اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

آنکھ آئی ہے

ایک عورت نے آگ دینے کے بدلے وقت کے بہت بڑے ولی حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے ان کی آنکھ مانگ لی وہ زخمی آنکھ کے ساتھ اپنے مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے تو ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوگیا
یہ 620ھجری کا واقعہ ہے قیامِ دہلی کے آخری دور میں حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کوحضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے وضو کی خدمت پر مامور فرما دیا گیاتھا ایک دن عجیب اتفاق ہوا کہ سردی کا موسم تھا اور رات کو آگ ختم ہوگئی تھی نماز فجر میں پیر و مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے وضو کے لئے پانی گرم کرنا تھا اس لئے حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ للہ علیہ آگ کی تلاش میں خانقاہ سے نکل کر بستی کی طرف روانہ ہوگئے یہ سوچ کر دروازے دروازے پھرتے رہے کہ کہیں کسی مکان میں کوئی جاگ رہا ہو تو آگ کا سوال کریں خوش قسمتی سے حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو ایک گھر میں کسی کے چلنے کی آہٹ محسوس ہوئی آپ تیزی سے آگے بڑھے اور دروازے پر دستک دی مکان کی مالکہ ایک جوان اور شریر عورت تھی اس نے پردے سے جھانک کر دیکھا تو اپنے دروازے پر ایک خوبصورت نوجوان کو کھڑے دیکھا اس عورت نے اندر سے بڑے شوخ لہجے میں پوچھا تمہیں کس سے ملنا ہے؟
حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ عورت کے لہجے کی شرارت کو محسوس کرکے لرز گئے مگر مجبوراً آپ کو جواب دینا پڑا مجھے کسی سے ملاقات نہیں کرنی ہے خاتون میں تو ایک ضرورت مند شخص ہوں اور آپ کے دروازے پر آگ لینے کے لئے آیا ہوں عورت حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے مزاج اور مسلک سے واقف نہیں تھی اس لئے دل بستگی کی باتیں کرتی رہی حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا سوال دہرایا اور درخواست کی کہ انہیں تھوڑی سی آگ دے دی جائے وہ عورت شرارت سے باز نہیں آئی اور کہنے لگی آگ تو بلا معاوضہ نہیں دی جاتی حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے معاوضہ دریافت کیا تو بڑی بے باکی سے بولی اپنی ایک آنکھ نکال کر دے دو اور آگ لے جاﺅ وقت گزرتا جارہا تھا اور حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو یہ فکر پریشان کررہی تھی کہ اگر آگ نہیں ملی تو حضرت شیخ قُطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ وضو کس طرح کریں گے؟ اور اس شریر عورت کا یہ حال تھا کہ آگ کے بدلے میں آنکھ طلب کررہی تھی بالاخر حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے مجبور ہوکر اس فتنہ گر عورت سے فرمایا میں آنکھ تو نہیں نکال سکتا مگر اسے پھوڑ سکتا ہوں آپ آگ لے کر آئیں حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے اتنا فرمایا اور آنکھ کے حلقے میں اپنی انگلیاں پیوست کردیں عورت ابھی تک اپنی شرارت کو ایک دلچسپ کھیل سمجھ رہی تھی مگر جب اس نے حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی اضطراری حالت دیکھی تو خوفزدہ ہوکر کہنے لگی
تم آنکھ رہنے دو میں آگ لے کر آتی ہوں عورت اپنی شرارت اور ضد سے باز آگئی مگر بہت دیر ہوچکی تھی اسے پتہ بھی نہ چل سکا کہ اس کشمکش میں حضرت بابا فریدگنج شکر رحنتہ اللہ علیہ کی آنکھ بری طرح زخمی ہوگئی ہے پھر جب وہ آگ لے کر آئی تو حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے اس کاشکریہ ادا کیا اور تیزرفتاری کے ساتھ خانقاہ کی جانب روانہ ہوگئے حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے مرید ارجمند حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی طرف دیکھا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک آنکھ پر رومال بندھا ہوا تھا حضرت قُطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے وضو کرتے ہوئے اپنے مرید خاص حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ سے دریافت کیا تمہاری آنکھ کو کیا ہوا؟ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا شیخ محترم رحمتہ اللہ علیہ کچھ نہیں ہوا  آنکھ آئی ہے حضرت بابا فریدگنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے صورتحال کو چھپاتے ہوئے عرض کیا حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے اور پھر فرمایا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ اگر آنکھ آئی ہے تو کھول دو
پیرومرشد کا حکم سن کر حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے زخمی آنکھ سے رومال ہٹا دیا اس وقت آپ رحمتہ اللہ علیہ کو شدید حیرت ہوئی کہ آنکھ میں برائے نام بھی تکلیف باقی نہیں تھی ۔

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget