نظام کی درستگی
اگر نظام ٹھیک کرنا ہے تو کوشش کریں کہ نوازشریف اپنی بیماری کے باعث سسک سسک کر لاہور کے سروسز ہسپتال میں دم توڑ جائے۔ مرنے کی وجہ سہولیات کی عدم دستیابی، ڈاکٹرز کی لاپرواہی ، لیبارٹریز کی نالائقی اور ادویات کی خرابی ہو۔
مرتے وقت نوازشریف کے وارڈ کی بجلی بھی غائب ہو، بستر کی چادریں بھی میلی کچیلی ہوں اور وارڈ بھی مکھیوں اور مچھروں سے بھرا ہو۔
جب نوازشریف مرے تو اس کے جسم پر مکھیاں بیٹھی ہوں، اس کے اہل خانہ اس کی لاش لینے کیلئے جائیں تو انہیں سو طرح کے فارم پُر کرنا پڑیں، ہسپتال سے میت لے جانے کیلئے صرف سرکاری ایمبولینس کی اجازت ہو اور وہ ایمبولینس چھ گھنٹے بعد دستیاب ہو۔
جب میت ہسپتال سے گھر لے جائی جارہی ہو تو ایمبولینس کا ٹائر پنکچر ہوجائے یا اس کا انجن کام کرنا بند کردے ۔ ۔ ۔
الغرض،بیماری سے لے کر قبر تک پہنچتے پہنچتے نوازشریف کی میت کے پسینے چھوٹ جائیں۔
نوازشریف کے بعد ملک کے تمام اراکین اسمبلی پر لازم ہوجائے کہ وہ بھی اپنا علاج اپنے اپنے حلقے کے سرکاری ہسپتال سے ہی کروائیں گے۔
جب ایسا ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے تمام حرامزادے متفقہ طور پر سرکاری ہسپتالوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے پر کام شروع کریں گے۔ پھر انہیں چاہے اپنی مراعات قربان کرنا پڑیں، یہ پہلی فرصت میں ہسپتال ٹھیک کرنے پر زور دیں گے۔
نظام کی درستگی کا فوری حل اور کوئی نہیں۔ جب تک ان بے غیرت سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے کی زمین گرم نہیں ہوتی، تب تک یہ موجودہ نظام پر ننگا ناچ جاری رکھیں گے۔ جب ان کے اپنے پاؤں جلنا شروع ہوئے تو پھر انہیں عوام کی تکالیف کا احساس ہوگا!!!
ایک تبصرہ شائع کریں