*شمو
فقیرنی بالے کے ساتھ رنگے ھاتھوں پکڑی گئی. پورا پنڈ "توئے لعنت" کر رہا
تھا. مولوی جی سنگسار کرنے کا فتوی سنا رھے تھے بوڑھی اللہ رکھی اپنے جھریوں بھرے
گال پیٹتے ھوئے مسلسل توبہ توبہ کیے چلی جا رہی تھی. چھوٹے بچوں کو دور بھگایا جا
رہا تھا تاکہ نئی پود کی اخلاقیات خراب نہ ھوں نوجوان لڑکیاں جو چھتوں کی منڈیروں
سے چھپ چھپ کر جھانک رہی تھیں اور کان لگا کر غور سے سننے کی کوشش کر رہی تھیں ان
کے ماں باپ ان کو ڈانٹ رھے تھے شمو فقیرنی کا گھر والا اچھو جو اس وقت چرس کے نشے
میں دھت تھا چیخ چیخ کر دونوں ھاتھوں سے گلا دبانے کے انداز میں شمو کی طرف بڑھنے
کی کوشش کر رہا تھا جسے بڑی مشکل سے پنڈ کے نوجوان جکڑ کر روک رھے تھے. چوھدری بھی
اپنے حقہ بردار نوکر کے ساتھ ایک طرف کھڑا وقفے وقفے سے حقے کے کش لگا کر لوگوں کی
باتیں سن رہا تھا لیکن خاموش تھا. کبھی کوئی دیہاتی اسے مداخلت کے لیے کہتا تو وہ
ھلکا سا منمنا کر چپ ھو جاتا، یوں لگتا تھا کہ وہ کچھ کہنے سے کترا رہا ھو. شمو
کچھ دیر تو سب کی باتیں سنتی رہی پھر اس کے چہرے کے عضلات میں کھنچاؤ سا پیدا ھونے
لگا اور اس کا رنگ لال بھبھوکا ھوتا چلا گیا . اچانک ایک دم چیخ کر بولی،*
*"چپ ھو جاؤ... میں تم سب کی غیرتوں کو جانتی ھوں. بے شرمو، لعنتیو....*
*وے مولویا!!! سن میری گل.... تو وہی ھے نا شیدے دودھ والے کی بیوی کے ساتھ حجرے میں رنگ رلیاں مناتا ھے تم کو تو خدا دے گھر دی وی شرم نہیں ہے. اسی جمعرات کو جب یہ حلوے پر ختم دلانے آئی تھی تو مسیت کے دروازے کے سامنے ہی جو حرکت کی تھی وہ میں نے اپنی گناھگار آنکھوں سے دیکھا."*
*مولوی جی کے فتووں کو یکدم بریک لگ گئی اور وہ بغلیں جھانکنے لگے. پھر رومال سر پر درست کرتے ہوئے چل دیئے کہ نماز کا وقت ھو رہا ہے... پھر وہ فیقے دکان والے کے رجو کے ساتھ کماد کے کھیت کی داستان سنانے لگی پھر اللہ دتے اور سکینہ کی پریم کہانی جو پرانے اسکول کے کمرے میں لکھی گئی تھی اس کے سیاق و سباق بتانے لگی. وہ سب کے قصے سناتی جا رہی تھی اور سبھی آھستہ کھسکنے جا رھے جبکہ چوھدری کے حقے کے کش تیز ھو گئے تھے لیکن اس نے چوھدری کو نظر انداز کر دیا شاید اس لیے کہ چوھدری نے بھی ابھی تک اس کے لیے کچھ نہیں کہا تھا. آخر میں وہ اپنے گھر والے کی طرف متوجہ ہوئی. "وے کنجرا تیری غیرتوں کا قصہ بھی پنڈ والوں کو سناتی ھوں. کمینے تجھے وہ دن بھول گیا جب چرس کی چھٹانک کے لیے تو نے مجھے پھتے شاہ کے ملنگ کے حوالے کر دیا تھا؟" اس کے گھر والے کا نشہ ھرن ھو گیا اور وہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر شمو کو دیکھنے لگا....*
*شمو بولی، "آج پنڈ کے ھر بندے کی غیرت ہی سانس نہیں لے رہی. سبھی کے منہ اور دامن کالے ہیں لیکن کیونکہ صرف شمو پکڑی گئی ہے اس لیے وہ گناھگار ھے اور پورا پنڈ ولی اللہ بنا ھوا ھے..*
*"چپ ھو جاؤ... میں تم سب کی غیرتوں کو جانتی ھوں. بے شرمو، لعنتیو....*
*وے مولویا!!! سن میری گل.... تو وہی ھے نا شیدے دودھ والے کی بیوی کے ساتھ حجرے میں رنگ رلیاں مناتا ھے تم کو تو خدا دے گھر دی وی شرم نہیں ہے. اسی جمعرات کو جب یہ حلوے پر ختم دلانے آئی تھی تو مسیت کے دروازے کے سامنے ہی جو حرکت کی تھی وہ میں نے اپنی گناھگار آنکھوں سے دیکھا."*
*مولوی جی کے فتووں کو یکدم بریک لگ گئی اور وہ بغلیں جھانکنے لگے. پھر رومال سر پر درست کرتے ہوئے چل دیئے کہ نماز کا وقت ھو رہا ہے... پھر وہ فیقے دکان والے کے رجو کے ساتھ کماد کے کھیت کی داستان سنانے لگی پھر اللہ دتے اور سکینہ کی پریم کہانی جو پرانے اسکول کے کمرے میں لکھی گئی تھی اس کے سیاق و سباق بتانے لگی. وہ سب کے قصے سناتی جا رہی تھی اور سبھی آھستہ کھسکنے جا رھے جبکہ چوھدری کے حقے کے کش تیز ھو گئے تھے لیکن اس نے چوھدری کو نظر انداز کر دیا شاید اس لیے کہ چوھدری نے بھی ابھی تک اس کے لیے کچھ نہیں کہا تھا. آخر میں وہ اپنے گھر والے کی طرف متوجہ ہوئی. "وے کنجرا تیری غیرتوں کا قصہ بھی پنڈ والوں کو سناتی ھوں. کمینے تجھے وہ دن بھول گیا جب چرس کی چھٹانک کے لیے تو نے مجھے پھتے شاہ کے ملنگ کے حوالے کر دیا تھا؟" اس کے گھر والے کا نشہ ھرن ھو گیا اور وہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر شمو کو دیکھنے لگا....*
*شمو بولی، "آج پنڈ کے ھر بندے کی غیرت ہی سانس نہیں لے رہی. سبھی کے منہ اور دامن کالے ہیں لیکن کیونکہ صرف شمو پکڑی گئی ہے اس لیے وہ گناھگار ھے اور پورا پنڈ ولی اللہ بنا ھوا ھے..*
*یہی کچھ ایک دو دن سے وطن عزیز پاکستان میں چل
رہا ہے...*
*کیونکہ ریکارڈنگ ایک کی سامنے ا گئی ہے اس لیے سب کی زبانوں کی قینچیاں کتر کتر چل رہی ہیں ورنہ اتنا کچھ ریکارڈ شدہ اور غیر ریکارڈ شدہ ہے کہ سامنے ا جائے تو شمو ان کے سامنے فرشتہ لگے گی.. یہاں قابو وہ ا جاتا ہے جو بات نہیں مانتا. یہاں شاعری تو کیا پوری پوری غزلیں لکھی جاتی رہی ہیں بلکہ اپنی بھدی اور گندی آوازوں میں پورے پورے گیت سنائے جاتے رہے ہیں گیت سنانا تو رھا ایک طرف گلوکاراؤں کو ان کی قوالیوں سمیت طلاقیں کروا دی گئیں. کچھ نے تو ایک کمان سے کئی کئی تیر چلا رکھے تھے ایک طرف منی لانڈرنگ اور دوسری طرف ھنی لانڈرنگ کا کام لیا جاتا رھا ھے... صرف شمو پھنس گئی ہے کیو نکہ شمو نے بات ماننے سے انکار کر دیا تھا..*
*شمو کو چاہیے کہ بدنام تو ھو گئی ہے باقی سب کے کپڑے بھی اتارے تو ہی اس کی بچت ھے... ورنہ... نہ مولوی چھوڑے گا نہ فیقا اور اور نہ ہی اللہ دتہ*
*کیونکہ ریکارڈنگ ایک کی سامنے ا گئی ہے اس لیے سب کی زبانوں کی قینچیاں کتر کتر چل رہی ہیں ورنہ اتنا کچھ ریکارڈ شدہ اور غیر ریکارڈ شدہ ہے کہ سامنے ا جائے تو شمو ان کے سامنے فرشتہ لگے گی.. یہاں قابو وہ ا جاتا ہے جو بات نہیں مانتا. یہاں شاعری تو کیا پوری پوری غزلیں لکھی جاتی رہی ہیں بلکہ اپنی بھدی اور گندی آوازوں میں پورے پورے گیت سنائے جاتے رہے ہیں گیت سنانا تو رھا ایک طرف گلوکاراؤں کو ان کی قوالیوں سمیت طلاقیں کروا دی گئیں. کچھ نے تو ایک کمان سے کئی کئی تیر چلا رکھے تھے ایک طرف منی لانڈرنگ اور دوسری طرف ھنی لانڈرنگ کا کام لیا جاتا رھا ھے... صرف شمو پھنس گئی ہے کیو نکہ شمو نے بات ماننے سے انکار کر دیا تھا..*
*شمو کو چاہیے کہ بدنام تو ھو گئی ہے باقی سب کے کپڑے بھی اتارے تو ہی اس کی بچت ھے... ورنہ... نہ مولوی چھوڑے گا نہ فیقا اور اور نہ ہی اللہ دتہ*
ایک تبصرہ شائع کریں