اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ٹانگ کھینچنا

ہمارے معاشرے کو شاید ہی اتنا نقصان کسی اور چیز کی وجہ سے پہنچا ہو جتنا اس ٹانگ کھینچنے کے رویے leg pulling سے ہوا ہے۔ ایک بندہ دن رات ایک کر کے محنت کرتا ہے تاکہ زندگی میں کسی قابل بن جائے۔ اب دوسرے ہم جیسے لوگ جو اس کے اردگرد ہوں گے جن کا یوں تو فرض بنتا ہے کہ اس کا حوصلہ بڑھائیں تاکہ وہ مزید اچھے سے اپنا کام کرے مگر ہم کیا کریں گے، الٹا حوصلہ بڑھانے کے ہم حوصلہ پست کرنے لگ جائیں گے۔ اس کی ذرا سی غلطی کو بڑھا چڑھا کر بتلائیں گے۔

دن رات اسے احساس دلائیں گے کہ وہ کتنا غلط کر رہا ہے۔ پھر اگر کہیں کوئی کسر رہ گئی تو وہ دوسروں کو اس کے خلاف کرکے پوری کر دیں گے۔ وہ کیا کہتے ہیں ہم تو ڈوبے ہیں تم کو بھی لے ڈوبے گیں والا حساب ہے ہمارا۔ ہمارے اسی رویے کی وجہ سے کوئی کام کرنے والا بندہ یہاں رکتا ہی نہیں، جسے موقع ملتا ہے باہر جانے کا وہ فورا چلا جاتا ہے کیونکہ اسے پتا ہے وہاں ایسا ٹانگیں کھینچنے اور حوصلے پست کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔

ہم عجیب لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو اپنے دکھ درد اور خوشی میں شریک کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہم ایسے لوگ ہیں جو خوشی تو خوشی غم میں بھی کسی کو اذیت دینے سے بعض نہیں آتے۔ آنکھوں دیکھی بات ہے ادھر فوتگی کا موقع ہے، کسی کا جوان بیٹا مر گیا ہے اور اسے سہارا دینے کی بجائے ہم کہیں گے، بھئی تمہارا اب کیا بنے گا۔ تم تو برباد ہو گئے ہو بہتر یہی ہے تم بھی مر جاؤ۔ شادی کا موقع ہو تو ادھر غلطی سے جو دولہا دلہن مسکرا دیں۔ بس ہم نے تو پھر شروع ہو جانا ہے، بھئی مسکرا لو جتنا مسکرانا ہے پھر تو ساری زندگی پچھتانا ہی ہے۔ بندہ کوئی اچھی دعا دے دے یا کوئی اچھی بات ہی کر دے مگر ہم نے تو کوئی ایسی بات ہی کرنی ہے جو دوسرے کو چار دن تک اندر سے جلاتی رہے۔

کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو کیوں کر رہا ہے؟ اس طرح تو وہ ہم سے آگے نکل جائے گا۔ بس جی سب کچھ بھول بھال کر ہم اس کے راستے کی روڑے بن جائیں گے۔ پھر اگر کوئی نیا کام کر رہا ہے تو مسئلہ اور بڑھ جاتا ہے کہ ہمارے علاوہ کوئی اور شخص کوئی کام کیسے کرسکتا ہے۔ ہمارے اسی رویے کی وجہ سے ہم اتنے پیچھے ہیں۔ اب نہ ہم خود آگے بڑھ رہے ہیں اور کسی اور کو بڑھنے دے رہے۔ ہم بس ہر جگہ ٹانگ کھینچنے کے فارمولے پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا ہر شعبہ ہر طبقہ تباہی کی دہانے پر ہے۔

یہاں اگر تو آپ نے کھانا پینا اور موج کرنی ہے تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر اگر آپ نے کام کرنا ہے اور نام کرنا ہے تو پھر بھول جائیں، اردگرد کون لوگ ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ آپ کا کام ہے، بس کام کرنا سو آپ چپ کرکے سر پھینک کر لگے رہیں۔ مت دیکھیں کہ راستے میں کون ہے، کیسا ہے بس کام پر توجہ دیں تبھی آپ کسی مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔ اگر آپ ارد گرد کی الجھنوں میں الجھ گئے تو پھر ساری عمر انہی میں الجھے رہیں گے اور ملنا کچھ بھی نہیں۔

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget