہ چنتا ہے اور اگر کافر و گنہگار ہو تو جہنم کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس جیسے عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس کو موت آ جاتی ہے۔

تیسرا مرحلہ:موت کے بعد شروع ہوتا ہے، اس مرحلۂ زندگی کا نام ’’برزخ‘‘ ہے، یہ مرحلہ قیامت کے قائم ہونے تک جاری رہے گا۔

چوتھا اور آخری مرحلہ: قیامت کے قائم ہونے کے ساتھ ہی انسان ایک اور مرحلۂ زندگی میں داخل ہوتا ہے، یہ انسانی زندگی کا آخری مرحلہ اور آخری پڑا ؤ ہے، اس مرحلۂ زندگی کو حیات اخروی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کے تیسرے مرحلہ میں جو حالات اور معاملات انسان کے ساتھ پیش آنے والے ہیں پھر قیامت کے حالات اور جنت اور دوزخ کا جو بھی فیصلہ کیا جانے والا ہے، اس بارے میں لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں آگاہ کرنے کی کوشش کروں تاکہ وہ اس دن کی ہولناکیوں اور گھبراہٹوں سے بچنے کی پوری پوری تیاری شروع کر دیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عذاب قبر سے اور قیامت کی گھبراہٹوں سے بچائے، اور قیامت کے دن اپنے خاص سایہ میں جگہ نصیب فرمائے۔ اور اس کو میرے لیے ثواب جاریہ بنائے .آمین.اور آپ بھی اپنے عزیز دوستوں رشتے داروں کو بھیج کر شامل ہو جائیں۔

وصلی اللہ علی رسولنا وحبیبنا محمدﷺ وعلی الہ وصحبہ واتباعا والحمدللہ رب العالمین۔

٭٭٭
قبر کا بیان

روح کا جسم سے نکلنا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جب کوئی مؤمن بندہ مر جاتا ہے تو دو نورانی چہرے والے فرشتے اس کے آگے آتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ ایک خوشبودار کپڑا ہوتا ہے جس سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ وہ اس مؤمن کی روح کو اس کپڑے میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس روح کو خوشخبری سناتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ’’اے پاک روح نکل اس پاک جسم سے۔ اور چل جنت کے باغات اور جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کی طرف، پھر وہ فرشتے اس روح کو آسمان کی طرف لے کر چڑھتے ہیں، آسمان والے کہتے ہیں (یعنی فرشتے ) کوئی پاک روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت کرے۔ اور تیرے بدن پر جس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر وہ فرشتے اس روح کو پروردگار کے پاس لے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اس روح کو لے جاؤ اپنے مقام میں یعنی علیین میں (جہاں مؤمنوں کی ارواح رہتی ہیں ) قیامت ہونے تک (وہیں رکھو)۔

اسی طرح جب کسی کافر کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے بدصورت اور ڈراؤنی چہرہ والے آتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ گندہ اور بدبو دار ٹاٹ ہوتا ہے، وہ اس کافر کی روح کو اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہوئے اس روح کو خبر سناتے ہیں۔ اے ناپاک روح نکل ناپاک جسم سے، چل جہنم کی طرف اور گرم کھولتے ہوئے پانی اور جہنم کی گرم ہواؤں کی طرف۔ رب کی ناراضگی کے ساتھ، پھر اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں آسمان والے (فرشتے ) کہتے ہیں کوئی ناپاک روح جو زمین کی طرف سے آئی ہے۔ پھر حکم ہوتا ہے اس کو لے جاؤ اس کے مقام میں یعنی سجین میں (جہاں کافروں کی روحیں رہتی ہیں ) قیامت قائم ہونے تک۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپﷺ نے ایک باریک کپڑا جو آپ اوڑھے ہوئے تھے اپنی ناک پر ڈالا (جب کافر کی روح کا ذکر کیا اس کی بدبو بیان کرنے کے لیے ) اس طرح سے۔ (صحیح مسلم :7221، ابن ماجہ (2 /3437)

قبر

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی مر جاتا ہے تو ہر صبح و شام اسے اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت میں اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا مقام ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے گا۔ (صحیح بخاری:694)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب بھی قبر دیکھتے تھے تو روتے تھے، لوگوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ جب آپ کے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے تو اتنا نہیں روتے جتنا قبر کا ذکر ہوتا ہے تو روتے ہیں ؟ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپﷺ سے یہ فرماتے سنا کہ قبر پہلی منزل ہے۔ اگر اس میں کامیاب ہوئے تو آنے والے مرحلہ میں بھی کامیابی ہو گی۔ اور اگر اس میں کامیابی اور نجات نہیں ملی تو پھر آنے والا مرحلہ اور بھی مشکل ہو گا اور میں نے آپﷺ سے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں قبر سے زیادہ خوفناک منظر والی چیز نہیں دیکھی۔ (ترمذی :2398، ابن ماجہ( 4567 ) شیخ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (صحیح الجامع: 1684) میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذ بک من عذاب القبر  و من عذاب النار و من فتنۃ المحیای و  الممات و من فتنۃ المسیح الدجال

’’اے اللہ، میں عذاب قبر، عذاب جہنم، زندگی اور موت کی خرابی اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘‘ (صحیح بخاری)

میرے بھائیو اور بہنو!

بہت جلد ہم سب اس جگہ جانے والے ہیں اس زندگی کے عیش و آرام کو چھوڑ کر قبر کے گڑھے میں اترنے والے ہیں، ہر ایک کو جانا ہے اگرچہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ اب ہم خود ہی اپنا محاسبہ کر یں کہ ہم اس جگہ کے لیے کتنی تیاری کر رہے ہیں۔ اور اس چند دن کی زندگی کے لیے کیا گیا آرزوئیں کیے ہوئے ہیں۔“

یہ بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا
یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا ‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا ۔
ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا
”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے“
بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا
”میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا“
نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا
”آپ حکم کیجئے“
بادشاہ بولا
”بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو“
نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا ”جی جہاز وہاں کھڑا ہے“
بادشاہ نے پوچھا ”یہ جہاز کب آیا“ نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ”دو دن پہلے آیا“
بادشاہ نے کہا ”یہ بتاﺅ یہ جہاز کہاں سے آیا“ نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ”جہاز پر کیا لدا ہے“
نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔
قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا
اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ”کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے"
“وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا
”جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا ‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے“
بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا
حجام نے چپ چاپ استرااٹھایا اور عرض کیا
”! کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں “

شادی سے پہلے

“پاپا میں کسی کی غلامی نہیں کر سکتی ۔"
"کوئی کسی کی غلامی نہیں کرتا میری بچی ۔ سب اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں ۔ جو کام عورتوں کے لیئے مشکل ہیں وہ مرد کرتے ہیں اور جو مردوں کے لیئے مشکل ہیں وہ عورتیں ۔ یونہی مل جل کر گزارا ہوتا ہے ۔"

شادی کے بعد

"میں کھانا گرم نہیں کروں گی ۔"
"تو اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ ۔ میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں تمہاری ضروریات پوری کرنے کے لیئے ۔ تم میری ضرورت پوری نہیں کر سکتی تو مجھے تمہاری ضرورت نہیں ۔"

طلاق کے بعد (اسلام آباد کی سڑکوں پر بینر اٹھائے )

"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"
"کھانا خود گرم کر لو ۔"

باپ کے مرنے کے بعد

"دیکھو میری بہن ۔ میں اب فیملی والا ہوں ۔ میری بیوی تمہیں اور برداشت نہیں کر سکتی ۔ تم اپنا بندوبست کہیں اور کر لو ۔"

نوکری کی تلاش میں

"ہمارے پاس ایک فی میل ریسپشنسٹ کی جگہ خالی ہے ۔ آپ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں ۔ وہاں کام کر سکتی ہیں ۔"

ڈھلتی عمر

"بی بی ۔ ہم معذرت خواہ ہیں ۔ آپ کے کام میں اب پہلے جیسی تندہی نہیں ۔ آپ کہیں اور نوکری ڈھونڈیں ۔ ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں ۔"

ظالم بڑھاپا

"محترمہ ۔ آپ کی اتنی عمر ہو گئی ہے ۔ اب میں آپ کو کیا نوکری دوں ۔ اب تو آپ کو آرام سے اپنے بچوں کی کمائی کھانی چاہیئے ۔"
"میرے بچے نہیں ہیں ۔ کوئی نہیں ہے میرا ۔"
"اوہ ۔ چلیں میں کچھ کرتا ہوں آپ کے لیئے ۔ میرا بیس لوگوں کا اسٹاف ہے ۔ کیا آپ ان سب کے لیئے کھانا پکا سکتی ہیں ؟ میں آپ کو بیس ہزار روپے ماہانہ دوں گا ؟"
"بیس ہزار ؟"
"میں جانتا ہوں کہ ان بیس ہزار میں آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ۔ مگر میں مجبور ہوں ۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں میرے پاس ۔"
"ٹھیک ہے ۔ مجھے منظور ہے ۔" اس کی آنکھوں سے آنسو زار زار بہہ رہے تھے ۔

*✿-•°✧بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم✧-•°✿*
*✿✧اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌✧✿*
*🔘جنت کا مبارک بازار؟🔘*
نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا
اِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَرْجِعُونَ اِلَى اَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُ لَهُمْ اَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُوْنَ وَاَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا....
یعنی جنّت میں ایک بازار ہے جہاں جنّتی لوگ ہر جمعہ کو آئیں گے۔وہاں ایک شمالی ہوا چلے گی جو اُن کے چہروں اور کپڑوں کو بھردے گی جس سے اُن جنّتیوں کا حُسن و جمال اور زیادہ ہو جائے گا۔پھر جب یہ جنّتی لوگ اپنے اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے تو اُن کے حُسن وجمال بھی بڑھ چکے ہوں گے۔جنّتیوں سے ان کے گھر والے تعجُّب کرتے ہوئے کہیں گےاللہ پاک کی قسم! تم تو ہمارے پیچھے حُسن وجمال میں بہت بڑھ گئے۔اور یہ جنّتی لوگ اپنےگھر والوں سے کہیں گےرب کی قسم! تم لوگ بھی ہمارے پیچھے حُسن و جمال میں بہت بڑھ گئے-
[مسلم،ص1164،حدیث7146]

بازار کہنے کی وجہ جس طرح دنیاوی بازار میں ایک ساتھ بہت سے لوگ جمع ہوجاتے ہیں اسی طرح جنّت میں بھی جنّتی کسی جگہ اکھٹے ہوں گے اس لئے اسے ’’بازار‘‘ فرمایا گیا ہے۔
[شرح النووی علٰی مسلم، جز17،ج9،ص170]

جنّت میں جمعہ کا مطلب جمعہ سے مراد پورا ہفتہ ہے اور اسی سے ہفتہ بَھر کی مقدار مراد ہے کہ جنّت میں نہ دن رات ہے نہ ہفتہ مہینا وغیرہ۔
[شرح النووی علیٰ مسلم،جز17،ج9،ص170،مراٰۃ المناجیح، ج7،ص481]
جنّت میں علمائے کرام کی شان شارحینِ کرام نے یہاں اس بات کو بھی بیان فرمایا ہے کہ جنّت کے بعض وقت دوسرے وقتوں سے افضل ہوں گے جسے علمائے دِین ہی پہچانیں گے۔ اس افضل وقت کا نام جمعہ ہوگا۔جنّتی لوگ علمائے کرام سے وہ وقت معلوم کرکے اس بازار میں جایا کریں گے۔وہاں ان سے اللہ پاک فرمائے گا جو چاہو مانگو یہ لوگ علماء سے پوچھ کر مانگیں گے۔اس سے علمائے کرام کی شان معلوم ہوئی کہ دنیا کی طرح جنت میں بھی جنّتیوں کو علمائے کرام کی ضرورت ہوگی۔گویا جنّت میں یہ جمعہ کا دن رب کی نعمتوں کی زیادتی کا دن ہوگا جیسے دنیا میں جمعہ ثواب کی زیادتی اور عطا کا دن ہے کہ اس میں ایک نیکی کا ثواب سَتَّر گُنا دیا جاتا ہے۔
[مرقاۃ المفاتیح،ج 9،ص585،تحت الحدیث: 5618، مراٰۃ المناجیح،ج 7،ص481]

*🔘جنّتی بازار میں کیا ہوگا؟🔘* حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جیسے دنیا میں جمعہ کے دن سارے محلے بلکہ ساری بستی کےامیر وغریب شاہ وگدا مسلمان جامع مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں،رب کا ذکر کرتے ہیں، نمازِ جمعہ پڑھتے ہیں،ایسے ہی جنّت میں تمام ادنٰیٰ و اعلیٰ جنّتی اس بازار میں ہفتہ میں ایک بار جمع ہو کر رب کا دِیدار کیا کریں گے،دنیا میں جامع مسجد جامعُ الْمُتَفَرِّقِین) یعنی مختلف لوگوں کو جمع کرنے والی (ہوتی ہے ایسے ہی جنّت کایہ بازار جامعُ الْمُتَفَرِّقِین ہوگا،اسی بازار میں ہم جیسے گنہگار اِنْ شَآءَاللہ شفیعِ ِروزِ شُمار (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی زیارت سے مشرف ہوا کریں گے،رب کا دیدار گھروں میں خَلْوَت میں ہواکرے گا یہاں جَلْوَت میں ہوگا۔
[مراٰۃ المناجیح،ج7،ص504]
دیدارِ الٰہی کے لئے خاص مقام ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ رب ان پرجنّت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا۔
[ترمذی ،ج4،ص246،حدیث2558ماخوذاً]
اس بازار میں ایک خصوصی باغ ہوگا جسمیں رب کا دیدار نصیب ہوگا،یوں سمجھو کہ بازار میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوا کرے گی اور اس باغ میں رب تعالیٰ سے۔
[مراٰۃ المناجیح،ج7،ص505]

تقسیم وعطا کا بازار جنّتی اپنے پاک پروردگار کے دیدار کے بعد جب بازار میں جائیں گےتو فرشتوں نے اسےگھیرا ہوا ہوگا اور وہاں نعمتوں کے ڈھیر ہوں گے جو انہیں بغیر قیمت عطا ہوں گے۔الغرض یہ بازار خریدو فروخت والا نہیں بلکہ تقسیم اور عطا کا بازار ہوگا،جنّتیوں کو کچھ نعمتیں گھروں میں ملیں گی اور کچھ خاص نعمتیں یہاں تاکہ یہ لوگ خالی ہاتھ اپنے گھر نہ جائیں بَھرےبَھرے جائیں۔
[مراٰۃ المناجیح،ج7،ص507ملخصاً]

فرشتے سامان پہنچائیں گے ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ وہ فرشتے جنّتیوں کی پسند کی اَشیاء ان کے لئے اٹھا کر لائیں گے۔
[ترمذی،ج 4،ص246،حدیث2558ماخوذاً]
جوشخص جس نعمت کی رغبت کرے گا وہ اُسے اُٹھا کردیں گے بلکہ گھر تک پہنچائیں گے۔
[مراٰۃ المناجیح،ج7،ص507]

جنّتی بازار میں صرف مرد جائیں گے یہ جنّتی جب اس بازار سے اپنے گھر واپس ہوں گے تو ہر بیوی اپنے شوہر سے کہے گی کہ تم ایسی حالت میں واپس آئے ہوکہ تمہارا حُسن ترقی کرکے اس سے بھی زیادہ ہوچکا ہے جس پر تم ہم سے علٰیحدہ ہوئے تھے،تو جنّتی مرد کہیں گے کہ آج ہم اپنے ربِّ جَبّارکی بارگاہ سے ہوکر آئے ہیں۔
[ترمذی،ج4،ص246،حدیث2558ماخوذاً]

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بازار میں صرف مرد جایا کریں گے،عورتیں اپنے گھروں میں رہا کریں گی تاکہ عورتوں مَردوں کا خلط ملط نہ ہو پردہ وہاں بھی ہوگا مگر عورتوں کو یہاں ہی وہ سب کچھ دے دیا جایا کرے گا جو مَردوں کو بازار میں بُلا کردیا جائے گا۔
[مراٰۃ المناجیح،ج7،ص482]
شمالی ہوا کہنےکی وجہ خیال رہے کہ جب ہم مغرب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو دائیں ہاتھ کی طرف شمال ہوتاہے۔جنّت میں چونکہ مشرق و مغرب نہ ہوگا لہٰذا شمال وجنوب بھی نہ ہوگا۔لیکن اہلِ عرب بلکہ تمام دنیا والے شمالی ہوا کو بہت مبارک سمجھتے ہیں اور اسے مُون سُون کہتے ہیں،یہ بارش لاتی ہے اس لیے اسے شمالی ہوا فرمایا۔
[شرح النووی علٰی مسلم،جز17،ج9،ص170،مراٰۃ المناجیح، ج7،ص482]

جنّتی بازار کی ہوا جنّتیوں کے حُسن وجمال میں تواس بازار میں چلنےوالی شمالی ہوا کی وجہ سےاضافہ ہوجائے گا،مگر جب وہ اپنے گھروں کو واپس آئیں گے تو ان کے گھر والوں کا بھی حُسن و جمال زیادہ ہوچکا ہوگا۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شارحینِ کرام نے تین اقوال بیان فرمائے ہیں پہلا قول یہ ہے کہ اس بازار میں جو شمالی ہوا چلے گی وہی ہوا ان جنّتیوں کے گھر والوں کو بھی پہنچا کرے گی۔دوسرا قول یہ ہے کہ جنّتی جب اپنے گھر والوں کے پاس جائیں گے تو ان جنّتیوں کے قُرْب سے ان کے گھر والوں کو بھی وہی حُسن وجمال مل جائے گا کیونکہ جس کا ہاتھ عطر سے مہک رہا ہو وہ جس سے مصافحہ کرلے اسے بھی مہکا دیتا ہے۔تیسرا قول یہ ہے کہ جنّتیوں کو اپنا حسن اپنے گھر والوں میں نظر آئے گا،اپنی خوشبو اُن سے بھی محسوس ہوگی۔
[مرقاۃ المفاتیح،ج9،ص585،تحت الحدیث:5618،مراٰۃ المناجیح،ج7،ص482ملخصاً]
اللہ پاک اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے تمام عاشقانِرسول کوجنّت الفردوس میں بِلاحساب داخلہ نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

گدا بھی منتظر ہے خُلد میں نیکوں کی دعوت کا
خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا
[منجانب سوشل میڈیا،دعوت اسلامی]
*•●◉✿صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب✿◉●•*
*●✿صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد✿●*

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget