اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

جولائی 2024

*6 PRINCIPLES OF SUCCESS*

 *1. Hard Work*
Don't believe in luck, believe in hard work. 
Stop trying to rush the process or searching for a shortcut. 
There is none.

*2. Patience*
If you are losing the patience, you are losing the battle. 
First nothing happens, then it happens slowly and suddenly all at once. 
Most people give up at stage one.

 *3. Sacrifice*
If you don't sacrifice for what you want, then what you want becomes the sacrifice.
Everything has its price. The question is: Are you ready to pay it for the life you desire?

*4. Consistency*
Consistency is what transforms average into excellence. 
Without consistency, you will never achieve greater success.

*5. Discipline*
Motivation gets you going, but discipline keeps you growing. 
There will be days when you don't “feel” like doing it. 
You have to push through those days regardless of how you feel.

 *6. Self Confidence*
Confidence is, I'll be fine if they don't like me.

عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنے شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں۔

احمد خالد توفیق کہتے ہیں:
جب بچے اسکول سے واپس آتے ہیں تو وہ بائیں. کی طرف مڑ کر کچن کی طرف جاتے ہیں اپنی ماں کی تلاش میں، اور وہ دائیں کی طرف میرے دفتر کی طرف نہیں جاتے، حالانکہ میرا دفتر کچن سے چند قدم دوریِ میں ہے۔

میں اس "نظرانداز" پر زیادہ غور نہیں کرتا، کبھی کبھی میں ان کی ماں کو کہتے ہو سنتا ہوں:
"کیا تم نے اپنے والد کو سلام کیا؟.. جاؤ اور سلام کرو"۔

اس درخواست اور اس کے عمل میں 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں، اور میں اس "نظرانداز" پر بھی زیادہ غور نہیں کرتا۔

دنیا مصروف ہے، اور کچن سے میرے کمرے تک کے راستے میں بہت ٹریفک ہوتی ہے، اور ان کو میرے پاس پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

آخرکار وہ ایک ایک کر کے آتے ہیں اور ٹھنڈے انداز میں سلام کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے، جب میرا بڑا بیٹا اسکول سے واپس آیا، میں حادثاتی طور پر اپنے دفتر سے باہر نکلا اور اسے کچن میں کھڑا دیکھا، وہ "ماں" کو کچھ دے رہا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے چھپا لیا۔ میں نے بغیر دھیان دیے اپنا راستہ جاری رکھا۔

واپسی پر میں نے اسے پکڑ لیا جب وہ اس کی ماں کو ایک عمدہ چاکلیٹ کا ٹکڑا دے رہا تھا جو اس نے اپنے جیب خرچ سے خریدا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو شرمندہ ہو گیا اور نہیں جانتا تھا کہ اس موقع کو کیسے سنبھالے!!

پھر چند لمحوں بعد اس نے اپنی جینز کی جیب سے ایک "کرمل" کا ٹکڑا نکالنے کی کوشش کی جو جیب کے نیچے چپکئ ہوئی تھی۔ بمشکل اس نے اسے نکالا اور اس پر کچھ ٹشو پیپر کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے، اور وہ مجھے دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا!!

میں اس "امتیازی سلوک" پر زیادہ غور نہیں کرتا، صحیح ہے کہ اس نے اپنی ماں کے لئے جو چاکلیٹ خریدا تھا وہ بہت مزیدار تھی، لیکن مجھے ان کے اپنی ماں کی طرف زیادہ جھکاؤ سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، ہم بھی ان جیسے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ تھے!!

باپ کی محنت، سفر، تکلیف اور شفقت کے باوجود، جھکاؤ ہمیشہ ماں کی طرف ہوتا ہے، یہ ایک فطری بات ہے جسے پر ہم کنٹرول نہیں کر سکتے!

عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنی شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں، یا تو والد کے جانے کے بعد، یا بیماری مبتلا ہوتے ہیں اور یہ زندگی کی خواہش کے خاتمے کے بعد...!

اور یہ محبت والد کے وقت کے حساب سے بہت دیر سے آتی ہے۔

اب جب بھی میں کسی فیصلے میں بھٹک جاتا ہوں، یا زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہوں، یا کسی معاملے میں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں...

میں آہ بھرتا ہوں اور کہتا ہوں: "ابو، آپ کہاں ہیں؟"

میرے سمیت جن کے والدین حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور جو اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.

ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کی پالیسی اور عوام

ایک آدمی ایک دانشمند کے پاس اپنی پریشانی لے کر گیا اور کہا:

"اے دانشمند، میں اپنی بیوی، چھ بچوں، ماں اور ساس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہتا ہوں۔ میں کیا کروں؟"

دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک گدھا خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"

آدمی دو دن بعد واپس آیا اور کہا:
"اے دانشمند، صورتحال اور خراب ہوگئی ہے۔"

دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک بھیڑ خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"

آدمی واپس آیا اور اس کا چہرہ زرد تھا، اس نے کہا:
"صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔"

دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور ایک مرغی خرید کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں رکھو، اور دو دن بعد آنا۔"

آدمی واپس آیا اور خودکشی کے قریب تھا...

دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور گدھا بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"

آدمی واپس آیا اور کہا:
"صورتحال تھوڑی بہتر ہوگئی ہے۔"

پھر دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور بھیڑ بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"

آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب سب ٹھیک ہے۔"

دانشمند نے کہا:
"جاؤ اور مرغی بیچ دو، اور مجھے بتانا۔"

آدمی واپس آیا اور کہا:
"اب میں بہترین حال میں ہوں، دل سے شکریہ!"

¤ اس طرح دنیا کی سیاسی بحرانوں کو حل کیا جاتا ہے...
وہ آپ کو نئی مشکلات پیدا کرکے اصل مسئلے کو بھولنے پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ آپ اپنے مسائل پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ان کے احسان مند رہیں.

ایک طلاق یافتہ اکیلی ماں نے لکھا:

میں آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے لکھ رہی ہوں کہ اپنے شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کرنا ضروری ہے، چاہے ان میں خامیاں ہوں۔

میری عمر 32 سال ہے۔

میرے سابق شوہر اور میں نے 6 سال تک ڈیٹ کی۔

ہم بہترین دوست تھے۔

میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے کالج مکمل کر لیا اور کام شروع کر دیا۔

پھر میرے خاندان اور اس کے خاندان نے ملاقات کی۔

ہماری شادی ہوئی اور ہمارا ایک بیٹا ہوا۔ [اب 7 سال کا ہے]۔

میرا شوہر کبھی کبھار غصے میں آ جاتا تھا لیکن ہمارے مسائل تب شروع ہوئے جب میں نے اسے یہ محسوس کرانا چاہا کہ وہ مجھے کنٹرول نہیں کر سکتا۔

جب بھی ہم جھگڑتے، میں اپنا سامان باندھ کر اپنے خاندان کے پاس چلی جاتی اور انہیں صورتحال سمجھاتی۔

میری بہنیں میرے شوہر کو فون کرتیں اور اس پر چیختیں۔

اگر وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو میں ہمیشہ اسے کہتی کہ اگر وہ چاہے تو مجھے طلاق دے سکتا ہے۔

میں کبھی طلاق نہیں چاہتی تھی۔

مجھے صرف اپنی عزت کا خیال تھا اور میں کبھی بھی اس کی نظروں میں ایک کمزور عورت نہیں بننا چاہتی تھی۔

ایک دن میں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ پہلی بار اس نے مجھے مارا اور گھر سے باہر نکال دیا۔

میں اپنے خاندان کے پاس چلی گئی، میرے خاندان نے اسے پولیس میں رپورٹ کر دیا، ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں ہی مظلوم ہوں!

لیکن حقیقت میں، میں اپنے شوہر کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچاتی تھی۔

اسے گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔

اس کے خاندان نے مجھ سے کیس واپس لینے کو کہا۔

مجھے محسوس ہوا کہ میں غلط کر رہی ہوں۔

میرا شوہر کبھی بھی پرتشدد انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا وہ اس لیے کیا کیونکہ میں نے اسے مجبور کیا اور اس نے کھلے دل سے معافی مانگی۔

میں نے کیس واپس لے لیا، اور ہم دوبارہ مل گئے۔

تین ماہ بعد، ایک چھوٹے مسئلے پر میں نے پھر سے اپنا سامان باندھ لیا اور وہ اکیلا رہ گیا۔

دو دن بعد، مجھے کال آئی کہ وہ ہسپتال میں ہے۔

میرے خاندان نے مجھے کہا کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ایسا لگے گا جیسے میں اسے منانے جا رہی ہوں اور میری بہنیں مانتی تھیں کہ وہ بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے۔

اس دوران، لوگ مجھے مظلوم سمجھتے رہے جیسے میں ہی ظلم کا شکار ہوں۔

وہ ایک ہفتہ ہسپتال میں رہا، جب وہ واپس آیا، مجھے صرف طلاق کا نوٹس ملا۔

میں طلاق کو رد کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے غرور کی وجہ سے، میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدلے اور مجھ سے معافی مانگے۔

میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ اسے طلاق مل جائے گی کیونکہ میں جہنم میں جی رہی تھی۔

جب ہم عدالت گئے، میں چاہتی تھی کہ وہ قیمت چکائے، اس لیے میں نے عدالت سے کہا کہ اس کی جائیداد تقسیم کی جائے۔

میری حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کھلے عام عدالت کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہم نے اکٹھا حاصل کیا ہے وہ مجھے دیا جائے، اسے صرف طلاق چاہیے۔

ہم جولائی 2009 میں طلاق یافتہ ہو گئے۔

اب، میرا شوہر شادی شدہ ہے، جبکہ میں یہاں برباد ہو رہی ہوں!

میرے خاندان والے میرے بارے میں چغلی کرتے ہیں۔

میں اپنی بقا کے لیے اپنے بیٹے کے لیے جو میرے سابق شوہر دیتا ہے، اس پر انحصار کرتی ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی شادی برباد کی۔

میں یہاں تمام بیویوں کو بتا رہی ہوں کہ انہیں مشورہ لیتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔

دھوکہ نہ کھائیں، اپنے خاندان کی مداخلت کو اپنی شادی میں نہ آنے دیں میرے عزیز قاری۔

یہاں تک کہ میری چھوٹی بہنیں بھی مجھ سے زیادہ عزت پاتی ہیں۔

جن لوگوں نے مجھے طلاق لینے کی ترغیب دی، وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں۔

براہ کرم خواتین، اپنی شادی میں چوکسی سے کام لیں۔

سوچا کہ اپنی کہانی شیئر کروں تاکہ آپ کی شادی بچ سکے۔

غرور میں کوئی فائدہ نہیں۔

کبھی کبھی یہ مرد کا قصور نہیں ہوتا،
یہ آپ کا غرور ہوتا ہے، اور وہ لوگ جو آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس لیے اپنی شادی میں ہوشیار اور چوکنا رہیں۔

اللہ ہمیں برائی سے، برے لوگوں سے، ان سے جو برائی کرتے ہیں اور دوسروں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، محفوظ رکھے یا کریم۔ آمین اپنے دوستوں کے ساتھ شیر کریں اور گھر کے لوگوں کے ساتھ بھی
جزاک اللہ خیرا آپ کے وقت کے لیے۔

سجاد صاحب ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ *ﻗﺮﺁﻥ* ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺩﮐﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺩﻻﺳﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻧﺎﻃﮧ ﺟﻮﮌ لونگا۔ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﻮﺭہ ﻣﺰﻣﻞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ کسی اخبار میں سامنے ﺁﮔﺌﯽ :

" *ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻳُﻘَﺪِّﺭُ ﺍﻟﻠَّﻴﻞَ ﻭَﺍﻟﻨَّﻬﺎﺭَ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﻟَﻦ ﺗُﺤﺼﻮﻩُ ﻓَﺘﺎﺏَ ﻋَﻠَﻴﻜُﻢ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥِ ﻋَﻠِﻢَ ﺃَﻥ ﺳَﻴَﻜﻮﻥُ ﻣِﻨﻜُﻢ ﻣَﺮﺿﻰ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳَﻀﺮِﺑﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺍﻷَﺭﺽِ ﻳَﺒﺘَﻐﻮﻥَ ﻣِﻦ ﻓَﻀﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺁﺧَﺮﻭﻥَ ﻳُﻘﺎﺗِﻠﻮﻥَ ﻓﻲ ﺳَﺒﻴﻞِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻨﻪُ*:

*ترجمہ: ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺗﻢ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﭘﮍھو۔ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﯾﺾ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺭﺯﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ ۔ ﭘﺲ ﺟﺘﻨﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺑﺂﺳﺎﻧﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ہے ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺎ ﮐﺮو۔* (73:20)

کس قدر ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﺪﺍ ﮨﮯ میرے ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ۔  ﮐﮧ اے ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﺗﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ، روزی کی طلب(یعنی معیشت) ﺣﺘﯽ ﮐﮧ میری ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﺩ کرنا بھی ﻗﺮﺁﻥ پڑھنے ﺳﮯ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮭﻮﮌﯼ سی محنت ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩیتا ہوں بس میری طرف متوجہ ہوجا۔

کتنا مہربان ہے میرا رب جس نے مجھے اتنی ﺳﮩﻮﻟﺖ دے رکھی ہے اگر میں پھر بھی قرآن کو نہیں پڑھتا تو صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہوں۔ کیونکہ میں قرآن پڑھونگا نہیں تو سمجھوں گا کیسے اور سمجھوں گا نہیں تو اسکے احکامات پر عمل کیسے کرونگا؟ یہ یاد رکھنا کہ قرآن کو اللہ نے ہم پر فرض کیا ہے۔

*إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ*

بے شک(اے پیغمبر) جس (اللہ) نے تم پر *قرآن کو فرض کیا ہے*(28:85)

میری آپ سے درخواست ہے کہ قرآن کو اپنی ڈیلی روٹین میں شامل کریں اور روزانہ کم از کم ایک ر کوع تو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر لازمی پڑھیں۔ ورنہ جو لوگ قرآن نہیں پڑھتے وہ قرآن کا یہ فرمان بھی سن لیں!! جب قیامت کے دن نبی کریم ﷺ ان کی شکایت اللہ سے اس طرح فرمائیں گے۔

*وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا*

اور پیغمبرﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری امت نے *اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا* (25:30)

تو کوشش کریں کہ قرآن کو اپنی زندگی میں شامل رکھیں۔ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ اس آیۃ کو ﻧﮧ ﺑﮭﻮﻟﻨﺎ۔۔۔

*ﻓَﺎﻗﺮَﺀﻭﺍ ﻣﺎ ﺗَﻴَﺴَّﺮَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ* ِ

*پس ﺟﺘﻨﺎ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ہوسکے اتنا قرآن ﭘﮍھ لیا کرو*۔

اللہ تعالیٰ ہم کو قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے والا بنادے اور اس پر عمل کرنے والا اسکو دوسرے لوگوں تک پہنچانے والا بنادے آمین۔

*لپ اسٹک صاف کر لو*

بیوی نے حسبِ معمول نوک پلک سنواری ہوئی تھی اور ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے.
اتنے میں ٹیکسی آئی اور وہ اس میں بیٹھ گئے.
کچھ دیر بعد ٹیکسی ڈرائیور نے کہا اپنی وائف سے کہیں کہ یہ لپ اسٹک کا شیڈ مٹا دیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا.
یہ سنتے ہی شوہر نے غصے سے ڈرائیور کا گریبان پکڑا اور بولا تمہاری ہمت کیسے ہوئی جو تُو نے یہ بات بولی.

ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے کہا بھائی اگر یہ آپ کے لیے سجی سنوری ہوتی تو گھر میں سجتی یہ تو راستے کے لیے تیار ہوئی ہیں اور راستے کی ہر چیز پر تنقید و پسندیدگی کا اختیار ہر شخص کو ہے.
مرد کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور رومال نکال کر بیوی کو دیا اور کہا کہ لپ اسٹک صاف کر لو.

شاید اس بات میں حقیقت نہ ہو مگر ایک سچائی ضرور ہے.

عورتیں واقعی اپنے شوہروں کے لیے کم اور لوگوں کے لیے زیادہ تیار ہوتی ہیں.
کسی تقریب میں جانا ہو تو گھنٹوں سیلون میں لگا دیتی ہیں.
مگر شوہر کے آنے کا وقت ہو تو کبھی ان کے لیے تیار نہیں ہوتیں صاف کپڑے بھی نہیں بدلتیں صبح سے شام تک ایک ہی لباس میں گھومتی ہیں سر جھاڑ منہ پھاڑ.

جبکہ ہمارے مذہب میں زمانہِ جاہلیت کی طرح تیار ہو کر باہر نکلنے سے منع فرمایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ تم اپنے گھروں میں بھی سجا سنورا نہ کرو بلکہ کہا گیا ہے کہ زیبائش شوہر کے لیے ہے.

مگر ہم اس کے برعکس کرتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ مردوں کو دوسروں کی بیویاں اور اپنے بچے زیادہ اچھے لگتے ہیں.

آدابِ زندگی

شیخ جنید بغدادی ایک دفعہ اپنے مریدوں اور شاگردوں کے ساتھ بغداد کی سیر کے لیے  نکلے انھوں نے "بہلول" کے بارے میں پوچھا، تو کسی نے کہا سرکار وہ تو ایک دیوانہ شخص ہے،
شیخ صاحب نے کہا مجھے اسی دیوانے سے کام ہے آیا کسی نے آج اس کو دیکھا ہے؟

ایک نے کہا میں نے فلاں مقام پر اس کو دیکھا ہے سب اس مقام کی طرف چل دیئے حضرت بہلول وہاں ریت پر بیٹھے ہوئے تھے،
شیخ صاحب نے بہلول کو سلام کیا، بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا کون ہو؟

شیخ صاحب نے بتایا، بندے کو جنید بغدادی کہتے ہیں، بہلول نے کہا وہی جو لوگوں کو درس دیتے ہیں؟ کہا جی الحمدللہ۔
بہلول نے پوچھا.......
شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔
"بہلول نے کہا"، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اور وہاں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔
بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔
جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔
"بہلول نے کہا"........
کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اور تھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔
شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔ بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا
کون ہو؟ شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔
بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔
بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔
بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ "فرع" ہیں اور اصل کچھ اور ہے،
اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائے گا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔

بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔ 

سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے، کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے ۔۔۔

سبق،،،
اگر یہ تینوں آداب میں اور آپ سیکھ جاٸیں تو ھماری زندگی کے بہت سارے مسٸلے ختم ہوسکتے ھیں،،

*یہ میرا مسئلہ نہیں ہے!!!* 

ﺍﯾﮏ ﭼﻮﮨﺎ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ،
 ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮑﺎﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ،ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮨﮯ۔
 ﺧﻮﺏ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻄﺮﮦ ﺑﮭﺎﻧﭙﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻮﺍﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔

 ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ؟ 
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﻨﺎ ﮨﮯ؟

 ﻣﺎﯾﻮﺱ ﭼﻮﮨﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﺮﻍ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮔﯿﺎ-
 ﻣﺮﻍ ﻧﮯ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ... ﺟﺎ ﺑﮭﺎﻳﻴﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

 ﻣﺎﯾﻮﺱ ﭼﻮﮨﮯ ﻧﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ 
 ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﺍ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔

 ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﭼﻮﻫﮯﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﭩﺎﻙ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ 
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻡ ﮐﻮ ﭼﻮﮨﺎ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮈﺱ ﻟﯿﺎ- ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ، ﺣﮑﯿﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﺎ ﺳﻮﭖ ﭘﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ،

 ﮐﺒﻮﺗﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﻠﻨﮯ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﺮﻍ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ

 ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﺍ کاٹنے ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔

 ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺠﺌﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮﭼﯿﮟ
ﮨﻢ ﺳﺐ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﻀﻮ، ﺍﯾﮏ ﻃﺒﻘﮧ، ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮﯼ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﻠﮏ ﺧﻄﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻣﺬﮨﺐ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ نکلیے، ایک معاشرتی سوچ ہی معاشرتی مسائل کو حل کر سکتی ہے.

*منہ بند رکھنا حکمت ھے* 
 *کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی، بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں*
 *ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا، جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا۔* 
 *چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا،* 
*پہلے شخص کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میرا اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا۔* 
 *اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس شخص کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا۔* 
 *اس کے بعد دوسرے کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا نمائندہ ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے، یہاں بھی انصاف ہوگا۔*
*اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی اس دوسرے شخص کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور دوسرے کی جان بھی بچ گئی۔* 
 *اس کے بعد تیسرے کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا پہلے کو نہ ہی اللہ پر یقین نے بچایا اور نہ ہی دوسرے کو اس کے حق و انصاف کے نمائندہ ہونے نے۔*
*دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا۔*
*تیسرے کی بات سن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی، انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور اس تیسرے کا سر کچل کر رکھ دیا۔* 
حکایت کا نتیجہ:
 *بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے۔*
اس لئیے کہتے ہیں پہلے بات کو تولو
پھر منہ سے بولو۔۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget