اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

قربانی کے مسائل

#سلسلہ_قربانی
قربانی کے مسائل:
گوشت کا حکم:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے گھر کے لیے،ایک حصہ رشتے داروں اور دوست واحباب کے لیے اور ایک حصہ فقرا ء ومساکین میں تقسیم کیا جائے، ہاں اگر عیال زیادہ ہوں تو سارا گوشت خودبھی رکھ سکتے ہیں۔(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص370)
اگر قربانی کے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جا ئے اندازے سے تقسیم کر نا جائز نہیں۔(البحرالرائق:ج8ص198)
قربانی کا گو شت فروخت کرنا یا اجرت میں دینا جائز نہیں۔(بدائع الصنائع ج4ص225)
قربانی کی کھال:
اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں مثلاً مصلیٰ، مشکیزہ وغیرہ بنا سکتے ہیں البتہ اس کو فروخت کرکے قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ فقراء کو دینا واجب ہے۔(عالمگیری ج3 ص 372)
نیزکھال کی قیمت مسجد کی تعمیر میں نہیں لگا ئی جا سکتی اسی طرح کسی فلاحی ادارہ میں بھی اس کا خرچ کرنا درست نہیں کیو ں کہ اس میں ضروری ہے کہ اس کا فقرا ء ومساکین کو مالک بنا دیا جا ئے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھال کسی دینی مدرسہ اور جامعہ کے طلبا ء کو دی جائے کیوں کہ اس میں ان کی امداد کر نے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا سبب بھی۔
تکبیراتِ عیدین
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ مل کر یہ تکبیرات چار ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع کی تکبیر سے مل کر چار۔گویا ہر رکعت میں چار تکبیرات شمار ہوں گی۔
بعض روایات میں پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ، تین زائد تکبیرات اور رکوع کی تکبیر کو ملا کر پانچ اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیرات اوررکوع کی تکبیر کو ملا کرچاربتایا گیا ہے اور مجموعی طور پر نو تکبیرات شمار کی گئی ہیں۔ دونوں صورتوں میں زائد تکبیرات چھ ہی بنتی ہیں۔
تکبیرات عیدین میں رفع یدین کرنے کا ثبوت
نماز عیدین میں تکبیرات کے ساتھ رفع یدین کیا جاتا ہے، دلائل ملاحظہ ہوں:
دلیل نمبر1:
ترجمہ:جلیل القدر تابعی حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سات جگہوں میں رفع یدین کیا جاتا ہے۔(1) نماز کے شروع میں(2)نمازِ وترمیں قنوت کے وقت (3)عیدین میں (4) حجر اسود کو سلام کے وقت، (5) صفا و مروہ پر،(6) مزدلفہ اورعرفات میں(7)دو جمروں کے پاس ٹھہرتے وقت۔
(سنن الطحاوی:ج1ص417 باب رفع الیدین عند رویۃ البیت)
دلیل نمبر2:
ترجمہ: فقہاء کرام کا عیدین کی تکبیرات کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح لعلی القاری: ج 3ص495 باب صلاۃ العیدین)
دلیل نمبر3:
ترجمہ:ائمہ فقہاء کا تکبیرات عیدین کے رفع یدین پر اتفاق ہے۔
(رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ: ص63)
دلیل نمبر4:
ترجمہ: فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتروں میں قنوت کی تکبیر اور عیدین کی تکبیرات کے وقت رفع یدین کیا جائے۔
(بدائع الصنائع للکاسانی: ج1ص484 ، رفع الیدین فی الصلوۃ)
فائدہ: پنجگانہ نمازوں میں رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا ممنوع اور عیدین میں کیا جانے والا رفع یدین مشروع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:
ترجمہ:اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔
تو نماز کا وہ عمل جو خود ذکر یا مقرون بالذکر (ذکر سے ملا ہوا) ہو تو اس آیت کی رو سے مطلوب ہو گا اوراگروہ عمل خود ذکر یا مقرون بالذکر نہ ہو توغیر مطلوب اور قابلِ ترک ہو گا۔عیدین والے رفع یدین کے ساتھ ذکر یعنی اللہ اکبر ملا ہوتا ہے اس لیے یہ مطلوبِ شریعت ہے اور پنجگانہ نمازوں والے مذکورہ رفع یدین میں خالی حرکت ہوتی ہے ذکر نہیں ہوتا، اس لیے یہ غیر مطلوب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget