اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

زندگی ایک سفر ہے

زندگی ایک سفر ہے


جن لوگوں کے پاس پرانی گاڑیاں ہوتی ہیں وہ اپنی گاڑی میں بیٹری وائر رکھتے ہیں تاکہ اگر بیٹری کمزور پڑ جائے تو وہ کسی سے مدد لے کر گاڑی اسٹارٹ کر لیں۔ ایک صاحب نے بھی اپنی گاڑی میں اسی طرح سیاہ و سرخ، مائنس پلس، دو وائر رکھے ہوئے تھے۔ امارات میں ایک انڈین عالم دین احمد سراج صاحب کافی وقت یہاں رہ کر گئے ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ جب اس شخص سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہنے لگے کہ بیٹری تو ٹھیک ہے مگر میں نے احتیاطاً وائر رکھ لیا ہے کہ کہیں مجھے اس کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ مولانا احمد سراج صاحب نے کہا، آپ کو ایک ترکیب نہ بتا دوں جس سے یہ وائر جب تک آپ کی گاڑی میں پڑا رہے گا، آپ کو ثواب ملتا رہے گا؟ پوچھا، وہ کیا؟ مولانا نے جواب دیا، بجائے اس نیت کے کہ کبھی "آپ" کو ضرورت پڑ سکتی ہے یہ نیت کر لیں کہ ہو سکتا ہے کہ کسی "دوسرے" کو اس کی ضرورت پڑ جائے۔ اس سے یہ ہوگا کہ وائر تو آپ بھی استعمال کریں گے مگر کسی دوسرے کی مدد کی نیت کی وجہ سے آپ کے کھاتے میں ثواب اس وقت تک لکھا جاتا رہے گا جب تک یہ وائر آپ کی گاڑی میں موجود رہے گا۔ مدینہ طیبہ میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمرے میں روشن دان بنوایا۔ ایک دوسرے صحابی کے پوچھنے پر بتایا کہ تازہ ہوا اور روشنی کی خاطر بنوایا ہے۔ انہوں نے فرمایا، اگر نیت یہ کر لیں کہ یہاں سے آذان کی آواز آئے گی تو ثواب ملتا رہے گا۔ رہی تازہ ہوا اور روشنی، تو وہ تو ویسے بھی آتی رہیں گی۔ ابھی دو تین روز قبل امارات کی ایک خاتون جواہرہ کی اسٹوری میں نے شیئر کی تھی جس نے ایک ٹرک ڈرائیور کی جان بچائی تھی جو حادثہ کے بعد آگ میں جل رہا تھا۔ جواہرہ کو چند گھنٹوں میں وہ شہرت ملی جس کا شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ اعزازات، انٹرویوز اور ویڈیو کلپس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ان کا تعلق عجمان ریاست سے ہے۔ پرسوں عجمان کے بادشاہ نے ان کو شرف ملاقات بخشا۔ جواب میں جواہرہ نے کہا کہ انہوں نے یہ سب صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کہتیں کہ "یہ سب میں نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا ہے"۔ انسانی ہمدردی والا مدعا تو اس سے بھی واضح ہو جاتا۔ یاد رہے کہ ٹرک ڈرائیور غیرمسلم تھا اور "اللہ کی خاطر" جیسے الفاظ سن کر وہ کم از کم ایک بار تو سوچنے پر مجبور ہوتا کہ مسلمان یہ سب کچھ اللہ، اپنے رب کی خاطر کیا کرتے ہیں۔ جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ہم مسلمانوں سے بہت غیرمحسوس انداز میں ہمارا ربّ چھین لیا گیا ہے۔ وہ رب جس کی بدولت ہم سب کچھ ہیں مگر ہم اس کو کچھ بھی دینا نہیں چاہتے۔ بلکہ شاید دنیا کے سامنے اس کا نام لیتے بھی شرماتے ہیں کہ کہیں لوگ ہمیں دقیانوس نہ سمجھ لیں۔ کسی کھلاڑی، کسی فوجی، کسی مالدار، کسی آرٹسٹ، کسی سائنسدان، کسی مصور سے پوچھ کر دیکھ لیں، اس کی زبان پر یہی الفاظ ہوں گے کہ جو کچھ کارنامہ اس نے سرانجام دیا، اپنے وطن کے لیے، انسانیت کی خدمت کے لیے اور فلاں اور فلاں کے لیے دیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تو ہر کام اللہ کی رضاجوئی کی خاطر کرتا ہے۔ اللہ تو ہمارا مرکزِمحبت ہے۔ وہ کہتا ہے کہ والذین آمنوا اشد حب للہ۔ "اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں"۔ اللہ نے خود اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا: "اے نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ہے۔ یہی حضورصہ کی وہ تربیت ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اصحاب رسول کے جملے کچھ اس طرح کے ہوتے تھے: میں تم سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں۔ میں نے اسے اللہ کی خاطر معاف کیا میں نے فلاں کی اللہ کی رضا کی خاطر مدد کی۔ میں صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے فلاں کام سے باز آگیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کسی نے غور کیا کہ مسلمانوں کی زبانوں سے اس طرح کے فقرے کیوں کر غائب ہوگئے؟ اگر نہیں معلوم تو سن لیجیے کہ اس سے قبل جتنے بھی دوسرے نظریات اسلام کے مدمقابل لائے گئے وہ سب ایک ایک کر کے پسپا ہوگئے۔ اب بازی گروں نے مسلمانوں کے منہ میں "انسانیت سب سے بڑا مذہب" کا نعرہ ڈال دیا ہے اور وہ اسی میں خوش ہے کہ اسلام کو پسِ پشت ڈال کر فرعونِ وقت کے مذہب کا غیرمحسوس پیروکار بن کر وہ طافوتِ وقت کو خوش کر لے گا۔ ہر انسان جان لے کہ اگر اسے اللہ کی حاجت نہیں تو اللہ کو بھی اس کی حاجت نہیں۔ وہ تو ہے ہی بے پروا و بے نیاز۔ اسے کیا پڑی کہ بندوں کے پیچھے بھاگے جب کہ بندوں نے ایک دن بھاگ کر اسی کے قدموں میں پڑنا ہے!

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget