اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

نقشِ نعلین

نقشِ نعلین

سوال: کیا نقشِ نعلین پر کچھ لکھنا گستاخی ہے وھابیہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے والا گستاخ رسول ہے؟؟؟

الجواب:
     اصل اور نقش میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
ایک رسول اللہ علیہ السلام کا حقیقی نعل شریف ہے ، اُس پر واقعی کوئی دینی عبارت لکھنا درست نہیں۔
ایک سیدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین شریفین کا نقشہ ہے اس نقش پر کچھ لکھنے میں حرج نہیں۔
میرےمجددسیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضاخان بریلوی علیہ الرحمہ کافتویٰ ملاحظہ ہو:

” بسم الله شریف اس (نقشِ نعلِ پاک) پر لکھنے میں کچھ حرج نہیں، اگر یہ خیال کیجئے کہ نعلِ مقدس قطعاً تاج فرقِ اہلِ ایمان ہے، مگر الله عزوجل کا نام کلام ہر شے سے اجل واعظم وافع واعلٰی ہے،یونہی تمثال (نقشہ) میں بھی احتراز چاہیئے تو یہ قیاس مع الفارق ہے، اگرحضور سیدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ نامِ الٰہی یا بسم الله حضور کی (حقیقی) نعلِ اقدس پر لکھی جائے تو پسند نہ فرماتے۔ مگر اس قدر ضروری ہےکہ نعل بحالتِ استعمال وتمثال محفوظ عن الابتذال میں تفاوت بدیہی ہے (یعنی حضور علیہ السلام کا نعل استعمال ہونےکی حالت میں، اور حضور علیہ السلام کے  نعل کے نقشے میں جو کہ استعمال ہونے سے محفوظ ہے، ان دونوں میں صاف فرق ہے) اور اعمال کا مدار نیت پر ہے......“

[ فتاویٰ رضویہ، جلد21، صفحہ نمبر 413، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاھور ]

آئیےاب وھابیہ کےعمل کی طرف

مذھب دیوبند کے امام اور دیوبندیوں کے حکیم الامت، مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”نیل الشفاء بنعل المصطفیٰ“ میں نقشِ نعل بنا کر اسی صفحہ پر پر درودِ پاک لکھا اور الله عزوجل اور رسول پاک علیہ السلام کا نام لکھا

[ نیل الشفاء بنعل المصطفیٰ، صفحہ 19، مطبوعہ انجمن نصرة القرآن، گھنٹہ گھر گوجرانوالہ]

اگر یہ گستاخی یا بے ادبی ہے تو تھانوی صاحب نقشِ نعل پر درود اور الله ورسول کا نام لکھ کر گستاخ کیوں نہ ہوئے ؟؟؟؟
کیا یہ فتوے فقط اھلسنت کیلئے ہیں؟

پنڈلیوں پر قرآنی الفاظ
اور دوسری طرف وھابیہ کےمجدد نواب صدیق حسن خان بھولی نے اپنی کتاب میں باری کے بخار کا علاج بتاتے ہوئے لکھا کہ:

""ساقِ ایمن (یعنی دائیں ٹانگ کی پنڈلی)پر *جبریل* اور ساقِ ایسر(یعنی بائیں ٹانگ کی پنڈلی)پر *میکائیل....* لکھ دے""

[ کتاب التعویذات المعروف کتاب الدعاءوالدواء، صفحہ 88، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور ]
خیال رہے وھابی مولوی عبدالجبا رغزنوی نے مولوی نواب صدیق حسن کے متعلق کہا کہ:

”نواب صدیق حسن کو اللہ تعالٰی سے ہمکلامی کا شرف حاصل تھا“

[ استادِپنجاب، صفحہ 122، مطبوعہ مسلم پبلیکیشنزسوہدرہ گوجرانوالہ ]

اب جن مقدس ناموں جبریل اور میکال کو وھابی مذھب کےکلیم اللہ بھوپالی صاحب ٹانگوں پر لکھنےکا کہہ رہے ہیں یہ مقدس نام یعنی جبریل اورمیکال قرآنِ پاک کی آیات کا جز ہیں
ملاحظہ ہو
اللہ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا *لِّجِبْرِيل*َ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

 [پارہ 1، سورۃالبقرۃ، آیت نمبر97]

مزیدآیت میں دونوں فرشتوں کے نام ملاحظہ ہوں

مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَ *جِبْرِيلَ* وَ *مِيكَالَ* فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ

[پارہ 1، سورۃالبقرۃ، آیت نمبر 98]

صاحبو!
    رضوی آپ سے انصاف کاطلبگار ہے کہ بتاؤ ٹانگوں پر قرآن کی آیات میں آنے والے مقدس فرشتوں کے نام لکھنا گستاخی نہیں ہے کیا ؟؟؟؟؟؟

پھر ان لوگوں کو کاغذ یا کپڑے پر بنے نقشِ نعلین پر کچھ لکھنے سے مروڑ کیوں اُٹھتے ہیں
؟؟؟؟

*عورت کی پردے کی جگہ پر قرآن لکھ کر باندھنا*

وھابی مذھب کا کلیم اللہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی مزید لکھتاہے کہ  عورت کا دردِ زہ روکنےکیلئےدرج ذیل قرآنی آیات لکھے:

”والقت مافیھاوتخلّت*واذنت لربھاوحقّت* اھیااشراھیا “
اور اس پرچے کوپاک کپڑے میں لپیٹے اور اس عورت کے دائیں ران میں باندھے تو وہ جلد جنے گی“

[ کتابُ التعویذات المعروف کتاب الدعاء والدواء، صفحہ نمبر151، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور ]

    اب پارہ 30 سورۃُ الانشقاق آیت نمبر1,2,3  لکھ کر عورت کی ٹانگ کے اوپر والےحصّے پر باندھنے کو کہہ رہے ہے۔

صاحبو! کیا یہ بےادبی نہیں ہے…؟؟؟؟؟

  نقشِ نعلین والےکا غذ یا کپڑے پر کچھ لکھنے کو بےادبی کہنے والو..حلالی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ذرا اپنے کلیم اللہ اور مجدد پر لگاؤ گستاخی کا فتویٰ.

وھابیہ نے آیتِ قرآنیہ وحدیث میں نعلین کا نقش نقل کر کردیا

وھابیوں کے مفتی مبشر احمد ربانی ، اور امیر حمزہ کی مصدقہ کتاب ”میٹھی میٹھی سنتیں یا..؟“ کے صفحہ 191 پر نقشِ نعلین کتاب کے اندر نقل کر کے چھاپ کر لکھتے ہیں کہ نقشِ نعلین پر اسلامی عبارت لکھنا بے ادبی و گستاخی ہے۔
 مگر انکی جہالت دیکھیں کہ ان بے ایمانوں سے پوچھا جائے اگر نقشِ نعلین پر کچھ لکھنا گستاخی ہے۔ تو قرآن و حدیث والی کتاب میں نقشِ نعلین چھاپنا اور اسی نقشِ کے بلکل بیک سائیڈ پر اسمِ جلالت ”اللہ جل جلاله“ اور صلی اللہ علیہ و سلم“ لکھنا کیا یہ گستاخی نہیں ہے؟؟

کیا تم لوگ گستاخی کر کے بتاتے ہو کہ یوں گستاخی ہے؟؟؟
اگر حلالی ہو تو لگاؤ فتوی اپنے مفتی مبشر احمد ربانی اور امیرِ حمزہ پر جو نقشِ نعلین کو آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی ﷺ میں نقل کرنے کو نہ صرف درست کہہ رہا ہے بلکہ اسکی تائید بھی کر رہا ہے۔

گندگی پر نام لکھنا
وھابیہ کے محدث محدث مولوی وحید الزماں حیدر آبادی نے لکھا کہ:

”کوئی بھی نام پیشاب پاخانہ گوبر لید نجاستوں پر لکھنا صرف مکروہ ہے۔“
[کنز الحقائق من فقہ خیرالخلائق، صفحہ196، طبع فی مبطع شوکت الاسلام واقع فی بنگلور ۱۳۳۲ھ ]
 
جی تو کب گستاخی کا فتویٰ داغ رہے ہیں وھابیہ اپنے محدث پر جو گندگی پر نام لکھنے کو فقط کراہت جان رہا ہے؟؟
نعلین شریف کا نقش تو تمہیں نظر آ گیا مگر گھر کا گند نظر نہ آیا ؟

بغیر وضو کے قرآن چھونا
وھابیہ کا مفتی شیخ اسماعیل سلفی لکھتا ہے کہ:

”بغیر وضو قرآن ہاتھ میں لیکر پڑھا جا سکتا ہے۔“
[ فتاویٰ سلفیہ، صفحہ 28، اسلامک پبلیشنگ ہاؤس لاھور ]

استنجاء کرتے وقت دل میں قرآن پڑھنا

وھابیہ کا محدث وحیدالزماں حیدر آبادی لکھتا ہے کہ:

استنجا کرتےوقت اور استنجاءخانہ میں دل میں قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں
[نزل الابرار، جلد ، 1صفحہ 27، مطبوعہ سعیدا المطابع بنارس ھند ۱۳۲۸ھ ]

مقدس اوراق کیساتھ استنجاء کرنا

وھابیہ کا محدث مزید لکھتا ہے:

”منطق ، فسلسفہ ، کلام (عقائد) کی کتابوں سے استنجاء کرنا جائز ہے۔“
[نزل الابرار، جلد 1، صفحہ 27، مطبوعہ سعیدا المطابع بنارس ھند ۱۳۲۸ھ ]

گندے بیت الخلاء میں قرآن لے جانا

نجدیہ کا محقق و محدث ناصر البانی لکھتا ہے کہ
”جیب میں قرآن رکھ کر باتھ روم لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔“
[فتاویٰ البانیہ، صفحہ 79] اصل صفحہ کمنٹ میں ملاحظہ ہو۔

دعوتِ انصاف
 صاحبو! خدارا انصاف کرو کہ وھابیہ غلط اورگندی جگہ قرآن لکھ کربھی بَری سچےاور
ہم اھلسنت نقشِ نعلِ پاک پر اسلامی عبارت لکھ کربھی مجرم....آخرکیوں ؟؟؟؟؟؟
جہاں بھر کے گستاخ خود وھابیہ دیابنہ ہیں جیسا کہ اوپر دلائل کیساتھ ثابت ہے۔ اور یہ لوگ الزام ہمیں دے رہے ہیں
اور یہ بھی خیال رہے کہ نقشِ نعلین اور حقیقی نعلین میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اگر وھابیہ کے نزدیک اصل اور نقش کا حکم ایک جیسا ہے تو کعبہ شریف کا نقش بنا کر گھر میں ہی طواف کر لیا کریں۔

ہم آہ بھی کریں تو ہوجاتے ہیں بدنام
         وہ قتل بھی کردیں توچرچانہیں ہوت ہوتا

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget