ایمرجنسی کے وقت کام آنے والی چند حفاظتی
تدابیر
السلام علیکم
یہ ایک انگریز پولیس والے کا آرٹیکل ہے جسے میں نے ترجمہ کیا ہے۔
یہ ایک انگریز پولیس والے کا آرٹیکل ہے جسے میں نے ترجمہ کیا ہے۔
ایمرجنسی
کے وقت کام آنے والی چند حفاظتی تدابیر
آپ کی
کہنی جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ اگر آپ مخالف کے نزدیک ہیں تو مکہ مارنے کی بہائے
کہنی ماریں.
اگر
کوئی ڈاکو آپکا پرس مانگتا ہے تو اس کے پرس ہاتھ میں پکڑانے کی بجائے ، اسکو خود
سے دور پھینک دیں، اور فورا پرس کی مخالف سمت میں دوڑ لگا دیں یقیناً ڈاکو کو آپ
سے زیادہ آپکے پرس سے دلچسپی ہو گی، وہ آپ کو چھوڑ کر پرس کی جانب لپکے گا۔
اگر
خدا نخواستہ آپکو کوئی گاڑی کی ڈگی میں بند کر دیتا ہے تو گاڑی کی پچھلی لائیٹ کو
توڑ دیں اور سوراخ سے اپنا ہاتھ باہر نکال کر ہلانا شروع کر دیں۔ ڈرائیور کو نظر
نہیں آئے گا لیکن کوئی نہ کوئی دیکھ کر آپکی مدد ضرور کر دے گا۔
عموماٍْ
عورتیں شاپنگ کرنے کے بعد کار میں واپس آ کر بیٹھ جاتی ہیں اور شیشے میں اپنا چہرہ
دیکھنے یا کچھ اور کرنے لگ جاتی ہیں۔ شکاری لوگ عموماً ایسے ہی وقت کا انتظار کرتے
ہیں۔ یہ انکے لئے اچھا موقع ہوتا ہے کہ کار میں آ کر بیٹھ جائیں، اور آپکو پستول
دکھا کر کہیں بھی لے جائیں۔ لہذا، کار میں آتے ہی فوراً درواز لاک کریں اور چلے
جائیں۔
اگر خدانخواستہ کوئی آپکی کار میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور چلنے کا کہتا ہے تو چلیں مت، بلکہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے گاڑی کو تیزی سے کسی چیر میں مار دیں، ایئر بیگ کی وجہ سے آ پ تو بچ جائیں گے، لیکن جو دوسرا شخص ہے اس شخص کو نقصان پہنچے گا۔
گاڑی کا نقصان ہونا، جان کھونے سے بہتر ہے۔
اگر خدانخواستہ کوئی آپکی کار میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور چلنے کا کہتا ہے تو چلیں مت، بلکہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے گاڑی کو تیزی سے کسی چیر میں مار دیں، ایئر بیگ کی وجہ سے آ پ تو بچ جائیں گے، لیکن جو دوسرا شخص ہے اس شخص کو نقصان پہنچے گا۔
گاڑی کا نقصان ہونا، جان کھونے سے بہتر ہے۔
اپنی
کار کو پارکنگ لاٹ یا پارکنگ گیراج میں پارک کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال
رکھیں۔
اپنے ارد گرد کا خیال رکھیں: چاروں طرف نظر دوڑائیں، اپنی کار کے اندر دیکھیں، پیسنجر سیٹ کی سائیڈ والے فرش پہ دیکھیں، اور پچھلی سیٹ کی طرف دیکھیں اور پھر کار میں بیٹھیں یا پارک کریں۔
اپنے ارد گرد کا خیال رکھیں: چاروں طرف نظر دوڑائیں، اپنی کار کے اندر دیکھیں، پیسنجر سیٹ کی سائیڈ والے فرش پہ دیکھیں، اور پچھلی سیٹ کی طرف دیکھیں اور پھر کار میں بیٹھیں یا پارک کریں۔
اگر
آپ نے کسی بڑی وین کے ساتھ اپنی گاڑی پارک کی ہوئی ہے تو ، ڈرائیور والے دروازے سے
داخل ہونے کی بجائے پیسنجر سیٹ کے دروازے سے داخل ہوں۔ زیادہ تر سیریل کلرز اپنے
شکار کو اس وقت اپنی کار میں کھینچ کر بیٹھاتے ہیں جب وہ اپنے کار میں داخل ہو رہا
ہو۔
کار
میں بیٹھے سے پہلے اپنے ساتھ والی کاروں میں ریکھیںِ اگر کوئی مشکوک مرد کار میں
اکیلا بیٹھا نظر آئے تو اپنی کار میں جانے کی بجائے شاپنگ مال میں واپس چلے جائیں،
اور تھوڑی دیر بعد واپس آ کر دیکھیں۔ یا پھر کسی سیکیورٹی گارڈ سے کہیں کہ وہ آپکو
کار تک چھوڑ آئے۔
رات
کے وقت سیڑھیاں استعمال کرنے کی بجائے اگر ایلیویٹر کی سہولت موجود ہو تو اسکا
ضرور استعمال کریں۔ زیادہ تر جرائم سیڑھیوں میں ہوتے ہیں۔
اگر
شکار ی کے پاس پستول ہے اورآپ اسکے کنٹرول میں نہیں ہیں یعنی اس نے آپ کو جکڑ نہیں
رکھا ہے تو بھاگ جائیں۔ شکاری اگر آپکو گولی مارے بھی تو بہت کم چانس ہے کہ آپکے
کسی وائیٹل آرگن یعنی کہ دل اور دماغ کو گولی لگے ۔ اور اگر ممکن ہو تو سیدھے
بھاگنے کی بجائے زگ زیگ کے انداز(یعنی تیزی سے دائیں بائیں لہراتے ہوئے) میں
بھاگیں۔
ایک
دفعہ ایک عورت کے ایمرجنسی نمبر ۹۱۱ کو فون کیا اور کہا کہ میں گھر میں اکیلی ہوں اور مجھے گھر کے سامنے
کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی ہے۔انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم پولیس بھیج رہے
ہیں، اور چاہے کچھ بھی ہو، دروازہ مت کھولئے گا۔ پھر اس عورت نے کہا کہ اب ایسا لگ
رہا ہے کہ بچے کی آواز کھڑکی کے پاس سے آ رہی ہے، اور اسے ڈر ہے کہ بچہ سڑک کے پاس
نہ چلا جائے۔ پولیس نے جواباً کہا کہ کچھ بھی ہو جائے آپ دروازہ مت کھولیئے گا۔
کچھ دیر بعد پولیس گھر پہنچ گئی اور وہاں کوئی بچہ نہیں تھا۔ پولیس نے بعد میں عورت کو بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایک سیریئل کلر ہے جس نے بچے کے رونے کی آواز ریکارڈ کی ہوئی ہے اور وہ اس آواز کو عورتوں کو گھر سے بار لانے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ ابھی یہ بات کنفرم نہیں ہے، لیکن انہیں اس علاقے میں ایسی اور بھی کالز موصول ہوئیں ہیں جن میں عورتوں نے کہا ہے کہ انہیں باہر کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی ہے۔
چند سالوں بعد “روتے ہوئے بچے کی تھیوری” امریکہ کے موسٹ وانٹڈ نامی شو میں ڈسکس کی گئی تھی جب انہوں ریاست لوزیانا کے ایک سیریئل کلر کے بارے شو کیا تھا۔
کچھ دیر بعد پولیس گھر پہنچ گئی اور وہاں کوئی بچہ نہیں تھا۔ پولیس نے بعد میں عورت کو بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایک سیریئل کلر ہے جس نے بچے کے رونے کی آواز ریکارڈ کی ہوئی ہے اور وہ اس آواز کو عورتوں کو گھر سے بار لانے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ ابھی یہ بات کنفرم نہیں ہے، لیکن انہیں اس علاقے میں ایسی اور بھی کالز موصول ہوئیں ہیں جن میں عورتوں نے کہا ہے کہ انہیں باہر کسی بچے کے رونے کی آواز آ رہی ہے۔
چند سالوں بعد “روتے ہوئے بچے کی تھیوری” امریکہ کے موسٹ وانٹڈ نامی شو میں ڈسکس کی گئی تھی جب انہوں ریاست لوزیانا کے ایک سیریئل کلر کے بارے شو کیا تھا۔
اگر
آدھی رات کو آپکی آنکھ کھلی اور آپکو ایسا گھر کے باہر والے تمام نل کھلے ہونے کی
آواز آئے یا لگے کہ پائپ پھٹ گیا ہے تو چیک کرنے کے لئے ہر گز باہر مت جائیں۔ کچھ
جرام پیشہ افراد لوگوں کو بے وقوف بنا کر گھر میں داخل ہونے کے لئے ایسے کام کرتے
ہیں۔"
ایک تبصرہ شائع کریں