ایک بادشاہ اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کے اچانک اسکی نظر سامنے ایک مکان کی چھت پر کھڑی عورت پر پڑی جو کپڑے سکھا رہی تھی اور نہایت ہی خوبصورت تھی بادشاہ نے اپنی کنیز کو بلایا اور دریافت کیا کے یہ کس کی بیوی ہے
کنیز نے کہا بادشاہ سلامت یہ آپکے غلام فیروز کی بیوی ہے
بادشاہ نے فیروز کو بلایا اور کہا کے یہ میرا خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آو اور واپسی پر جواب بھی لے کر آنا
فیروز نے کہا جو حکم میرے آقا
خط لے کر فیروز گھر پہنچا اور جانے کی تیاری کی
رات گھر پر گزری صبح ہوتے ہی فیروز منزل کی طرف روانہ ہو گیا بادشاہ کی چال جانے بغیر
ادھر بادشاہ فیروز کے دروازے پر پہنچ گیا
دستک دی فیروز کی بیوی نے پوچھا کون جواب آیا بادشاہ
تو اس نے دروازہ کھولا بادشاہ اندر آیا
فیروز کی بیوی نے پوچھا آج ہمارے غریب خانے میں کیسے آنا ہوا
بادشاہ نے کہا میں آپکے گھر مہمان ہوں
تو اس نے کہا میں پناہ چاہتی ہوں
اللہ کی آپکے ارادے سے
بادشاہ نے کہا گستآخ جانتی ہو تم کس سے بات کرتی ہو
فیروز کی بیوی نے کہا شیر
کتنا ہی بھوکا کیوں نہ ہو وہ مردار تو نہی کھاتا
آپ اس کٹورے میں پانی پینے آ گئے جس میں آپکے کتے نے پانی پیا ہے
تو بادشاہ کو ندامت ہوئ
وہ وہاں جلدی میں نکل گیا اور جاتے ہوئے اپنی چپل بجی بھول گیا
فیروز گھر واپس آیا تو اس نے بادشاہ کے چپل گھر میں دیکھ کر اندازہ کر لیا کے میری غیر موجودگی میں بادشاہ یہاں آیا تھا
اس نے اپنی بیوی کو میکے جانے کے لئے تیار ہونے کو کہا اور لئے کے چل پڑا وہاں تین دن گزارنے کیبعد وہ واپس ا گیا اور بیوی کو ساتھ نہ لایا مہینہ بھر گزر گیا تو اسکی بیوی کے بھائ نے فیروز سے وجہ پوچھی تو فیروز سنی ان سنی کر دی
تو اس نے فیروز کے خلاف مقدمہ
کر دیا قاضی کی طرف سے بلاوا آیا تو فیروز کو پتہ چلا کے اس خلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے فیروز جب عدالت جانے لگا تو بادشاہ کو بھی پتہ چل گیا وہ بھی اس کے پیچھے عدالت چل پڑا
قاضی فیرو کے سالے کو مخاطب کرتے ہوے کہا کے بتاو کیا بات ہے
تو اس نے کہا جناب ہم نے فیروز کو ایک باغ دیا تھا جو میٹھے اور زائیقہ دار درختوں سے ہرا بھرا تھا اب اس نے وہ باغ واپس کر دیا لیکن وہاں کوئ درخت موجود نہیں سب کاٹ دے
باغ کے بجائے وہاں کھنڈر ہیں
ہمیں اس معاملے میں انصاف چاہئے
قاضی نے فیروز سے پوچھا تمہں کچھ کہنا ہے
فیروز نے کہا جی باغ اپنی اصلی حالت میں ہے کوئ درخت کٹا نہیں ہے
میں نے وہ باغ اس لئے
واپس کیا ہے کے وہاں میں نے ایک دن شیر کے پنجوں کے نشان دیکھے ہیں تو میں سوچا کے شیر میری جان لے لے اس بہتر ہیکہ میں یہ باغ ہی واپس کر دوں
بادشاہ پوری کہانی کو سمجھ رہا تھا
جبکہ قاضی اصل بات کا پتہ ہی نہیں تھا تو بادشاہ نے کہا فیروز
میں قسم کھاتا ہوں کے شیر آپکے باغ میں آیا ضرور تھا لیکن اس نے نہ تو پھل توڑا ہے اور نہ ہی کوئ پتہ ہلایا ہے اور دل ہی دل میں آئندہ کبھی نہ آنے کا وعدہ بھی
کر گیا ہے۔یہ بات سن کر فیروز نے کہا کے اپنا باغ پھر سمبھالنے کو تیار ہوں لہزا اس مقدمے کو ختم کیا جاے
سبق:- کسی کی پردہ داری کرنا
مقدمہ عدالت میں بھی گیا فیصلہ بھی ہوا اور وہاں موجود لوگوں کو خبر تک نہ ہوی کہ اصل بات کیا تھی
حقیقت:
جو کسی کے ایک عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ پاک اس کے ستر عیبوں پر پردہ فرمایئں گے
ایک تبصرہ شائع کریں