اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

پیٹ اورشرمگاہ کی شہوت کا بیان

پیٹ اورشرمگاہ کی شہوت کا بیان
اس میں چند فصول ہیں:
    جان لو ! تمام آفات کی ا صل پیٹ کی شہوت ہے اوراسی سے شرمگاہ کی شہوت پیدا ہوتی ہے ،حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃو السلام کی آزمائش اسی کے ذریعے ہوئی اور آپ علی نبیناوعلیہ الصلوۃو السلام کو دنیا میں بھیجا گیا، اسی کی وجہ سے آدمی دنیا کا طالب ہوتا ہے اوراس میں رغبت کرتاہے۔
بھوک کی فضیلت اورشکم سیری کی مذمت کا بیان:
    تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزن جودوسخاوت، پیکرعظمت و شرافت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرمان ذیشان ہے: ''بھوک اور پیاس کے ذریعے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کرو، کیونکہ اس کا ثواب اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنے جتنا ہے اوراللہ عزوجل کو بھوک اورپیاس سے بڑھ کر کوئی عمل پسند نہیں۔''
    حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کافرما ن عالیشان ہے:
'' لایدخل ملکوت السماء من ملاء بطنہ،
ترجمہ:جو شخص اپنے پیٹ کو بھرتاہے آسمان کے فرشتے اس کے پاس نہیں آتے ۔ ''
    حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔حضور نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:
البسوا واشربوا وکلوا فی انصاف البطون،فانہ، جزء من النبوۃ
ترجمہ: لباس پہنو اورآدھا پیٹ کھاؤ پیؤ،بے شک یہ نبوت کا ایک جزء ہے۔
(فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث۳۳۸/۳۳۹،ج۱،ص۶۸، بدون واشربوا)
    حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، حضور نبئ رحمت،شفیع امت، قاسم نعمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :
افضلکم منزلۃ عند اللہ تعالی اطولکم جوعا و تفکرا وابغضکم الی اللہ کل نؤوم اکول شروب۔
ترجمہ:اللہ عزوجل کے ہاں تم سب سے افضل وہ ہے جو زیادہ بھوکا رہتاہے اور غوروفکر کرتاہے اورسب سے برا وہ ہے جو خوب سوتا اور زیادہ کھاتاپیتا ہے۔

❀❀❀
    حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب رب اکبر عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:''بے شک اللہ عزوجل فرشتوں کے سامنے اس شخص پر فخر فرماتاہے ،جو دنیا میں کم کھاتا ہے ،اللہ عزوجل فرماتاہے:میرے بندے کی طرف دیکھو !میں نے دنیا میں اسے کھانے پینے کے معاملے میں آزمائش میں ڈالا تو اس نے میرے لئے انہیں چھوڑ دیا۔اے میرے فرشتو! گواہ ہوجاؤ جو بندہ(میری خاطر) ایک لقمہ بھی چھوڑدے گا، میں اس کے بدلے اسے جنت کے درجات عطافرماؤں گا۔
    حضرت سیدنا ابو سلما ن رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں :''مجھے رات کے کھانے سے ایک لقمہ چھوڑ دینا ،رات بھر قیام کرنے سے زیادہ پسند ہے۔''
    ہم نے واضح کر دیاکہ بھوک سے رقت (یعنی نرمی )اورانکساری پیداہوتی ہے، اکڑا ورغرور ختم ہوجاتاہے اوربھوک کا فائدہ یہ ہے،کہ انسان مصیبت ،اہل مصیبت ، عذاب اورتمام شہوات کے ختم کرنے کو نہیں بھولتا، اسی کے ذریعے انسان نفس وشیطان پر غالب آکر اس پر تسلط حاصل کرلیتاہے، اوراسی کے ذریعے انسان بیداری پر ہمیشگی اختیارکرتا اورنیند کو دورکرتاہے ، اسی لئے بعض شیوخ دسترخوان پر کھڑے ہوکر کہتے: اے گروہ مریدین! نہ زیادہ کھاؤ، نہ پیؤورنہ زیادہ سوؤ گے، اورنتیجۃ زیادہ نقصان اٹھاؤ گے۔
    بھو ک سے عبادت پر دوام آسان ہوجاتاہے جبکہ سیر ہوکر کھانے والا عبادت میں سستی کرتاہے،اورکھانے کی کثرت اس کی تلاش ، اسے پکانے ، ہاتھ دھونے ، خلال کرنے اورپانی لینے کے لئے پانی والی جگہ پرجانے کا تقاضا کرتی ہے۔
نوالہ چبانے میں بھی وقت صرف ہوتا ہے:
    حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ الولی بعض مشائخ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ وہ ستو کھاتے تھے، ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیاتوانہوں نے ارشاد فرمایا:'' میں نے روٹی چبانے اور یہ ستو کھانے کے درمیان ستر تسبیحات کا فرق پایا اس لئے میں نے چالیس سال سے روٹی نہیں چبائی۔''
    جان لیجئے!جس شخص نے یہ یقین کرلیا کہ ہر سانس ایک نفیس جو ہر ہے جو نہایت قیمتی ہے وہ اس کے ضائع ہونے پر اپنا محاسبہ ضرور کریگا۔بھوک کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نفس وبدن صحت مندرہتاہے کیونکہ جو کم کھاتاہے وہ کم ہی بیمار ہوتاہے۔ اور اس کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ انسان کو ایثار وقربانی پر قدرت حاصل ہوتی ہے اوروہ فضیلت کو پالیتا ہے۔۔۔۔
جاری ہے..........

(احیاء العلوم )

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget