خود کو بدلو
جب میں چھوٹا سا تھا تو سوچتا تھا پوری
دنیا کو ٹھیک کر دو۔۔۔
جب
تھوڑا بڑا ہوا تو سوچا کہ دنیا تو ٹھیک نہیں ہوتی فقط اپنے ملک کو ٹھیک کر
لوں ۔۔۔۔۔
جب
مزید بڑا ھوا تو سمجھ میں آیا کہ ملک بھی ٹھیک نھی ھوتا فقط اپنے شہر کو ٹھیک کر
لوں۔۔۔۔
جب اور بڑا ہوا تو سمجھ آئی کہ شھر بھی نہیں ہوتا فقط اپنی فیملی کو ٹھیک کر لوں۔۔۔۔۔۔
جب اور بڑا ہوا تو سمجھ آئی کہ شھر بھی نہیں ہوتا فقط اپنی فیملی کو ٹھیک کر لوں۔۔۔۔۔۔
اور
جب بوڑھا یعنی زندگی کے آخر میں پہنچا تو اس وقت سمجھا میں آیا کہ فیملی بھی نہیں ہوتی
فقط اپنے آپ کو ٹھیک کر لوں
اس
وقت مجھے ایک عجیب سا احساس ھوا جیسے کسی نے سوئےہوئے کو جگا دیا ہو ۔۔۔۔
اور سمجھ میں یہ بات آئی کہ اے کاش یہ آخری والی بات مجھ کو اگر پہلے دفعہ سمجھ میں آ گئی ہوتی تو آج میں پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتا تھا۔
اور سمجھ میں یہ بات آئی کہ اے کاش یہ آخری والی بات مجھ کو اگر پہلے دفعہ سمجھ میں آ گئی ہوتی تو آج میں پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتا تھا۔
کیونکہ
اگر انسان اپنے آپ کو ٹھیک کر لے تو پوری دنیا کو ٹھیک کر سکتا ہے
جو اپنے نفس امارہ پر حکومت کر سکتا ھے وہ پوری دنیا پر بھی حکومت کر سکتا ہے
جو اپنے نفس امارہ پر حکومت کر سکتا ھے وہ پوری دنیا پر بھی حکومت کر سکتا ہے
اور
پھر یوں آھستہ آھستہ انسان خود کے خول سے نکل کر خدا تک بھی پہنچ جاتا ہے
شاید اس ہی لیے مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
شاید اس ہی لیے مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ
جس نے
اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا
یاد رکھیں دنیا فقط باہر نہیں ہے بلکہ ھمارے اندر بھی ایک دنیا ہے
یاد رکھیں دنیا فقط باہر نہیں ہے بلکہ ھمارے اندر بھی ایک دنیا ہے
ہم
اگر باہر کی دنیا کو نہیں بدل سکتے تو کم از کم اپنے اندر کی دنیا کوتوبدل سکتےہیں۔۔۔۔۔
ایک تبصرہ شائع کریں